جامع الترمذی
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی ”جامع“، کتب ستہ میں سے ایک ہے، مشرق ومغرب میں مشہور اور مرجع علماءِ افاق ہے۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”وَكِتَابُ الْجَامِعِ أَحَدُ الْكُتُبِ السِّتَّةِ الَّتِي يَرْجِعُ إِلَيْهَا الْعُلَمَاءُ فِي سَائِرِ الْآفَاقِ“ ترجمہ: امام ترمذی کی ”کتاب الجامع“ کتب ستہ میں سے ایک ہے جس کی طرف تمام عالم کے علماء رجوع کرتے ہیں۔ (البدايه والنهايه، خلافة المعتضد، ج11، ص77، داراحياء التراث العربي، بيروت)
تسمیہ و وجہ تسمیہ:
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ کتاب کا مشہور نام ”جامع ترمذی“ ہے اور اسے سنن ترمذی بھی کہا جاتا ہے۔ کشف الظنون میں ہے: ”يقال: جامع الترمذي، ويقال له: السنن أيضاً والأول أكثر“ اسے جامع ترمذی کہا جاتا ہے، اور سنن ترمذی بھی کہا جاتا ہے اور اول زیادہ مشہور ہے۔ (كشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون، ج10، ص955، مكتبة المغني، بغداد)
”الجامع“، اصطلاح حدیث میں حدیث کی اس کتاب کو کہا جاتا ہے جس میں ان آٹھ عنوانات کے تحت احادیث لائی جائیں: سیر، آداب، تفسیر، عقائد، فتن، احکام، اشراط، مناقب۔ جامع ترمذی میں بھی ان آٹھ عنوانات کے تحت احادیث مبارکہ لائی گئی ہیں اس اعتبار سے امام ترمذی کی یہ کتاب یقیناً ”الجامع“ ہے۔
”السنن“، اصطلاحِ حدیث میں حدیث کی اس کتاب کو کہتے ہیں جس کی ترتیب ابوابِ فقہیہ کی طرز پر ہو اور ترمذی کی ترتیب بھی اسی طور پر ہے اس لیے اس کو ”السنن“ کہنا بھی درست ہے۔
امام ترمذی نے خود اپنی جامع کو ”الصحیح“ سے بھی ملقب کیا ہے، حافظ ابن کثیر نے ابنِ یَقْظَہ کے حوالے سے امام ترمذی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ”صَنَّفْتُ هذا المسند الصحيح“ ترجمہ: میں نے یہ ”المسند الصحیح“ تصنیف کی۔ (البدايه والنهايه، خلافة المعتضد، ج11، ص77، داراحياء التراث العربي، بيروت)
امام حاکم اور خطیب بغدادی نے بھی جامع ترمذی کو ”الجامع الصحیح“ سے مسمّٰی کیا ہے، مگر علامہ اسماعیل بن عمر بن کثیر دمشقی (متوفی 774) نے اس کو تساہل قرار دیا ہے، لکھتے ہیں: ”وَكان الحاكم أبو عبدالله والخطيب البغدادي يسميان كتاب الترمذي: الجامع الصحيح وذا تساهل منهما“ ترجمہ: امام حاکم ابو عبداللہ اور خطیب بغدادی نے جامع ترمذی کو”الجامع الصحيح“ سے مسمیٰ کیا ہے اور یہ ان دونوں کی طرف سے تساہل ہے۔(الباعث الحثيث الى اختصار علوم الحديث،اطلاق اسم الصحيح على الترمذى والنسائى،ج 1،ص، 1 3دارالكتب العلميه،بيروت)
”الصحيح“ اصطلاحِ حدیث میں حدیث کی اس کتاب کو کہا جاتا ہے جس میں صرف احادیثِ صحیحہ ذکر کرنے کا التزام کیا گیا ہو، جامع ترمذی کو ”الصحيح“ کہنا تغلیباً ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: ”ان كتاب الترمذى مشتمل على الأنواع الثلاثة، لكن المقبول فيه هو الصحيح والحسن أكثر من المردود، فحكم للجميع بالصحة بمقتضى الغلبة“ ترجمہ: جامع ترمذی احادیث کی انواعِ ثلاثہ پر مشتمل ہے لیکن اس میں مقبول یعنی صحیح و حسن کی تعداد نامقبول سے زیادہ ہے، تو اس میں موجود جمیع احادیث پر صحت کا حکم لگانا غلبہ کے اعتبار سے ہے۔ (النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر،النوع الثاني:الحسن،ج1،ص،479عمارة البحث العلمى بالجامعة الاسلاميه،مدينه منوره)
جامع ترمذی کا مقام و مرتبہ:
(1) امام ترمذی اپنی جامع کے بارے میں خود فرماتے ہیں: ”ومن كان فى بيته هذا الكتاب فكأنما فى بيته نبي ينطق“ ”جس گھر میں یہ کتاب ہو یوں سمجھے گویا اس کے گھر میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کلام فرما رہے ہیں۔ (البدايه والنهايه،خلافة المعترض،ج،11ص،77داراحياء التراث العربى،بيروت)
(2) مزید فرماتے ہیں: ”صنفت هذا المسند الصحيح وعرضته على علماء الحجاز فرضوا به،وعرضته على علماء العراق فرضوا به،وعرضته على علماء خراسان فرضوا“ ”میں نے اس کتاب کو تصنیف کرنے کے بعد علماء حجاز پر پیش کیا تو انہوں نے اس کو پسند کیا، پھر میں نے علماء عراق پر پیش کیا تو انہوں نے اسے پسند کیا، پھر علماء خراسان پر پیش کیا تو انہوں نے بھی تحسین کی نظر سے دیکھا۔ (تذكرة الحفاظ ،ج،02ص،154دار الكتب العلمية بيروت ،لبنان)
(3) علامہ ذہبی جامع ترمذی کے بارے میں فرماتے ہیں: ”علم نافع،وفوائد غزيرة،ومرؤوس المسائل،وهو أحد أصول الإسلام،وكثير منها فى الفضائل“ ترجمہ: اس کتاب میں نفع بخش علم، کثیر فوائد، مسائل فقہیہ کا سرچشمہ، اصول اسلام میں یکتا اور اس میں کثیر فضائل ہیں۔ (قوت المغتذى، ج10،ص31، مكتبة ام القرى،مكة المكرمة)
(4) علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں: ”وله تصانيف كثيرة فى علم الحديث،وهذا كتابه الصحيح أحسن الكتب وأكثرها فائدة، وأحسنها ترتيبا، وأقلها تكرارا، وفيه ماليس في غيره من ذكر المذاهب، ووجوه الاستدلال، وتبيين أنواع الحديث من الصحيح، والحسن، والغريب، وفيه جرح وتعديل، وفي آخره كتاب العلل، قد جمع فيه فوائد حسنة لا يخفى قدرها على من وقف عليها “ترجمہ: امام ترمذی کی علم حدیث میں کثیر تصانیف ہیں، اور یہ ان کی ”صحیح“، تمام کتابوں سے زیادہ اچھی، زیادہ فائدہ مند، ترتیب کے اعتبار سے زیادہ اچھی، کم تکرار والی ہے، اس میں وہ ہے جو کسی دوسری کتاب میں نہیں، جیسا کہ اس میں ذکرِ مذاہب، وجوہِ استدلال، انواعِ حدیث یعنی صحیح، حسن اور غریب کا بیان ہے، اس میں جرح وتعدیل ہے اور اس کے آخر میں کتاب العلل ہے جس میں امام ترمذی نے ایسے فوائدِ حسنہ جمع کیے ہیں جو واقف شخص پر مخفی نہیں۔ (جامع الاصول، الامام الترمذی، ج1، ص491، مکتبه دارالبیان)
