Site icon اردو محفل

حدیث مرسل کی تعریف اور اس کا حکم

حدیث مرسل کی تعریف اور اس کا حکم

 لغت میں ارسال کا معنی ہے اطلاق، یعنی کسی چیز کو بغیر قید کے بیان کرنا۔ اور اس کی اصطلاحی تعریف یہ ہے:

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

جس حدیث کی سند کے آخر میں تابعی کے بعد راوی (صحابی) کو حذف کر دیا جائے وہ مرسل ہے اس کی صورت یہ ہے کہ تابعی کہے عام ازیں کہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا یہ کام کیا، یا آپ کے سامنے یہ کام کیا گیا۔ (حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبۃ الفکر ص ۵۱، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)

اس کی مثال یہ ہے: امام مسلم روایت کرتے ہیں:

عن سعيد بن المسيب ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المزابنة.( امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری متوفی ۲۶۱ھ، صحیح مسلم ج ۲ ص ۸، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی، ۱۳۷۵ھ)

 سعید بن المسیب (یہ تابعی ہیں) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

حدیث مرسل کو مردود کی اقسام میں اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ جو راوی محذوف ہے اس کے حال کا علم نہیں ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ ضعیف ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ثقہ ہو، پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس محذوف تابعی نے صحابی سے وہ حدیث سنی ہو یا کسی اور تابعی سے سنی ہو اور اس تابعی میں پھر ضعف اور ثقاہت کے دونوں احتمال ہیں اور دوسرے محذوف تابعی نے ہوسکتا ہے کسی اور تیسرے تابعی سے سنا ہو اور اس نے چوتھے تابعی سے سنا ہو عقلاً ترتابعین کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا، لیکن استقراء سے یہ صورت چھ یا سات تابعین تک پائی گئی ہے۔ (حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبۃ الفکر ص ۵۱، مطبوعہ رحیم اکیڈمی ملتان)

حدیث مرسل کو قبول کرنے میں مذاہب ائمہ

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

اگر کسی تابعی کی یہ عادت معروف ہو کہ وہ صرف ثقہ راوی کو چھوڑتا ہو تو جمہور محدثین پھر بھی توقف کرتے ہیں (کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ راوی اس کے نزدیک ثقہ ہو اور فی نفسہ ثقہ نہ ہو۔ ) امام احمد کا بھی ایک قول یہی ہے۔ فقہاء مالکیہ، فقہاء احناف اور امام احمد کا دوسرا قول یہ ہے کہ حدیث مرسل مطلقاً مقبول ہوتی ہے۔ اور امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی اور سند سے اس کی تائید ہوجائے تو وہ مقبول ہے ورنہ نہیں، خواہ وہ سند متصل ہو یا مرسل۔ اور امام ابوبکر رازی حنفی اور امام ابو الولید باجی مالکی یہ کہتے ہیں کہ اگر راوی ثقہ و غیر ثقہ دونوں کو چھوڑتا ہو تو اس کی حدیث اتفاقاً مقبول نہیں ہے۔ ( حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبۃ الفکر ص ۵۲، مطبوعہ رحیمیہ اکیڈمی ملتان)

حدیث مرسل کی فنی حیثیت

علامہ سیوطی لکھتے ہیں:

بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ جو حدیث قرونِ ثلاثہ کی مرسل ہو وہ فقہاء و احناف کے نزدیک مقبول ہے ورنہ نہیں، کیونکہ حدیث میں ہے “پھر کذب عام ہوجائے گا”، اس حدیث کو امام نسائی نے صحیح قرار دیا ہے۔ اور امام ابن جریر نے یہ کہا ہے کہ تمام تابعین کا اس پر اجماع ہے کہ حدیثِ مرسل مقبول ہوتی ہے اور ان میں سے کسی کا اس سے انکار منقول نہیں ہے، اور ان کے بعد دو سو سال تک اللہ میں سے کسی کا انکار منقول نہیں ہے’ حافظ ابن عبدالبر نے یہ کہا کہ امام شافعی پہلے وہ شخص ہیں جنھوں نے حدیثِ مرسل کو رد کیا ہے، اور بعض ائمہ نے تو حدیث مرسل کو مسند (متصل) پر بھی ترجیح دی ہے انھوں نے کہا جب کوئی راوی پوری حدیث بیان کر دیتا ہے تو وہ اس کی تحقیق کو تم پر چھوڑ دیتا ہے اور جب وہ حدیث کے کسی راوی کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ اس کی صحت اور ثقاہت کا ضامن ہو جاتا ہے (یعنی اس کی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے اس کا میں ضامن ہوں اور سند میں باقی جو راوی ہیں نے ذکر کیے ہیں ان کی چھان بین تم خود کرلو)۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۱۹۸، مطبوعہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ)

