جب راوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا طعن ہو تو اس کی حدیث موضوع کہلاتی ہے، لغت میں وضع کا معنی ہے کسی چیز کو پست کرنا، اس کا مرتبہ کم کرنا اور چونکہ اس حدیث کا مرتبہ کم ہوتا ہے اس لیے اس کو موضوع کہتے ہیں، اور اس کی اصطلاحی تعریف یہ ہے:
ملا علی قاری لکھتے ہیں:
الموضوع هو الحديث الذی فيه الطعن بكذب الراوی۔ (ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ھ ، شرح شرح نخبة الفکر، ص۱۲۳، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی ۱۳۸۷ھ)
موضوع وہ حدیث ہے جس میں کذبِ راوی کی وجہ سے طعن ہو۔
حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:
الموضوع والمختلق المصنوع۔ (حافظ ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمان شہرزوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ علوم الحدیث ص ۸۹، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۸۲ھ )
جو جھوٹی بات گھڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دی گئی ہو اس کو حدیث موضوع کہتے ہیں۔
حدیث موضوع کے تحقق پر دلائل
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
کسی حدیث کے موضوع ہونے کا حکم ظنِ غالب سے لگایا جاتا ہے اور قطعیت کے ساتھ کسی حدیث کو موضوع نہیں کہا جاتا، کیونکہ کبھی جھوٹا آدمی بھی سچی بات کہتا ہے لیکن علماءِ حدیث کو ایسا قوی ملکہ حاصل ہوتا ہے جس سے وہ حدیثِ موضوع کو غیر موضوع سے متمیز کرلیتے ہیں، اور یہ ملکہ اسی شخص کو حاصل ہوتا ہے جس کو علمِ حدیث کی کامل اطلاع ہو اور اس کا ذہن روشن ہو اور اس کی فہم قوی ہو اور وہ حدیثِ موضوع کے قرائن سے اس کی معرفت حاصل کرے، اور کبھی حدیث کے موضوع ہونے کا اس کے واضع کے اقرار سے علم ہوجاتا ہے، ابن دقیق العید نے کہا لیکن یہ بات قطعی نہیں ہے، کیونکہ یہ بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے اقرار میں بھی جھوٹا ہو، اس قول سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ واضع کے اقرار پر بالکل عمل نہیں کیا جائے گا، حالانکہ ابن دقیق العید کی یہ مراد نہیں ہے انھوں نے صرف قطعیت کی نفی کی ہے، اور کسی حدیث پر قطعیت کے ساتھ موضوع ہونے کا حکم نہ لگانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس پر ظنِ غالب سے بھی موضوع ہونے کا حکم نہ لگایا جائے، اور یہاں معاملہ اسی طرح ہے اور اگر یہ جائز نہ ہوتا تو قاتل کے اقرار سے اس کو قتل کرنا اور زانی کے معترف کو رجم کرنا بھی جائز نہ ہوتا، کیونکہ یہاں بھی یہ احتمال ہے کہ وہ دونوں اپنے اعتراف میں جھوٹے ہوں
حدیث موضوع کی معرفت کے قرائن اور اس کا حکم
جن قرائن سے حدیث کے موضوع ہونے کا علم ہوتا ہے ان میں سے ایک قرینہ راوی کا حال ہے، ایک مرتبہ مامون بن احمد کے سامنے یہ ذکر ہوا کہ آیا حسن بصری کا حضرت ابوہریرہ سے سماع ہے یا نہیں، تو ایک شخص نے اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک سند بناکر ایک حدیث سنا دی اور اس نے کہا حسن نے حضرت ابوہریرہ سے یہ حدیث سنی ہے اسی طرح غیاث بن ابراہیم مہدی کے پاس گیا تو وہ کبوتروں سے کھیل رہا تھا اس نے اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک سند بناکر کہا تیر اندازی، شتر سواری، گھوڑے سواری اور پرندوں کے سوا اور کسی چیز میں مقابلہ کرنا جائز نہیں ہے، اس نے پرندوں کا لفظ اپنی طرف سے بڑھا دیا خلیفہ مہدی تاڑ گیا کہ اس نے اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولا ہے، اس نے اسی وقت اس کبوتر کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ دوسرا قرینہ یہ ہے کہ وہ حدیث نصِ قرآن مجید یا سنتِ متواترہ یا اجماعِ قطعی یا عقلِ صریح کے خلاف ہو اور اس میں کسی طرح کی تاویل نہ ہوسکے، واضع کبھی تو حدیث کو خود بناتا ہے اور کبھی کسی