امام ترمذی کا نام محمد اور کنیت ابوعیسیٰ اور والد صاحب کا نام عیسیٰ ہے۔ حافظ ابن اثیر (متوفی 606ھ) امام ترمذی کا نسب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: أبو عيسى محمد بن عيسى بن سورة بن موسى بن الضحاك السلمي الترمذي۔(جامع الاصول، الامام الترمذی، ج1، ص193 مکتبه دار البیان)
امام ترمذی نے جامع ترمذی میں نام کی بجائے اپنی کنیت کو اختیار کیا ہے اور جہاں اپنا ذکر کرتے ہیں ”قال ابوعیسیٰ“ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
پیدائش:
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ 209ھ میں ”بلخ“ کے نواحی قصبہ ”ترمذ“ کے ایک دیہات ”بوغ“ میں پیدا ہوئے۔ اسی کی نسبت سے آپ ترمذی اور بُوغی کہلائے۔ حافظ ابن اثیر لکھتے ہیں: ”ولد سنة تسع ومائتين“ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ 209ھ میں پیدا ہوئے۔ (جامع الاصول، الامام الترمذی، ج1، ص193 مکتبه دار البیان)
علامہ سمعانی (متوفی 562ھ) لکھتے ہیں: ”هذه النسبة الى بوغ وهي قرية من قرى الترمذ على ستة فراسخ، منها ابوعيسى محمد بن عيسى بن سورة“ ترجمہ: بوغی بوغ کی طرف نسبت ہے، یہ قصبہ ترمذ کے دیہاتوں میں سے ایک دیہات ہے جو کہ ترمذ سے چھ فرسخ کے فاصلے پر ہے، اسی سے امام ابوعیسیٰ ترمذی تعلق رکھتے ہیں۔ (الانساب للسمعانی، البوغی، ج2، ص361 مجلس دائرة المعارف العثمانیہ، حیدر آباد)
مزید لکھتے ہیں: ”الترمذي هذه النسبة الى مدينة قديمة على طرف نهر بلخ الذي يقال له جيحون، خرج منها جماعة كثيرة من العلماء والمشايخ والفضلاء“ ترجمہ: ترمذی یہ وراء النہر بلخ جس کو جیحون بھی کہا جاتا ہے کے قدیم شہر ترمذ کی طرف نسبت ہے، یہاں سے علمائ، مشائخ اور فضلاء کی کثیر تعداد نکلی ہے۔ (الانساب للسمعانی، الترمذی، ج3، ص42 مجلس دائرة المعارف العثمانیہ، حیدر آباد)
امام ترمذی کے اباء واجداد مرو سے تعلق رکھتے ہیں، حافظ ابن اثیر نے امام ترمذی کا قول نقل کیا ہے: ”وقال الترمذی: كَانَ جَدِّيْ مَرْوَزِيًّا اِنْتَقَلَ مِنْ مَرْوَ، اَيَّامَ اللَّيْثِ بْنِ سَيَّارٍ ”امام ترمذی کہتے ہیں کہ میرے دادا ’مروزی‘ تھے ، لیث بن سیار کے زمانے میں مَرو سے ہجرت کر کے (ترمذ) آگئے۔ (جامع الاصول، الامام الترمذی، ج1، ص، 194مکتبه دارالبیان)
ترمذ کا اعراب:
علامہ ذہبی لکھتے ہیں:
ہمارے شیخ حافظ ابو الفتح قشیری کہتے ہیں کہ تِرمِذ (تاء کی کسرہ کے ساتھ) زبانوں پر اس قدر مشہور ہے یہاں تک کہ تواتر کی طرح ہوگیا، مؤتمن ساجی کا کہنا ہے کہ میں نے عبد اللہ بن محمد انصاری کو یہ کہتے سنا کہ یہ تُرْمُذ (تاء کی ضمہ کے ساتھ) ہے، حافظ یغمری نے نقل کیا ہے کہ اس کو تَرْمَذ (تاء کی فتحہ کے ساتھ) پڑھا جاتا ہے۔ (سير اعلام النبلاء، الترمذي محمد بن عيسى، ج13، ص274مؤسسة الرساله، بيروت)
ترمذ کے مشاہیر:
ترمذ کے مشاہیر میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں:
(۱) اسحاق بن ابراہیم بن جبلہ ترمذی
(۲) ابو الحسن احمد بن الحسن ترمذی
(۳) ابو عبد اللہ محمد بن علی حکیم ترمذی (صاحب نوادر الاصول)
(۴) ابو بکر الوراق ترمذی۔
(۵) ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی۔ (الانساب للسمعاني، الترمذي، ج3، ص42، دائرة المعارف العثمانيه، حيدر آباد)
نابینا ہونا:
