Site icon اردو محفل

  حدیث ضعیف کا تفصیلی بیان

  حدیث ضعیف کا تفصیلی بیان

 

حدیث ضعیف وہ حدیث ہے جس میں حدیث کو قبول کرنے کی صفات نہ پائی جائیں۔(النكت على كتاب ابن الصلاح، ج 1،ص،77المدينة المنورة)

 یعنی حدیث ضعیف وہ ہے جس کے راویوں میں صحیح اور حسن کی تمام یا بعض شرائط مفقود ہوں اور یہ کمی پوری نہ ہو۔

 

 حدیث ضعیف کے چار مراتب ہیں:

 اول: ضعیف بضعف قریب یعنی ضعف اتنا کم ہے کہ لائقِ اعتبار ہے مثلاً یہ ضعف، اختلاطِ راوی، سوئے حفظ، تدلیس کی وجہ سے ہے یہ متابعات وشواہد کے کام آتی ہے اور جابر سے قوت پا کر حسن لغیرہ بلکہ صحیح لغیرہ ہو جاتی ہے۔

دوم: ضعیف بہ ضعف قوی وہن شدید جیسے وہ حدیث جو راوی کے فسق وغیرہ قوادح قویہ کے سبب متروک ہو بشرطیکہ ہنوز سرحد کذب سے جدائی ہو یہ احکام میں لائقِ احتجاج نہیں البتہ مذہبِ راجح پر فضائل میں مقبول ہاں تعددِ مخارج وتنوعِ طرق سے انجبار کے بعد بالاتفاق مقبول۔

 سوم: وہ جس کا راوی وضاع کذاب یا متہم بالکذب ہو یہ حدیث ضعیف کی بدترین قسم ہے بلکہ بعض محاورات کی بنا مطلقاً اور ایک اصطلاح پر اگر اس کا مدار کذب پر ہو تو اسے موضوع کہتے ہیں بنظرِ دقیق ان اصطلاحات پر یہ قسم موضوعِ حکمی میں داخل ۔

 چہارم: موضوع، یہ بالاجماع نہ قابلِ انجبار نہ کہیں لائقِ اعتبار حتی کہ فضائل میں بھی بلکہ اسے حدیث کہنا بطورِ مجاز ہے حقیقت میں یہ حدیث ہی نہیں۔(فتاوی رضویه ملخصاً، ج 5،ص،440رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

  حدیث ضعیف کن چیزوں سے قوی ہوجاتی ہے:

 (1) تعددِ طرق سے ضعیف حدیث قوت پاتی بلکہ حسن ہو جاتی ہے۔

 مرقاۃ میں ہے: ”تعدد الطرق يبلغ الحديث الضعيف الى حد الحسن “ ترجمہ: متعدد روایتوں سے آنا حدیث ضعیف کو درجہ حسن تک پہنچا دیتا ہے۔(مرقاة شرح مشكوة، ج2، ص795دار الفكر، بيروت)

 موضوعاتِ کبیر میں ہے: ”تعدد الطرق ولو ضعفت يرتقى الحديث الى الحسن“ ترجمہ: طرق متعددہ اگرچہ ضعیف ہوں حدیث کو درجہ حسن تک ترقی دیتے ہیں۔(موضوعات كبير، ص 481، بيروت)

 محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں: ”لوتم تضعيف كلهاكانت حسنة لتعدد الطرق وكثرتها“ ترجمہ: اگر سب کا ضعف ثابت ہو بھی جائے تاہم حدیث حسن ہوگی کہ اس کے طرق متعدد وکثیر ہیں۔(فتح القدير، ج 1، ص306دار الفكر، بيروت)

 امام عبدالوہاب شعرانی میزان الشریعۃ الکبری میں فرماتے ہیں: ”قد احتج جمهور المحدثين بالحديث الضعيف اذا كثرت طرقه والحقوه بالصحيح تارة وبالحسن اخرى“ ترجمہ: حدیث ضعیف جب متعدد طرق سے مروی ہوتو جمہور محدثین اس سے احتجاج کرتے ہیں اور اسے کبھی صحیح کے ساتھ اور کبھی حسن کے ساتھ لاحق کر دیتے ہیں۔

 حافظ زین الدین عراقی فرماتے ہیں:

”فَإِنْ يُقَلْ يُحْتَجُّ بِالضَّعِيْفِ… فَقُلْ: إِذَا كَانَ مِنَ الْمَوْصُوْفِ مَرْوِائِهِ بِسُوْءِ حِفْظٍ يُجْبَرُ… بِكَوْنِهِ مِنْ غَيْرِ وَجْهِ يُذْكَرُ وَإِنْ يَكُنْ لِكَذِبٍ أَوْ شُذَّا… أَوْ قُوِيَ الضَّعْفُ فَلَمْ يُجْبَرْ ذَا“ ترجمہ: اگر کوئی کہے کہ ضعیف سے بھی احتجاج کیا جاتا ہے تو تم کہو کہ یہ اس وقت ہے جب اس کے رواۃ سوئے حفظ کے ساتھ موصوف ہوں اور متعدد طرق کی وجہ سے اس کی کمی پوری ہوگئی ہو اور اگر کذب یا شذوذ کی وجہ سے ضعف ہو یا ضعف بہت قوی ہو تو انجباری نقصان نہیں ہوگا۔(الفية العراقى، القسم الثاني الحسن، ج1،ص98مكتبه دار المنهاج للنشر والتوزيع، رياض)