اور کے کلام کو بطورِ حدیث پیش کرتا ہے، مثلاً بعض سلفِ صالحین، یا قدماءِ حکماء کے کلام کو یا اسرائیلیات کو یا کسی ضعیف حدیث کی ایک صحیح سند بنالیتا ہے تاکہ اس حدیث کی شہرت ہو، حدیث گھڑنے کا متحرک اور باعث یا تو بے دینی ہے جیسے زندیق لوگ، یا غلبۂ جہل، جیسے جاہل صوفیاء، یا فرطِ عصبیت جیسے بعض مقلدین، یا بعض رئیسوں کی خواہش پوری کرنے کے لیے یا کوئی انوکھی بات بیان کرنے کے شوق میں یا شہرت حاصل کرنے کے لیے، اور یہ تمام امور بالاجماع حرام ہیں اور اس پر اتفاق ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمدًا جھوٹ بولنا گناہِ کبیرہ ہے اور ابو محمد جوینی نے کہا وہ شخص کافر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمدًا جھوٹ باندھے، اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ موضوع روایت کو بیان کرنا حرام ہے، ہاں یہ کہہ کر بیان کرسکتا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے کیونکہ امام مسلم نے روایت کیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری حدیث بیان کی حالانکہ اس کو علم تھا کہ یہ جھوٹ ہے وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ (حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبة الفکر، ص ۶۰ – ۵۷، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)
وضاعین اور ان کی بنائی ہوئی حدیثوں کا بیان
حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:
نوح بن ابراہیم سے کہا گیا کہ تم نے قرآن مجید کی سورتوں کے فضائل میں از عکرمہ از ابن عباس کئی حدیثیں بیان کی ہیں، تم نے عکرمہ سے سماع کیسے کیا؟ اس نے کہا میں نے دیکھا کہ لوگ قرآن کو چھوڑ کر ابوحنیفہ کی فقہ اور محمد بن اسحاق کی مغازی میں مشغول ہوگئے ہیں تو میں نے ان احادیث کو وضع کیا، اسی طرح حضرت ابی بن کعب کی روایت سے قرآن مجید کی ہر سورت کی فضیلت میں ایک حدیث بیان کی جاتی ہے اس کے متعلق بھی تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایک جماعت نے ان حدیثوں کو وضع کیا تھا۔ (حافظ ابوعمرو عثمان بن ابراہیم شہر زوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ، علوم الحدیث ص ۹۱ – ۹۰ مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۸۲ھ)
علامہ سیوطی لکھتے ہیں:
امام ابن حبان نے کتاب الضعفاء میں ابن مہدی سے روایت کیا ہے کہ میں نے میسرہ بن عبدربہ سے پوچھا تم نے یہ احادیث کہاں سے روایت کی ہیں کہ جس شخص نے فلاں سورت کو پڑھا تو اس کو اتنا ثواب ملے گا؟ اس نے کہا میں نے لوگوں کو راغب کرنے کے لیے یہ احادیث گھڑی ہیں، یہ ایک زاہد نوجوان تھا اس نے دنیاوی لذتوں کو ترک کردیا تھا، جس دن یہ فوت ہوا اس دن بغداد کے بازار بند ہو گئے تھے، حالانکہ یہ احادیث گھڑتا تھا، اس سے موت کے وقت پوچھا گیا کہ تمہیں اپنے متعلق حسنِ ظن ہے؟ اس نے کہا کیسے نہیں ہوگا میں نے حضرت علی کی فضیلت کے متعلق ستر حدیثیں گھڑی ہیں۔
ابوداؤد نخعی صائم النہار اور قائم اللیل تھے اس کے باوجود وہ حدیثیں گھڑتے تھے اور ابو بشر احمد بن محمد فقیہ مروزی سنت کے زبردست حامی اور بدعت کے سخت مخالف تھے اور حدیثیں گھڑتے تھے، ابن عدی نے کہا کہ وہب بن حفص صالحین میں سے تھے انھوں نے بیس سال تک کسی سے کلام نہیں کیا اور فحش جھوٹ بولتے تھے ۔( علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۲۸۳ مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ)
ملا علی قاری لکھتے ہیں:
