Site icon اردو محفل

حدیث مرسل خفی کی تعریف اور اس کا حکم

حدیث مرسل خفی کی تعریف اور اس کا حکم

لغت میں ارسال کا معنی اطلاق ہے، اور مخفی جلی کی ضد ہے اور مرسل کی قسم چونکہ ظاہر نہیں ہوتی اس لیے اس کی مستقل بحث ہے، اس کی اصطلاحی تعریف یہ ہے؛ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

المرسل الخفى اذا صدر من معاصر لم يلق من حدث عنه بل بينه وبينه واسطة . ) حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبۃ الفکر ص 54، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی(

جو حدیث راوی کے ایسے معاصر سے صادر ہوئی ہو جس نے اس شخص سے ملاقات نہ کی ہو جس نے اس سے وہ حدیث بیان کی ہو، بلکہ اس معاصر اور حدیث بیان کرنے والے کے درمیان واسطہ ہو۔

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

مدلس اور مرسل خفی کے درمیان ایک باریک فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ تدلیس اس کو کہتے ہیں کہ راوی اس شیخ سے حدیث کو روایت کرے جس سے اس کی ملاقات معروف ہو، اور اگر وہ اپنے کسی ایسے معاصر سے حدیث روایت کرے جس سے اس کی ملاقات معروف نہ ہو تو وہ مرسل خفی ہے،

مرسل خفی کے ثبوت پر دلیل یہ ہے کہ مخضرمین (جنہوں نے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام پایا ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کی ہو) مثلاً ابو عثمان نہدی، اور قیس بن ابی حازم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کرتے ہیں اور ان کی روایات مرسل خفی ہیں مدلس نہیں ہیں، تو اگر مدلس کی تعریف میں بھی معاصرت کا اعتبار ہوتا تو مخضرمین کی روایات مدلس ہوتیں، کیونکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے اور یہ معروف نہیں ہے کہ انہوں نے آپ سے ملاقات بھی کی۔ ( حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبۃ الفکر ص 54-55، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)

مرسل خفی کی مثال یہ ہے: امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں:

عن عمر بن عبد العزيز عن عقبة بن عامر الجهني قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم رحم الله حارس الحرس ۔( امام ابو عبداللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ۲۷۳ھ، سنن ابن ماجہ ص ۱۹۹، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)

عمر بن عبدالعزیز، عقبہ بن عامر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لشکر کے محافظ پر رحم فرمائے۔

علامہ مزنی نے تحفۃ الاشراف میں لکھا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کی عقبہ سے ملاقات نہیں ہوئی۔

مرسل خفی کا حکم تین باتوں میں سے کسی ایک سے ہوجاتا ہے:

(۱)۔ بعض ائمہ سے تصریح منقول ہوتی ہے فلاں راوی کی اپنے مروی عنہ سے ملاقات نہیں ہے یا اس نے اس مروی عنہ سے مطلقاً سماع نہیں کیا۔

(ب)۔ وہ راوی خود یہ بیان کر دیتا ہے کہ جس سے وہ حدیث روایت کرتا ہے اس سے اس کی ملاقات نہیں ہوئی یا اس نے اس سے سماع نہیں کیا۔

(ج)۔ کسی اور سند سے وہ حدیث مروی ہوتی ہے جس میں اس راوی اور مروی عنہ کے درمیان کوئی اور شخص زائد ہوتا ہے۔ اس حدیث کا حکم یہ ہے کہ یہ ضعیف ہے کیونکہ منقطع کی قسم ہے۔

—

Exit mobile version