 علامہ سخاوی نے اس عبارت کے تحت سوئے حفظ کے ساتھ ساتھ اختلاط، تدلیس اور ارسال کی وجہ سے نقصان کے انجبار کا بھی لکھا ہے۔(فتح المغيث،امثلة الحديث الحسن،ج1،ص96مكتبة السنة، مصر)

 انجبارنقصان وحصول قوت کے لیے یہ ضروری نہیں کہ طرق بہت زیادہ ہوں ،صرف دو بھی مل کر قوی ہو جاتے ہیں، التیسیر شرح الجامع الصغیر میں ہے : ”ضعيف لضعف عَمْرِو بن واقد لكنه يَقْوى بوروده من طريقين “ ترجمہ: یہ روایت عمرو بن واقد کی وجہ سے ضعیف ہے لیکن دو طریقوں سے آنے کی وجہ سے قوت پاگئی۔(التيسير بشرح الجامع الصغير، حرف الهمزه، ج1، ص، 217 مكتبة الامام الشافعي، رياض)

التيسير ہی میں حدیث: ((أكرموا المعزى وامسحوا برغامها فإنها من دواب الجنة)) کے تحت علامہ مناوی نے لکھا: “وإسناده ضعيف لكن يجبر ما قبله فيتعا ضدان” ترجمہ: سند اس کی بھی ضعیف ہے لیکن پھر پہلی سند اس کی تلافی کرتی ہے تو دونوں قوی ہوجائیں گے۔(التيسير بشرح الجامع الصغير، حرف الهمزه، ج1، ص، 204 مكتبة الامام الشافعي، رياض)

 (2) اہل علم کے عمل کرنے سے بھی حدیث ضعیف قوی ہو جاتی ہے۔

 مرقاۃ میں ہے: “رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب والعمل على هذا عند اهل العلم، قال النووى واسناده ضعيف نقله ميرك، فكأن الترمذى يريد تقوية الحديث بعمل اهل العلم، والعلم عند الله تعالى” ترجمہ: امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے، سید میرک نے امام نووی سے نقل کیا کہ اس کی سند ضعیف ہے تو گویا امام ترمذی عمل اہل علم سے حدیث کو قوت دینا چاہتے ہیں، واللہ تعالی اعلم۔(مرقاة شرح مشكوة، ج3، ص 879، دارالفكر، بيروت)

 تنزیہ الشریعۃ میں ہے: “قد صرح غير واحد بأن من دليل صحة الحديث قول اهل العلم به وإن لم يكن له اسناد يعتمد على مثله” ترجمہ: کثیر علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اہل علم کی موافقت صحتِ حدیث کی دلیل ہوتی ہے اگرچہ اس کے لئے کوئی سند قابلِ اعتماد نہ ہو۔ (تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة، ج 2، ص ، 104 دار الكتب العلمية ،بيروت)

 (3) جس مدلولِ حدیث کے عمل پر علماء کا اتفاق ہو تو یہ حدیث بھی مقبول ہو جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے تقاضے پر عمل واجب ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی (متوفی 852ھ) فرماتے ہیں: “من جملة صفات القبول التي لم يتعرض لها شيخنا أن يتفق العلماء على العمل بمدلول حديث ، فإنه يقبل حتى يجب العمل به. وقد صرح بذلك جماعة من أئمة الأصول. ومن أمثلته قول الشافعى -رضى الله عنه-: وماقلت من أنه إذا غير طعم الماء وريحه ولونه يروى عن النبى صلى الله عليه وسلم من وجه لا يثبت أهل الحديث مثله، ولكنه قول العامة لا أعلم بينهم فيه خلافا” ترجمہ: قبول کی صفات میں سے جس کو ہمارے شیخ عراقی نے ذکر نہیں کیا یہ بھی ہے کہ علماء مدلولِ حدیث کے عمل پر متفق ہوں تو اس کو قبول کیا جائے گا یہاں تک کہ اس پر عمل واجب ہے ، اور ائمہ اصول کی ایک جماعت نے اس کی صراحت کی ہے ، اس کی امثلہ میں سے امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول ہے کہ اور جو میں نے کہا کہ ’جب پانی کا ذائقہ ، بو اور رنگ تبدیل ہو جائے الخ‘ اس کے بارے میں حدیث ایسی سند کے ساتھ مروی ہے جو محدثین کے نزدیک ثابت نہیں ، لیکن عام علماء کا یہی قول ہے اور میں ان کے اس بارے میں اختلاف کو نہیں جانتا۔(النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر ، النوع الثالث : الضعيف، ج 1، ص ، 4 9عمارة البحث العلمي بالجامعة الاسلاميه، مدينة المنورة)

 (4) مجتہد کے استدلال سے بھی ضعیف حدیث قوت پا جاتی ہے۔

امام عبد الوہاب شعرانی (متوفی 973ھ) فرماتے ہیں: ”كفانا صحة الحديث الاستدلال مجتهد به“ ہمیں حدیث کی صحت کے لیے یہ کافی ہے کہ مجتہد نے اس سے استدلال کیا ہے۔ (میزان الشريعة الكبرى، ج 1، ص ، 65 مطبوعه از هريه ، مصر)

علامہ امین ابن عابدین شامی قدس سرہ السامی (متوفی 1252ھ) فرماتے ہیں: ”أَنَّ الْمُجْتَهِدَ إِذَا اسْتَدَلَّ بِحَدِيثٍ كَانَ تَصْحِيحاً لَهُ كَمَا فِي التَّحْرِيرِ وَغَيْرِهِ“ ترجمہ: کسی حدیث سے کسی مجتہد کا استدلال اس کے صحت کی دلیل ہے جیسا کہ تحریر وغیرہ میں ہے۔ (رد المحتار على الدر المختار، ج 4، ص، 553 دار الفكر، بيروت)