عقیلی نے بیان کیا ہے کہ وضاعین نے چودہ ہزار احادیث گھڑی ہیں، مہدی نے کہا میرے سامنے ایک زندیق نے اقرار کیا کہ اس نے سو حدیثیں گھڑی ہیں، ابن عدی نے کہا جب عبدالکریم بن عوجاء کو پکڑ کر لایا گیا اور اس کی گردن اڑانے کا حکم دیا گیا تو اس نے کہا میں نے تم میں چار ہزار حدیثیں گھڑکر پھیلا دی ہیں، جن میں، میں نے حرام کو حلال، اور حلال کو حرام کر دیا ہے، انھی وضاعین میں سے حارث کذاب تھا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور ہزاروں حدیثیں گھڑی تھیں، جب ابنِ مبارک سے ان احادیثِ موضوعہ کے متعلق تشویش کا اظہار کیا گیا تو انھوں نے کہا ان کے لیے ناقدین اور ماہرینِ حدیث موجود ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
اِنا نحن نزلنا الذکر وانا له لحفظون۔
ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
ان کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے الفاظ اور معانی دونوں کا محافظ ہے اور احادیثِ نبویہ قرآن کے معانی ہیں جن سے قرآن مجید کے الفاظ کی وضاحت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لتبین للناس ما نزل الیہم (نحل: ۴۲)
تاکہ آپ لوگوں کو بیان کر دیں کہ ان کی طرف کیا نازل کیا گیا ہے۔
اس لیے درحقیقت کتاب اور سنت کا اللہ تعالیٰ ہی محافظ ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے ہر قرن بلکہ ہر زمانہ میں ایسے عالم کو پیدا کرتا ہے جو دین کے امور کی تجدید کرتا ہے، حدیث موضوع کی پرکھ اور پہچان کے متعلق امام ابنِ عدی نے کتاب الضعفاء لکھی، خود میں نے لکھی، اور امام ابنِ جوزی نے موضوعات لکھی، لیکن اس پر علماء نے اعتراضات کیے ہیں کیونکہ ان میں غیر موضوع احادیث کو بھی درج کر دیا ہے، علامہ سیوطی نے اس موضوع پر اللالی المصنوعہ لکھی ہے ۔ (ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ھ، شرح شرح نخبۃ الفکر ص ۱۲۶ – ۱۲۷ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ، ۱۳۹۷ھ)
نیز ملا علی قاری لکھتے ہیں:
شعبي بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا، اور میرے پاس ایک لمبی ڈاڑھی والا شخص بیٹھا وعظ کررہا تھا اور اس کے گرد لوگوں کا ایک بڑا حلقہ تھا، اس نے بیان کیا کہ فلاں نے فلاں سے اور فلاں نے فلاں سے اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی کہ اللہ تعالیٰ نے دو صور بنائے ہیں اور ہر صور سے دوم مرتبہ صور پھونکا جائے گا ایک بار پھونکنے سے لوگ بے ہوش ہوں گے اور دوسری بار قیامت کے لیے پھر نکالا جائے گا، شعبی کہتے ہیں میں اپنے نفس کو ضبط نہ کرسکا میں جلدی سے نماز ختم کرکے ان کی طرف مڑا اور ان سے کہا اے شیخ! خدا سے ڈرو! اور غلط نہ بیان کرو، اللہ تعالیٰ نے صرف ایک صور پیدا کیا ہے اور اسی کو دو بار پھونکا جائے گا، اس شیخ نے کہا اے فاجر! مجھ سے فلاں فلاں نے یہ حدیث بیان کی ہے اور تو مجھ پر رد کرتا ہے پھر اس نے اپنی جوتی اٹھا کر مجھے پیٹنا شروع کر دیا اور اس کی پیروی میں اس کے تمام مریدوں نے مجھے اپنے جوتوں سے مارنا شروع کر دیا اور بہ خدا ان لوگوں نے مجھ کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک کہ انہوں نے مجھ سے یہ نہیں کہلوالیا کہ اللہ تعالیٰ نے تین صور پیدا کیے ہیں۔ ( ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ھ، موضوعات کبیر ص ۱۲، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی)
حافظ ابن عساکر بیان کرتے ہیں کہ رشید کے پاس ایک زندیق کو لایا گیا، خلیفہ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا اس زندیق نے کہا تم مجھ کو تو قتل کر دو گے لیکن چار ہزار حدیثوں کا کیا کروگے جن کو وضع کرکے میں نے لوگوں میں پھیلا دیا ہے اور ان میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دیا ہے اور ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمایا ہوا ایک حرف بھی نہیں ہے رشید نے کہا اے زندیق! تو عبداللہ بن مبارک اور ابن اسحاق غواری کو کیا سمجھتا ہے ان کی تنقید کی چھلنی سے تیری وضع کی ہوئی حدیثوں کا ایک ایک حرف نکل جائے گا۔ (حافظ ابو القاسم علی بن الحسن المعروف بابن عساکر متوفی ۵۷۱ھ مختصر تاریخ دمشق ج ۴ ص ۱۱۵ مطبوعہ دار الفکر دمشق ، ۱۴۰۴ھ)
