Site icon اردو محفل

 حدیثِ منقطع کی تعریف اور اس کا حکم

 حدیثِ منقطع کی تعریف اور اس کا حکم

منقطع، انقطاع سے ماخوذ ہے اور انقطاع اتصال کی ضد ہے۔ اس کا اصطلاحی معنی یہ ہے۔

علامہ نووی لکھتے ہیں: 

اِنَّ الْمُنْقَطِعَ مَا لَمْ یَتَّصِلْ اِسْنَادُہٗ عَلٰی اَیِّ وَجْہٍ کَانَ اِنْقِطَاعُہٗ وَاَکْثَرُ مَا یُسْتَعْمَلُ فِیْ رِوَایَۃِ مَنْ دُوْنَ التَّابِعِیِّ عَنِ الصَّحَابِیِّ کَمَالِکٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . (علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ ، تقریب النواوی مع التدریب ج ۱ ص ۲۰۸-۲۰۷ مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ)

منقطع وہ حدیث ہے جس میں کسی وجہ سے بھی عدم اتصال ہوا اور اس کا اکثر اطلاق اس حدیث پر ہوتا ہے جس میں تابعی سے نیچے درجہ کا کوئی شخص صحابی سے روایت کرے جیسے مثلاً امام مالک کی حضرت ابن عمر سے روایت ہو۔

یعنی سند میں کسی وجہ سے بھی انقطاع ہو خواہ اول میں، وسط میں یا آخر میں۔ اس اعتبار سے مرسل، معلق اور معضل بھی اس کی تعریف میں شامل ہیں لیکن اس کی مخصوص اور مشہور صورت وہ ہے جس میں تابعی سے نچلے درجے کا راوی صحابی سے روایت کرے جیسے امام مالک حضرت ابن عمر سے روایت کریں۔ خطیب بغدادی، ابن عبدالبر، اور دیگر فقہاء اور محدثین کے نزدیک یہی صحیح ہے۔

حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:

امام حاکم نے ”معرفۃ انواع علوم الحدیث“ میں لکھا ہے کہ منقطع کی دو قسمیں ہیں:

(۱)۔ تابعی سے نچلے راوی نے اپنے اوپر کے راوی سے سماع نہ کیا ہو اور جو راوی ساقط کیا ہے اس کا ذکر نہ کیا ہو معیناً نہ مبہماً۔

اس کی مثال یہ ہے امام عبدالرزاق نے از سفیان ثوری، از ابواسحاق، از زید بن یثیع از حضرت حذیفہؓ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ابوبکر کو خلیفہ بناؤ گے تو وہ قوی اور امین ہے الحدیث،

اس حدیث میں دو وجہ سے انقطاع ہے، امام عبدالرزاق کا ثوری سے سماع نہیں ہے انھوں نے اس حدیث کو نعمان بن ابی شیبہ جندی سے اور انھوں نے اس کو ثوری سے سنا، اور ثوری نے بھی اس کو براہ راست ابواسحاق سے نہیں سنا۔ ثوری نے اس حدیث کو شریک سے سنا ہے اور انھوں نے اس کو ابواسحاق سے سنا ہے۔

(ب) جس سند میں بعض راویوں کا لفظ مبہم کے ساتھ ذکر کیا جائے مثلاً ایک آدمی سے روایت ہے، ایک شیخ سے روایت ہے۔

اس کی مثال یہ ہے، حاکم علاء بن عبداللہ بن شخیر سے، دو آدمیوں سے، شداد بن اوس سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے نماز میں دعا کی: اللهم انی اسئلک الثبات فی الامر۔

”اے اللہ! میں تجھ سے معاملات میں ثابت قدمی کی دعا کرتا ہوں“ (حافظ ابوعمرو عثمان بن عبد الرحمان شہر زوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ علوم الحدیث ص ۵۱-۵۴ مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۸۲ھ)

حدیث منقطع کا حکم یہ ہے کہ علماء کے نزدیک یہ حدیث بالاتفاق ضعیف ہے کیونکہ جس راوی کو حذف کیا گیا ہے اس کا حال مجهول ہے۔

Exit mobile version