(5) علامہ ذہبی نقل کرتے ہیں:
محمد بن ظاہر مقدسی نے کہا : ’سَمِعْتُ أَبَا إِسْمَاعِيْلَ شَيْخَ الإِسْلَامِ يَقُوْلُ: (جامِعُ) التِّرْمِذِيِّ أَنْفَعُ مِنْ كِتَابِ الْبُخَارِيِّ وَمُسْلِمٍ، لِأَنَّهُمَا لَا يَقِفُ عَلَى الْفَائِدَةِ مِنْهُمَا إِلاَّ الْمُتَبَحِّرُ الْعَالِمُ، وَ(الجامِعُ) يَصِلُ إِلَى فَائِدَتِهِ كُلُّ أَحَدٍ‘ “ترجمہ: میں نے شیخ الاسلام ابو اسماعیل کو کہتے سنا: جامع ترمذی بخاری و مسلم سے زیادہ مفید ہے کیونکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے سوائے متبحر عالم کے اور کوئی شخص استفادہ نہیں کر سکتا، جبکہ جامع ترمذی سے ہر ایک فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ (سیر اعلام النبلاء، الترمذی محمد بن عیسی، ج31، ص772، مؤسسة الرساله، بيروت)
امتیازاتِ جامع ترمذی:
بہت سی خصوصیات کی وجہ سے جامع ترمذی دیگر کتب سے ممتاز ہو جاتی ہے، چند ایک درج ذیل ہیں:
(۱) امام ترمذی ہر حدیث کے بعد اس کی صحت و سقم پر کلام فرما کر اس کی حیثیت واضح فرماتے ہیں اور اکثر وہ صحیح یا ضعیف ہونے کی علت کی طرف بھی نشاندہی فرماتے ہیں۔
(۲) ان کی ذکر کردہ تمام احادیث کسی نا کسی فقیہ کی معمول بہ ہیں۔
(۳) امام ترمذی ماقبل کے مشہور فقہاء اسلام کی آراء بیان کرتے ہیں۔
(۴) وہ علل، رُواۃ کے احوال اور ان کے مراتب بھی واضح کرتے ہیں۔
(۵) جامع ترمذی کی ترتیب بہت سہل اور طریقہ بیان نہایت واضح ہے۔ (قوت المغتذی، مقدمه، ج10، ص31، مكتبة ام القرى، مكة المكرمة)
ان امتیازات کی تفصیل ”جامع ترمذی کی خصوصیات اور اسلوب“ کے تحت آرہی ہے۔
جامع ترمذی کے علوم:
حافظ ابوبکر ابن عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ”عارضۃ الاحوذی شرح ترمذی“ میں فرماتے ہیں:
جامع ترمذی میں چودہ علوم ہیں، جو درج ذیل ہیں:
(۱) بیان اسناد
(۲) بیان صحت حدیث
(۳) بیان سقم حدیث
(۴) بیان عدد طرق
(۵) بیان جرح
(۶) بیان تعدیل
(۷) بیان اسماء ورواۃ
(۸) راویوں کی کنیتوں کی وضاحت
(۹) بیان اتصال
(۱۰) بیان انقطاع
(۱۱) معمول بہ حدیث کی وضاحت
(۱۲) متروک العمل روایات کی وضاحت
(۱۳) آثار کے رد و قبول میں اختلاف علماء کا بیان
(۱۴) حدیث کی تاویل میں علماء وا ئمہ کا اختلاف۔ (عارضة الاحوذی شرح ترمذی، مقدمہ، ج1،ص5, 6,دار الکتب العلمیہ، بیروت)
درج بالا علوم شمار کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”وَكُل عـلـم من هذه العلوم أصلُ في بابه، وفردُ في نصابه“ ترجمہ: مذکورہ بالا علوم میں سے ہر علم اپنے باب میں اصل کی حیثیت رکھتا ہے اور اپنے نصاب میں منفرد ہے۔(عارضة الاحوذی شرح ترمذی، مقدمہ، ج1،ص6, دار الکتب العلمیہ، بیروت)
یعنی علامہ ابن عربی نے صرف اصولی اور بنیادی علوم گنوائے ہیں ، ورنہ ضمنی اور فرعی گنوائے جائیں تو مذکورہ بالا ایک ایک علم کے ضمن میں کئی علوم بیان کیے جاسکتے ہیں۔
مزید فرماتے ہیں: ”فالقارئء له لا يزال فی مـریاض مُؤْنِقة وعلوم متفقة متسقة“ ترجمہ: جامع ترمذی کو پڑھنے والا ہمیشہ اس کے تعجب میں ڈالنے والے باغات اور اس کے متحد اور مرتب علوم میں رہتا ہے۔ (عارضة الاحوذی شرح ترمذی، مقدمہ، ج1،ص6, دار الکتب العلمیہ، بیروت)
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ علامہ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ بالا تمام گفتگو ”قوت المغتذی“ میں نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
کسی نے کیا خوب کہا ہے:
کتاب الترمذی ریاض علمٍ
حكت أزہارہ زہر النجوم
(قوت المغتذی، مقدمہ،ج 1،ص9،امام القری، مكة المكرمہ)
اعلیٰ سند:
امام ترمذی کی اعلیٰ سند ثلاثی ہے یعنی جس میں امام ترمذی اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف تین واسطے ہیں، جامع ترمذی میں صرف ایک ثلاثی ہے۔ (تهذیب الکمال فی اسماءالرجال،عمر بن شبة بن عبیدہ،ج12،ص683،مؤسسة الرساله،بیروت، تهذیب التهذیب لابن حجر،من اسمه عمر،ج7،ص954،مطبعة دائرة المعارف النظاميه،هند)
اوروہ روایت یہ ہے: ((حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ الْكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَاكِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ)) (جامع ترمذی،ج04،ص625،مکتبه مصطفی البابی،مصر)
اس حدیث میں تین راوی ہیں: إسماعیل بن موسی، عمر بن شاکر اور أنس بن مالک رحمة الله علیہم۔
جامع ترمذی کی خصوصیات واسلوب:
جامع ترمذی کے اسلوب ہی کی وجہ سے بعض علماء نے اسے صحیح بخاری و صحیح مسلم سے بھی زیادہ مفید کہا ہے، ماقبل میں موجود حافظ ابن اثیر کے قول میں اس کے مفید اسلوب کی کچھ خصوصیات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی ترتیب عمدہ ہے، اس میں قلّت تکرار ہے اور اس میں مذاہب ائمہ کا ذکر، وجوہِ استدلال، انواع حدیث اور جرح و تعدیل کا بیان ہے، ہم ان کو اور کچھ مزید خصوصیات کو مع امثلہ بیان کریں گے، ملاحظہ فرمائیے:
( 1 ) امام ترمذی اپنی ”جامع ترمذی“ میں مختلف عنوان قائم کرتے ہیں مثلاً أبواب الطهارة،أبواب الصلوة وغيرهما۔ بسا اوقات لفظ ”أبواب“ کے بعد ”عن رسول الله صلى الله عليه وسلم“ لکھتے ہیں اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان ابواب میں احادیث مرفوعہ ہی ذکر ہوں گی، جیسا کہ امام ترمذی لکھتے ہیں :أبواب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم“ اس اضافہ سے امام ترمذی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ابواب طہارت میں احادیث مرفوعہ ہی مذکور ہوں گی یعنی وہ احادیث جو قولاً، فعلاً یا تقریراً جانِ عالم علیہ الصلوۃ والسلام کی جانب منسوب ہوں اور آثارِ صحابہ ذکر نہیں کئے جائیں گے۔
بعض اوقات لفظ ”ابواب“ کے بعد ”عن رسول الله صلى الله عليه وسلم“ نہیں لکھتے، تو اس کے تحت احادیث مرفوع کا التزام نہیں کرتے۔ جیسا کہ وہ لکھتے ہیں ”أبواب العيدين“ اس کے تحت امام ترمذی نے بعض غیر مرفوع روایات بھی ذکر کی ہیں، ایک روایت نقل کرتے ہیں: ((حدثنا إسماعيل بن موسى، قال: حدثنا شريك، عن أبي إسحاق، عن الحارث، عن علي، قال: من السنة أن تخرج إلى العيد ماشيا، وأن تأكل شيئاً قبل أن تخرج)) هذا حديث حسن. (جامع ترمذی، ابواب العيدين، ج 2، ص 410، مكتبه مصطفى البابي، مصر)
(2) امام ترمذی حدیث ذکر کرنے کے بعد ائمہ مذاہب کے اقوال اور ان کا اختلاف ذکر کرتے ہیں، مثلاً یہ حدیثِ پاک بیان کی: ((إنَّ الْوُضُوءُ – لاَ يَجِبُ إِلاَّ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا، فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ)) ترجمہ: وضو صرف اس پر واجب ہوتا ہے جو لیٹ کر سوئے، کیونکہ جب کروٹ کے بل سوتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجاتے ہیں۔
اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”وَاخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ، فَرَأَى أَكْثَرُهُمْ: أَنْ لَا يَجِبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ إِذَا نَامَ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا حَتَّى يَنَامَ مُضْطَجِعًا، وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدُ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا نَامَ حَتَّى غُلِبَ عَلَى عَقْلِهِ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ، وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاقُ. وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: مَنْ نَامَ قَاعِدًا فَرَأَى رُؤْيَا أَوْ زَالَتْ مَقْعَدَتُهُ لِوَسَنِ النَّوْمِ، فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ“ ترجمہ: نیند سے وضو (ضروری) ہونے میں علماء کا اختلاف ہے، اکثر علماء کا موقف یہ ہے کہ بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر سوئے تو وضو واجب نہیں ہوتا جب تک لیٹ کر نہ سوئے۔ امام سفیان ثوری، امام عبداللہ ابن مبارک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ جب اتنا سوئے کہ عقل مغلوب ہوجائے تو اس پر وضو واجب ہے، امام اسحاق کا یہی قول ہے۔ امام شافعی نے فرمایا: جو بیٹھی ہوئی حالت میں سوگیا پھر اس نے خواب دیکھا یا اونگھ کی وجہ سے اس کی مقعد اپنی جگہ سے ہٹ گئی تو اس پر وضو ہے۔ (جامع ترمذی، باب الوضوء من النوم، ج1، ص،111 مکتبہ مصطفی البابی، مصر)
(3) بعض مقامات پر اختلافِ صحابہ بھی بیان کرتے ہیں، مثلاً حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت ذکر کی: ((سَأَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ، وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيْلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ الطَّهُوْرُ مَاؤُهُ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ)) ترجمہ: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا: ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں، اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیا کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردہ حلال ہے۔
پھر فرماتے ہیں: ’وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ: أَبُوْ بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، لَمْ يَرَوْا بَأْسًا بِمَاءِ الْبَحْرِ. وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوُضُوْءَ بِمَاءِ الْبَحْرِ، مِنْهُمْ: ابْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: هُوَ نَارٌ‘ ”یہی اکثر فقہاء صحابہ کا قول ہے جن میں سے حضرت ابوبکر صدیق، عمر فاروق، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں، یہ حضرات سمندر کے پانی (سے وضو کرنے) میں حرج نہیں سمجھتے۔ بعض صحابہ سمندر کے پانی سے وضو کو ناپسند کرتے ہیں، ان میں سے حضرت ابن عمر، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: وہ آگ ہے۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء فی ماء البحر انه طهور، ج1، ص،100 مکتبہ مصطفی البابی، مصر)
(4) امام ترمذی ’کتاب العلل‘ میں جامع ترمذی کے اسلوب کے حوالے سے ایک بات لکھتے ہیں:
اس کتاب میں تمام احادیث معمول بہا ہیں، کسی نہ کسی امام کا مذہب ہیں البتہ دو احادیث ایسی ہیں جو کسی امام کا مذہب نہیں، وہ دو احادیث یہ ہیں:
