کتاب الصلوۃ باب 48 حدیث نمبر 427
٤٨ – بَابٌ هَلْ تُنْبَشُ قُبُورُ مُشْرِكِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَيَتَّخَذُ مَكَانُهَا مَسَاجد؟
کیا زمانہ جاہلیت کی قبروں کو کھودا جاۓ اور ان کی جگہ مسجد میں بنادی جائیں؟
اس باب میں یہ ذکر کیا جائے گا کہ جو مشرکین زمانہ جاہلیت میں فوت ہوگئے ان کی قبروں کو کھود کر اس جگہ مسجدوں کو بنانا، جائز ہے۔
يقول النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قَبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجد۔
کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ یہود پر لعنت فرمائے جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو مساجد بنالیا۔
اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے اس مرض میں جس سے صحت یاب نہیں ہوئے کہ اللہ تعالی یہود اور نصاری پرلعنت فرمائے جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کی قبور کو مساجد بنالیا (صحیح بخاری ۱۳۹۰)
اس کے بعد یہ تعلیق ہے:
وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الصَّلَوةِ فِي الْقُبُورِ.
اور قبروں پر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
اس تعلیق کی اصل درج ذیل حدیث ہے:
حضرت ابومرثد الغنوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو۔ ( صحیح مسلم : 972، سنن ابوداؤد : ۳۲۲۹ سنن ترمذی: ۱۰۵۰ سنن نسائی: ۷۶۰ )
وَرَاى عُمَرُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُصَلِّى عِندَ قَبْرٍ،فَقَالَ الْقَبْرَ الْقَبْرَ ، وَلَمْ يَأْمُرُهُ بِالْإِعَادَةِ۔
اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ قبر کے پاس نماز پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے کہا: قبر سے بچو قبر سے بچو اور ان کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔
اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا کہ میں ایک قبر کی طرف نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے مجھے اس سے منع کیا اور فرمایا : تمہارے آگے قبر ہے۔ (مصنف وکیع بن جراح)
حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ قبر کی طرف نماز پڑھ رہے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ندا کی : قبر سے بچو قبر سے بچو ۔ اس حدیث کو امام بخاری کے شیخ ابونعیم نے روایت کیا ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۲۵۵)
قبرستان میں نماز پڑھنے کے متعلق مذاہب فقہاء
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
امام احمد کے نزدیک قبرستان میں نماز پڑھنا حرام ہے خواہ قبر کھودی ہوئی ہو یا نہ ہو، خواہ اس کی نجاست ڈھکی ہوئی ہو یا نہ ہو خواہ وہ قبر دوسری قبروں کے درمیان ہو یا وہ قبر منفرد ہو مثلاً کسی کمرے میں ہو انہوں نے اس حدیث کے ظاہر پر عمل کیا ہے کہ تمام روئے زمین مسجد ہے سوائے مقبرہ اور حمام کے ۔ امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ قبرستان میں نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے اور امام شافعی نے کھودی ہوئی قبر اور اس کے غیر میں فرق کیا ہے انہوں نے کہا: جب مردے کے گوشت اور اس سے نکلنے والی پیپ مٹی کے ساتھ مخلوط ہو تو پھر نجاست کی وجہ سے اس قبر کے پاس نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اور اگر کسی شخص نے قبرستان میں پاک جگہ پر نماز پڑھی ہے تو اس کی نماز جائز ہے ابو مصعب نے امام مالک سے روایت کیا ہے کہ قبرستان میں نماز پڑھنا مکروہ ہے جیسے جمہور کا قول ہے اور اہل ظاہر( غیر مقلدین ) کا مذہب یہ ہے کہ قبرستان میں نماز پڑھنا حرام ہے خواہ مسلمانوں کا قبرستان ہو یا کافروں کا، ابن حزم نے حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابوہریرہ حضرت انس اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے قبرستان میں نماز پڑھنے کی ممانعت نقل کی ہے اور تابعین۔ میں سے ابراہیم نخعی، نافع بن جبیر بن مطعم، طاؤس، عمرو بن دینار اور خیثمہ سے ممانعت نقل کی ہے اور کہا ہے کہ ہمارے علم میں اس میں صحابہ اور فقہاء تابعین کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۲۵۵ دارالکتب العلمیة بیروت 1421ھ)
