Site icon اردو محفل

مقدمہ از شارح جامع ترمذی : اسباب طعن

 اسبابِ طعن

(1) کذب 

(2) تهمت کذب 

(3) فحش غلط 

(4) غفلت عن الاتقان 

(5) فسق 

(6) وهم یعنی علی سبیل التوہم روایت کرے 

(7) مخالفتِ ثقات 

(8) جہالت 

(9) بدعت 

(10) سوئے حفظ۔ ۔(نخبة الفكر في مصطلح اهل الاثر، الطعن، ج 4، ص: 723 دارالحدیث، القاہرہ)

ان کی تفصیل یہ ہے :

کذب:

اگر کسی راوی کے بارے میں ایک بار بھی ثابت ہو جائے کہ اس نے بالقصدی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے یعنی حدیث گھڑی ہے تو کبھی بھی اس کی حدیث قبول نہیں کی جائے گی اگرچہ توبہ کر لے ، ایسے راوی کی حدیث کو موضوع کہتے ہیں۔

تہمتِ کذب:

جو حدیث اُس کے سوا دوسرے نے روایت نہ کی، مخالفِ قواعدِ دینیہ ہو یا راوی اپنے کلام میں جھوٹ کا عادی ہو، ایسے راوی کی حدیث کو متروک کہتے ہیں۔ بعدِ توبہ و اصلاحِ حال اس کی روایت قبول کی جائے گی۔

فحشِ غلط:

بکثرت سے اغلاط کرتا ہو، اس کی روایت کو ایک رائے (جس میں مخالفت کی شرط نہیں) پر منکر کہتے ہیں۔(نخبة الفكر فى مصطلح اهل الاثر، الطعن، ج4،ص،723دار الحديث، القاهره)

غفلت عن الاتقان:

دوسرے کی تلقین قبول کرے یعنی دوسرا جو بتائے کہ تو نے یہ سنا ہوگا وہی مان لے۔

فسق:

فسق سے مراد فسقِ عملی ہے۔ غفلت عن الاتقان اور فسق والے کی روایت کو بھی ایک رائے پر منکر کہتے ہیں۔(نخبة الفكر فى مصطلح اهل الاثر، الطعن، ج4،ص،723دار الحديث، القاهره)

وہم:

حدیث یاد ہونے کا ظنِ غالب نہیں پھر بھی بیان کر دیا ، اگر راوی کی اس حرکت پر قرائن اور جمعِ طرق سے اطلاع ہوجائے تو یہ حدیث مُعَلَّل ہے۔(نخبة الفكر فى مصطلح اهل الاثر، الطعن، ج4،ص،723دار الحديث، القاهره)

مخالفتِ ثقات:

حدیث کی سند یا متن ثقہ راویوں کے خلاف ہو ، ایسی روایت کو شاذ کہتے ہیں جبکہ اوثق کی روایت کو محفوظ کہتے ہیں۔

اس کی بہت ساری صورتیں ہیں:

اگر یہ مخالفت سیاقِ اسناد میں ہو تو یہ روایت مدرج الاسناد کہلاتی ہے ، موقوف کو مرفوع کرنے کے ساتھ ہو تو مدرج المتن کہلاتی ہے، اسماء میں تقديم وتأخير کے ساتھ ہو تو مقلوب کہلاتی ہے، راوی کی زیادتی کے ساتھ ہو تو مزید فی متصل الاسناد کہلاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔(نخبة الفكر فى مصطلح اهل الاثر، الطعن، ج4،ص،723دار الحديث، القاهره)

جہالت:

کسی غرض کی وجہ سے راوی کا نام ذکر نہ کرنا یعنی کہنا کہ مجھ سے ایک شخص نے حدیث بیان کی ہے یا غیر مشہور نام یا لقب سے ذکر کرنا۔ ظاہر ہے جب نام معلوم نہیں ہوگا تو اس کی عدالت وغیرہ عدالت کا پتہ کیسے چلے گا۔

بدعت:

یعنی بدمذہبی، اس کی دو صورتیں ہیں:

(1) مکفرہ: یعنی حدِ کفر تک پہنچی ہوئی (2) مفسقہ: یعنی حدِ کفر سے کم، گمراہی۔

پہلی بدعت کی صورت میں راوی کی روایت جمہور کے نزدیک نامقبول ہوگی اور دوسری صورت میں اگر اس کی یہ روایت اس کی بدعت کی طرف داعی یا اس کی بدعت کے لیے تقویت کا باعث ہو تو مختار قول پر مردود ہے اور اگر ایسا نہیں تو مقبول ہے۔ (نخبة الفكر فى مصطلح اهل الاثر، الطعن،ج4،ص،723دارالحديث،القاهره)

سوئے حفظ:

یعنی نسیان کی وجہ سے اسکی غلطی اس کی اصابت سے اقل نہ ہو۔ اگر یہ اس کو ہر وقت جمیع حالات میں لاحق ہے تو اس کی روایت معتبر نہیں، ایک رائے پر یہ شاذ ہے، اور اگر سوئے حفظ بعد میں (کبرسنی، ضعف بصارت یا کتابوں کے ضائع ہونے کی وجہ سے) طاری ہوا ہے تو ایسے کی حدیث کو مختلط کہتے ہیں، ایسے راوی کی ایسی روایات جونسیان طاری ہونے سے پہلی کی ہونا معلوم ہیں تو وہ مقبول ہیں اور نسیان طاری ہونے کے بعد کی ہیں تو نا مقبول، ہاں یہ بھی شواہد اور توابع سے تقویت کے بعد مقبول ہیں ۔ )( نخبة الفكر فى مصطلح اهل الاثر، الطعن،ج4،ص،724دارالحديث،القاهره)

Exit mobile version