کتاب العلم باب 8 حدیث نمبر 66
۸-باب من قعد حيث ينتهى لمجلس، ومن رأى فرجة في الحلقة فجلس فيها
جو شخص وہیں بیٹھ گیا، جہاں مجلس ختم ہوئی ہے اور جس شخص نے مجلس کے حلقہ میں خالی جگہ دیکھی وہاں جاکر بیٹھ گیا
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق مناولہ میں تھا یعنی شیخ کا طالب کو اپنا مجموعہ حدیث دینا اور ظاہر ہے، یہ مناولہ مجلس علم میں ہی ہوتا ہے اور اس باب میں جس مجلس کا ذکر ہے اس سے مراد بھی مجلس علم ہے ۔
66- حدثنا إسماعيل قال حدثني مالك، عن إسحاق بن عبدالله بن أبي طلحة أن أبا مرة مولی عقيل بن أبي طالب أخبره عن أبي واقد الليثي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو جالس في المسجد والناس معه ، إذ أقبل ثلاثة نفر، فاقبل اثنان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وذهب واحـد، قـال فوقفا على رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم فأما أحدهما فراى فرجة في الحلقہ فجلس فيها، واما الأخر فجلس خلفهم واماالثالث فأدبر ذاهبا، فلما فرغ رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم قال ألا أخبركم عن النفر الثلاثة؟ أمااحدهم فأوى إلى الله فاواة الله ،وأما الأخر فاستحيا فاستحيا الله منه وأما الأخر فأعرض فأعرض الله عنه [ طرف الحديث : ۴۷۴]
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے حدیث بیان کی از اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ کہ ابومرہ عقیل بن ابی طالب کے آزادشدہ غلام نے ان کو خبر دی از ابوواقد لیثی کہ جس وقت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت تین شخص آۓ دو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھ کر آگئے، اور ایک چلا گیا۔ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو گئے ان میں سے ایک نے حلقہ میں کشادگی دیکھی وہ وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا مجلس کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا پیٹھ موڑ کر چلا گیا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا: سنو! کیا میں تمہیں ان تین آدمیوں کے متعلق خبر نہ دوں؟ ان میں سے ایک نے اللہ کی پناہ لی تو اللہ نے اس کو پناہ دے دی، اور دوسرے نے اللہ سے حیا کی، سو اللہ بھی اس سے حیا فرمائے گا اور تیسرے نے اعراض کیا سو اللہ بھی اس سے اعراض فرماۓ گا ۔
(صحیح مسلم:۶ ۲۱۷ سنن ابوداؤد : 4825، سنن ترمذی: 2724، سنن الکبری للنسائی:۰۱ ۵۹ مسند ابویعلی 1445، تاریخ دمشق ج۱۹ ص ۱۹۲ المعجم الکبیر:٬۳۳۰۹ سنن بیہقی ج ۳ ص ۲۳۴ الاحاد والمثانی:۹۰۱ صحیح ابن حبان :86، شرح السنۃ : ۳۳۳۴، مسند احمد ج ۵ ص ۲۱۹ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۱۹۰۷۔ ج 36 ص ۲۳۸ مؤسسة الرسالة بيروت )
اس حدیث کی عنوان باب کے ساتھ مطابقت بالکل واضح ہے کیونکہ اس باب کا عنوان ہے: جوشخص وہیں بیٹھ گیا جہاں مجلس ختم ہوئی ہے اور جس شخص نے مجلس کے حلقہ میں خالی جگہ دیکھی تو وہ وہاں جا کر بیٹھ گیا ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) اسماعیل بن اویس۔
( ۲ ) امام مالک بن انس۔
( ۳ ) اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ، یہ تابعی ہیں انہوں نے اپنے والد اور حضرت انس بن مالک سے سماع کیا ہے، ان کی توثیق پر اتفاق ہے، ان سے بہت بڑی جماعت نے روایت کی ہے، یہ ۱۳۲ھ میں فوت ہوگئے تھے۔
( ۴ ) ابومرہ عقیل بن ابی طالب کے آزاد شدہ غلام ہیں، یہ حضرت ابوالدرداء، حضرت عمرو بن العاص اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہم سے احادیث روایت کرتے ہیں، اور ان سے ایک بڑی جماعت روایت کرتی ہے۔