(۱) ایک حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث کہ: ((جَمَعَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِيْنَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ)) نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ظہر وعصر اور مغرب و عشاء کو مدینہ منورہ میں جمع فرمایا ہے خوف، سفر اور بارش کے عذر کے بغیر۔
(۲) دوسری یہ حدیث پاک کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْهُ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ)) ترجمہ: جب کوئی شخص شراب پیئے تو اسے کوڑے مارو ، اگر چوتھی مرتبہ پیئے تو اس کو قتل کر ڈالو۔ (العلل الصغير للترمذی، ج1،ص،736داراحیاء التراث العربی، بیروت)
یعنی جامع ترمذی میں امام ترمذی نے یہ اسلوب اختیار کیا ہے کہ وہ ایسی احادیث ہی لائیں گے جو کسی نہ کسی مجتہد کا مذہب ہو البتہ صرف مذکورہ بالا دو احادیث جو جامع ترمذی میں موجود ہیں کسی امام کا مذہب نہیں یعنی کسی امام کا بھی یہ موقف نہیں کہ بغیر سفر وعذر کے دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کیا جائے اور اسی طرح کسی امام کا بھی یہ مذہب نہیں چوتھی مرتبہ شراب پینے کی حد قتل ہے۔ البتہ پہلی حدیث پاک کو جمع صوری پر محمول کیا جائے یعنی نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ظہر کے آخری وقت میں ظہر پڑھی اور عصر کے پہلے وقت میں عصر ادا فرمائی ، اسی طرح مغرب مغرب کے آخری وقت میں اور عشاء، عشاء کے اول وقت میں ادا فرمائی تو یہ حدیث بھی مجتہدین کی معمول بہ ہوجائے گی اور دوسری حدیث پاک میں چوتھی مرتبہ قتل کو تعزیر پر محمول کیا جائے تو یہ بھی ائمہ کی معمول بہ ہوجائے گی۔
(5) جب کوئی حدیث پاک کئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہو تو ایک صحابی سے ذکر کرتے ہیں اور باقی کی روایات کی طرف ”وفی الباب عن فلان وعن فلان“ کہہ کر اشارہ کرتے ہیں ، مثلاً ایک حدیث پاک بیان کرتے ہیں: ((عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ)) اس کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ۔
عمومی طور پر ذکر اس روایت کو کرتے ہیں جو ان کے نزدیک اس باب میں اصح ہوتی ہے، چنانچہ مذکورہ روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: حَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ۔
(6) امام ترمذی انواع حدیث میں سے اس حدیث کی نوع کا بیان کردیتے ہیں کہ آیا یہ حدیث صحیح ہے، حسن ہے یا ضعیف ہے۔
حسن صحیح کی مثال: آپ حدیث بیان کرتے ہیں: ((عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ)) پھر لکھتے ہیں: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ۔ (جامع ترمذی، باب مایقول اذا دخل الخلاء، ج1، ص11، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
حدیث حسن کی مثال: حدیث بیان کرتے ہیں: ((اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ، بَدَأَ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ، ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ، وَبِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا، ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا))، پھر لکھتے ہیں: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ- (جامع ترمذی، باب ماجاء انه يبدأ بمؤخر الرأس، ج1، ص48، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
حدیث ضعیف کی مثال: حدیث پاک بیان کرتے ہیں: ((وَيُرْوٰى عَنِ الْإِفْرِيقِيِّ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ،)) پھر لکھتے ہیں: وَهٰذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ- (جامع ترمذی، ج1، ص87، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(7) راوی کا ضعف بیان کر دیتے ہیں، مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں: فَإِنَّمَا رَفَعَ هٰذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُحَارِقِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ- (جامع ترمذی، باب النهی عن البول قائماً، ج1، ص 71، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
ایک مقام پر لکھتے ہیں: وَأَبُو مُعَاذٍ يَقُولُونَ: هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ- (جامع ترمذی، باب المندیل بعدالوضوء، ج1، ص74، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(8) سند میں غرابت ہوتو بیان کردیتے ہیں، مثلاً حدیث پاک روایت کرتے ہیں: ((كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، قَالَ: غُفْرَانَكَ))، پھر لکھتے ہیں: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ- (جامع ترمذی، باب مایقول اذاخرج من الخلاء، ج1، ص 21، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(9) اگر کوئی روایت بعض طرق کے لحاظ سے مشہور اور بعض کے اعتبار سے غریب ہوتو اس کو بیان فرما دیتے ہیں، مثلاً ((عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُوبَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هٰذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ)) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. وَالْمَشْهُورُ حَدِيثُ أَبِي قِلَابَةَ. (جامع ترمذی، باب مناقب معاذ بن جبل و زید بن ثابت، ج5، ص664 مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(10) اگر روایت میں اضطراب ہو تو بیان کر دیتے ہیں، مثلاً ایک حدیثِ پاک بیان کرتے ہیں: ((عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، فَقَالَ: “الْتَمِسْ لِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ”، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ، وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: إِنَّهَا رِكْسٌ))، پھر اس حدیثِ پاک کی کچھ اور اسناد ذکر کرکے لکھتے ہیں: وَهَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ. (جامع ترمذی، باب فی الاستنجاء بالحجرین، ج1، ص25 مکتبه مصطفی البابی، مصر)