کہا گیا کہ امام ترمذی پیدائشی نابینا تھے لیکن صحیح بات یہی ہے کہ آخری عمر میں نابینا ہوئے تھے۔ (سير اعلام النبلاء، الترمذي محمد بن عيسى، ج13، ص270مؤسسة الرساله، بيروت)
اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے جو حافظ عمر بن ملک نے روایت کیا کہ امام بخاری دنیا سے چل بسے اور اپنے بعد خراسان میں علم و حفظ اور زہد و تقویٰ میں ابوعیسیٰ ترمذی جیسا کوئی نہیں چھوڑا، وہ اس قدر روتے کہ آنکھوں کی بصارت سے محروم ہوگئے اور کئی سال اسی طرح نابینا حالت میں زندگی گزاری۔ (سير اعلام النبلاء، الترمذي محمد بن عيسى، ج13، ص273مؤسسة الرساله، بيروت)
حافظ ابن کثیر نے ابتداءً یہ قول نقل کیا: ”یُقَالُ إِنَّهُ وُلِدَ أَكْمَهَ“ ترجمہ: کہا گیا کہ آپ پیدائشی نابینا تھے۔ (البداية والنهاية، خلافة المعتضد،ج11، ص77داراحياء التراث العربی، بیروت)
مگر بعد میں لکھتے ہیں: ”قلت: والذي يظهر من حال الترمذي أنه إنما أطرأ عَلَيْهِ الْعَمَى بَعْدَ أَنْ رَحَلَ وَسَمِعَ وَكَتَبَ وَذَاكَرَ وَنَاظَرَ وَصَنَّفَ“ ترجمہ: میں کہتا ہوں امام ترمذی کے حالات سے جو ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ نابینائی ان پر علم دین کے لیے سفر، احادیث کے سماع، کتابتِ احادیث ، مذاکرے ،مناظرے اور تصنیف کے بعد طاری ہوئی۔ (البداية والنهاية، خلافة المعتضد،ج11، ص78داراحياء التراث العربی، بیروت)
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: ”وقال يوسف بن أحمد البغدادي الحافظ أضر أبو عيسى في آخر عمرہ قلت وهذا مع الحكاية المتقدمة عن الترمذي يرد على من زعم أنه ولد اكمہ“ ترجمہ: یوسف بن احمد بغدادی کہتے ہیں کہ امام ترمذی آخری عمر میں نابینا ہوگئے تھے، میں (علامہ ابن حجر) کہتا ہوں کہ یہ قول اور ماقبل میں موجود امام ترمذی کے حافظے سے متعلق حکایت اس کا شخص رد کرتے ہیں کہ جس نے یہ گمان کیا کہ امام ترمذی پیدائشی نابینا تھے۔ (تهذيب التهذيب، محمد مع العين في الآباء،ج9، ص389دائرة المعارف النظاميه، هند)
تحصیل علم:
امام ترمذی جس دور میں پیدا ہوئے ، اس زمانہ میں ہر طرف علمِ حدیث کی چہل پہل تھی بالخصوص خراسان اور ماوراء النہر کے علاقے اس فن میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے اور وہاں امام بخاری جیسے جلیل القدر محدث کی مسندِ علم بچھ چکی تھی۔ امام ترمذی کو شروع میں ہی تحصیلِ علمِ حدیث کا شوق دامن گیر ہوگیا تھا چنانچہ آپ نے علوم وفنون کے مرکز ترمذ میں ابتدائی تعلیم وتربیت حاصل کرنے کے بعد طلبِ حدیث کے لئے مختلف شہروں ، علاقوں اور ملکوں کا سفر کیا اور بصرہ، کوفہ ، واسط، بخارا، رے ، خراسان اور حجاز میں برسوں قیام پذیر رہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی تہذیب التہذیب میں فرماتے ہیں: ”طاف البلاد وسمع خلكا من الخراسانيين والعراقيين والحجازيين“ ’امام ترمذی نے بہت سے شہروں کا سفر کیا اور خراسان، عراق اور حجاز کے بہت سے علما سے حدیث کا سماع کیا۔ (تهذيب التهذيب ،ج09، ص387مكتبه دائرة المعارف النظامية، الهند)
اساتذہ ومشارخ:
امام ترمذی رحمة اللہ علیہ نے حصولِ علم کے لیے خراسان ،عراق اور حجاز کے متعدد شہروں کا کٹھن سفر کیا اور اپنے وقت کے ماہرینِ حدیث سے علمِ حدیث کے قیمتی موتی حاصل کیے۔ یہاں تک کہ ان مشائخ کرام رحمہم اللہ کے سامنے زانوئے تلمذتہ کرتے کرتے علمِ حدیث کے درخشندہ مہتاب بن کر مادرِ گیتی کے افق پر طلوع ہوئے ،
