Site icon اردو محفل

حدیثِ معلل کا بیان

حدیثِ معلل کا بیان

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

ان اطلع على الوهم بالقرائن الدالة على وهم راويه من وصل مرسل او منقطع او ادخال حديث في حديث او نحو ذلك من الاشياء القادحة ويحصل معرفة ذلك بكثرة التتبع وجمع الطرق فهذا هو المعلل۔

اگر قرائن سے راوی کے اس وہم پر اطلاع ہوجائے کہ وہ مرسل یا منقطع کو موصول قرار دیتا ہے یا ایک حدیث کو دوسری حدیث میں داخل کردیتا ہے یا اور اسی قسم کے ادہام (مثلاً موصول کو مرسل قرار دینا یا مرفوع کو موقوف قرار دینا یا بالعکس، یا ضعیف راوی کو ثقہ سے بدل دینا یا بالعکس) جو حدیث میں طعن کا موجب ہیں، اور اس کی معرفت تب ہوتی ہے جب اس حدیث کی تمام سندوں پر عبور حاصل کر لیا جائے تو یہ حدیث معلل ہے۔

حدیث معلل کی معرفت علم حدیث میں انتہائی غامض اور دقیق ہے، جب تک کسی شخص کو علم حدیث میں قوی ملکہ حاصل نہ ہو اس کو حدیث معلل کی پہچان نہیں ہوسکتی، اسی وجہ سے بہت کم ائمہ نے حدیث معلل کی تحقیق کی ہے، مثلاً امام علی بن مدینی، امام احمد بن حنبل، امام بخاری، امام یعقوب بن ابی شیبہ، امام ابو حاتم، امام ابو زرعہ اور امام دارقطنی۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبۃ الفکر ص ۶۱۔، مطبوعہ رحیمیہ کمپنی کراچی)

علامہ سیوطی لکھتے ہیں:

کبھی علت صرف سند میں ہوتی ہے اور متن حدیث معروف اور صحیح ہوتا ہے، مثلاً یہ حدیث:

عن يعلى بن عبيد عن سفيان الثورى عن عمرو بن دينار عن ابن عمر عن النبى صلى الله عليه وسلم قال البيعان بالخيار۔

از یعلیٰ بن عبید، از ثوری، از عمرو بن دینار از ابن عمر از نبی صلی اللہ علیہ وسلم روایت ہے۔ آپ نے فرمایا بائع اور مشتری کو اختیار ہے۔

اس سند میں یعلیٰ بن عبید نے غلطی کی کہ عمرو بن دینار کہا حالانکہ سفیان ثوری عمرو بن دینار سے نہیں عبداللہ بن دینار سے روایت کرتے ہیں، سفیان کے باقی تمام شاگرد، مثلاً ابو نعیم فضل بن دکین، محمد بن یوسف فریابی اور مخلد بن یزید وغیرہم سب سفیان کی روایت عبداللہ بن دینار سے کرتے ہیں۔( علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۲۵۴، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ)

علامہ ملا علی قاری لکھتے ہیں:

علامہ سخاوی نے کہا کبھی علت ضعیف راوی کو ثقہ کے ساتھ بدل دینے سے ہوتی ہے جیسے ابن مردویہ کی یہ حدیث ہے:

موسی بن عقبة عن عبد الله بن دینار عن ابن عمر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله اذهب عنكم عبية الجاهلية۔

موسیٰ بن عقبہ از عبد اللہ بن دینار از ابن عمر از نبی صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی برائیوں کو دور کردیا۔

اس حدیث میں ابن مردویہ کی غلطی یہ ہے کہ اس نے موسیٰ بن عقبہ کہا حالانکہ یہ موسیٰ بن عبیدہ ہے اور یہ ثقہ راوی ہے اور ابن عقبہ ضعیف ہے۔ (ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ھ، شرح شرح نخبۃ الفکر ص ۱۳۱، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ، ۱۳۹۷ھ)