٤٢٧ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثنى قَالَ حَدَّثَنَا یحی عنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ان أم حبيبةَ وَ أُمَّ سَلَمَةَ ، ذَكَرَتَا كَنيْسَةٌ راینھا بالْحَبَشَةِ فِيْهَا تَصَاوِيرُ، فَذَكَرَنَا ذَالِكَ لِلنبی صلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا کان فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بنوا عَلَى قبرہ مسجدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ فَأُولئک شرَارُ الْخَلْقِ عِندَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامہ۔
اطراف الحدیث: 434- 1341
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں محمد بن الثنی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی از هشام انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے خبر دی از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا کہ انہوں نے حبشہ میں ایک گرجا دیکھا جس میں تصاویر تھیں، انہوں نے اس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا’ آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جب ان میں کوئی مرد صالح فوت ہوجاتا ہے تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنالیتے ہیں اور وہاں پر یہ مجسمے رکھ دیتے ہیں سو لوگ قیامت کے دن اللہ تعالی کی بدترین مخلوق ہیں ۔
صحیح مسلم : ۵۲۸ الرقم المسلسل :۱۱۶۱ سنن نسائی: ۷۰۳، صحیح ابن حبان : 3181، سنن کبری ج 4 ص 80 شرح السنة : ۰۹ ۵ مسند احمد ج 9 ص 51 طبع قدیم مسند احمد : ۲۴۲۵۲، ج 40 ص 296، مؤسسة الرسالة بيروت جامع المسانيد لابن الجوزی 7476، مکتبة الرشد ریاض 1426ھ )
اس حدیث کے پانچ رجال ہیں، ان سب کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مناسبت اس جملہ میں ہے: یہ وہ لوگ ہیں جب ان میں کوئی مرد صالح فوت ہوجاتا ہے تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنالیتے ہیں اور وہاں پر یہ مجسمے رکھ دیتے ہیں اس حدیث میں نصاری کی مذمت کی گئی ہے۔
حضرت ام المؤمنین ام حبیبہ کا تذکرہ
اس حدیث میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے۔ ان کا نام رملہ بنت ابی سفیان صحر الامویہ ہے انہوں نے اپنے خاوند حضرت عبدالله بن جحش کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی وہ وہاں پر فوت ہوگئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ۶ ھ میں نکاح کرلیا اور نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کا مہر مقرر کیا تھا، پھر ان کو آپ کے پاس روانہ کردیا تھا یہ ان خواتین میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کی طرف سبقت کی تھی یہ ۴۴ھ میں مدینہ منورہ میں فوت ہوگئی تھیں۔
حضرت ام المؤمنین ام سلمہ کا تذکرہ
اس حدیث میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بھی ذکر ہے یہ بھی ام المؤمنین ہیں اور ان کا نام ھند بنت ابی امیہ المخزومیہ ہے ان کے خاوند حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی جب یہ دونوں مدینہ لوٹ آئے تو ان کے خاوند فوت ہوگئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کرلیا۔
نبیوں کی قبروں کی عبادت کی ابتداء کیسے ہوئی اور کسی ممنوع کام کا ذریعہ اور اس کا دروازہ بند کرنا
اس حدیث میں مذکور ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بدترین مخلوق ہیں ۔
علامہ ابو العباس احمد بن عمر القرطبی المتوفی ۶۵۶ ھ لکھتے ہیں:
متقدمین نصاری اپنے مرد صالح کی قبر پر اس کا مجسمہ بناکر اس لیے رکھتے تھے تاکہ اس مرد صالح کی صورت دیکھ کر وہ مانوس ہوں اور اس کے نیک اعمال کو یاد کریں اور اس کی عبادت کی طرح خود بھی عبادت کرنے کی کوشش کریں اور ایسے نیک بندوں کی قبروں کے پاس اللہ تعالی کی عبادت کریں، پھر جب کافی زمانہ گزر گیا اور ان کے بعد متاخرین آئے تو وہ قبروں پر ان مجسموں کی اغراض سے ناواقف تھے اور شیطان نے ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان کے آباء و اجداد ان مجسموں کی عبادت کرتے تھے تو انہوں نے ان مجسموں کی تعظیم کی اور ان کی عبادت کرنی شروع کر دی، نبی ﷺ نے ایسے کاموں سے سختی سے منع کیا اور ان کاموں پر عذاب کی وعید سنائی اور غیر اللہ کی عبادت کا ذریعہ اور اس کا دروازہبند کردیا اور فرمایا : اس قوم پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے جو اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیتی ہے ۔ پس تم قبروں کو مساجد نہ بناؤ۔ ( موطا امام مالک ۔ کتاب السفر : 85) یعنی میں تم کو اس کام سے منع کرتا ہوں اور فرمایا اللہ ( عزوجل) یہود و نصاری پر لعنت کرے جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو مساجد بنالیا ( صحیح مسلم: 532) اور فرمایا کی عبادت کا ذکر ، اور اس کا دروازہ بند کر دیا ۔ اور فرمایا : اے اللہ ! میری قبر کو بت نہ بنا ، جس کی عبادت کی جائے ۔ ( تنویر الحوالک ص 189، موطا امام مالک کتاب السفر 85 ) اسی وجہ سے مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کی قبر انور پر آپ کی عبادت کا ذریعہ قطع کرنے میں بہت مبالغہ کیا اور آپ کی قبروں کی دیواروں کو بہت اونچا کردیا اور ان میم داخلہ مسدود کردیا پھر ان کو یہ خوف ہوا کہ کہیں آپ کی قبر کو قبلہ نہ بنالیا جائے تو انہوں نے قبر کے دور کنوں دو دیواریں بنافی حتی کہ کسی شخص کے لیے نماز میم عین قبر کی طرف منہ کرنا ممکن نہ ہو، اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا کہ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا تو آپ کی قبر کو ظاہر کردیا جاتا۔ ( المفہم ج ۲ ص ۱۲۸ ، دار ابن کثیر بیروت ، 1420 ھ )
قبروں کی عبادت اور ان پر مجسمے رکھنے کی ممانعت اور صالحین کی قبروں کے قرب ۔۔۔ اور جوار میں مسجد بنانے کا جواز
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :
علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ اس حدیث میں قبروں پر مساجد بنانے اور ان کے مجسمے رکھنے کی ممانعت ہے اور اس سے اس لیے منع کیا گیا ہے تاکہ قبروں کو مجسموں کو معبود نہ بنالیا جائے، المہلب کے کہا ہے کہ اس سے اس لیے منع فرمایا ہے تاکہ غیراللہ کی عبادت کا ذریعہ ختم ہوجائے کیونکہ ان لوگوں کا زمانہ بت پرستی کے زمانہ کے قریب تھا اور وہ لوگ مجسموں کو معبود بناتے تھے۔ اسی وجہ سے حضرت عمر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو قبر کی طرف نماز پڑھنے سے منع کیا تھا۔ ( شرح ابن بطال ج 2 ص ۹۹ )
اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ جان دار کی تصویر باننا حرام ہے خصوصا نیک آدمی کی اور قبر پر عبادت کرنا منع ہے۔
علامہ البندنیجی نے کہا ہے : اس سے مراد یہ ہے کہ قبر کو برابر کرکے اس کے اوپر مسجد بنائی جائے اور اس کے اوپر نماز پڑھی جائے اور انہوں نے کہا: یہ مکروہ ہے کہ اس کے پاس مسجد بنائی جائے اور اس میں قبر کی طرف نماز پڑھی جائے، لیکن قہ مقبرہ جس کا نشان مٹ چکا ہو، جب اس میں مسجد بنائی جائے اور اس میں نماز پڑھی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کیونکہ وہ مقابر وقف ہیں اسی طرح مسجد بھی وقف ہے اور ان کا معنی واحد ہے ۔ (یہ فقہاء مالکیہ کا مذہب ہے، فقہاء احناف کے نزدیک مسلمانوں کا قبرستان خواہ پرانا ہو اور اس کے آثار مٹ چکے ہوں اس میں مسجد بنانا جائز نہیں ہے اور نہ ایک وقف کو دوسرے وقف سے تبدیل کرنا جائز ہے۔( سعیدی غفرلہ ) علامہ بیضاوی نے کہا چونکہ یہود اور نصاری انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو ان کی تعظیم کی وجہ سے سجدہ کرتے تھے اور ان کی قبروں کو اپنی نمازوں کا قبلہ بناتے تھے ۔ اور ان قبروں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اور انہوں نے ان کی قبروں کو بت بنالیا تھا اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لعنت کی اور مسلمانوں کو ایسا کرنے سے منع کیا۔
رہا وہ جس نے کسی نیک شخص کے قرب میں مسجد بنائی اور اس کے قرب سے حصول برکت کا قصدکیا نہ کہ اس کی تعظیم کا اور نہ اس کی طرف توجہ کا ارادہ کیا تو وہ اس وعید میں داخل نہیں ہے۔
عمدہ القاری ج 2 ص 258- 257 دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ
* باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : 1083 ج 2 ص 74 میں مذکور ہے اس کی شرحکے حسب ذیل عنوان ہیں ،
تصاویر کا حکم
(۲) ویڈیو ٹی۔ وی اور سینما
(۳) جوار قبر میں مسجد
(۴) ایک اشکال کا جواب ۔
صالحین کی قبروں کے قرب میں مسجد بنانے پر مفصل بحث شرح صحیح مسلم ج ۲ ص 87 – ۸۲ میں مذکور ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
[…] حدیث کی شرح صحیح البخاری: 427 میں گزرچکی ہے وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: آیا مشرکین […]
[…] حدیث کی مزید شرح صحیح البخاری : ۴۲۷ میں گزر چکی […]