حدیث موضوع کی معرفت کے قواعد اور ضوابط
ملا علی قاری، ابن قیم جوزیہ سے نقل کرکے لکھتے ہیں کہ( ہم نے ان قواعد اور احادیث کا ذکر نہیں کیا جس سے ملا علی قاری نے اختلاف کیا ہے۔ سعیدی غفرلہ)
ہم ایسے چند قواعد کلیہ بیان کرتے ہیں جن سے کسی حدیث کا موضوع ہونا معلوم ہوسکے گا:
(۱)۔ کسی حدیث میں ایسی بے تکی اور بے اصول باتیں ہوں جن کا کہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متصور نہیں ہے اور اس کی حدیث موضوع میں بہت مثالیں ہیں، ایک مثال یہ ہے:
جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا اللہ تعالیٰ اس کلمہ سے ایک پرندہ پیدا کرے گا جس کی ستر ہزار زبانیں ہوں گی اور ہر زبان کی ستر ہزار لغات ہوں گی اور وہ پرندہ اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں گے اور جس شخص نے فلاں فلاں کام کیا اس کو جنت میں ستر ہزار شہر ملیں گے اور ہر شہر میں ستر ہزار محل ہوں گے اور ہر محل میں ستر ہزار حوریں ہوں گی، اور اس جیسی حدیثیں، ان کو بنانے والا انتہائی جاہل اور احمق تھا اور یا وہ زندیق شخص تھا وہ اس قسم کی احادیث گھڑکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کرنا چاہتا تھا۔
(۲)۔ ایسی حدیث جس کی حس اور مشاہدہ تکذیب کرتا ہو جیسے یہ حدیث کہ: بینگن کھانا ہر بیماری سے شفا ہے، اسی طرح یہ حدیث کہ اگر کسی حدیث کو بیان کرتے وقت اس کو چھینک آئے تو وہ اس کی صداقت کی دلیل ہے، حالانکہ کئی مرتبہ جھوٹ بولتے وقت لوگوں کو چھینک آجاتی ہے، اور کوئی شخص حدیث بیان کرے اور اس کو ایک لاکھ مرتبہ بھی چھینکیں آئیں تو اس سے اس حدیث کی صحت کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔
(۳) وہ حدیث جو کسی مضحکہ خیز بات پر مشتمل ہو، مثلاً یہ حدیث کہ اگر چاول آدمی ہوتا تو حلیم الطبع ہوتا، جو شخص چاول کھاتا ہے وہ سیر ہوجاتا ہے۔ یہ بات کسی عام فاضل شخص سے بھی متصور نہیں ہے چہ جائیکہ سید الانبیاء علیہ الصلاة والسلام سے۔ اسی طرح یہ حدیث کہ اخروٹ کھانا بزدلی کی دوا ہے اور جب یہ پیٹ میں جاتا ہے تو شفاء بن جاتا ہے۔
(۴)۔ وہ حدیث جو کسی صریح سنت کے خلاف ہو اور اس میں واضح تضاد ہو، سو ہر وہ حدیث جو کسی فساد، ظلم، عبث، باطل کی مدح یا حق کی مذمت پر مشتمل ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں، ایسی ہی یہ حدیث ہے جس کا نام محمد یا احمد ہو جو کسی شخص کا نام محمد یا احمد رکھے جہنم میں داخل نہیں ہوگا، کیونکہ ہم کو دین سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص محض اسما اور القاب کی بناء پر دوزخ سے نجات نہیں پائے گا، نجات تو صرف ایمان اور اعمالِ صالحہ کی وجہ سے ہوگی۔
(۵)۔ جس حدیث میں یہ دعویٰ کیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کے سامنے علی الاعلان کوئی کام کیا اور وہ سب صحابہ اس کے چھپانے پر متفق ہوگئے اور کسی نے اس کو ظاہر نہیں کیا جیسا کہ بعض کذابین نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجت الوداع سے واپسی پر تمام صحابہ کے سامنے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اور سب صحابہ نے اس کو پہچان لیا، کہ یہ میرا وصی اور میرا بھائی اور میرے بعد خلیفہ ہے، اس کے احکام سننا اور اس کی اطاعت کرنا، پھر صحابہ اس کو چھپانے کے اور اس کو متغیر کرنے پر متفق ہوگئے۔