 (5) صالحین کے عمل سے بھی حدیث ضعیف کو قوت مل جاتی ہے۔

 صلوۃ التسبیح کا جس روایت سے ثبوت ہے وہ ضعیف ہے ، محدثین نے اس کے قوی ہونے کی علت صالحین بالخصوص حضرت عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ کے عمل کو قرار دیا ، چنانچہ امام بیہقی (متوفی 458ھ) فرماتے ہیں: ”وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ يَفْعَلُهَا وَتَدَاوَلَهَا الصَّالِحُونَ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ وَفِيهِ تَقْوِيَةٌ لِلْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ“ ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مبارک نماز تسبیح پڑھا کرتے تھے اور بعد کے صلحاء اس کو ایک دوسرے سے پے درپے اخذ کر کے پڑھتے تھے ، اس وجہ سے اس حدیث مرفوع کو قوت مل گئی۔ (شعب الایمان، فصل فی ادامة ذكر الله عزوجل ، ج 2، ص ، 123 مكتبة الرشد للنشر والتوزيع، رياض)

 مولانا عبدالحی لکھنوی (متوفی 1304) نے بھی امام بیہقی کے حوالے سے یہ عبارت نقل کی ہے، لکھتے ہیں: ”قَالَ  البیہقی کان عبداللہ بن المبارک یصلیھا وتداولھا الصالحون بعضھم عن بعض وفی ذلک تقویہ للحدیث المرفرع۔ تَرجمہ: امام بیہقی نے کہا: حضرت عبد اللہ بن مبارک نمازِ تسبیح پڑھا کرتے تھے اور بعد کے صلحاء اس کو ایک دوسرے سے اخذ کرکے پڑھتے تھے۔ اس وجہ سے اس حدیثِ مرفوع کو قوت مل گئی۔ (الآثار المرفوعه في الاخبار الموضوعه، صلاة التسبيح، ج1، ص، 126 مكتبة الشرق الجديد ، بغداد)

امام حاکم فرماتے ہیں: ”وَمِمَّا يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى صِحَّةِ هَذَا الْحَدِيثِ اسْتِعْمَالُ الْأَئِمَّةِ مِنْ أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ إِلَى عَصْرِنَا هَذَا إِيَّاهُ وَمَوَاظَبَتُهُمْ عَلَيْهِ وَتَعْلِيمُهُمُ النَّاسَ، مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ“ ترجمہ: جس چیز سے اس حدیث کی صحت پر استدلال کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ تبع تابعین سے لے کر ہمارے زمانے تک تمام ائمہ اس پر دوام کے ساتھ عمل کرتے رہے ہیں اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتے رہے ہیں، ان ائمہ میں سے عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ بھی ہیں۔ (المستدرک للحاكم، فاما حديث عبد الله بن فروخ الخ، ج1، ص، 464 دارالكتب العلميه، بيروت)

 (6) کبھی تجربہ اور کشف سے بھی حدیث کو قوت مل جاتی ہے۔

 حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”قَالَ الشَّيْخُ مُحْيِي الدِّينِ بْنُ الْعَرَبِيِّ: أَنَّهُ بَلَغَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ سَبْعِينَ أَلْفًا غُفِرَ لَهُ، وَمَنْ قِيلَ لَهُ غُفِرَ لَهُ أَيْضًا، فَكُنْتُ ذَكَرْتُ التَّهْلِيلَةَ بِالْعَدَدِ الْمَرْوِيِّ مِنْ غَيْرِ أَنْ أَنوِيَ لِأَحَدٍ بِالْخُصُوصِ، بَلْ عَلَى الْوَجْهِ الْإِجْمَالِيِّ، فَحَضَرْتُ طَعَامًا مَعَ بَعْضِ الْأَصْحَابِ، وَفِيهِمْ شَابٌّ مَشْهُورٌ بِالْكَشْفِ، فَإِذَا هُوَ فِي أَثْنَاءِ الْأَكْلِ أَظْهَرَ الْبُكَاءَ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ السَّبَبِ فَقَالَ: أَرَى أُمِّي فِي الْعَذَابِ، فَبَقِيتُ فِي بَاطِنِي تَوَّابَ التَّهْلِيلَةِ الْمَذْكُورَةِ لَهَا، فَضَحِكَ وَقَالَ: إِنِّي أَرَاهَا الْآنَ فِي حُسْنِ الْمَآَبِ“ ترجمہ: سید المكاشفین حضرت محی الدین ابن عربی قدس سرہ نے فرمایا: مجھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث پہنچی ہے کہ جو لا الہ الا الله ستر ہزار بار کہے اس کی مغفرت ہوجائے گی اور جس کے لئے پڑھا جائے اس کی بھی مغفرت ہو جائے گی۔ میں نے یہ کلمہ طیبہ ستر ہزار بار پڑھا تھا مگر کسی خاص شخص کی نیت نہیں کی تھی، ایک دن ایک دعوت میں گیا، اس دعوت میں ایک نوجوان بھی تھا جو کشف میں مشہور تھا، یہ جوان کھانا کھاتے کھاتے رونے لگ گیا، میں نے سبب دریافت کیا، تو وہ کہنے لگا میں اپنی ماں کو عذاب میں مبتلا دیکھ رہا ہوں، میں نے اپنے دل میں اس کلمے کا ثواب اس کی ماں کو بخش دیا، فوراً وہ نوجوان ہنسنے لگا اور کہا اب میں اپنی ماں کو اچھی حالت میں دیکھتا ہوں۔

