امام ابو جعفر محمد بن حسین بغدادی نے کتاب التمییز میں لکھا ہے کہ ثوری، شعبہ، یحییٰ بن سعید القطان، ابن مہدی اور امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ بلا تکرار احادیثِ صحیحہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنداً مروی ہیں ان کی کل تعداد چار ہزار چار سو ہے، یہ وہ احادیث ہیں جو بالخصوص احکام سے متعلق ہیں۔
امام اسحاق بن راہویہ سے روایت ہے کہ ان کی تعداد سات ہزار سے زیادہ ہے۔
امام احمد بن حنبل نے کہا میں نے ابن مہدی سے سنا کہ حلال اور حرام سے متعلق آٹھ سو احادیث ہیں۔ امام اسحاق بن راہویہ نے بھی یحییٰ بن سعید سے اسی طرح نقل کیا ہے۔
قاضی ابوبکر ابن العربی نے ذکر کیا ہے کہ صحیحین میں احکام سے متعلق تقریباً دو ہزار حدیثیں ہیں۔
امام ابو داؤد نے امام ابن المبارک سے نقل کیا ہے کہ حلال اور حرام سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کل اقوال و افعال کی تعداد نو سو ہے۔ ان مختلف اقوال کی توجیہ یہ ہے کہ ہر ایک نے ان احادیث کا شمار کیا ہے جو اس تک پہنچی ہیں۔ اس وجہ سے ان کی تعداد میں اختلاف ہے ۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، النکت علی کتاب ابن الصلاح ج ۱ ص ۳۰۰ – ۲۹۹ ، مطبوعہ احیاء التراث الاسلامی ۱۴۰۴ھ)
امام حاکم نیشاپوری لکھتے ہیں:
یہ قول کس طرح صحیح ہوسکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا عدد دس ہزار تک بھی نہیں پہنچتا! جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چار ہزار مردوں اور عورتوں نے احادیث کو روایت کیا ہے جو بیس سال سے زیادہ مکہ اور مدینہ میں آپ کی صحبت میں رہے اور انہوں نے آپ کے اقوال اور افعال کو محفوظ رکھا ، اور آپ کی نیند اور آپ کی بیداری، آپ کی حرکات اور سکنات، آپ کے قیام اور قعود، عبادت میں آپ کا مجاہدہ، آپ کی سیرت ، آپ کے سراپا اور مغازی، آپ کا مزاح اور آپ کا جھڑکنا، آپ کا خطبہ اور آپ کا کھانا پینا، آپ کا چلنا اور آپ کا خاموش رہنا، آپ کی گھر والوں کے ساتھ خوش طبعی اور آپ کا گھوڑے کو سدھانا، مشرکین اور مسلمین کو خطوط لکھنا اور آپ کے عہود اور مواثیق ، غرضکہ صحابہ کرام نے ہر لحظہ اور ہرمنٹ کے احوال کو یاد رکھا۔ اور یہ تمام امور عبادات اور حلال اور حرام سے متعلق ان احکامِ شریعت کے علاوہ ہیں جن کو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا اور یاد رکھا اور ان تمام قضایا اور فیصلوں کے ماسوا ہیں جن کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ حیثیت امیر اور حاکم کے فیصلہ سنایا۔ کیا ان حالات میں ذرا دیر کے لیے بھی یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ ہزاروں صحابہ جو میدانِ جہاد میں صف درصف نظر آتے ہیں وہ کوئی حدیث بیان کیے بغیر اللہ تعالیٰ کے گھر سدھار گئے، فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ کے ساتھ پندرہ ہزار صحابہ تھے۔
امام احمد بن حنبل نے کہا احادیثِ صحیحہ کی تعداد سات لاکھ ہے ، امام اسحاق بن راہویہ اپنے حافظے سے ستر ہزار احادیث لکھوا دیتے تھے ، حافظ ابوکریب نے کوفہ میں تین لاکھ احادیث بیان کیں، محدث ابوبکر بن ابی دارِم کہتے ہیں کہ میں نے اپنی انگلیوں سے شمار کرکے ابو جعفر حضرمی سے ایک لاکھ حدیثیں لکھی ہیں، محمد بن مسیب کا بیان ہے کہ جب میں مصر میں سفر کررہا تھا تو میرے پاس ایک ہزار جزو تھے اور ہر جزو میں ایک ہزار حدیثیں تھیں (گویا کہ کل دس لاکھ حدیثیں تھیں ۔) (امام حاکم ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ نیشاپوری متوفی ۴۰۵ھ ، المدخل فی اصول الحدیث ص ۱۱ – ۹، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی ۱۴۱۱ھ)
علامہ سیوطی لکھتے ہیں:
علامہ نووی نے کہا ہے کہ کتبِ خمسہ یعنی صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی اور سنن نسائی میں تقریباً کل احادیث موجود ہیں اور ان کے علاوہ بہت کم حدیثیں رہ جاتی ہیں ، حافظ عراقی نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ امام بخاری نے کہا مجھے ایک لاکھ صحیح اور دو لاکھ غیر صحیح احادیث یاد ہیں ، اور ہوسکتا ہے کہ امام بخاری کی یہ مراد ہو کہ وہ احادیث مکررۃ الاسانید ہیں اور ان میں موقوفات (اقاویلِ صحابہ) بھی ہیں ۔ کیونکہ اگر ایک حدیث دو سندوں سے مروی ہو تو وہ محدثین کے نزدیک دو حدیثیں ہیں، اور ابنِ جماعہ نے المنہال الراوی میں یہ لکھا ہے یا امام بخاری کی مراد کثرت میں مبالغہ ہے لیکن پہلی ترجیح زیادہ قوی ہے۔ اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ اگر تمام مسانید، جوامع، سنن اور اجزاء وغیرہ کا تتبع کیا جائے تو بلاتکرار احادیثِ صحیحہ اور غیر صحیحہ کی کل تعداد ایک لاکھ کو بھی نہیں پہنچتی ، بلکہ پچاس ہزار کو بھی نہیں پہنچتی، اور یہ بات بہت بعید ہے کہ ایک شخص کو اتنی حدیثیں یاد ہوں جو پوری امت میں سے کسی کو بھی یاد نہ ہوں، اس کو صرف اتنی ہی حدیثیں یاد ہوں گی جو اس نے اپنے وقت کے مشائخ سے روایت کی ہوں گی۔
امام ابن جوزی نے کہا ہے کہ تمام احادیث کو حصر کرنے کا امکان بہت بعید ہے البتہ ایک جماعت نے ان کے حصر اور تتبع میں مبالغہ کیا ہے۔ امام احمد نے کہا سات لاکھ سے زیادہ صحیح احادیث ہیں اور میں نے مسند میں سات لاکھ پچاس ہزار حدیثوں سے منتخب کرکے حدیثیں لکھی ہیں ، حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص پہلے ان حدیثوں کا شمار کرے جو اس کو مل گئی ہیں پھر ان حدیثوں کا شمار کرے جو اس سے رہ گئی ہیں تو احادیث کا شمار سہل ہے۔
میں کہتا ہوں کہ متاخرین نے اس پر کام کیا ہے کیونکہ حافظ ابن حجر عسقلانی کے بعد معاصرین نے ان احادیث کو جمع کیا جو کتب خمسہ پر زائد ہیں، اور حافظ ابوالحسن ہیثمی نے مسند احمد کی ان حدیثوں کو دو جلدوں میں جمع کیا جو صحاح ستہ پر زائد ہیں اور مسند بزار کی زائد حدیثوں کو ایک جلد میں جمع کیا، اور طبرانی کی معجم کبیر کی زائد حدیثوں کو تین جلدوں میں جمع کیا اور معجم اوسط اور معجم صغیر کی زائد حدیثوں کو دو جلدوں میں جمع کیا، اور ابویعلی کی زوائد کو ایک جلد میں جمع کیا اور ان تمام زوائد کو اسانید حذف کرکے ایک کتاب میں جمع کیا اور اس کا نام مجمع الزوائد رکھا اور احادیث کی فنی حیثیت پر کلام کیا اور اس میں بکثرت صحیح حدیثیں ہیں، اور ابو نعیم کی حلیۃ کی زوائد کو ایک جلد میں جمع کیا، اور ابن حبان کی زوائد کو ایک جلد میں جمع کیا اور اس کا نام موارد الظمان رکھا، اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے اسحاق، ابن ابی عمر، مسدد، ابن ابی شیبہ، حمیدی، عبد بن حمید، احمد بن منیع، اور طیالسی کی زوائد کو دو جلدوں میں جمع کیا اور مسند الفردوس کی زوائد کو ایک جلد میں جمع کیا، اور ہمارے صاحب شیخ زین الدین قاسم بن قطلوبغا حنفی نے سنن دارقطنی کی زوائد کو ایک جلد میں جمع کیا اور میں نے امام بیہقی کی شعب الایمان کی زوائد کو ایک جلد میں جمع کیا، ان کے علاوہ اور بھی بکثرت کتب حدیث موجود ہیں اور ان میں بکثرت زوائد ہیں، اس لیے ان سب کے مجموعہ کا عدد اگر اس عدد (ساڑھے سات لاکھ) کو پہنچ جائے تو کچھ بعید نہیں ہے۔ ( علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ تدریب الرادی ج۱ ص ۹۹-۱۰۱ مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ )
میں کہتا ہوں کہ ان اقوال کا حاصل یہ ہے کہ حلال اور حرام اور احکام شرعیہ سے متعلق کل احادیث کی تعداد سات ہزار ہے، جیسا کہ امام اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا اور یہ احادیث مکررة الاسانید ہیں، اور ان کی تعداد بلا تکرار نو سو ہے جیسا کہ امام ابن المبارک نے بیان کیا ہے، اور کل احادیث صحیحہ و غیر صحیحہ کی مجموعی تعداد ساڑھے سات لاکھ پچاس ہزار ہے جیسا کہ امام احمد بن حنبل نے بیان کیا، اور یہ احادیث مکررة الاسانید ہیں اور بلا تکرار کل احادیث کی تعداد تقریباً پچاس ہزار ہے جیسا کہ ابن جماعہ نے بیان کیا ہے۔