کبھی اس بات کی تعیین کر دیتے ہیں کہ اضطراب سند میں ہے، مثلاً حدیثِ پاک بیان کرتے ہیں: ((عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ))، پھر فرماتے ہیں: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ. حَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، وَحَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ. (جامع ترمذی، باب ما يقول اذا دخل الخلاء، ج1، ص10 مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(11) اگر کوئی روایت معلول ہو تو اس کی تصریح کر دیتے ہیں، مثلاً حدیثِ پاک بیان کرتے ہیں: ((عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ))، پھر لکھتے ہیں: حَدِيثُ عَلِيٍّ وَجَابِرٍ حَدِيثٌ مَعْلُولٌ. (جامع ترمذی، باب ماجاء فی المحل والمحلل له، ج3، ص419 مکتبه مصطفی البابی، مصر)
بسا اوقات حدیثِ معلول کی علتِ خفیہ بھی بیان کردیتے ہیں، مثلاً: ((حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ أَعْلَى الْخُفَّيْنِ وَأَسْفَلَهُمَا)) اس حدیث کے ذکر کے بعد امام ترمذی لکھتے ہیں۔ وَهَذَا حَدِيثٌ مَعْلُولٌ، لَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ غَيْرُ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ- (جامع ترمذی، باب فی المسح علی الخفین اعلاه واسفله،ج1، ص162، مکتبه مصطفی البابی مصر)
یعنی اس حدیثِ پاک کو ثور بن یزید کے تمام شاگرد( مغیرہ بن شعبہ کو چھوڑ کر کا تب وغیرہ سے) مرسلاً بیان کرتے ہیں صرف ایک شاگرد ولید بن مسلم ہی اس کو مسنداً و موصولاً بیان کرتے ہیں اور حدیثِ مرسل کو موصول بیان کرنا یہی وہ علتِ خفیہ ہے جس کی وجہ سے اس حدیث کو معلول کہا گیا۔
(12) اگر کوئی حدیثِ منقطع ہو تو امام ترمذی اس کے انقطاع کی تصریح فرماتے ہیں، مثلاً: ((حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ)) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے انقطاع کا ذکر یوں بیان فرمایا: قال ابو عيسى: هذا حديث ليس إسناده بمتصل “۔
اور بسا اوقات سببِ انقطاع بھی بیان کر دیتے ہیں، جیسا کہ مذکورہ روایت کا سببِ انقطاع بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ربيعة بن سيف إنما يروى عن أبي عبد الرحمن الحبلى، عن عبد الله بن عمرو، ولا نعرف لربيعة بن سيف سماعا من عبد الله بن عمرو۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء فيمن مات يوم الجمعة، ج3، ص378، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(13) اگر کوئی حدیثِ منکر ہو تو امام ترمذی اس کی صراحت فرماتے ہیں، مثلاً ((حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ وَأَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَنْكَحَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ إِيمَانَهُ)) ، اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ۔ (جامع ترمذی، ج4، ص670، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
کبھی منکر ہونے کا سبب بھی بیان کرتے ہیں، مثلاً ((حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّؤْبُ بْنُ وَاقِدٍ الْكُؤْفِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَزَلَ عَلَى قَوْمٍ فَلَا يَصُومَنَّ تَطَوُّعًا إِلَّا بِإِذْنِهِمْ))، اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اس کے منکر ہونے کا ذکر یوں فرمایا: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُ أَحَدًا مِنَ الثِّقَاتِ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ- (جامع ترمذی، باب ماجاء فیمن نزل بقوم فلا يصوم الا الخ،ج3، ص147، مکتبه مصطفی البابی،مصر)
(14) اگر کسی حدیث کی سند میں کوئی راوی منکر الحديث ہو تو امام ترمذی اس کی تعبین فرمادیتے ہیں، مثلاً روایت کرتے ہیں: ((عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ، وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيِهِمْ)) اس حدیث کی سند میں ایک راوی عمران بن انس المکی منکر الحديث ہے اس کے بارے میں امام بخاری کا قول نقل کرتے ہیں: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: عِمْرَانُ بْنُ أَنَسٍ الْمَكِّيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ۔ (جامع ترمذی،ج3،ص330 مکتبه مصطفی البابی،مصر)