(۶)۔ ایسی حدیث جو فی نفسہ باطل ہو اور اس کا نفس مضمون اس پر دلالت کرتا ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہیں ہوسکتا جیسے یہ احادیث ہیں (۱) جب رب غضب میں ہوتا ہے تو فارسی میں کلام کرتا ہے اور جب راضی ہوتا ہے تو عربی میں کلام کرتا ہے۔ (ب) چھ چیزیں نسیان کو پیدا کرتی ہیں، چوہے کا جھوٹا، جوں کو آگ میں ڈالنا، ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا، دنداسہ چبانا، کھٹہ سیب کھانا، گدی کی رگ میں فصد لگاتے ہوئے باتیں کرنا۔ (ج) اے حمیرا! دھوپ میں گرم پانی سے غسل نہ کرنا اس سے برص پیدا ہوتا ہے (د) جس شخص کے پاس صدقہ کے لیے مال نہ ہو وہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، کیونکہ لعنت کبھی صدقہ کا بدل نہیں ہے (ھ) میں نے قسم کھائی ہے کہ جس کا نام محمد یا احمد ہوگا اس کو دوزخ میں داخل نہیں کروں گا۔
(۷)۔ جو حدیث کلامِ انبیاء کے مشابہ نہ ہو جیسے یہ حدیث: (ا) تم ملیح چہرے اور سیاہ آنکھوں کو دیکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی ملیح کو دوزخ میں ڈالنے سے حیا فرماتا ہے (ب) جو لوگ سرمنڈاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو گناہوں سے پاک کردیتا ہے اور حضرت علی ان کے پیشوا ہیں۔
(۸)۔ ہر وہ حدیث جس میں حسین چہرے والوں کی مدح و ثناء ہو، اور انھیں دیکھنے اور ان سے اپنی حاجتیں طلب کرنے کا حکم ہو اور یہ کہ آگ ان کو نہیں چھوئے گی یہ سب جھوٹی اور من گھڑت حدیثیں ہیں، البتہ یہ حدیث کہ حسین چہرے والوں سے خیر طلب کرو، اس کو امام بخاری نے اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے، اور امام طبرانی، امام ابویعلیٰ، امام بیہقی، امام ابن عساکر وغیرہ نے مختلف الفاظ سے روایت کیا ہے، یہ موضوع نہیں ہے حسن یا ضعیف ہے۔
مصنف کہتا ہے کہ بعض کتابوں میں اس کو بطور حدیث لکھا۔
اذاتحیرتم فی الامور فاستعینوا من اہل القبور۔
جب تم معاملات میں حیران ہو تو قبر والوں سے مدد طلب کرو۔
ملا علی قاری نے اس کو لا اصل سے تعبیر کیا ہے یعنی یہ ایک قول ہے۔ شرح مسند ابی حنیفہ ص ۲۲۷ مطبوعہ دار الباز للنشر والتوزیع مکہ مکرمہ ، اور علامہ اسماعیل بن محمد عجلونی متوفی ۱۱۶۲ھ نے لکھا ہے، یہ ابن کمال پاشا کی اربعین میں مذکور ہے۔ کشف الخفاء ومزیل الالباس ج ۱ ص ۸۵ مطبوعہ مکتبہ غزوانی دمشق)
(۹) جس حدیث میں تاریخ معین بیان کی ہو، کہ جب فلاں سن یا فلاں مہینہ ہوگا تو فلاں واقعہ ہوگا، جیسا کہ اس حدیث میں ہے: جب محرم میں چاند گرہن ہوگا تو مہنگائی ہوگی، جنگ ہوگی اور سلطان مشغول ہوگا اور جب صفر میں چاند گرہن ہوگا تو اس طرح ہوگا، اس طرح بارہ مہینوں کے متعلق حدیثیں ہیں اور یہ سب بناوٹی اور جھوٹی حدیثیں ہیں۔
(۱۰) جس حدیث میں طب کے اوصاف بیان کیے گئے ہوں مثلاً یہ حدیثیں: ہریسہ کمرمضبوط کرتا ہے،(ب) مچھلی کھانے سے ذہانت چلی جاتی ہے (ج) ایک شخص نے آپ سے قلتِ اولاد کی شکایت کی تو آپ نے اس کو پیاز اور انڈے کھانے کا حکم دیا۔
(۱۱) وہ احادیث جس میں ایسی چیزیں بیان کی گئی ہوں جن کے بطلان پر شواہد صحیحہ قائم ہوں، جیسے عوج بن عنق کی طوالت کی حدیث ہے، اس حدیث میں ہے کہ عوج بن عنق کا قد تین ہزار تین سو تینتیس ہاتھ لمبا تھا، طوفانِ نوح صرف اس کے ٹخنون تک پہنچ سکا، وہ سمندر سے مچھلی نکالتا اور سورج سے بھون لیتا، یہ حدیث اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ موضوع اور جھوٹی ہے۔
(۱۲)۔ جو حدیث صریح قرآن کے مخالف ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں ہے دنیا کی مقدار سات ہزار سال ہے اور ہم ساتویں ہزار میں ہیں۔ اس حدیث کا جھوٹا ہونا بالکل ظاہر ہے، کیونکہ اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو ہر شخص کو علم ہوجاتا کہ قیامت کے آنے میں کتنا وقت باقی رہ گیا ہے قرآن مجید میں ہے:
لاتاتیکم الا بغتة – (اعراف: ۱۸۷) قیامت تم پر اچانک ہی آئے گی۔
(۱۳) اسی طرح مخصوص دنوں اور راتوں کی نمازوں کے متعلق احادیث ہیں جیسے اتوار کی نماز اور پیر کی نماز حتی کہ ہفتہ کے ہر دن کے متعلق نماز ہے۔ اور یہ حدیث ہے: جس نے رجب کی پہلی تاریخ کو مغرب کے بعد بیس رکعت نماز پڑھی وہ پل صراط سے بغیر حساب کے گزرجائے گا، اور یہ حدیث ہے: جس نے رجب میں کسی دن روزہ رکھا اور اس طرح دو رکعت نماز پڑھی کہ ہر رکعت میں سو بار آیت الکرسی پڑھی اور دوسری رکعت میں سو بار سورۂ اخلاص پڑھی وہ جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھنے سے پہلےمرے گا، یہ سب موضوع حدیثیں ہیں۔