نیز علامہ سیوطی لکھتے ہیں:

امام حاکم نے علوم الحدیث میں لکھا ہے کہ اہل مدینہ سعید بن مسیب سے مراسیل کی روایت کرتے ہیں اور اہل مکہ عطاء بن ابی رباح سے مراسیل کی روایت کرتے ہیں اور اہل بصرہ حسن بصری سے اور اہل کوفہ ابراہیم بن یزید نخعی سے اور اہل مصر سعید بن ابی ہلال سے اور اہل شام مکحول سے، ان میں سے زیادہ صحیح مراسیل ابن المسیب کی ہیں، ابن معین نے بھی یہی کہا ہے کیونکہ وہ اولادِ صحابہ میں سے ہیں اور انھوں نے عشرہ مبشرہ کو پایا ہے اور وہ اہل حجاز کے فقیہ اور مفتی تھے، اور وہ ان سات فقہاء میں سب سے پہلے ہیں جن کے اجماع کو امام مالک نے تمام لوگوں کا اجماع قرار دیا ہے’ ائمہ متقدمین نے سعید بن مسیب کی مراسیل کی چھان بین کی تو ان سب کی سند صحیح نکلی اور دوسروں کی مراسیل میں یہ شرائط نہیں پائی جاتیں، کتاب اور سنت میں حدیثِ مرسل کی عدم حجیت پر دلیل نہیں ہے۔

امام حاکم نے صرف ابن مسیب کی مراسیل سے بحث کی ہے ہم باقی مرسلات پر بھی گفتگو کرتے ہیں، عطاء بن ابی رباح کی مرسلات کے متعلق ابن مدینی نے کہا ہے کہ عطاء ہر قسم کی روایات لے لیتے ہیں اور مجاہد کی مرسلات میرے نزدیک ان سے کئی درجہ بہتر ہیں، امام احمد بن حنبل نے کہا کہ سعید بن مسیب کی مرسلات سب سے بہتر ہیں، اور ابراہیم نخعی کی مرسلات میں بھی کوئی حرج نہیں ہے اور حسن بصری اور عطاء بن ابی رباح کی مرسلات سب سے زیادہ ضعیف ہیں کیونکہ وہ ہر ایک سے روایات لے لیتے ہیں اور ابن مدینی نے کہا ہے کہ حسن بصری کی مرسلات جو ثقات سے مروی ہیں وہ صحیح ہیں، ان میں سے بہت کم کوئی روایت ساقط کی تھی ہے، امام ابو زرعہ نے کہا ہر جس روایت میں حسن بصری نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، مجھے اس کی کسی نہ کسی اصل کا ثبوت مل گیا ماسوا چار روایتوں کے، اور یحییٰ بن سعید قطان نے کہا ایک دو حدیثوں کے سوا جس حدیث میں حسن بصری نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی مجھے اصل مل گئی۔

شیخ الاسلام نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ جس حدیث کے متعلق حسن نے صیغہ جزم استعمال کیا ہو، ایک شخص نے حسن سے کہا: آپ ہم سے حدیث بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کاش آپ ہمیں حدیث کے راوی بیان کرکے حدیث کو متصل بیان کردیا کریں، حسن نے کہا، ہم جھوٹ بولتے ہیں اور نہ ہم سے کوئی جھوٹ بولتا ہے ہم نے خراسان میں جہاد کیا اور ہمارے ساتھ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تین سو اصحاب تھے، اور یونس بن عبید نے حسن سے کہا آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حالانکہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا؟ حسن نے کہا اے بھتیجے تم کو معلوم ہے کہ یہ کون سا زمانہ ہے (یہ حجاج کا زمانہ تھا) ہر وہ حدیث جس میں تم نے مجھ سے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ حدیث دراصل حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، لیکن میں اس دور میں ہراس میں حضرت علی کا نام لینے کی ہمت نہیں کرتا، اور محمد بن سعید نے کہا حسن کی ہر سند (جس میں راوی سے سماع کی تصریح ہو) حجت ہے، اور مرسل حدیث حجت نہیں ہے۔