امام ترمذی کے اساتذہ میں سے چند کے اسماء یہ ہیں:
| قتیبہ بن سعید ، | اسحاق بن موسیٰ |
| محمود بن غیلان ، | سعید بن عبدالرحمن، |
| محمد بن بشار ، | علی بن حجر ، |
| أحمد بن منیع ، | محمد بن المثنیٰ ، |
| سفیان بن وکیع ، | محمد بن اسماعیل البخاری وغیرہہم۔ |
( جامع الاصول ، الامام الترمذی ، ج 1 ، ص 391 ، مکتبه دار البیان )
تلامذہ :
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ طلبِ علم میں محنت ، حدیث و فقہ میں علمی رسوخ اور دیگر گونا گوں صفات کی وجہ سے مرجعِ خلائق بن گئے تھے۔ متلاشیانِ علم و حق اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے ان کے حلقہ درس میں شامل ہونے لگے ، ان کے تلامذہ میں خراسان و ترکستان کے علاوہ دنیائے اسلام کے مختلف گوشوں کے آدمی ملتے ہیں۔
چند ممتاز تلامذہ کے نام یہ ہیں :
ابو حامد بن عبداللہ بن داؤد مروزی، | ہیثم بن کلیب شامی ، | محمد بن نمیر ، محمد بن محبوب ابو العباس محبوبی مروزی، | احمد بن یوسف نسفی ، | محمد بن محمود ، ابو الحارث اسد بن حمودیہ ، | داؤد بن نصر سہیل بزدوی ، عبد بن محمد بن محمود نسفی ، | محمد بن مکی بن فوج ، | ابو جعفر محمد بن سفیان بن نصر نسفی، محمد بن منذر بن سعید ہروی | اور امامِ بخاری وغیرہہم۔ (تھذیب التھذیب ، ج ، 09 ص ، 387 مکتبه دائرة المعارف النظامية ، الهند )
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا اعزاز :
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ امام بخاری علیہ رحمۃ الباری کے اگرچہ قابلِ فخر اور مایہ ناز تلاندہ میں سے ہیں ، تاہم انہیں یہ شرف بھی حاصل ہے کہ خود استادِ محترم امام بخاری علیہ رحمۃ الباری نے ان سے حدیث کا سماع کیا اور ان کے علم و ذکاوت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اپنے شیوخ اور اساتذہ میں شامل کرلیا۔
علامہ عبدالحی بن احمد بن محمد ابن العماد العکری حنبلی (متوفی 1089ھ) لکھتے ہیں: ”تلمیذ أبی عبد الله البخاری، ومشاركه فيما يرويه فى عدة من مشايخه. سمع منه شيخه البخاری“ ترجمہ: امام ترمذی امام بخاری کے شاگرد ہیں اور کئی مشائخ سے احادیث سننے میں ان کے شریک بھی ہیں، اور ان کے شیخ امام بخاری نے ان سے سماع بھی کیا ہے۔ (شذرات الذهب فى اخبار من ذهب، سنة تسع وسبعين ومائتين، ج3، ص327، دار ابن کثیر، بیروت)
حافظ ابن کثیر نے لکھا ”قَالَ التِّرْمِذِیُّ:كَتَبَ عَنِّى الْبُخَارِيُّ حَدِيثَ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ“ ترجمہ: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ امام بخاری نے مجھ سے حدیثِ عطیہ لکھی ہے جو کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔ (البداية والنهايه، خلافة المعتضد، ج11، ص77، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