(15) اگر کوئی حدیث غیر محفوظ تو امام ترمذی اس کی تصریح فرما دیتے ہیں، مثلاً ((حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ)) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ترمذی امام بخاری کا قول نقل کرتے ہیں : وَقَالَ مُحَمَّدٌ : لَا أَرَاهُ مَحْفُوظًا- (جامع ترمذی، باب جاء فیعن استقاء عمدآ، ج3، ص89،مکتبه مصطفی البابی،مصر)
(16) بعض اوقات امام ترمذی ایک روایت کو مرفوع ذکر کرتے ہیں، مگر وہ مرفوعاً ضعیف ہوتی ہے اور موقوفاً صحیح ہوتی ہے تو اس کی صراحت کر دیتے ہیں، مثلاً ((حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَصْحَابِ الْمِكْيَالِ وَالْمِيزَانِ: إِنَّكُمْ قَدْ وَلِيْتُمْ أَمْرَيْنِ هَلَكَتْ فِيهِ أُمَمٌ سَالِفَةٌ قَبْلَكُمْ)) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ، وَحُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء في المكيال والميزان، ج3، ص513، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(17) کبھی کسی حدیث کے بارے میں مرفوع اور موقوف ہونے کا اختلاف نقل کرتے ہیں، اور بسا اوقات کسی ایک کو ترجیح بھی دے دیتے ہیں، مثلاً حدیث پاک نقل کرتے ہیں: ((عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا))، اس کے بعد فرماتے ہیں: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالصَّحِيحُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفٌ قَوْلُهُ۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء من الكفارة، ج3، ص87، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(18) اگر کسی حدیث کی سند میں کوئی راوی مجہول ہو تو امام ترمذی اس کی صراحت کردیتے ہیں، مثلاً ((عَنْ أَبِي الْمُبَارَكِ، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهُ))، اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: وَأَبُو الْمُبَارَكِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ۔ (جامع الترمذی، ج5، ص180، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(19) کسی راوی میں سوئے حفظ کا معاملہ ہو تو بیان کر دیتے ہیں، مثلاً ایک مقام پر لکھتے ہیں: وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء في الوقت الأول من الفضل، ج1، ص321، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(20) کسی راوی کی جرح وتعدیل میں اختلاف ہو تو اس بارے میں مختلف ائمہ کی آراء ذکر کر دیتے ہیں، مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں: وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ هُوَ صَدُوقٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ. وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، يَقُولُ: كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَالْحُمَيْدِيُّ، يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهُوَ مُقَارَبُ الْحَدِيثِ۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء ان مفتاح الصلاة الطهور، ج1، ص8، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(21) جو راوی کنیت کے ساتھ مشہور ہو تو امام ترمذی اس کے نام کی صراحت کرتے ہیں، ایک جگہ لکھتے ہیں: وَأَبُوْ قَتَادَةَ، اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ۔ (جامع ترمذی، باب فی کراهة الاستنجاء بالیمین، ج1، ص32، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
ایک مقام پر لکھتے ہیں: وَأَبُوْ هِشَامٍ اسْمُهُ إِسْمَاعِيْلُ بْنُ كَثِيْرٍ۔ (جامع ترمذی، باب فی تخلیل الاصابع، ج1، ص56، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(22) اسی طرح اگر کوئی راوی کسی وصف سے مشہور ہو تو اس کا نام ذکر کردیتے ہیں، فرماتے ہیں: وَالْأَعْمَشُ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ۔ (جامع ترمذی، باب فی الاستتار عند الحاجة، ج1، ص22، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(23) نام میں غلطی ہو تو اس کی نشاندہی کر دیتے ہیں، لکھتے ہیں: وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، فَأَخْطَأَ فِي اسْمِهِ، وَاسْمِ أَبِيْهِ، فَقَالَ: مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ، وَرَوَى عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَى عَنْهُ، عَنْ مَالِكِ بْنُ عُرْفُطَةَ مِثْلَ رِوَايَةِ شُعْبَةَ، وَالصَّحِيْحُ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ۔ (جامع ترمذی، باب فی وضوء النبی صلی الله تعالی علیه وسلم، ج1، ص68، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(24) اگر کسی راوی کے نام میں اختلاف ہو تو اس کا بھی بیان کردیتے ہیں، مثلاً لکھتے ہیں: وَأَبُوْ عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَبْدٍ، وَيُقَالُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ۔ (جامع ترمذی، باب المسح علی الخفین للمسافر و المقیم، ج1، ص851، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(25) بعض اوقات حدیث میں کوئی مشکل لفظ ہو تو امام ترمذی اس کا آسان لفظ سے معنی بیان کردیتے ہیں، مثلاً امام ترمذی ایک روایت ذکر کرتے ہیں: ((عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ، أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا، فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا)) اس کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: وَمَعْنَى قَوْلِهِ: إِنَّ لِي مَخْرَفًا: بُسْتَانًـا۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء فی الصدقة عن المیت، ج3، ص74، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