ابراہیم نخعی کا مراسیل کے متعلق ابن معین نے کہا ان کی مراسیل مجھے شعبہ سے زیادہ پسند ہیں، اور ابن معین نے یہ بھی کہا کہ ابراہیم کی مراسیل مجھے سالم بن عبداللہ، قاسم اور سعید بن مسیب سے زیادہ پسند ہیں۔ امام احمد نے کہا ان میں کوئی حرج نہیں، اعمش نے کہا میں نے ابراہیم سے کہا مجھے حضرت ابن مسعود سے روایت کی سند بیان کریں تو انھوں نے کہا جب میں تم سے یہ کہوں کہ فلاں شخص حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کرتا ہے تو وہ صرف میں نے ان سے خود سنی ہوتی ہے، اور جب میں تم سے کہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا ہے تو اس کا مطلب ہے اس حدیث کو بہت سے لوگوں نے حضرت عبداللہ سے روایت کیا ہے۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۲۰۵۔۲۰۳ مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ)

نیز علامہ سیوطی لکھتے ہیں:

یہ تمام بحث مرسل صحابی کے غیر میں ہے، لیکن جو حدیث مرسل صحابی ہے مثلاً صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایسے قول یا فعل کی خبر دی ہے جس کے بارے میں یہ متحقق ہو چکا ہے کہ وہ صحابی اپنے صغر سن یا تاخر اسلام کی وجہ سے اس وقت حاضر نہیں تھا تب بھی مذہب صحیح کی بناء پر اس حدیث کی صحت کا حکم لگایا جائے گا اس پر تمام ائمہ اور محدثین کا قطعی اتفاق ہے خصوصاً ان کا بھی جو حدیث مرسل کو قبول نہیں کرتے، صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ایسی بہ کثرت احادیث ہیں کیونکہ وہ صحابہ دوسرے صحابہ سے روایت کرتے ہیں اور تمام صحابہ عادل ہیں، اور ایسا بہت کم ہے کہ انھوں نے غیر صحابی سے روایت کی ہو، اور جب وہ غیر صحابہ سے روایت کرتے ہیں تو اس کا بیان کر دیتے ہیں، اور صحابہ نے جو تابعین سے احادیث روایت کی ہیں تو وہ ان کا بیان کر دیتے ہیں اور وہ احادیث مرفوعہ نہیں ہیں بلکہ اسرائیلیات یا حکایات میں یا موقوفات ہیں۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص   ۲۰۷ مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ)

حدیث مرسل کے مقبول ہونے پر فقہاء احناف کے دلائل

ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں:

امام ابن جریر نے یہ تصریح کی ہے کہ حدیث مرسل کے قبول کرنے پر تمام تابعین کا اجماع ہے اور کسی تابعی سے اس کا انکار منقول نہیں ہے، اور نہ اس کے بعد دو سو سال تک ائمہ میں سے کسی نے اس کا انکار کیا اور یہی وہ ہی قرون فاضلہ ہیں جن کے خیر پر برقرار رہنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت دی ہے، اور بعض علماء نے تو حدیث مرسل کو حدیث مسند (جس کی پوری سند مذکور ہو) پر ترجیح دی ہے اور اس کی یہ دلیل دی ہے کہ جس شخص نے پوری سند ذکر کر دی اس نے اس کی تحقیق تمہارے حوالے کر دی اور جس نے حدیث مرسل ذکر کی وہ اس چھوڑے ہوئے راوی کی تحقیق کا خود ضامن ہو گیا۔ (ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ھ، شرح شرح نخبۃ الفکر ص ۱۱۲، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ، ۱۳۹۷ھ  )