(۱۴) شعبان کی پندرھویں شب کے متعلق بھی موضوع حدیثیں ہیں: (۱) اے علی! جس شخص نے شعبان کی پندرھویں شب کو اس طرح سو رکعت نماز پڑھی کہ ہر رکعت میں ہزار مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھا تو وہ اس رات اللہ تعالیٰ سے جس حاجت کو طلب کرے گا اللہ اس کی اس حاجت کو پورا کر دے گا اور اس کو ستر ہزار حوریں دے گا، ہر حور کے ستر ہزار غلام ہوں گے اور ستر ہزار بچے ہوں گے اور اس کے آخر میں ہے اس کے ماں باپ میں سے ہر ایک ستر ہزار کی شفاعت کرے گا جس شخص کو سنت کا ذرا سا بھی علم ہو گا وہ اس قسم کی حدیثوں سے دھوکا نہیں کھائے گا۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے جس شخص نے اس رات میں ایک ہزار مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھا اللہ تعالیٰ اس کے پاس بشارت دینے کے لیے ایک لاکھ فرشتے بھیجے گا۔
(۱۵)۔ جس حدیث کے الفاظ ایسے رکیک ہوں جن سے سماعت اور طبع متنفر ہو، جیسے یہ حدیث ہے:
ان للہ ملكاً من حجارة يقال له عمارة ينزل على حمار من حجارة كل يوم فيسعر۔
اللہ کے ایسے پتھر کا ایک فرشتہ ہے جس کو عمارہ کہتے ہیں وہ ہر روز پتھر کے گدھے پر نازل ہوتا ہے اور اس کو جلاتا ہے۔
(۱۶)۔ جو احادیث کالوں اور سیاہ فاموں کی مذمت میں ہیں، جیسے یہ حدیث ہے: حبشی کا جب پیٹ بھرجاتا ہے تو وہ زنا کرتا ہے اور جب بھوکا ہوتا ہے تو چوری کرتا ہے، اسی طرح جلاہوں کی مذمت میں بھی احادیث وضع کی گئی ہیں؛
(۱۷)۔ ترک، خصیوں اور غلاموں کی مذمت میں احادیث وضع کی گئی ہیں اور غلاموں کی مذمت میں بھی احادیث ہیں، مثلاً یہ حدیث ہے، اگر اللہ کے علم میں خصیوں میں کوئی خیر ہوتی تو وہ ان پشت سے ایسی اولاد نکالتا جو اللہ کی عبادت گذار ہوتی۔
(۱۸)۔ جس حدیث کے موضوع ہونے پر اسی حدیث میں قرائن قائم ہوں، مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ اہل خیبر سے جزیہ معاف کردیا گیا، یہ حدیث ان وجوہ سے موضوع ہے۔ (ا) اس حدیث میں حضرت سعد بن معاذ کی شہادت کا ذکر ہے اور وہ غزوہ خندق سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔ (ب) اس حدیث میں ذکر ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان نے اس طرح لکھا تھا اور حضرت معاویہ فتح مکہ کے زمانہ میں اسلام لائے تھے، (ج) اس وقت تک جزیہ کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے اور نہ پہلے صحابہ اور عرب میں یہ طریقہ معروف تھا، جزیہ کے احکام غزوہ تبوک کے سال نازل ہوئے ہیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں اور یمن کے یہودیوں پر جزیہ مقرر کیا اور مدینہ کے یہودیوں سے جزیہ نہیں لیا، کیونکہ ان سے پہلے معاہدہ ہوچکا تھا، پھر جب انہوں نے عہد شکنی کی تو ان میں سے بعض کو قتل کردیا اور بعض کو جلا وطن کردیا اور آپ نے اہل خیبر سے فرضیت جزیہ سے پہلے صلح کرلی تھی (د) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لازما جزیہ مقرر نہیں کیا تھا بلکہ فرمایا تھا ہم جب تک چاہیں گے تم کو مدینہ میں رکھیں گے (ہ) اس قسم کا واقعہ اگر ہوتا تو اس کی بکثرت روایات ہوتیں، (و) اہل خیبر نے پہلے ایسا کوئی احسان نہیں کیا تھا کہ ان سے جزیہ معاف کردیا جاتا، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی، اور کئی صحابہ کو شہید اور زخمی کیا، ان کے علاوہ اور بہت دلائل ہیں۔
(۱۹)۔ اولاد کی مذمت میں تمام احادیث موضوع ہیں، مثلاً یہ حدیث موضوع ہے: اگر تم میں سے کوئی شخص ایک سو ساٹھ کتے کے پلے پالے تو وہ ایک بچہ کو پالنے سے بہتر ہے۔