سید المكاشفین امام محی الدین ابن عربی قدس سرہ نے فرمایا: ”فَعَرَفْتُ صِحَّةَ الْحَدِيثِ بِصِحَّةِ كَشْفِهِ، وَصِحَّةَ كَشْفِهِ بِصِحَّةِ الْحَدِیْثِ“ میں نے اس حدیث کی صحت اس جوان کے کشف سے اور اس کے کشف کی صحت اس حدیث سے جانی۔ (مرقاة المفاتیح شرح مشكاة المصابیح، ج 3، ص، 879 دارالفكر، بيروت، لبنان)

 یوں ہی ایک حدیث ضعیف میں بدھ کے دن ناخن کتروانے کے بارے میں آیا کہ اس سے برص ہو جاتا ہے ، بعض علما نے کتروائے ، کسی نے بر بنائے حدیث منع کیا ، فرمایا حدیث صحیح نہیں فوراً مبتلا ہو گئے ، خواب میں زیارت جمالِ بے مثال حضورِ پُرنور محبوب ذی الجلال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مشرف ہوئے ، شافیِ کافی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حضور اپنے حال کی شکایت عرض کی ، حضور والا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے نہ سنا تھا کہ ہم نے اس سے نہی فرمائی ہے؟ عرض کی حدیث میرے نزدیک صحت کو نہ پہنچی تھی۔ ارشاد ہوا: تمہیں اتنا کافی تھا کہ حدیث ہمارے نامِ پاک سے تمہارے کان تک پہنچی۔ یہ فرما کر حضورِ مبرء الاکمہ والابرص محی الموتیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا دستِ اقدس کہ پناہِ دو جہان و دستگیرِ بیکساں ہے ، ان کے بدن پر لگا دیا، فوراً اچھے ہو گئے اور اُسی وقت توبہ کی کہ اب کبھی حدیثِ سُن کر مخالفت نہ کروں گا۔ علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں: ”ووردفی بعض الآثار النهی عن قص الاظفار يوم الاربعاء فانه يورث وعن ابن الحاج صاحب المدخل انه هم بقص اظفاره يوم الاربعاء ، فتذكر ذلك، فترك، ثم رای ان قص الاظفار سنة حاضرة، ولم يصح عنده النهی فقصها ، فلحقه ای اصابه البرص، فرأى النبي صلى الله تعالى عليه وسلم في النوم فقال الم تسمع نهی عن ذلك، فقال ” يارسول الله لم يصح عندی ذلك “فقال كفيك ان تسمع ، ثم مسح صلى الله تعالیٰ علیہ وسلم علی بدنه فزال البرص جميعا ، قال ابن الحاج رحمه الله تعالى فجددت مع الله توبة انى لا اخالف ما سمعت عن رسول الله صلى الله تعالیٰ علیہ وسلم ابداً “ ترجمہ: بعض آثار میں آیا ہے کہ بدھ کے دن ناخن کتروانے والے کو برص کی بیماری ہو جاتی ہے اور صاحبِ مدخل علامہ ابن الحاج کے بارے میں ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز ناخن کاٹنے کا ارادہ کیا، انہیں یہ نہی والی روایت یاد دلائی گئی تو انہوں نے اسے ترک کردیا ، پھر خیال میں آیا کہ ناخن کتروانا سنتِ ثابتہ ہے اور ان کے نزدیک نہی کی روایت صحیح نہیں ۔ لہٰذا انہوں نے ناخن کاٹ لیے تو انہیں برص عارض ہوگیا تو خواب میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تُو نے نہیں سُنا کہ میں نے اس سے منع فرمایا ہے؟ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم! وہ حدیث میرے نزدیک صحیح نہ تھی، تو آپ نے فرمایا کہ تیرا سُن لینا ہی کافی تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے جسم پر اپنا دستِ اقدس پھیرا تو تمام برص زائل ہو گیا۔ ابن الحاج کہتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور اس بات سے توبہ کی کہ آئندہ جو حدیث بھی نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنوں گا اس کی مخالفت نہیں کروں گا۔ (حاشية الطحطاوي على الدر المختار، فصل في البيع،ج4، ص، 202 دار المعرفة بيروت، لبنان)

 (7) تلقیِ امت بالقبول سے بھی حدیثِ ضعیف کو قوت مل جاتی ہے۔

 شمس الدین ابو الخیر محمد بن عبدالرحمن سخاوی (متوفی 902ھ) فرماتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا تَلَقَّتِ الْأُمَّةُ الضَّعِيْفَ بِالْقَبُوْلِ يُعْمَلُ بِهِ عَلَى الصَّحِيْحِ، حَتَّى إِنَّهُ يَنْتَزِلُ مَنْزِلَةَ الْمُتَوَاتِرِ فِي أَنَّهُ يَنْسَخُ الْمَقْطُوْعَ بِهِ : وَلِهَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ – رَحِمَهُ اللهُ – فِي حَدِيثِ : لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إِنَّهُ لَا يُثْبِتُهُ أَهْلُ الْحَدِيثِ ، وَلَكِنَّ الْعَامَّةَ تَلَقَّتْهُ بِالْقَبُوْلِ ، وَعَمِلُوْا بِهِ حَتَّى جَعَلُوْهُ نَاسِخًا لِآيَةِ الْوَصِيَّةِ لَهُ” ترجمہ: ایسے ہی جب امت کسی ضعیف حدیث کو قبول کرے تو صحیح مذہب کے مطابق اس پر عمل کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ حدیث متواتر کے منزلے میں ہوجائے گی کہ اس سے قطعی حکم کو منسوخ کردیا جائے گا، اسی وجہ سے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث ((لا وصية لوارث)) (وارث کے لیے وصیت نہیں) کے بارے میں فرمایا کہ یہ حدیث پاک ائمہ حدیث کے نزدیک ثابت نہیں لیکن اس کو قبولیتِ عامہ حاصل ہے ، اس پر سب نے عمل کیا ہے یہاں تک کہ اس سے آیتِ وصیت کو منسوخ کردیا۔ (فتح المغيث، تنبيهات، ج1،ص،350 مكتبة السنه، مصر)