علامہ سندھی لکھتے ہیں:

شرح نخبۃ الفکر میں علامہ عسقلانی کی عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام مالک، فقہاء احناف اور امام احمد کے ایک قول کے مطابق حدیث مرسل مقبول ہے اور یہ تابعی کی مرسل ہے اور فی الواقع احناف کے نزدیک اس طرح نہیں ہے، کیونکہ توضیح میں لکھا ہے کہ صحابہ کی مرسل حدیث بالاجماع مقبول ہے اور اس کو سماع پر محمول کیا جائے گا، اور قرن ثانی اور قرن ثالث کی احادیث کو امام شافعی رحمہ اللہ قبول نہیں کرتے، الا یہ کہ کسی دوسری سند سے اس کا اتصال ثابت ہو جائے، جیسے سعید بن مسیب کی مراسیل ہیں، امام شافعی نے کہا میں نے ان مراسیل کی ایسی مکمل اسانید دیکھی ہیں جن میں جن میں راوی کی صفات مجهول تھیں، اور اس سبب سے ان کی روایت صحیح ہے، اور ہمارے اور امام مالک کے نزدیک حدیث مرسل مقبول ہے اور وہ مسند پر مقدم ہے کیونکہ راوی نے صحابہ کو چھوڑا ہے اور معروف یہ ہے کہ جب محدث کے نزدیک معاملہ واضح ہوتا ہے تو وہ سند کو حذف کر دیتا ہے اور جب اس کے نزدیک معاملہ واضح نہیں ہوتا تو وہ اس کو دوسروں کے اوپر چھوڑ دیتا ہے، اور راوی کے مجهول ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ جب مرسل ثقہ ہے تو وہ اس سے سکوت کرنے والے کی غفلت سے متہم نہیں ہوگا، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر محدث یہ کہے کہ مجھے ثقہ نے حدیث بیان کی ہے تو اس کی حدیث جہل کے باوجود مقبول ہوتی ہے تو اگر محدث کسی راوی کو ترک کر دے تو اس کی حدیث کیوں قبول نہیں ہوگی! (قاضی محمد اکرم سندھی من اعلام القرن الحادی عشر، ارمغان النظر ص ۱۰۲، ۱۰۳، مطبوعہ شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدرآباد سندھ  )

حدیث مرسل کی حجیت قرآن مجید سے استدلال

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ۔ (توبہ : ۱۲۲)

ترجمہ:

تودین کی سمجھ حاصل کرنے کے لیے اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈرانے کے لیے ان کے ہر گروہ سے ایک جماعت کیوں نہ نکلی تاکہ (ان کی قوم کے لوگ) گناہوں سے بچتے رہیں۔

اس آیت سے وجہ استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دینی طائفہ پر یہ واجب کر دیا ہے کہ جب وہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں تو ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پہنچائیں اور عمل نہ کرنے پر عذابِ آخرت کی وعیدوں سے ڈرائیں اور اس آیت میں یہ فرق نہیں کیا گیا کہ وہ حدیثِ مسند سے ڈرائیں اور حدیثِ مرسل سے نہ ڈرائیں اور نہ اس میں یہ فرق کیا گیا ہے کہ صحابہ تو حدیثِ مرسل پہنچائیں اور تابعین اور بعد کے لوگ حدیثِ مرسل نہ پہنچائیں، اس لیے اس آیت کے عموم کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح حدیثِ مسند کو پہنچانا ضروری ہے اسی طرح حدیثِ مرسل کو بھی پہنچانا ضروری ہے اس دلیل پر مخالفین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس آیت میں حدیثِ موضوع، متروک، مجہول اور ضعیف کی دیگر اقسام کی بھی تخصیص نہیں کی گئی تو کیا اس آیت کے عموم کے لحاظ سے ان احادیث کی تبلیغ بھی واجب ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَکُمْ فَا سِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْا ۔ (حجرات: ۶) 