(۲۰)۔ مستقبل کی تاریخوں کے متعلق احادیث موضوع ہیں مثلاً جب ۱۳۵ سال گزر جائیں گے تو حضرت سلیمان نے جن قیدیوں کو قید کیا تھا وہ سب نکل آئیں گے، اور فلاں سن میں یہ ہو گا اور فلاں سن میں یہ ہو گا۔
(۲۱)۔ قرآن مجید کی سورتوں اور ان کے پڑھنے کے ثواب کے متعلق احادیث موضوع ہیں کہ جس نے فلاں سورت پڑھی تو اس کو فلاں اجر ہو گا، ثعلبی اور واحدی نے ہر سورت کے شروع میں اس قسم کی احادیث ذکر کی ہیں اور بیضاوی اور زمخشری نے ہر سورت کے آخر میں ذکر کی ہیں، اور مفتی ابو السعود نے بھی ان کی اتباع کی ہے اور زندیقوں نے ان حدیثوں کے وضع کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ (اس کے حوالے گزر چکے ہیں)۔
(۲۲)۔ حضرت ابوبکر صدیق کی فضیلت میں یہ احادیث موضوع ہیں (ا) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے عام تجلی فرمائے گا اور ابوبکر کے لیے خاص تجلی فرمائے گا۔ (ب) جو کچھ اللہ نے میرے سینہ میں ڈالا وہ میں نے ابوبکر کے سینہ میں ڈال دیا۔ (ج) جب اللہ تعالیٰ نے روحوں کو پسند کیا تو ابوبکر کی روح کو پسند کیا۔
(۲۳)۔ حضرت علی کی فضیلت میں احادیث موضوع ہیں، حافظ ابن حجر نے کہا کہ رافضیوں نے حضرت علی اور اہل بیت کی فضیلت میں تین لاکھ سے زیادہ احادیث وضع کی ہیں۔
(۲۴)۔ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کے ناموں کے ساتھ ان کی فضیلت میں حدیثیں وضع کی گئی ہیں۔
(۲۵)۔ حضرت امیر معاویہ، حضرت عمرو بن العاص اور بنو امیہ کی مذمت میں احادیث گھڑی گئی ہیں۔
(۲۶)۔ منصور اور سفاح کی مدح میں حدیثیں بنائی گئی ہیں۔
(۲۷)۔ یزید، ولید اور مروان بن الحکم کی مذمت میں حدیثیں وضع کی گئی ہیں۔
(۲۸)۔ بغداد، بصرہ، کوفہ، مرو، قزوین، عسقلان اور اسکندریہ کی مذمت میں احادیث وضع کی گئی ہیں۔
(۲۹)۔ اولاد عباس پر دوزخ حرام ہونے اور اولاد عباس کے لیے خلافت کے متعلق احادیث وضع کی گئی ہیں۔
(۳۰)۔ حضرت ابو موسیٰ کی مذمت میں جھوٹی احادیث بنائی گئی ہیں۔
(۳۱)۔ جس حدیث میں ہے کہ فلاں شہر جنت کے شہروں میں سے ہے اور فلاں شہر دوزخ کے شہروں میں سے ہے
(۳۲)۔ ایمان میں کمی بیشی کی نفی اور اثبات میں احادیث وضع کی گئی ہیں۔
(۳۳)۔ پھولوں کی فضیلت میں احادیث وضع کی گئی ہیں مثلاً نرگس اور گلاب کے بارے میں اور یہ سب جھوٹ ہیں ۔
(۳۴)۔ ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سماع کی محفل میں آئے اور آپ نے رقص کیا حتیٰ کہ آپ کی قمیص پھٹ گئی، اللہ تعالیٰ اس کے واضع پر لعنت کرے، اس نے کیسی جرات کی ہے، جاہل صوفیاء کی اس طرح کی بنائی ہوئی احادیث موضوع ہیں ۔
(۳۵)۔ جس شخص نے کسی بخشے ہوئے آدمی کے ساتھ کھانا کھایا وہ بھی بخشا جائے گا، اس طرح کی احادیث موضوع ہیں
(۳۶)۔ جب تم میں سے کسی کو ماں نماز میں بلائے تو اس کے بلانے پر جائے اور جب باپ بلائے تو نہ جائے، اس کو عبدالعزیز بن ابان قرشی اسدی نے روایت کیا ہے، یہ شخص کذاب تھا اور احادیث گھڑتا تھا۔ ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ھ ، موضوعات کبیر ص ۱۲۲۔ ۹۲، مطبوعہ مطبع مجتبائی پاکستان لاہور (نفل نماز میں مسئلہ اسی طرح ہے، البتہ فرض نماز میں ماں کے بلانے پر بھی نہ جائے ۔ شرح صحیح مسلم جلد سابع میں اس کی تفصیل ہے)
حافظ زین الدین عراقی لکھتے ہیں:
کبھی کوئی حدیث مغالطہ کی وجہ سے بھی موضوع ہوجاتی ہے، اس کی مثال یہ حدیث ہے:
امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں:
عن اسماعيل بن محمد الطلحی عن ثابت بن موسى الزاهد عن شريك عن الاعمش عن ابي سفيان عن جابر مرفوعاً من كثرت صلاته بالليل حسن وجهه بالنهار ۔
اسماعیل بن محمد از ثابت بن موسیٰ زاہد از شریک از اعمش از ابو سفیان از حضرت جابر روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات کو بکثرت نماز پڑھے صبح اس کا چہرہ حسین ہوتا ہے۔(سنن ابن ماجہ ص ۹۴، مطبوعہ کارخانہ تجارت کتب کراچی)