امام ترمذی نے اپنی جامع صحیح میں دو روایات ایسی ذکر فرمائی ہیں جن کا امام بخاری علیہ رحمۃ الباری نے امام ترمذی علیہ الرحمہ سے سماع کیا ہے۔ چنانچہ ابواب التفسیر ’باب من سورة الحشر‘ کے ضمن میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَاۤئِمَةً عَلٰىۤ أُصُوْلِهَا فَبِإِذْنِ اللهِ} (جو درخت تم نے کاٹے یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دیے یہ سب اللہ کی اجازت سے تھا) کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث میں ’لِیْنَة‘ سے مراد نخلۃ (یعنی کھجور) ہے۔ اس کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں: سَمِعَ مِنِّى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ هَذَا الْحَدِيثَ۔ محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث مجھ سے سنی ہے۔ (جامع ترمذی ، ومن سورة الحشر، ج5، ص408، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
اسی طرح امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ ’ابواب المناقب‘ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کہ ((يَا عَلِيُّ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُجْنِبُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرُكَ)) اس حدیثِ پاک کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب میں ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’وَقَدْ سَمِعَ مِنِّى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ هَذَا الْحَدِيثَ“ مجھ سے یہ حدیث محمد بن اسماعیل بخاری نے سنی ہے۔ (جامع ترمذی ، ابواب المناقب، ج5، ص639، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
زہد و تقویٰ:
امام ترمذی زہد و ورع اور خوفِ خدا میں یکتائے روزگار تھے، ظاہر و باطن میں خدا سے بے حد ڈرتے تھے، آپ کے دل میں خوفِ الٰہی کا یہ عالم تھا کہ بکثرت روتے رہتے جس کی وجہ سے آنکھوں کی بینائی ضائع ہو گئی۔ ابو الفضل احمد بن علی بن محمد بن احمد بن حجر العسقلانی (المتوفی 852) نقل کرتے ہیں، عمران بن علان نے کہا: ”مات محمد بن إسماعيل البخاري ولم يخلف بخراسان مثل أبي عيسى في العلم والورع“ امام بخاری نے فوت ہونے کے بعد اہل خراسان کے لیے علم اور تقویٰ و پرہیزگاری میں امام ترمذی جیسا کوئی شخص نہیں چھوڑا۔ (تهذيب التهذيب، ج، 09 ص ،389 مكتبه دائرة المعارف النظامية، الهند)
علامہ ذہبی نقل کرتے ہیں: ”وَقَالَ الْحَاكِمُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَلَّكٍ يَقُوْلُ: مَاتَ الْبُخَارِيُّ فَلَمْ يَخْلُفْ بِخُرَاسَانَ مِثْلَ أَبِي عِيْسَى، فِي الْعِلْمِ وَالْحِفْظِ ، وَالْوَرَعِ وَالزُّهْدِ ، بَكَى حَتَّى عَمِيَ، وَبَقِيَ ضَرِيْرًا سِنِيْنَ“ ترجمہ: امام حاکم نے کہا کہ میں نے شیخ عمر بن علک کو فرماتے سنا کہ امام بخاری دنیا سے چل بسے اور اپنے بعد خراسان میں علم و حفظ اور زہد و تقویٰ میں ابوعیسیٰ ترمذی جیسا کوئی نہیں چھوڑا، وہ اس قدر روتے کہ آنکھوں کی بصارت چلی گئی اور کئی سال اسی طرح نابینا حالت میں زندگی گزار دی۔ (سیر اعلام النبلاء، الترمذی محمد بن عیسیٰ، ج،13 ص ،273مؤسسة الرساله، بیروت)
عادات واطوار:
امام ترمذی کو اللہ تعالیٰ نے فیاضی عطا فرمائی تھی، آپ اچھی صفات اور اچھے اخلاق کے مالک تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ تمام فضائل عطا فرمائے تھے جو علماء اور ائمہ حدیث کی شان کے لائق ہیں ۔ (قوت المغتذی، الامام ابو عیسیٰ ترمذی، مقدمہ، ج 1 ، ص 8 ، جامعہ ام القری، مکه المكرمه)
خداداد قوتِ حافظہ:
اللہ تعالیٰ جب کسی سے کوئی کام لینا چاہتا ہے تو اس کے اسباب بھی خود پیدا فرمادیتا ہے۔ اللہ جل جلالہ نے امام ترمذی کو بے پناہ قوتِ حافظہ کی دولت سے سرفراز فرمایا تھا۔ علامہ ذہبی نے ”سیر اعلام النبلاء“ میں نقل کیا ہے کہ ابو سعد ادریسی فرماتے ہیں: ”كَانَ أَبُو عِيْسَى يُضْرَبُ بِهِ الْمَثَلُ فِي الْحِفْظِ“ ترجمہ: امام ترمذی کی قوتِ حافظہ ضرب المثل تھی۔ (سیر اعلام النبلاء، الترمذی محمد بن عیسیٰ، ج ،13 ص ،273مؤسسة الرساله ،بیروت)
حافظ ابو سعد ادریسی نے اپنی سند کے ساتھ امام ترمذی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی قوتِ حافظہ کے متعلق ایک واقعہ بھی نقل کیا ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں: میں نے ایک شیخ سے ان کی روایت کردہ احادیث کے دو باب نقل کیے تھے۔ ایک مرتبہ مکہ کے سفر میں وہ میرے ہمراہ تھے، مجھے ابھی تک ان کی بیان کردہ احادیث کے اجزاء کی دوبارہ جانچ کا موقع نہیں ملا تھا، میں نے شیخ سے درخواست کی کہ آپ ان احادیث کی قرأت کریں اور میں سن کر ان کا مقابلہ کرتا جاؤں، شیخ نے منظور فرما لیا۔ پھر میں نے ان اجزاء کو سامان میں تلاش کیا مگر وہ نہ مل سکے بالآخر میں نے ان اجزاء کی مثل سادہ کاغذ اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیے اور شیخ سے قرأت کی درخواست کی۔ شیخ قرأت کرتے رہے اور میں سن کر ان کو ذہن میں محفوظ کرتا رہا۔ اتفاق سے شیخ کی نظر ان سادہ کاغذوں پر پڑگئی اور وہ ناراض ہوکر کہنے لگے : اَمَا تَسْتَحِیِی مِنِّی؟ تمہیں شرم نہیں آتی مجھ سے مذاق کرتے ہوئے۔ میں نے پھر تمام واقعہ بیان کرتے ہوئے اپنا عذر پیش کیا اور عرض کی کہ آپ کی بیان کردہ تمام روایات مجھے یاد ہوگئی ہیں۔ شیخ نے کہا سناؤ! میں نے وہ تمام احادیث من وعن بیان کر دیں۔ شیخ نے دوبارہ امتحاناً چالیس روایات ایسی بیان کیں جو صرف انہی سے روایت کی جاتی تھیں۔ امام ترمذی نے سننے کے بعد ان احادیث کو بالترتیب من وعن سنا دیا، ایک حرف کی بھی غلطی نہیں کی۔ (سیر اعلام النبلاء، الترمذی محمد بن عیسی، ج13، ص273، مؤسسة الرساله، بیروت)
اس پر شیخ امام ترمذی سے کہنے لگے: ”مَارَاَیْتُ مِثْلَکَ“ میں نے تمہاری مثل کسی کو نہیں دیکھا۔ (تهذیب التهذیب، محمد مع العين فى الآباء، ج9، ص389، دائرة المعارف النظاميه، هند)
امام ترمذی اور علمِ حدیث:
امام ترمذی کو علومِ حدیث میں بہت رسوخ حاصل تھا آپ بالاتفاق علمِ حدیث میں امامِ مقتداء ہیں،علامہ سمعانی فرماتے ہیں: أبو عیسى محمد بن عیسى بن سورة بن شداد الترمذی أحد الأئمة الذین یقتدى بهم فی علم الحدیث۔ امام ابو عیسی ترمذی ان ائمہ میں سے ایک ہیں جن کی علمِ حدیث میں اقتداء کی جاتی ہے۔ (الانساب للسمعانی، الترمذی، ج3، ص42، دائرة المعارف العثمانیه، حیدر آباد)
علمِ حدیث میں مہارت کا ایک سبب کبار ائمہ اور ماہرِ اہل علم سے کسبِ فیض تھا، آپ نے دیگر شیوخ سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ عللِ حدیث، اسماء الرجال اور فنونِ حدیث میں امام دارمی اور ابو زرعہ رازی سے بھی استفادہ کیا ہے اور بالخصوص فقہ الحدیث میں آپ کے اصل استاذ امام بخاری ہیں اور ان کی تربیت کا عکس امام ترمذی کی جامع میں نمایاں دکھائی دیتا ہے، تذکرۃ الحفاظ میں امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: تفقه فی الحدیث بالبخاری۔ (تذكرة الحفاظ، الطبقة العاشرة، ج2، ص،154 دار الكتب العلميه، بيروت)
امام ترمذی کی فقاہت:
امام ترمذی ایک محدث ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے فقیہ بھی تھے اور مذاہب علماء سے بھی خوب واقف تھے، آپ نے حدیث اور فقہ الحدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جیسے حاذق محدث سے حاصل کی اور فقہ حنفی احناف کے اس وقت کے مشہور امام رازی سے اور فقہ مالکی اسحاق بن موسی انصاری اور ابو مصعب زہری سے اخذ کی جب کہ امام شافعی کا مذہب قدیم حسن بن محمد زعفرانی اور قول جدید ربیع بن سلیمان سے حاصل کیا، اسی طرح امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ اور دیگر بہت سے علماء کے اقوال ومذاہب کو خوب سلیقہ سے اپنی جامع میں سمودیا۔ آپ کی جامع آپ کے تفقه فی الحدیث اور مذاہب پر اطلاع کی بہت بڑی دلیل ہے۔ ہر باب میں علماء کے اقوال پیش کرکے ان میں سے ایک کو ترجیح دیتے ہیں جس سے قاری سمجھ جاتا ہے کہ آپ فقہ و حدیث کے بہت بڑے امام تھے۔ حافظ مبارک ابن اثیر (متوفی 606ھ) جامع الاصول میں فرماتے ہیں: ”وهو احد العلماء الحفاظ الأعلام، وله في الفقه يد صالحة“ ”امام ترمذی حفاظ علماء اعلام میں سے ہیں اور فقہ کے اندر کامل مہارت رکھنے والے ہیں۔ (جامع الأصول، الإمام الترمذي، ج1، ص 411، مكتبه دار البيان)
علامہ ذہبی (متوفی 748ھ) فرماتے ہیں: ”قُلْتُ: جَامِعُهُ قَاضٍ لَهُ بِأَمَانَتِهِ وَحِفْظِهِ وَفِقْهِهِ“ ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ امام ترمذی کی جامع ان کی امامت، حفظ اور فقاہت پر قاضی ہے۔ (سير أعلام النبلاء، الترمذي محمد بن عيسى، ج13، ص276، مؤسسة الرساله، بيروت)
کلماتِ ثناء:
امام ابن حبان (متوفی 354ھ) کتاب الثقات میں فرماتے ہیں: ”كان ابو عيسى ممن جمع وصنّف وحفظ وذكّر“ ”امام ابو عیسیٰ ترمذی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے (احادیث) کو جمع کیا، انہیں لکھا، اپنے ذہن میں محفوظ کیا اور آگے بیان کیا۔ (الثقات لابن حبان، باب الميم، ج9، ص153 دائرة المعارف، حيدر آباد دكن هند)
علامہ ابو یعلی خلیل بن عبد اللہ الخلیلی قزوینی نے اپنی کتاب ”علوم الحدیث“ میں لکھا: ”مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سَوْرَةَ بن شَدَّادُ الْحَافِظُ متفق عليه، له كتاب في السنن وكتاب في الجرح والتعديل، روى عنه أبو محبوب والأجلاء، وهو مشهور بالأمانة والإمامة وَالْعِلْمِ“ ترجمہ: محمد بن عیسیٰ ترمذی کا حافظِ حدیث ہونا متفق علیہ ہے، انہوں نے کتاب السنن اور جرح وتعدیل میں کتاب تصنیف کی ہے ، ان سے ابو محبوب اور اجلہ ائمہ نے روایت کیا ہے، وہ امانت، امامت اور علم کے ساتھ مشہور ہیں۔ (البدایہ والنہایہ، خلافة المعتضد،ج:11،ص:77،داراحیاءالتراث العربی،بیروت)
علامہ سمعانی (متوفی 562ھ) لکھتے ہیں: ”إمام عصره بلا مدافعة، صاحب التصانیف“ ترجمہ : امام ابو عیسیٰ ترمذی اپنے زمانے کے بلا مدافعت امام ، صاحب التصانیف ہیں ۔ (الانساب للسمعانی، البوغی،ج 2 ، ص ، 361 مجلس دائرة المعارف العثمانیہ، حیدرآباد)
علامہ ابو الحسن علی بن ابی الکرم ابن اثیر جزری (متوفی 630ھ) فرماتے ہیں: ”وَكُانَ إِمَامًا حَافِظًا لَهُ تَصَانِيفُ حَسَنَةٌ، مِنْهَا: الْجَامِعُ الْكَبِيرُ فِي الْحَدِيثِ ، وَهُوَ أَحْسَنُ الْكُتُبِ“ ترجمہ: امام ترمذی امام الحدیث ، حافظ الحدیث تھے ان کی عمدہ تصانیف ہیں انہی میں سے حدیث میں جامع الکبیر بھی ہے اور وہ احسن الکتب ہے۔ (الکامل فی التاريخ ، ثم دخلت سنة تسع وسبعين ومائتين ، ج 6 ، ص ، 474 دار الكتاب العربی، بیروت)