ایک حدیثِ پاک روایت کی: ((كَانَتْ كِلاَمُ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحًـا))، پھر روایت میں موجود لفظ ’بُطْحًـا‘ کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بطح یعنی واسعة۔ (جامع ترمذی، باب کیف کان کلام الصحابة، ج 4، ص، 246، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(26) ائمہ کا عمل اگر بظاہر حدیث پاک کے خلاف ہوتا ہے تو حدیث پاک کی توجیہ بیان کردیتے ہیں، مثلاً روایت نقل کرتے ہیں: ((عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُوبَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ))، اس سے بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ فاتحہ سے پہلے یہ نفوس قدسیہ بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے، امام ترمذی امام شافعی کے حوالے سے لکھتے ہیں: قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَابَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، مَعْنَاهُ: أَنَّهُمْ كَانُوا يَبْدَءُونَ بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَبْلَ السُّورَةِ، وَلَيْسَ مَعْنَاهُ: أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يَقْرَءُونَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ – (جامع ترمذی، باب فی افتتاح القراءة الخ، ج 2، ص، 15، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(27) اگر دو حدیثوں میں تعارض ہو تو بسا اوقات امام ترمذی اس کو اٹھانے کے لیے کوئی توجیہ اور تاویل پیش کرتے ہیں ۔ مثلاً ایک حدیث پاک نقل کرتے ہیں، جس میں قضائے حاجت کے وقت مطلقاً (چاہے عمارت میں ہوں یا کھلی جگہ پر) منع کیا گیا ہے، ((عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا)) (جامع ترمذی، باب النهی عن الاستقبال الخ، ج 1، ص، 13، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
جبکہ دوسری روایت نقل کرتے ہیں: ((عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ)) (جامع ترمذی، باب النهی عن الاستقبال الخ، ج 1، ص، 15، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
امام ترمذی دونوں حدیثوں میں تطبیق دینے کے لیے امام شافعی کی طرف سے پہلی حدیث کی توجیہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: قَالَ أَبُو عَبْدِاللهِ الشَّافِعِيُّ: إِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا إِنَّمَا هَذَا فِي الفیافي، فَأَمَّا فِي الکنف المصنعتہ فَلَهُ رُخْصَةٌ فِي أَنْ يَسْتَقْبِلُوهَا – (جامع ترمذی، باب النهی عن الاستقبال الخ، ج 1، ص 31، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(28) کبھی امام ترمذی رفعِ تعارض کے لیے دو متعارض حدیثوں میں کسی ایک کا منسوخ ہونا بیان کردیتے ہیں۔ مثلاً ایک روایت نقل کرتے ہیں: ((إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا)) جبکہ دوسری روایت میں ہے: ((فَقَالَ عَلِيٌّ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَعَدَ)) ، دونوں روایتیں نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: وَهَذَا الْحَدِيثُ نَاسِخٌ لِلأَوَّلِ إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا۔ (جامع ترمذی، باب الرخصة في ترك القيام لها، ج3، ص،352 مکتبه مصطفی البابی، مصر)
(29) امام ترمذی کا یہ بھی اسلوب ہے کہ عمومی طور پر مجتہدین کے نام لے کر ان کا مذہب بیان کرتے ہیں مگر امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب کا نام نہیں لیتے بلکہ اصحاب الراے کہہ کر ان کا موقف ذکر کرتے ہیں، پوری جامع ترمذی میں صرف ایک بار امام اعظم کا نام لیا ہے، ’باب ما جاء فی اشعار البدن‘ میں لکھتے ہیں: وَيَقُولُ أَبُوحَنِيفَةَ يُهَمَّلُ۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء فی اشعار البدن، ج3، ص،240 مصطفی البابی، مصر)
اس کے علاوہ کتاب العلل میں ایک مرتبہ ذکر کیا ہے، نقل کرتے ہیں: حدثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُویحیی الْحِمَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْذَبَ مِنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ۔ (العلل الصغير للترمذی، جواز الحكم على الرجال والاسانيد، ج1، ص، 739 دار احياء التراث العربي، بيروت)
(30) امام ترمذی نے جامع ترمذی میں فقہاء و مجتہدین کے اقوال بغیر سند کے نقل کیے ہیں، ہاں ان اقوال کی سندیں اپنی کتاب ’’العلل الصغیر‘‘ میں ذکر کی ہیں، جو درج ذیل ہیں:
(1) امام سفیان ثوری کے اقوال کی دو سندیں ہیں:
(الف) محمد بن عثمان کوفی عن عبید اللہ بن موسی عن سفیان
(ب) ابو الفضل مکتوم بن العباس الترمذی عن محمد بن یوسف الفریابی عن سفیان۔
(2) امام مالک کے اقوال کی درج ذیل استاد ہیں:
(الف) اکثر اقوال کی سند یہ ہے: اسحاق بن موسیٰ الانصاری عن معن بن عیسیٰ القزاز عن مالک بن انس
(ب) کتاب الصوم کے مسائل کی سند یہ ہے: ابو مصعب المدنی عن معن انس بن مالک
(ج) بعض اقوال کی سند یہ ہے: موسیٰ بن حزام عن عبیداللہ بن مسلمۃ القعنبی عن مالک بن انس۔