اس حدیث میں مغالطہ کا حاکم نے ذکر کیا ہے کہ ثابت بن موسیٰ، قاضی شریک بن عبداللہ کے پاس گئے اور حدیث لکھنے والا ان کے اور شریک کے درمیان بیٹھا تھا، شریک نے اس کو لکھوانے کے لیے کہا از اعمش از ابو سفیان از جابر روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابھی حدیث کا متن نہیں لکھوایا تھا کہ اچانک ان کی ثابت بن موسیٰ کی طرف نظر پڑی تو کہنے لگے : جو شخص رات کو بکثرت نماز پڑھے صبح اس کا چہرہ حسین ہوتا ہے، اور ان کی اس سے مراد ثابت تھے، کیونکہ وہ بہت زاہد اور متقی تھے، اور ثابت نے یہ گمان کیا کہ اعمش نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث مرفوعاً روایت کی ہے، تو ثابت اس حدیث کو شریک سے روایت کرنے لگے ۔ (حافظ زین الدین عبد الرحیم بن حسین عراقی متوفی ۸۰۶ھ، التقیید والایضاح شرح مقدمہ ابن الصلاح ص۱۳۶، مطبوعہ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ )
حافظ عراقی نے اس کا ذکر شرح الفیہ میں بھی کیا ہے ۔ (حافظ زین الدین عبد الرحیم بن حسین عراقی متوفی ۸۰۶ھ، التبصرہ والتذکرہ شرح الفیہ ج۱ ص۲۷۸، مطبوعہ دار الباز للنشر والتوزیع مکہ )
حافظ زکریا انصاری نے بھی اس کا ذکر کیا ہے ۔ (حافظ زکریا بن محمد انصاری شافعی متوفی ۹۲۶ھ، فتح الباقی علی الالفية العراقی ج۱ ص۲۷۷، مطبوعہ دار الباز للنشر والتوزیع مکہ )
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
و من جملة القرائن الدالة على الوضع الافراط بالوعيد الشديد على الامر اليسير او بالوعد العظيم على الفعل اليسير وهذا كثير موجود في حديث القصاص و الطرقية ۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، النکت علی کتاب ابن الصلاح ج۲ ص۸۴۳-۸۴۴، مطبوعہ احیاء التراث الاسلامی مدینہ منورہ ۱۴۰۴ھ )
حدیث کے موضوع ہونے پر ایک قرینہ یہ ہے کہ کسی تھوڑی سی بات پر بہت سخت عذاب کی وعید ہو یا کسی تھوڑے سے کام پر بہت عظیم ثواب کی بشارت ہو اور یہ چیز بازاری لوگوں اور قصے اور واقعات بیان کرنے والوں میں بکثرت موجود ہے۔
اس کی مثال یہ ہے، ملا علی قاری لکھتے ہیں:
امام احمد اور یحییٰ بن معین نے مسجد رصافہ میں نماز پڑھی ان کے سامنے ایک قصہ گو کھڑا ہوا اور اس نے حدیث بیان کی از احمد بن حنبل و یحییٰ بن معین از عبدالرزاق از معمر از قتادہ از انس روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا، اللہ تعالیٰ اس کے ہر کلمہ سے ایک پرندہ پیدا کرتا ہے جس کی چونچ سونے کی ہوتی ہے اور پُرمرجان کے، اور اس نے بیس ورق کا ایک طویل قصہ بیان کیا، امام احمد بن حنبل حیرت سے یحییٰ بن معین کی طرف دیکھ رہے تھے اور یحییٰ، امام احمد کی طرف دیکھ رہے تھے اور ایک دوسرے سے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ حدیث بیان کی ہے؟ ہر ایک نے کہا ہرگز نہیں، جب وہ قصہ سے فارغ ہوگیا تو انہوں نے اس کو بلایا اور اس سے پوچھا تم نے یہ حدیث کس سے روایت کی ہے؟ اس نے کہا احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین سے، یحییٰ بن معین نے کہا میں یحییٰ بن معین ہوں اور یہ احمد بن حنبل ہیں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہرگز نہیں سنی، تم کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہو؟ اس نے کہا میں ایک عرصہ سے سن رہا تھا کہ یحییٰ بن معین احمق آدمی ہے، آج مجھے اس کی تصدیق ہوگئی، یحییٰ نے پوچھا کیسے؟ اس نے کہا تم یہ سمجھتے ہو کہ دنیا میں صرف تمہی یحییٰ بن معینْ اور احمد بن حنبل ہو میں سترہ ایسے آدمیوں سے حدیث روایت کرتا ہوں جن کا نام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین ہے اور ان کا مذاق اڑا کر چل دیا۔( ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ھ، موضوعات کبیر ص ۱۲، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ہند)