(۵) ابوواقد لیثی ان کے نام میں اختلاف ہے ابن الکبی نے کہا : ان کا نام الحارث بن عوف ہے، الواقدی نے کہا: ان کا نام الحارث بن مالک ہے، یہ قدیم الاسلام تھے ان کے بدری ہونے میں اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن اسلام لاۓ انہوں نے خود کہا: اس سے پہلے میں کافر تھا غزوہ حنین میں تھے، جنگ یرموک میں شریک ہوۓ اس کے بعد مکہ میں فوت ہو گئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ۲۴ احادیث روایت کی ہیں امام بخاری نے صرف یہی ایک حدیث روایت کی ہے امام مسلم نے بھی ایک حدیث روایت کی ہے انہوں نے ۲۸ ھ میں ۷۵ سال کی عمر میں وفات پائی ۔ ( عمدة القاری ج ۲ ص ۴۷)
عالم کی مجلس کی عظمت اور مجلس میں بیٹھنے کے آداب
اس حدیث میں’’ نفر ‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: تین سے لے کر دس آدمیوں تک کی جماعت ۔
اور اس حدیث میں ہے: ان میں سے ایک نے اللہ کی پناہ لی تو اللہ نے اس کو پناہ دے دی اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص علم کی مجلس میں آ جاۓ، وہ اللہ کی پناہ میں آجاتا ہے، اور وہ ان لوگوں میں سے ہے، جن کے لیے فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں اور عالم کو چاہیے کہ وہ طالب کو پناہ دے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو عالم کی مجلس میں بیٹھنے کا قصد کرے اور وہاں بے ادبی کرنے سے حیا کرے تو اللہ اس سے حیا فرماتا ہے اور امید ہے کہ اس کو عذاب نہیں دے گا اور جو شخص عالم کی مجلس سے اعراض کرے اس سے اللہ ناراض ہوتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آدمیوں کی تحسین فرمائی، جنہوں نے عالم کی مجلس کا ادب کیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص نیک کام کرے اس کی تحسین کرنی چاہیے اور یہ کہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو مجلس میں جہاں جگہ ملے، وہیں بیٹھ جائے اور کسی کو اٹھاکر اس کی جگہ نہ بیٹھے۔
آداب مجلس کے متعلق احادیث
عمرو بن شعیب اپنے باپ ( شعیب ) اور وہ اپنے دادا ( حضرت عمرو بن العاص ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے ۔ ( سنن ابوداؤد : ۴ ۴۸۴ سنن ترمذی: 2752)
حضرت عبداللہ بن عمر وی نہ بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ دو آدمیوں کی اجازت کے بغیر ان میں تفریق کرے۔(سنن ابوداؤد:۴۸۴۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص مجلس سے اٹھ جائے اور پھر واپس آۓ تو وہ اپنی جگہ کا زیادہ مستحق ہوتا ہے ۔ ( سنن ابوداؤد : ۴۸۵۳)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھنے کے بعد مجلس میں چار زانو بیٹھے رہتے حتی کہ سورج انچی طرح نکل آتا ۔ ( صحیح مسلم : ۶۷۰ سنن ابوداؤد :۴۸۵۰ سنن ترمذی : ۵۸۵ سنن نسائی :۱۳۵۶ )
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجلس میں دو آدمی تیسرے آدمی کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ تیسرا آدمی اس سے غمگین ہوگا ۔ (صحیح البخاری:6290، صحیح مسلم : 2184، سنن ابوداؤد : ۴۸۵۱ سنن ابن ماجه : ۳۷۷۵)
حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کی تعظیم سے یہ ہے کہ بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرو، اور جو قرآن کا عالم ہو اور اس میں غلو اور کمی نہ کرتا ہو اس کی تعظیم کرو اور عادل حکمران کی تعظیم کرو (یعنی ان کو مجلس میں نمایاں جگہ بٹھاؤ ) ۔ ( سنن ابوداؤد : ۴۸۴۳)
* باب مذکور کی حدیث صحیح مسلم : 5565 – ج ۵ ص ۵۴۲ پر ہے، اس کی شرح کا یہ عنوان ہے : علم اور ذکر کی مجلس میں بیٹھنے کے آداب اور احکام ۔