علامہ ابن خلکان (متوفی 681ھ) لکھتے ہیں: ”الحافظ المشهور ؛ أحد الأئمة الذين يقتدى بهم في علم الحديث“ ترجمہ: امام ترمذی حافظ الحدیث ، (علم دین میں) مشہور ، اور ان ائمہ میں سے ایک ہیں جن کی علم حدیث میں اقتداء کی جاتی ہے۔ (وفیات الاعیان ، الترمذی، ج 4 ، ص ، 278 دار صادر ، بیروت)
علامہ یوسف بن عبد الرحمن مزی ( 742ھ) لکھتے ہیں: ”أحد الأئمة الحفاظ المبرزين، ومن نفع الله به المسلمين“ ترجمہ: امام ترمذی ائمہ دین ، حفاظ حدیث اور علم میں سبقت لے جانے والوں میں سے ایک ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نفع دیا ہے۔ (تھذیب الکمال فی اسماء الرجال، محمد بن عیسی بن سوره ، ج 26 ، ص 250، مؤسسة الرساله ، بیروت)
علامہ ذہبی (متوفی 748ھ) نقل کرتے ہیں: ”وَقَالَ الحَاكِمُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَلَكٍ يَقُولُ: مَاتَ البُخَارِيُّ فَلَمْ يَخْلُفْ بِخُرَاسَانَ مِثْلُ أَبِي عِيسَى، فِي العِلْمِ وَالحِفْظِ، وَالوَرَعِ وَالزُّهْدِ ، بَكَى حَتَّى عَمِيَ ، وَبَقِيَ ضَرِيرًا سِنِينَ“ ترجمہ: امام حاکم نے کہا کہ میں نے شیخ عمر بن علک کو فرماتے سنا کہ امام بخاری دنیا سے چل بسے اور اپنے بعد خراسان میں علم و حفظ اور زہد و تقویٰ میں ابو عیسیٰ ترمذی جیسا کوئی نہیں چھوڑا ، وہ اس قدر روئے کہ آنکھوں کی بصارت سے محروم ہو گئے اور کئی سال اسی طرح نابینا حالت میں زندگی گزاری۔ (سير اعلام النبلاء، الترمذى محمد بن عيسى، ج13، ص273، مؤسسة الرساله، بيروت)
حافظ ابن کثیر (متوفی 774ھ) لکھتے ہیں: ’’وَهُوَ أَحَدُ أَئِمَّةِ هَذَا الشَّأْنِ فِي زَمَانِهِ، وَلَهُ الْمُصَنَّفَاتُ الْمَشْهُورَةُ، مِنْهَا الْجَامِعُ، وَالشَّمَائِلُ، وَأَسْمَاءِ الصَّحَابَةِ وَغَيْرُ ذَلِكَ‘‘ ترجمہ: امام ترمذی اپنے زمانے کے قدر و منزلت والے امام تھے، ان کی مشہور تصانیف ہیں، ان میں سے جامع ترمذی، شمائل ترمذی، اسماء الصحابہ وغیرہ ہیں۔ (البدايه والنهايه، خلافة المعتضد، ج11، ص77، دار احياء التراث العربي، بيروت)
علامہ ابن حجر عسقلانی نصر بن محمد کے حوالے سے امام ترمذی کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ’قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ انتَفَعْتُ بِكَ اَكْثَرَ مِمَّا انتَفَعْتَ بِي‘ ترجمہ: مجھ سے امام بخاری نے فرمایا: تم نے مجھ سے اس قدر استفادہ نہیں کیا جس قدر استفادہ میں نے تم سے کیا ہے۔ (تهذيب التهذيب، ج09، ص389، مكتبه دائرة المعارف النظامية، الهند)
حافظ ادریسی فرماتے ہیں: ’’كان الترمذى أحد الأئمة الذين يقتدى بهم في علم الحديث صف الجامع والتواريخ والعلل تصنيف رجل عالم متقن كان يضرب به المثل فى الحفظ‘‘ امام ترمذی ان ائمہ میں سے ایک ہیں جن کی علم حدیث میں اقتداء کی جاتی ہے، آپ نے کتاب الجامع، کتاب التاریخ اور کتاب العلل کو ایک پختہ ماہر، عالم کی طرح تصنیف کیا ہے، آپ کی قوتِ حافظہ ضرب المثل تھی۔( تهذيب التهذيب، محمد مع العين فى الآباء، ج09، ص388، مكتبه دائرة المعارف النظامية، الهند)
علامہ عبدالحی بن احمد بن محمد ابن العماد العکری حنبلی (متوفی 1089ھ) لکھتے ہیں: ’’كان مبرزا على الأقران، آية فى الحفظ والإتقان‘‘ ترجمہ: امام ترمذی اقران و معاصرین پر سبقت لے جانے والے اور حفظ و اتقان میں آیت و نشانی تھے۔ (شذرات الذهب في اخبار من ذهب، سنة تسع وسبعين وماقتين، ج3، ص327، دار ابن کثیر، بيروت)