 امام اہل سنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں ”یہ حدیث (1) امام بیہقی نے بھی ”دلائل النبوۃ” میں بنحوہ (اسی طرح) روایت کی، اجلہ ائمہ دین مثل (2) امام قسطلانی ”مواہب لدنیہ” اور (3) امام ابن حجر مکی ”افضل القرى” اور (4) علامہ فاسی ”مطالع المسرات” اور (5) علامہ زرقانی ”شرح مواہب” اور (6) علامہ دیار بکری ”خمیس” اور (7) شیخ محقق دہلوی ”مدارج” وغیرہا میں اس حدیث سے استناد اور اس پر تعویل و اعتماد فرماتے ہیں۔

 بالجملہ اس روایت کو تلقیِ امت بالقبول کا منصبِ جلیل حاصل ہے تو بلا شبہ حدیثِ حسن صالح مقبول معتمد ہے۔ تلقیِ علماء بالقبول وہ شئے عظیم ہے جس کے بعد ملاحظہٴ سند کی حاجت نہیں رہتی بلکہ سندِ ضعیف بھی ہو تو حرج نہیں کرتی۔  (فتاوی رضویه ،ج،30ص،659رضا فاؤنڈیشن ، لاهور)

 حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:

 ”وقال في حديث : لا وصية لوارث: لا يثبته أهل العلم بالحديث، ولكن العامة تلقته بالقبول وعملوا به حتى جعلوه ناسخاً لآية الوصية للوارث“ حدیث پاک ((لا وصية لوارث)) محدثین کے نزدیک ثابت نہیں لیکن اس روایت کو تلقی امت بالقبول کا منصب حاصل ہے اور عام علماء نے اس پر عمل کیا ہے اور انہوں نے اسے آیت وصیت کے لیے ناسخ قرار دیا ہے۔ (النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر، النوع الثالث: الضعيف، ج 1، ص 494، عمارة البحث العلمي بالجامعة الاسلاميه، مدينة المنورة)

  ضعیف حدیث کہاں مقبول ہے:

 (1) فضائل ومناقب میں بالاتفاق ضعیف حدیث مقبول وکافی ہے۔

 امام اجل شیخ العلماء والعرفاء سیدی ابو طالب محمد بن علی مکی قدس السرہ المالکی (متوفی 386ھ) کتاب جلیل القدر عظیم الفخر قوت القلوب فی معاملة المحبوب میں فرماتے ہیں: ”الأحاديث في فضائل الأعمال وتفضيل الأصحاب متقبلة محتملة على كل حال مقاطيعها ومراسيلها لا تعارض ولا ترد، كذلك كان السلف يفعلون“ ترجمہ: فضائل اعمال و تفضیل صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی حدیثیں کیسی ہی ہوں ہر حال میں مقبول و ماخوذ ہیں مقطوع ہوں خواہ مرسل نہ اُن کی مخالفت کی جائے نہ اُنہیں رد کریں، ائمہ سلف کا یہی طریقہ تھا ۔ (قوت القلوب فی معاملة المحبوب، بيان تفضيل الاخبار و بيان طريق الارشاد، ج 1، ص 301، دار الكتب العلمية ، بيروت)

 تقريب النواوی للنواوی اور اس کی شرح تدریب الراوی للسیوطی میں ہے: ” (وَيَجُوزُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَغَيْرِهِمُ التَّسَاهُلُ فِي الْأَسَانِيدِ) الضَّعِيفَةِ (وَرِوَايَةُ مَا سِوَى الْمَوْضُوعِ مِنَ الضَّعِيفِ وَالْعَمَلُ بِهِ مِنْ غَيْرِ بَيَانِ ضَعْفِهِ فِي غَيْرِ صِفَاتِ اللَّهِ تَعَالَى)، وَمَا يَجُوزُ وَيَسْتَحِيلُ عَلَيْهِ، وَتَفْسِيرِ كَلَامِهِ، (وَالْأَحْكَامِ كَالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ، وَغَيْرِهِمَا، وَذَلِكَ كَالْقَصَصِ وَفَضَائِلِ الْأَعْمَالِ وَالْمَوَاعِظِ، وَغَيْرِهَا) (مِمَّا لَا تَعَلُّقَ لَهُ بِالْعَقَائِدِ وَالْأَحْكَامِ). وَمِمَّنْ نَقَلَ عَنْهُ ذَلِكَ: ابْنُ حَنْبَلٍ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالُوا: إِذَا رُوِينَا فِي الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ شَدَّدْنَا، وَإِذَا رُوِينَا فِي الْفَضَائِلِ وَنَحْوِهَا تَسَاهَلْنَا“ ترجمہ: محدثین و غیر ہم علماء کے نزدیک موضوع کے علاوہ ضعیف سندوں میں تساہل اور بے اظہار ہر قسم کی ضعیف حدیث کی روایت اور اس پر عمل فضائل اعمال و غیرہا امور میں جائز ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات، جو اس کے لیے جائز ہے اور جو اس کے لیے محال ہے اور اس کے کلام کی تفسیر اور حلال و حرام و غیرہما کے احکام کے علاوہ ہوں ، جیسا کہ قصص، فضائل اعمال، مواعظ و غیرہا جن کا عقائد اور احکام سے کوئی تعلق نہیں ، امام احمد بن حنبل و امام عبد الرحمن بن مہدی و امام عبد اللہ بن مبارک وغیرہما ائمہ سے اس کی تصریح منقول ہے وہ فرماتے جب ہم حلال و حرام میں حدیث روایت کریں سختی کرتے ہیں اور جب فضائل میں روایت کریں تو نرمی کرتے ہیں ۔ (تدريب الراوی، شروط العمل بالاحادیث الضعيفه، ج 1، ص 350، دار طيبة)

 علامہ زرکشی (متوفی 794) فرماتے ہیں: ’’أَجْمَعَ أَهْلُ الْحَدِيثِ وَغَيْرُهُمْ عَلَى الْعَمَلِ فِي الْفَضَائِلِ وَنَحْوِهَا مِمَّا لَيْسَ فِيهِ حُكْمٌ وَلَا شَيْءٌ مِنَ الْعَقَائِدِ وَصِفَاتِ اللهِ تَعَالَى بِالْحَدِيثِ الضَّعِيفِ‘‘ ترجمہ: ائمہ حدیث وغیرہما کا اجماع ہے کہ فضائل اور اس جیسے معاملات میں جن میں حکم، عقائد اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں کوئی چیز نہ ہو ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے۔ (النكت على مقدمه ابن الصلاح، النوع الثاني والعشرون المقلوب،ج 2،ص،310 اضواء السلف،رياض)

 امام محقق علی الاطلاق (متوفی 861ھ) فتح القدیر میں فرماتے ہیں: ’’فَالضَّعِيفُ غَيْرُ الْمَوْضُوعِ يُعْمَلُ بِهِ فِي فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ‘‘ ترجمہ: فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا بس اتنا چاہئے کہ موضوع نہ ہو۔ (فتح القدير،باب الامامة،ج 1،ص،349 دار الفكر)

علامہ شہاب الدین رملی شافعی (متوفی 957ھ) فرماتے ہیں: ’’وَيَثْبُتُ الْحُكْمُ فِي فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ بِالْحَدِيثِ الضَّعِيفِ‘‘ ترجمہ: فضائل اعمال میں ضعیف حدیث سے حکم ثابت ہوتا ہے۔ (فتاوى رملی،كتاب الغسل،ج 1،ص،56 المكتبة الاسلاميه)

 مزید فرماتے ہیں: ’’قَدْ حَكَى النَّوَوِيُّ فِي عِدَّةٍ مِنْ تَصَانِيفِهِ إِجْمَاعَ أَهْلِ الْحَدِيثِ عَلَى الْعَمَلِ بِالْحَدِيثِ الضَّعِيفِ فِي الْفَضَائِلِ وَنَحْوِهَا خَاصَّةً وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ أَحَادِيثُ الْفَضَائِلِ لَا يُحْتَاجُ فِيهَا إِلَى مَنْ يُحْتَجُّ بِهِ وَقَالَ الْحَاكِمُ سَمِعْتُ أَبَا زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيَّ يَقُولُ الْخَبَرُ إِذَا وَرَدَ لَمْ يُحَرِّمْ حَلَالًا وَلَمْ يُحِللَّ حَرَامًا وَلَمْ يُوجِبْ حُكْمًا وَكَانَ فِيهِ تَرْغِيبٌ أَوْ تَرْهِيبٌ أُغْمِضَ عَنْهُ وَتُسُوهِلَ فِي رِوَايَتِهِ، وَلَفْظُ ابْنِ مَهْدِيٍّ فِيمَا أَخْرَجَهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الْمَدْخَلِ إِذَا رُوِينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ وَالْأَحْكَامِ شَدَّدْنَا فِي الْأَسَانِيدِ وَانْتَقَدْنَا فِي الرِّجَالِ، وَإِذَا رُوِينَا فِي الْفَضَائِلِ وَالثَّوَابِ وَالْعِقَابِ سَهَّلْنَا فِي الْأَسَانِيدِ وَتَسَامَحْنَا فِي الرِّجَالِ. وَلَفْظُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ فِي رِوَايَةِ الْمَيْمُونِيِّ عَنْهُ: الْأَحَادِيثُ الرِّقَاقُ يُحْتَمَلُ أَنْ يَتَسَاهَلَ فِيهَا حَتَّى يَجِيءَ شَيْءٌ فِيهِ حُكْمٌ‘‘ ترجمہ: علامہ نووی نے اپنی تصانیف میں متعدد مرتبہ یہ حکایت کیا ہے کہ ائمہ حدیث کا اس بات پر اجماع ہے کہ ضعیف حدیث پر صرف فضائل وغیرہ میں عمل جائز ہے، علامہ ابن عبد البر نے کہا کہ فضائل کی احادیث سے جو احتجاج کرے وہ دلیل کا محتاج نہیں، امام حاکم نے لکھا کہ میں نے ابو زکریا عنبری کو فرماتے سنا کہ وہ روایت جو کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال نہ کرے، کسی حکم کو واجب نہ کرے اور اس میں ترغیب یا ترہیب ہو تو اس میں چشم پوشی سے کام لیا جاتا ہے اور اس کی روایت میں نرمی کی جاتی ہے ، علامہ ابن مہدی کے الفاظ جن کو بیہقی نے مدخل میں تخریج کیا ہے وہ یہ ہیں کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے حلال و حرام اور احکام میں روایت کرتے ہیں تو اسانید میں شدت کرتے ہیں اور رجال کو خوب پرکھتے ہیں اور جب ہم فضائل اور ثواب و عقاب کے بارے میں روایت کرتے ہیں تو ہم اسانید میں نرمی کرتے ہیں اور رجال میں چشم پوشی کرتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل کے الفاظ میمونی سے اس طرح مروی ہیں کہ احادیثِ رقاق تساہل کا احتمال رکھتی ہیں جبکہ اس میں کوئی حکم ثابت نہ ہو رہا ہو۔ (فتاوی رملی، يعمل بالحدیث الضعیف، ج4،ص،383المكتبة الاسلاميه)

