راوی میں طعن کا مطلب یہ ہے کہ راوی پر زبان سے جرح کی جائے اور اس کی عدالت اور دین داری اور اس کے ضبط و حفظ اور بیدار مغزی سے بحث کی جائے۔ راوی میں طعن کے دس اسباب ہیں، پانچ کا تعلق عدالت سے ہے اور پانچ کا تعلق ضبط سے ہے۔ عدالت کے اعتبار سے طعن کی یہ درجات ہیں: (۱) کذب (۲) کذب کی تہمت (۳) فسق (۴) بدعت (۵) جہالت۔ اور ضبط کے اعتبار سے طعن کی یہ پانچ قسمیں ہیں: (۱) فحش غلطی کرنا۔ (۲) بدحافظہ ہونا (۳) غفلت (۴) کثرتِ اوہام۔ (۵) مخالفتِ ثقات۔