حضرت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں:
امام ترمذی حفظِ حدیث میں بے مثل اور سیدنا امام بخاری کے صحیح جانشین مشہور ہیں، تورع ، زہد اور خوفِ خدا اس درجہ رکھتے جس کی مثال نہیں، حتی کہ خوفِ خدا میں رونے کے سبب آخری عمر میں ان کی بینائی جاتی رہی۔ (بستان المحدثین،ص،185مطبوعہ کراچی)
ابن حزم کی جہالت:
ابن حزم نے امام ترمذی کے بارے میں یہ لکھ دیا کہ : ”مَنْ محمد بن عيسى بن سورة“ ترجمہ: محمد بن عیسیٰ بن سورہ کون ہے؟، اس کا رد کرتے ہوئے حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں: ”وَجهالة ابن حزم لاً بی عیسیٰ الترمذی لا تضرہ حَیثُ قالَ فی محلاّہ: وَمَنْ مُحَمَّدُ بْنُ عیسٰی بن سورة؟ فإن جهالته لا تَضُعُ مِنْ قَدْرِهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، بَلْ وضعت مَنْزِلَةَ ابْنِ حَزْمٍ عِنْدَ الْحُفّاظِ ، وَكَيْفَ يَصِحُّ فی الأَذْهانِ شیءٌ إِذَا احْتَاجَ النَّهارُ إِلَى دَليلٍ“ ترجمہ: امام ترمذی کے بارے میں ابن حزم کی جہالت نے امام ترمذی کو نقصان نہیں دیا کہ اس نے اپنی کتاب میں لکھ دیا کہ محمد بن عیسیٰ بن سورہ کون ہے؟ کیونکہ اس کی جہالت نے اہل علم کے نزدیک امام ترمذی کی قدر کو کم نہیں کیا بلکہ حفاظ کی نظر میں ابن حزم کی منزلت کو کم کر دیا ہے۔ اذہان میں کوئی شے کیسے صحیح ہوسکتی ہے جب روشن دن ہی دلیل کا محتاج ہو۔ (البدایه والنهایه،خلافة المعتضد،ج11،ص77داراحیاء التراث العربی،بیروت)
تصانیف:
امام ترمذی علیہ رحمہ نے درس و تدریس، عبادات و مجاہدات اور دیگر گونا گوں مصروفیات کے باوجود کئی اہم موضوعات پر قلم اٹھایا،
آپ کی تصانیف میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں:
(1) جامع ترمذی
(2) الشمائل النبوية المعروف بشمائل الترمذی
(3) العلل الکبیر
(4) العلل الصغیر (الذی فی آخر الجامع)
(5) کتاب الزہد
(6) کتاب التاریخ
(7) اسماء الصحابہ
(8) کتاب الاسماء والکنی
(9) کتاب فی الآثار الموقوفہ۔
(قوت المغتذی،مقدمہ،ج01،ص13,14مكتبة ام القرى، مكة المكرمة)
رحلت:
امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ کا 70 سال کی عمر میں 13 رجب المرجب 279ھ پیر کی رات کو قصبہ ترمذ میں یا اس کے گاؤں بُوغ میں انتقال ہوا۔
علامہ سعد الملک ابو نصر علی بن ہبۃ اللہ (متوفی 475ھ) ”اکمال فی رفع الارتیاب“ میں فرماتے ہیں:
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا 13 رجب المرجب 279ھ پیر کی رات کو ترمذ میں انتقال ہوا۔ (الأكمال في رفع الارتياب، ج، 04، ص ، 396 دارالکتب العلمية ، بيروت، لبنان)
علامہ سمعانی (متوفی 562ھ) لکھتے ہیں: امام ابو عیسیٰ ترمذی کا ترمذ کے ایک گاؤں ’بوغ‘ میں انتقال ہوا۔ (الانساب للسمعاني،الترمذي، ج3 ،ص،43 مجلس دائرة المعارف العثمانيه،حيدرآباد)
علامہ سمعانی نے (ایک قول یہ) لکھا ہے کہ امام ترمذی کی وفات 275ھ میں ہوئی۔ (الانساب للسمعاني، البوغي، ج2،ص،362دائرة المعارف العثمانيه، حيدرآباد)
تذکرہ امام ترمذی:
بے شمار کتب میں ائمہ دین اور مؤرخین نے امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا تعارف لکھا ہے، ان میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں: