جس حدیث کی سند میں دو یا دو سے زیادہ راوی متواتر ساقط ہوں ۔
حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:
اس کی مثال یہ ہے کہ تبع تابعی یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا یا اس سے بھی نچلے درجے کا تابعی یہ کہے کہ از رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا از حضرت ابوبکر یا از حضرت عمر۔ ) حافظ ابو عمرو عثمان بن عبدالرحمٰن شہر زوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ، علوم الحدیث ص ۵۴، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۸۶ھ(
امام مالک سے روایت ہے کہ ان کو حضرت ابوہریرہ سے یہ روایت پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلام کو دستور کے مطابق کھانا اور کپڑے دیے جائیں اور اس کو اس کی برداشت سے زیادہ کام کا مکلف نہ کیا جائے، یہ حدیث امام مالک نے معضلاً روایت کی ہے۔
یہ حدیث اس لیے معضل ہے کہ امام مالک اور حضرت ابو ہریرہ کے درمیان دو متواتر راوی متروک ہیں ‘محمد بن عجلان’ اور ‘عجلان’۔ معضل حدیث ضعیف ہے اور مرسل اور منقطع سے کم درجہ کی ہے کیونکہ اس میں بہ کثرت راوی حذف ہوتے ہیں، اس حکم پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔
حدیثِ معضل اور حدیثِ معلق کے مابین عموم خصوص من وجہ کی نسبت کا بیان
درمیان عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہے، ان دونوں کی ایک اجتماعی اور دو افتراقی صورتیں ہیں۔
(ا) جب حدیث کی سند کی ابتدا سے دو متواتر راوی حذف ہوں تو یہ اجتماعی مادہ ہے اور یہ حدیث بہ یک وقت معضل بھی ہے اور معلق بھی۔
(ب) جب سند کے وسط سے دو متواتر راوی حذف ہوں تو یہ معضل ہے اور معلق نہیں ہے۔
(ج) جب ابتداء سند سے صرف ایک راوی حذف ہو تو معلق ہے اور معضل نہیں ہے۔