اے ایمان والو! اگر فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلو۔

حدیثِ مردود کی تمام اقسام فاسق کی خبر ہیں اور ان کے متعلق قرآنِ مجید نے حکم دیا ہے کہ بلا تحقیق ان کی خبر کو قبول نہ کیا جائے اس کے برعکس ہمارا کلام ثقات کی مراسیل میں ہے اور اس آیت کا مفہومِ مخالف یہ ہے کہ جب ثقہ مسلمان کوئی خبر دے تو اس کو بلا تحقیق و تجسس قبول کرنا واجب ہے، تو ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ ثقہ راوی کی مرسل حدیث کو قبول کرنا واجب ہے۔ علاوہ ازیں مجہول کی حدیث سے معارضہ کرنا اس لیے صحیح نہیں ہے کہ اس کے قبول نہ کرنے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، جب کہ فریقِ مخالف کے نزدیک یہ مسلم ہے کہ جب ثقہ راوی کسی مجہول سے روایت کرے تو وہ حدیث مقبول ہے تو پھر ثقہ کی مرسل کیوں مقبول نہیں ہوگی۔

اسی طرح اللہ تعالی کا ارشاد ہے:-

اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْہُدٰی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَلْعَنُہُمُ اللہُ وَ یَلْعَنُہُمُ اللّٰعِنُوْنَ ۔ (بقرہ: ۱۵۹) 

بے شک جو لوگ ہمارے اتاری ہوئی روشن دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں بعد اس کے کہ ہم نے اسے لوگوں کے لیے کتاب میں بیان فرما دیا یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالی لعنت فرماتا ہے اور سب لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔

اس آیت میں بھی اللہ تعالی نے مسند اور مرسل کا فرق کیے بغیر برسبیلِ عموم کتمانِ علم سے منع فرمایا ہے اور علم اور ہدایت کا پہنچانا واجب قرار دیا ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ ثقہ کی مرسل واجب القبول ہو۔

 حدیثِ مرسل کی حجیت پر احادیث سے استدلال

 امام بخاری روایت کرتے ہیں:

عن عبد الله بن عمرو ان النبي صلى الله عليه وسلم قال بلغوا عني ولو آية۔

  (امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ھ، صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۹۱، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی، ۱۳۸۱ھ  )

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے روایت کرکے پہنچاؤ خواہ ایک آیت ہو۔

قاضی بیضاوی نے کہا آپ نے قرآن مجید کی آیت کو پہنچانے کا حکم دیا ہے، حدیث کا نہیں فرمایا، اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ ضامن ہے۔ تو جب اس کے باوجود آپ نے قرآن مجید کی آیت پہنچانے کا حکم دیا ہے تو حدیث کا پہنچانا بطریق اولیٰ واجب ہے۔

نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں:

عن ابي بكرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم- ليبلغ الشاهد الغائب۔( امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ھ، صحیح بخاری ج ۱ ص ۱۶، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی، ۱۳۸۱ھ)

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شاہد غائب کو حدیث پہنچا دے۔

امام ترمذی روایت کرتے ہیں:

عن زيد بن ثابت قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم نضر الله امراً سمع منا حديثاً فحفظه حتى يبلغه غيره فرب حامل فقه الى من هو افقه منه۔( امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ۲۷۹ھ، جامع ترمذی ص ۳۷۰، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ اس شخص کو ترو تازہ (خوش وخرم) رکھے، جس نے ہم سے ایک حدیث سن کر اس کو یاد کیا اور اس کو دوسرے شخص تک پہنچادیا، بسا اوقات ایک فقہ کا حامل اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتا ہے۔

عن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم نضر الله امراً سمع منا شيئاً فبلغه كما سمعه فرب مبلغ اوعى من سامع۔( امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ۲۷۹ھ، جامع ترمذی ص ۳۸۱، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اس کو جس طرح سنا تھا اسی طرح اس کو پہنچا دیا، کیونکہ بعض وہ لوگ جن کو حدیث پہنچادی جائے سننے والے سے زیادہ یاد رکھتے والے ہوتے ہیں۔

ان احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسند اور مرسل کا فرق کیے بغیر احادیث کے پہنچانے کا حکم دیا ہے اس لیے یہ احادیث بھی اپنے عموم کے اعتبار سے ثقات کی مراسیل پر حجت ہیں۔

