Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 94  حدیث نمبر 501

٩٤ – بَابُ السُّتْرَةِ بِمَكَةَ وَغَيْرِهَا

مکہ وغیرھا میں سترہ

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو روکنے کے لیے سترہ قائم کرنا مستحب ہے خواہ وہ سترہ مکہ میں ہو یا غیر مکہ میں اور مکہ کی قید اس لیے لگائی ہے تاکہ کوئی شخص یہ وہم نہ کرے کہ سترہ قبلہ ہے اور مکہ میں کعبہ کے سوا اور کسی کو قبلہ نہیں بنانا چاہیے اور ہر وہ شخص جو کی کھلی اور وسیع جگہ میں نماز پڑھنے اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ سترہ کی طرف نماز پڑھے خواہ وہ مکہ میں نماز پڑھے یا کسی اور جگہ نماز پڑھے ہاں ! اگر وہ مکہ مکرمہ کی ایسی مسجد میں نماز پڑھے جو مکہ کے قریب ہو اور وہاں کسی کے لیے نمازی کے آگے سے گزرنا ممکن نہ ہو تو پھر اس کو سترہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مکہ کا قبلہ اس کا سترہ ہے اور اگر اس نے مسجد کے مؤخر حصے میں اس طرح نماز پڑھی کہ اس کے آگے سے گزرنا ممکن تھا یا مکہ مکرمہ کی باقی جگہوں میں بغیر کسی دیوار یا درخت یا اس جیسی کسی چیز کے نماز پڑھی تو پھر اس کو اپنے آگے سترہ رکھنا چاہیے، جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے علاوہ دیگر مقامات پر کھلی جگہ میں نیزہ کی طرف نماز پڑھی۔

٥٠١ – حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْب قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَة،عن الْحَكم، عَنْ أَبِى جُحَيْفَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ، فَصَلَّى بِالْبَطْحَاءِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَنَصَبَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَة، وَتَوَضَّاً فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَمَسَّحُونَ بِوَضُوْنِهِ۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں سلیمان بن حرب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از حکم از حضرت ابی جحیفہ رضی الله عنہ وه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت نکلے، پھر آپ نے بجری والی ریتلی زمین (مدینہ کی وادی ) میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعت نماز پڑھی اور اپنے سامنے نیزہ گاڑ دیا اور وضوء کیا، پھر لوگ آپ کے وضوء کے پانی کو اپنے جسم پر لگا رہے تھے۔

 

اس حدیث کی شرح صحیح البخاری : ۱۸۷ میں تفصیل سے گزرچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: لوگوں کے وضوء کے بچے ہوئے پانی کو استعمال کرنا اور یہاں اس کا عنوان ہے: مکہ وغیرہ میں سترہ اور اس حدیث میں دونوں باتوں کا ذکر ہے۔

Exit mobile version