– 8 بابُ الْمُصَلَّى يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّوَجَلَّ
نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔
اس باب کی ابواب سابقہ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ ابواب سابقہ کا تعلق نماز کے اوقات کے ساتھ ہے اور اس باب میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مناجات کا وقت بیان کیا گیا ہے احادیث سابقہ میں ان لوگوں کی تحسین تھی، جو نماز کو اس کے وقت میں پڑھتے ہیں اور ان لوگوں کی مذمت تھی جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرکے پڑھتے ہیں امام بخاری نے اس باب کی احادیث کو اس لیے بیان کیا ہے کہ نمازی اس فضیلت کے حصول کی طرف راغب ہو۔
٥٣١ – حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا هشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَس قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہ علَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى يُنَاجِي رَبَّه،ُ فَلا یتفِلَنَّ عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَقَالَ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ لَايَتفِلُ قُدَّامَهُ أَوْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلكِن عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ. وَقَالَ شُعْبَةُ لَايَبزُقُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ اَوْ تَحْت قَدَمِهِ، وَقَالَ حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبْزُقٌ فِي الْقِبْلَةِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلكِن عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسلم بن ابراہیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی از قتاده از حضرت انس رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے رب سے مناجات ( سرگوشی ) کرتا ہے تو اپنی دائیں طرف نہ تھوکے لیکن اپنے بائیں قدم کے نیچے اور سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے، کوئی شخص اپنے آگے یا اپنے سامنے نہ تھوکے لیکن اپنی بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے اور شعبہ نے کہا: کوئی شخص اپنے سامنے نہ تھوکے اور نہ دائیں طرف لیکن بائیں طرف یا اپنے قدم کے نیچے اور حمید نے حضرت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ کوئی شخص قبلہ میں نہ تھوکے اور نہ دائیں طرف لیکن بائیں طرف یا قدم کے نیچے۔
ان تمام تعلیقات کو امام بخاری صحیح البخاری : ۴۱۴ – ۴۱۳ – ۴۱۲ میں سند متصل سے روایت کرچکے ہیں۔
باب مذکور کی حدیث کی شرح صحیح البخاری : ۴۱۳ میں مطالعہ فرمائیں، وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: بائیں جانب تھوکے یا بائیں قدم کے نیچے اور یہاں اس حدیث کا عنوان ہے: نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے اور اس حدیث میں دونوں عنوانوں کی گنجائش ہے۔