حدیث مرسل کی حجیت پر عقلی دلائل

حدیث مرسل کی حجیت پر ہمارے علماء نے سات دلائل قائم کیے ہیں:

(۱) جب راوی کسی حدیث کو مرسلاً روایت کرتا ہے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خبر پر قطعی شہادت دیتا ہے اور بعد میں آنے والوں کو راوی کے متعلق بحث اور تفتیش سے مستغنی کردیتا ہے اور جب وہ کسی حدیث کی پوری سند بیان کرتا ہے تو وہ بعد والوں کو اس واسطے کے حوالے کردیتا ہے اور خود بری الذمہ ہوجاتا ہے ، تو جب راوی حدیث کو مرسلاً بیان کرکے اس پر اعتماد اور وثوق کرے تو یہ حدیث کو مسنداً بیان کرنے سے اولیٰ ہے اور اس سے زیادہ قوی ہے اور وہ اس کے مساوی ہونے سے بہرحال کم نہیں ہے اور اگر بالفرض کم بھی ہو تو لائقِ استدلال ہونے سے بہرحال کم نہیں ہے۔

(۲ ) مرسل کے راوی کا عادل، امین اور ثقہ ہونا اس بات کے منافی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کی شہادت دے اور اس کا راوی ثقہ اور حجت نہ ہو ، اس لیے وہ حدیث پر اسی وقت اعتماد اور وثوق کرے گا جب اس کے نزدیک وہ حدیث صحیح ہوگی ، اور جس راوی کو اس نے چھوڑ دیا ہے وہ فاسق اور مردود الروایت نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو وثوق کے ساتھ روایت کررہا ہے، اور نہ یہ ممکن ہے کہ اس کو اس راوی کی عدالت کے متعلق غلبہ ظن نہ ہو، اور مرسل کی روایت کو رد کرنے سے اس راوی پر طعن لازم آتا ہے اور یہ باطل ہے، کیونکہ اگر ارسال مرسل میں طعن کا موجب ہوتا تو ائمہ حدیث مرسل کی کسی مسند روایت کو ہرگز قبول نہ کرتے کیونکہ وہ مراسیل کو روایت کرتا ہے ، خصوصاً وہ مرسل جس کی بکثرت مرسل روایات ہوں ، حالانکہ بہت سے ایسے راوی ہیں جن کی روایاتِ قبول کرنے پر تمام امت کا اجماع ہے اور ان راویوں نے بکثرت مرسل روایات بیان کی ہیں اور یہ امر ان کی مرسل روایات کے قبول کرنے کو بھی مستلزم ہے۔

حافظ ابن عبد البر لکھتے ہیں:

ثقہ راوی کسی حدیث کو اسی وقت مرسلاً روایت کرتا ہے جب اس کے نزدیک اس حدیث کی صحت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اعمش بیان کرتے ہیں میں نے ابراہیم نخعی سے کہا جب آپ مجھے حدیث بیان کریں تو اس کی سند ذکر کریں، تو ابراہیم نخعی نے کہا: جب میں تم سے کہتا ہوں عبداللہ نے کہا تو مجھے ایک جماعت نے ان سے حدیث بیان کی ہوتی ہے ، اور جب میں کہتا ہوں مجھے فلاں نے عبداللہ سے حدیث بیان کی ہے تو مجھے صرف اسی نے وہ حدیث بیان کی ہوتی ہے۔ (حافظ ابوعمر بن عبدالبر مالکی متوفی ۴۶۳ ھ، تمھید ج ۱ ص ۳۷-۳۸ ، مطبوعہ مکتبۃ القدوسیہ ، ۱۴۰۴ھ)

ابراہیم نخعی کے اس قول سے یہ واضح ہو گیا کہ جب بکثرت لوگ کسی شخص سے روایت کریں اور راوی کو ان کی کثرت کی وجہ سے اس روایت کی صحت کا یقین ہوجائے تو وہ ان کو ترک کردیتا ہے اور جب صرف ایک شخص اس حدیث کو بیان کرے اور راوی کو اس پر اطمینان نہ ہو تو وہ اس کا ذکر کرکے اس حدیث کو مسنداً روایت کرتا ہے۔

