Site icon اردو محفل

حدیث متروک کا بیان

حدیث متروک کا بیان

حدیث متروک کی تعریف یہ ہے:

هو الحديث الذي فى اسناده كذاب او متهم بالكذب۔( حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبة الفكر ص ۶۰، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)

یہ وہ حدیث ہے جس کی سند میں کوئی ایسا راوی ہو جس پر کذب کی تہمت ہو۔

کذب کی تہمت دو وجہوں سے ہوتی ہے (ا) وہ حدیث صرف اسی راوی سے مروی ہو اور وہ قواعد معلومہ کے خلاف ہو۔ (ب) اس شخص کا عادةً جھوٹ بولنا مشہور ہو لیکن حدیثِ نبوی میں اس کا جھوٹ بولنا ظاہر نہ ہوا ہو۔

علامہ سیوطی لکھتے ہیں:

جس حدیث میں کسی ثقہ راوی کی مخالفت نہ ہو اور اس کا راوی کذب کے ساتھ متہم ہو، اور وہ حدیث صرف اسی شخص سے مروی ہو اور وہ قواعد معلومہ کے خلاف ہو یا وہ راوی حدیثِ نبوی کے ماسوا میں جھوٹ بولنے میں مشہور ہو یا وہ بہت غلطیاں کرتا ہو یا فاسق ہو یا غافل ہو تو اس کی حدیث متروک ہے اور یہ ایک مستقل قسم ہے جس کا علامہ ابن حجر نے ذکر کیا ہے جیسے از فرقد از مرہ از ابی بکر آئے کے صدقہ کی حدیث ہے، اور از عمرو بن شمر از جابر الجعفی از حارث از علی ایک حدیث مروی ہے۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج۱ ص ۲۶۲، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ)

موخر الذکر سند سے جو حدیث مروی ہے اس کا حافظ ذہبی نے ذکر کیا ہے:

عن عمرو بن شمر عن جابر عن ابي الطفيل عن علي وعمار قالا كان النبي صلى الله عليه وسلم يقنت في الفجر ويكبر يوم عرفة من صلوة الغداة ويقطع صلوة العصر اخر ايام التشريق (الى قوله) وقال النسائي والدارقطني وغيرهما عمر بن شمر متروك الحديث ۔ (حافظ شمس الدین ذہبی متوفی ۷۴۸ھ، میزان الاعتدال ج ۲ ص ۲۶۲ ؛ مطبوعہ مطبع محمدی لکھنؤ)

عمرو بن شمر از جابر از ابی الطفیل از حضرت علی و حضرت عمار، یہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم فجر کی نماز میں قنوت کرتے تھے اور یومِ عرفہ کو صبح کی نماز سے تکبیراتِ تشریق شروع کرتے اور آخرایام تشریق میں عصر کی نماز میں تکبیرات ختم کرتے، امام نسائی اور دارقطنی وغیرہ نے کہا کہ عمر بن شمر متروک الحدیث ہے۔

حدیث متروک کی ایک اور مثال یہ ہے:

امام ابن جوزی روایت کرتے ہیں:

حدثنا عبدالله بن محمد بن يحيى بن عروة عن هشام بن عروة عن أبي صالح السمان عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سيليكم بعدي ولاة فيليكم البرببره والفاجر بفجوره فاسمعوا لهم وأطيعوا فيما وافق الحق وصلوا وراءهم فإن أحسنوا فلكم ولهم وإن أساءوا فلكم وعليهم ۔ (امام ابو الفرج عبد الرحمان بن علی الجوزی متوفی ۵۹۷ھ، العلل المتناهية ج ۱ ص ۴۲۴، مطبوعہ مطبعہ اثریہ فیصل آباد، ۱۴۰۱ھ)

عبد اللہ بن محمد بن یحیی بن عمرو از ہشام بن عروہ از ابی صالح السمان از حضرت ابی ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد حاکم ہوں گے، ان میں نیکی کرنے والے نیک حاکم ہوں گے اور برائی کرنے والے برے بھی ہوں گے، تم ان کے احکام سننا، اور جو احکام حق ہوں ان میں ان کی اطاعت کرنا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا، اگر انھوں نے اچھے حکم دیے تو ان کے لیے اور تمہارے لیے اجر ہے اور اگر انھوں نے برے حکم دیے تو تم کو اجر ملے گا، اور ان پر وبال ہو گا۔

امام ابن جوزی اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:

أما حديث أبي هريرة ففي طريقه الأول عبدالله بن محمد بن يحيى قال أبو حاتم الرازي متروك الحديث ۔ (امام ابو الفرج عبد الرحمان بن علی الجوزی متوفی ۵۹۷ھ، العلل المتناهية ج ۱ ص ۴۴۷، مطبوعہ مطبعہ اثریہ فیصل آباد، ۱۴۰۱ھ)

رہی حضرت ابوہریرہ سے روایت تو اس کی پہلی سند میں عبد اللہ بن محمد بن یحیی ہے، ابو حاتم نے کہا وہ متروک الحدیث ہے۔

—

Exit mobile version