٤٧٤ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ ابا مُرَّةَ مَوْلى عَقِيْلِ بْنِ أَبِي طَالِب أَخْبَرَهُ عَنْ ابى وَاقِدِ اللَّيْثي قَالَ بَيْنَمَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ ثَلَاثَةٌ نَفَرٍ، فَأَقْبَلَ اثنان إلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَب وَاحِدٌ. فَأَمَّا اَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةٌ فَجَلَسَ وَامَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ وَأَمَّا الأخَرُ فَادْبَرَ ذَاهِبا، فَلَمَّا فَرَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الا أخبركُمْ عَنِ الثَّلَاثَةِ؟ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأوَى إِلَى الله فَأَوَاهُ اللهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيا اللهُ مِنْه، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْه۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبردی از اسحاق بن عبدالله بن ابی طلحہ کہ عقیل بن ابی طالب کے غلام ابو مرو نے ان کو خبر دی از حضرت ابو واقد اللیثی رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیام میں که رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ تین شخص آئے، دو تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھ گئے اور ایک چلاگیا، ان دو میں سے ایک شخص نے مجلس میں کشادگی دیکھی تو وہ وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا پیٹھ موڑکر چلا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات سے فارغ ہوگئے تو آپ نے فرمایا: کیا میں تم کو ان تین آدمیوں کی خبر نہ دوں؟ رہا ان میں سے ایک شخص تو اس نے اللہ کی طرف پناہ لی تو اللہ نے اس کو پناہ دے دی رہا دوسرا شخص تو اس نے اللہ سے حیاء کی تو اللہ بھی اس سے حیاء فرمائے گا (یعنی اس کو عذاب نہیں دے گا) رہا تیسرا تو اس نے اعراض کیا سو اللہ بھی اس سے اعراض فرمائے گا۔
یہ حدیث صحیح البخاری: ۶۶ میں گزرچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: جو شخص مجلس کے آخر میں بیٹھ گیا اور جس شخص نے حلقہ میں کشادگی دیکھی تو وہاں بیٹھ گیا، اور یہاں اس کا عنوان ہے: مسجد میں حلقہ بنانا اور بیٹھنا، اور اس حدیث میں دونوں عنوانوں کی گنجائش ہے۔