حافظ صلاح الدین علائی لکھتے ہیں :

حسن بصری نے کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چار صحابہ کسی حدیث کو روایت کریں تو میں ان صحابہ کو ترک کرکے اس کا اسناد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کردیتا ہوں ، یہ تو حسن بصری کی مراسیل ہیں جو فریقِ مخالف کے نزدیک ضعیف ترین مراسیل ہیں، تو پھر کبارِ تابعین مثلاً سعید بن مسیب کی مراسیل کی کیا شان ہوگی ! عروہ بن زبیر نے عمر بن عبدالعزیز کے سامنے ایک حدیث مرسل بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے بنجر زمین کو آباد کیا وہ اس کا مالک ہو جائے گا، اور اس حدیث کو بہ طور مسند ذکر نہیں کیا، عمر بن عبدالعزیز نے عروہ سے کہا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کی شہادت دیتے ہو؟ عروہ نے کہا: ہاں مجھے ایک عادل اور امین شخص نے اس حدیث کی خبر دی ہے جس کا میں نے نام نہیں لیا، عمر بن عبدالعزیز نے اس کو کافی سمجھا اور اس حدیث کو قبول کرلیا، اس قسم کے بہت شواہد ہیں۔ (حافظ صلاح الدین ابوسعید بن خلیل علائی متوفی ۷۶۱ھ ، جامع التحصیل فی احکام المراسیل ص ۷۲ ، مطبوعہ عالم الکتب بیروت)

(۳) حدیثِ مرسل کے ــــــــــ جس راوی کا ذکر نہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تابعی کے درمیان واسطہ ہے وہ راوی، یا تو صحابی ہوگا یا ثقہ تابعی ہوگا یا مجروح متہم ہوگا یا مجهول الحال ہو گا، مرسل کے نزدیک وہ راوی ان چاروں میں سے کوئی نہ کوئی ایک ہوگا، اور اول الذکر دو صورتوں میں اس کی روایت کا قبول کرنا واجب ہے، اور ثانی الذکر دو صورتوں میں اس کی روایت قبول نہیں ہوگی، لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ ثانی الذکر صورتوں کا تابعین میں تحقّق بہت زیادہ بعید ہے، کیونکہ اس صورت میں وہ واسطہ کذب کے ساتھ متہم ہوگا، حالانکہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وبارک وسلم نے تابعین کے عصر کی تعریف فرمائی ہے، اور آپ نے قرنِ صحابہ کے بعد قرنِ تابعین کو خیر قرن قرار دیا ہے، اس لیے تابعین کے قرن میں کسی شخص کا مجروح اور متہم بالکذب ہونا بہت نادر ہے، اس کے برعکس بعد کے قرون کا یہ درجہ نہیں ہے، اس طرح یہ بھی بہت بعید ہے کہ وہ راوی مجهول الحال ہو، اور اس سے روایت کرنے والے تابعی پر اس کا حال مخفی ہو، اور وہ قطعی طور پر اس کی روایت کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اسناد کرے جب کہ وہ اس کی ثقاہت اور عدالت پر مطلع نہ ہوا، اور جب یہ واضح ہو گیا کہ ثانی الذکر دونوں احتمال اول الذکر احتمالوں کی بہ نسبت مرجوح ہیں تو اول الذکر صورتوں کا تحقّق متعین ہو گیا، کیوں کہ وہی اغلب الظن ہیں پس بہرحال مرسل کو حجت ماننا ہوگا۔

(۴) اگر حدیثِ مرسل کو حجت نہ مانا جائے تو پھر حدیثِ معنعن کو بھی حجت نہیں ماننا چاہیے کیوں کہ اس میں بھی عنعنہ کی وجہ سے معنعن کسی راوی کو چھوڑ دیتا ہے اور اپنے سے اوپر والے راوی سے سماع کی تصریح نہیں کرتا، اور جو احتمال تم خبرِ مرسل میں نکالتے ہو وہ بعینہٖ خبرِ معنعن میں بھی قائم ہے، اور یہ احتمال پیش کرنا کہ معنعِن نے اپنے شیخ سے ملاقات کی ہو گی اور اس سے سماع کیا ہوگا، اس احتمال سے کم نہیں ہے کہ مرسِل نے جس واسطہ کو ترک کردیا ہے وہ اس کے نزدیک ثقہ اور عادل ہے۔