 علامہ جلال الدین سیوطی شافعی اور علامہ علی قاری حنفی فرماتے ہیں: ”أَجْمَعُوْا عَلَی جَوَازِ الْعَمَلِ بِالْحَدِیْثِ الضَّعِیْفِ فِيْ فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ“ ترجمہ: علماء کا اجماع ہے کہ فضائلِ اعمال میں حدیثِ ضعیف پر عمل جائز ہے۔ (شرح سنن ابن ماجه للسيوطی، باب ماجاء فی التقلیس،ج1،ص،98قديمى كتب خانه،کراچی) (مرقاة المفاتیح شرح مشكاة المصابيح ، ج3، ص، 895دارالفکر، بیروت ،لبنان)

 علامہ ابن حجر ہیتمی (متوفی 974) فرماتے ہیں: ”الْحَدِیْثَ الضَّعِیْفَ وَالْمُرْسَلَ وَالْمُعْضَلَ وَالْمُنْقَطِعَ يُعْمَلُ بِهِ فِيْ فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ اِتِّفَاقًا بَلْ إِجْمَاعًا“ ترجمہ: حدیث ضعیف، مرسل، معضل اور منقطع پر فضائلِ اعمال میں بالاتفاق بلکہ بالاجماع عمل کیا جائے گا۔ (الفتاوى الحديثیه، ج1،ص69، دارالفکر، بیروت )

 یہی علامہ ہیتمی ”الفتاوى الفقهية الكبرى“ میں فرماتے ہیں: ”وَقَدْ تَقَرَّرَ أَنَّ الْحَدِیْثَ الضَّعِیْفَ وَالْمُرْسَلَ وَالْمُنْقَطِعَ وَالْمُعْضَلَ، وَالْمَوْقُوْفَ – يُعْمَلُ بِهَا فِيْ فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ إِجْمَاعًا“ ترجمہ: یہ بات مقرر ہوچکی کہ حدیثِ ضعیف، مرسل، منقطع، معضل اور موقوف پر فضائلِ اعمال میں بالاجماع عمل کیا جائے گا۔ (الفتاوی الفقهية الکبری، کتاب الصوم،ج2،ص،54المكتبة الاسلاميه)

 علامہ ابنِ عابدین شامی حنفی (متوفی 1252ھ) فرماتے ہیں: ”قَالَ ابْنُ حَجَرٍ فِيْ شَرْحِ الْأَرْبَعِیْنَ لِأَنَّهُ إِنْ كَانَ صَحِیْحًا فِيْ نَفْسِ الْأَمْرِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَقَّهُ مِنَ الْعَمَلِ وَإِلَّا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَی الْعَمَلِ بِهِ مَفْسَدَةُ تَحْلِیْلٍ وَلَا تَحْرِیْمٍ وَلَا ضَيَاعِ حَقٍّ لِلْغَيْرِ ، وَفِيْ حَدِیْثٍ ضَعِیْفٍ مَّنْ بَلَغَهُ عَنِّيْ ثَوَابُ عَمَلٍ فَعَمِلَهُ حَصَلَ لَهُ أَجْرُهُ وَإِنْ لَّمْ أَكُنْ قُلْتُهُ أَوْ كَمَا قَالَ“ ترجمہ: علامہ ابنِ حجر نے شرح اربعین میں فرمایا کہ حدیثِ ضعیف پر عمل فضائلِ اعمال میں اس لئے ٹھیک ہے کہ اگر واقع میں صحیح ہوئی جب تو اس کا حق تھا کہ اس پر عمل کیا جائے حق ادا ہوگیا اور اگر صحیح نہ بھی ہو تو اس پر عمل کرنے میں کسی تحلیل یا تحریم یا کسی کی حق تلفی کا مفسدہ تو نہیں اور ایک حدیث ضعیف میں آیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے مجھ سے کسی عمل پر ثواب کی خبر پہنچی وہ اس پر عمل کر لے اُس کا اجر اُسے حاصل ہو اگرچہ وہ بات واقع میں میں نے نہ فرمائی ہو۔ حدیث کے الفاظ یونہی ہیں یا جس طرح حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمائے۔  (رد المحتار على الدر المختار، سنن الوضوء، ج1، ص، 128 دار الفكر، بيروت)

 فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے۔

 علامہ نووی (متوفی 676ھ) فرماتے ہیں ’’قال العلماءُ من المحدثين والفقهاء وغيرهم: يجوز ويستحب العمل في الفضائل والترغيب والترهيب بالحديث الضعيف ما لم يكن موضوعاً ‘‘ ترجمہ: محدثین و فقہا وغیرہ ہم علماء نے فرمایا کہ فضائل اور نیک بات کی ترغیب اور بری بات سے خوف دلانے میں حدیث ضعیف پر عمل جائز و مستحب ہے جبکہ موضوع نہ ہو۔  (الأذكار، فصل في الامر بالا خلاص وحسن النيات، ص 8، دار الفكر، بيروت)

 امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :’’وَالإِسْتِحْبَابُ يَثْبُتُ بِالضَّعِيفِ غَيْرِ الْمَوْضُوعِ‘‘ ترجمہ: حدیث ضعیف سے کسی چیز کا مستحب ہونا ثابت ہوجاتا ہے جبکہ وہ موضوع نہ ہو۔  (فتح القدير، فصل في الصلوة على الميت، ج 2، ص، 133 دار الفكر)

 (2) حدیث ضعیف احکام میں بھی مقبول ہے جبکہ محل احتیاط ہو۔

 علامہ نووی فرماتے ہیں:’’وَأما الأَحْكـام كـالحلال والحرام والبيع والنكـاح والطلاق وغير ذلك فلا يُعمل فيها إلا بالحديث الصحيح أو الحسن إلا أن يكون في احتياط في شيء من ذلك، كمـا إذا ورَدَ حديثٌ ضعيفٌ بكـراهـة بعض البيوع أو الأنكـحة، فإن المستحبّ أن يتنزّه عنه ولكن لا يجب ‘‘ ترجمہ: حلال و حرام بیع نکاح طلاق وغیرہ احکام کے بارے میں صرف حدیث صحیح یا حسن ہی پر عمل کیا جائیگا مگر یہ کہ ان مواقع میں کسی احتیاطی بات کے بارے میں وارد ہو جیسے کسی بیع یا نکاح کی کراہت میں حدیث ضعیف آئے تو اس سے بچنا مستحب ہے واجب نہیں۔ (الأذكار، فصل في الامر بالا خلاص وحسن النيات، ص8، دارالفكر، بيروت)

علامہ ابن عابدین شامی امام جلیل جلال سیوطی کے حوالے سے ردالمختار میں اور خود امام جلیل جلال سیوطی تدریب میں لکھتے ہیں: ’’ويعمل بالضعيف ايضا فى الأحـكـام اذا كـان فيه احتياط ‘‘ ترجمہ:حدیث ضعیف پر احکام میں بھی عمل کیا جائیگا جبکہ اُس میں احتیاط ہو۔(رد المحتار على الدر المختار، ج1، ص128، دار الفكر، بيروت  تدريب الراوی، ج1، ص351دار طيبة)

 علامہ شمس الدین سخاوی فرماتے ہیں:

 ”كَانَ فِي مَوْضِعِ احْتِيَاطٍ كَمَا إِذَا وَرَدَ حَدِيْثٌ ضَعِيْفٌ بِكَرَاهَةِ بَعْضِ الْبُيُوْعِ أَوْ الْأَنْكِحَةِ ، فَإِنَّ الْمُسْتَحَبَّ كَمَا قَالَ النَّوَوِيُّ أَنْ يَتَنَزَّهَ عَنْهُ ، وَلَكِنْ لَا يَجِبُ“ ترجمہ: حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا جبکہ موضع احتیاط ہو جیسا کہ بعض بیوع اور انکحہ کے بارے میں حدیث ضعیف وارد ہوئی ہے تو مستحب ہے کہ اس سے بچا جائے لیکن واجب نہیں جیسا کہ علامہ نووی نے فرمایا۔ (فتح المغيث، تنبيهات،ج1،ص350، مكتبة السنه،مصر)

 (3) جب کسی مسئلہ میں حدیث ضعیف کے علاوہ کوئی حدیث نہ ملے تو اسی سے احتجاج و استدلال کیا جائے گا۔

 علامہ شمس الدین محمد بن عبد الرحمن سخاوی فرماتے ہیں:

 ”لَكِنَّهُ احْتَجَّ رَحِمَهُ اللهُ بِالضَّعِيْفِ حَيْثُ لَمْ يَكُنْ فِي الْبَابِ غَيْرُهُ ، وَتَبِعَهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَقَدَّمَاهُ عَلَى الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ ، وَيُقَالُ عَنْ أَبِي حَنِيْفَةَ أَيْضًا ذَلِكَ ، وَأَنَّ الشَّافِعِيَّ يَحْتَجُّ بِالْمُرْسَلِ إِذَا لَمْ يَجِدْ غَيْرَهُ كَمَا سَلَفَ“ ”مگر جب کسی باب میں ضعیف حدیث کے علاوہ کوئی اور حدیث نہ ہو تو انہوں (امام اسحق) نے ضعیف حدیث سے احتجاج واستدلال کیا ہے ، امام ابو داؤد نے ان کی اتباع کی ہے ، ان دونوں نے اس کو رائے اور قیاس پر مقدم رکھا ہے، امام ابوحنیفہ کی طرف سے بھی ایسا ہی کہا گیا ہے اور امام شافعی حدیث مرسل سے استدلال کرتے ہیں جب وہ اس کے علاوہ کوئی حدیث نہ پائیں جیسا کہ گزرا۔ (فتح المغيث، تنبيهات،ج1،ص350،مكتبة السنه،مصر)

Exit mobile version