حدیث مرسل کو موصولاً روایت کرنے کی وجہ سے علت کی مثال یہ حدیث ہے:

امام ترمذی روایت کرتے ہیں:

حدثنا وليد بن نصر اخبرنا ثور بن يزيد عن رجاء بن حيوة عن كاتب المغيرة عن المغيرة بن شعبة ان النبي صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين واسفله۔

ولید بن مسلم از ثور بن یزید از رجاء بن حیوۃ از کاتب مغیرہ از مغیرہ بن شعبہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزے پر اوپر اور نیچے مسح کیا۔

امام ترمذی اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:

یہ حدیث معلول ہے: ثور بن یزید کے شاگردوں میں سے ولید بن مسلم کے سوا کسی نے اس کو موصولاً روایت نہیں کیا، میں نے امام ابوزرعہ اور امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا یہ حدیث صحیح نہیں ہے، کیونکہ امام ابن المبارک نے اس کو از ثور از رجاء روایت کیا ہے، مجھے از کاتب مغیرہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث مرسلاً بیان کی گئی ہے اور اس میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ (امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ۲۷۹ھ، جامع ترمذی ص ۴۰-۴۱، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)

علامہ نووی لکھتے ہیں:

حدیث معلل کا اطلاق کبھی اس تعریف مذکور کے غیر پر بھی کیا جاتا ہے، مثلاً راوی کے کذب، اس کی غفلت اس کے بدعت نظیر وغیرہ پر جو ضعف حدیث کے اسباب ہیں، اور امام ترمذی نے نسخ کو بھی علت لکھا ہے اور بعض ائمہ نے ایسی مخالفت پر بھی علت کا اطلاق کیا ہے جو وجہ طعن نہیں ہے، مثلاً ثقہ اور ضابطہ راوی جس حدیث کو موصولاً بیان کرے اس کو مرسلاً بیان کرنا حتیٰ کہ بعض نے کہا بعض صحیح حدیث معلل ہیں جیسا کہ کہا جاتا ہے بعض صحیح حدیث شاذ ہیں۔( علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۲۵۷-۲۵۸، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ)

ہم نے اس سے پہلے حدیث معلل کی جو مثالیں ذکر کی ہیں ان میں سند میں علت خفیفی تھی بعض اوقات متن میں بھی بھی علتِ خفیہ ہوتی ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے ملا علی قاری لکھتے ہیں:

امام مسلم اپنی صحیح میں روایت کرتے ہیں:

عن الوليد بن مسلم حدثنا الاوزاعي عن قتادة انه كتب اليه يخبره عن انس بن مالك انه حدثه قال صليت خلف النبي صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر وعثمان رضی الله تعالى عنهم وكانوا يستفتحون بالحمد لله رب العلمين لا يذكرون بسم الله الرحمن الرحيم في اول قراءة ولا في اخرها۔

ولید بن مسلم از اوزاعی از قتادہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، اور حضرت عثمان کی اقتداء میں نماز پڑھی وہ سب الحمد لله رب العلمين سے نماز شروع کرتے تھے، بسم الله الرحمن الرحيم کا قرأت کے شروع میں ذکر کرتے نہ آخر میں۔

اس حدیث کو حمید نے حضرت انس سے روایت کیا ہے اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ حضرت انس نے یہ کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی بلکہ صرف یہ ہے کہ میں نے حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے پیچھے نماز پڑھی، اور ولید بن مسلم نے جو روایت میں یہ ذکر کیا ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، امام ابن عبدالبر نے کہا یہ ان کے نزدیک خطا ہے، امام بیہقی نے کتاب الآثار میں ذکر کیا ہے کہ امام شافعی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کو معلول قرار دیا ہے۔(۱۔ ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ھ شرح شرح نخبۃ الفکر ص ۱۳۱، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ، ۱۳۹۷ھ)

Exit mobile version