(۵) جب مستفتی پر واجب ہے کہ مفتی اس کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو روایت بیان کرتا ہے وہ اس کے ظاہر علم اور عدالت کی بناء پر اس کو قبول کرلے، اسی طرح عالم پر واجب ہے کہ جب مرسِل اس کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت بیان کرے تو وہ اس کے ظاہر علم اور عدالت کی بناء پر اس کو قبول کرلے۔

(۶) حاکم جب دو عادل گواہوں کی بنیاد پر فیصلہ کردے اور مہر لگا دے اور گواہوں کا نام نہ لے تو کسی کو اس کے فیصلے پر یہ اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے کہ اس نے گواہوں کا نام کیوں نہیں لیا، اسی طرح یہاں بھی مرسل پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ اس نے اپنے شیخ کا نام کیوں نہیں لیا۔

(۷) حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمام مسلمان عادل ہیں ماسوا ان کے جن پر حد جاری ہوئی یا جن کے متعلق یہ معلوم ہوگیا کہ وہ جھوٹی گواہی دیتے ہیں، اس سے ظاہر ہوگیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صرف ظاہراً اسلام کا اعتبار کیا تھا الا یہ کہ جس کے متعلق عدالت کے خلاف کوئی بات ثابت ہوگئی ہو، مرسل نے جس راوی کو ترک کردیا ہے وہ بھی اس کی عدالت ظاہر کی بناء پر ترک کیا ہے ورنہ وہ اس کو ذکر کر دیتا، اور جو شخص بہ ظاہر عادل ہو تو اصل یہ ہے کہ اس کی حدیث قبول کی جائے الا یہ کہ اس کے رد کا کوئی مقتضیٰ پایا جائے، اور یہ چیز تابعین کے زمانہ میں نمایاں تھی کیونکہ وہ عصر صحابہ کے بعد خیر القرون تھا اور ان میں کوئی شخص جھوٹا مشہور نہیں تھا، ہاں یہ الگ بات ہے کہ کوئی شخص اس قدر جھوٹا مشہور ہو کہ اس کا جھوٹا ہونا بحث سے مستغنی ہو، اور یہ واضح بات ہے کہ ائمہ تابعین اس سے روایت کرنے والے نہ تھے اور اس طرح کے مشہور کذاب شیعہ میں تھے۔

جامع التحصیل کے باب اول میں احکام المراسیل میں لکھا ہے کہ امام حاکم نے کہا ہے کہ تابعین اور اتباع تابعین کی تمام مرسلات کو اہل کوفہ قبول کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں، نیز جامع التحصیل کی فصل ثانی میں لکھا ہے کہ عیسیٰ بن ابان اور ابوبکر رازی کا مختار یہ ہے کہ قرن ثانی، قرن ثالث اور بعد کے قرون کی مرسلات مقبول ہیں بشرطیکہ وہ ائمہ نقل کی مرسل ہو۔

علامہ نووی نے شرح المہذب میں لکھا ہے کہ بہ کثرت علماء حدیث مرسل پر عمل کرتے ہیں اور امام غزالی نے اس کو جمہور سے نقل کیا ہے، اور امام ابو داؤد نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے کہ ماضی میں اکثر علماء مثلاً سفیان ثوری، مالک اور اوزاعی مرسل سے استدلال کرتے تھے، حتیٰ کہ امام شافعی کا زمانہ آیا اور انہوں نے اس پر اعتراض کیا۔

حافظ سیوطی نے نظم الدرر میں لکھا ہے کہ محمد بن جریر طبری نے کہا ہے کہ تمام تابعین کا حدیث مرسل کے قبول پر اجماع ہے اور ان کے بعد دو سو سال تک ائمہ میں سے کسی نے حدیث مرسل کا انکار نہیں کیا۔

Exit mobile version