(3) امام عبد اللہ بن مبارک کے اقوال امام ترمذی کو احمد بن عبدہ آملی سے پہنچے ہیں جن کو وہ امام عبد اللہ بن مبارک کے اصحاب (شاگردوں) سے روایت کرتے ہیں، شاگردوں کی سندیں یہ ہیں:
(الف) ابو وھب محمد بن مزاحم عن ابن المبارک
(ب) علی بن الحسن عن ابن المبارک
(ج) عبدان عن سفیان بن عبدالملک عن ابن المبارک
(د) حبان بن موسیٰ عن ابن المبارک
(س) وھب بن زمعۃ عن فضالۃ النسوی عن ابن المبارک وغیرہ۔
(4) امام شافعی کے اقوال کی اسناد درج ذیل ہیں:
(الف) حسن بن محمد الزعفرانی عن الشافعی
(ب) کتاب الطہارۃ اور کتاب الصلوۃ کے اقوال کی سند یہ ہے: ابو الولید المکی عن الشافعی
(ج) ابو اسماعیل الترمذی عن یوسف بن یحییٰ القرشی البویطی عن الشافعی۔ (د) کچھ اقوال ربیع عن الشافعی کی سند سے ہیں جو ربیع نے امام ترمذی کو لکھ کر بھیجے اور اپنی سند سے بیان کرنے کی اجازت دی۔
(5) امام احمد اور امام اسحاق کے اقوال کی اسناد درج ذیل ہیں:
(الف) ان دونوں کے اکثر اقوال کی سند یہ ہے: اسحاق بن منصور عن احمد و اسحاق
(ب) ابواب الحج، ابواب الدیات اور ابواب الحدود میں موجود اقوال کی سند یہ ہے: محمد بن موسیٰ الاصم عن اسحاق بن منصور عن احمد و اسحاق
(ج) امام اسحاق کے بعض اقوال کی سند یہ ہے: محمد بن الفلج عن اسحاق۔ (العلل الصغیر للترمذی، سند اقوال الفقہاء، ج1، ص، 736,737 دار احیاء التراث العربی، بیروت)
تعداد احادیث:
جامع ترمذی کی کل احادیث مقصودہ کی تعداد 1385 ہے جبکہ توابع اور شواہد کو شامل کر کے جملہ احادیث کی تعداد 3956 ہے۔
شرائط امام ترمذی:
حافظ شمس الدین ذہبی رحمة اللہ علیہ نے ”تذکرۃ الحفاظ“ میں ابونصر عبدالرحیم بن عبدالحق یوسفی کے حوالے سے نقل کیا ہے، اس قول کو علامہ جلال الدین سیوطی شافعی رحمة اللہ علیہ نے بھی ”قوت المغتذی“ میں بیان کیا ہے، واللفظ لقوت المغتذی: ”وَأَمَّا أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ فَكِتَابُهُ عَلَى أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍ: قِسْمٌ صَحِيحٌ مَقْطُوعٌ بِهِ، وَهُوَ مَا وَافَقَ الْبُخَارِيَّ وَمُسْلِمًا، وَقِسْمٌ عَلَى شَرْطِ أَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ كَمَا بَيَّنَّا فِي الْقِسْمِ الثَّانِي لَهُمَا، وَقِسْمٌ آخَرُ كَالْقِسْمِ الثَّالِثِ لَهُمَا، أُخْرِجَ وَأُبَانَ عَنْ عِلَّتِهِ، وَقِسْمٌ رَابِعٌ أَبَانَ هُوَ عَنْهُ “ امام ترمذی کی کتاب جامع ترمذی کی احادیث چار قسم کی ہیں: (1) وہ احادیث جو امام بخاری اور مسلم کی شرائط پر صحیح ہیں۔ (2) وہ احادیث جو امام نسائی اور امام ابوداؤد کی شرائط کے مطابق صحیح ہیں۔ (3) وہ احادیث جن کا ابوداؤد اور امام نسائی نے اخراج کیا اور ان کی علت ظاہر کر دی۔ (4) وہ احادیث جن کا خود امام ترمذی نے اخراج کیا اور ان کی علل بیان کر دیں۔ (تذكرة الحفاظ، ج02، ص154، دار الكتب العلمية بيروت، لبنان، قوت المغتذی، ج01، ص9، مكتبة ام القرى، مكة المكرمة)
امام ترمذی جامع ترمذی کی روایات کے بارے میں فرماتے ہیں: ”مَا أَخْرَجْتُ فِي كِتَابِي إِلَّا حَدِيثًا قَدْ عَمِلَ بِهِ بَعْضُ الْفُقَهَاءِ“ ترجمہ: میں نے اپنی کتاب میں تمام روایات وہی نقل کی ہیں جس پر کسی نہ کسی فقیہ نے عمل کیا ہے۔ (تذكرة الحفاظ، ج02، ص154، دار الكتب العلمية بيروت، لبنان)
مذکورہ بالا قول نقل کرنے کے بعد امام جلال الدین سیوطی شافعی فرماتے ہیں: ”فعلى هذا الأصل كل حديث احتج به محتج، أو عمل بموجبه عامل أخرجہ، سواء صح طريقه أم لم يصح“ ترجمہ: اس اصول کے مطابق جس حدیث سے بھی کسی حجت پکڑنے والے نے حجت پکڑی ہو یا کسی عمل کرنے والے نے اس کے موجب پر عمل کیا ہے امام ترمذی نے جامع ترمذی میں اس کی تخریج کر دی ہے اس کی سند صحیح ہو یا نہ ہو۔(قوت المغتذی، مقدمہ، ج10، ص3، مكتبة ام القرى، مكة المكرمة)
امام جلال الدین سیوطی رحمة اللہ علیہ (متوفی 911ھ) علامہ ابوبکر محمد بن موسیٰ حازمی (متوفی 584ھ) کا قول نقل کرتے ہیں:
ہم طبقاتِ رواۃ کو مثال کے ذریعہ سمجھاتے ہیں، مثال کے طور پر اصحابِ زہری کے پانچ طبقات ہیں:
(1) پہلا طبقہ اعلیٰ درجے کا صحیح ہے، جیسا کہ امام مالک، ابن عیینہ، عبید اللہ ابن عمر، یونس اور عُقَیل وغیرہہم ، اور یہ طبقہ امام بخاری کا مقصود ہے، یہ لوگ کامل الضبط بھی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے شیخ امام زہری کی طویل صحبت پائی ہے یعنی کثیر الملازمتہ ہیں یہاں تک کہ ان میں وہ بھی ہیں جو سفر و حضر میں ان کے ساتھ رہے ہیں ۔
(2) دوسرا طبقہ ضبط میں پہلے طبقے جیسا ہے مگر صحبت کم پائی ہے لہذا حدیث کی ممارست نہ کی تو یہ لوگ اتقان میں پہلے طبقہ سے کم ہیں اور یہ امام مسلم شرط ہیں جیسا کہ اوزاعی، لیث بن سعد، نعمان بن راشد، عبد الرحمن بن خالد بن مسافر اور ابن ابی ذئب ۔
(3) تیسرا وہ طبقہ ہے جنہوں نے امام زہری کی طویل صحبت پائی ہے یعنی کثیر الملازمتہ ہیں مگر یہ لوگ جرح سے خالی نہیں، ان رو و قبول دونوں ہیں ، یہ امام ابو داؤد اور امام نسائی کی شرط ہیں جیسا کہ سفیان بن حسین ، جعفر بن برقان اور اسحاق بن یحیی الکلبی ۔
(4) چوتھا طبقہ جرح میں تیسرے طبقہ کی طرح ہے اور امام زہری کی قلیل صحبت پانے والے ہیں اور امام ترمذی کی شرط پر ہیں ۔ حقیقت میں امام ترمذی کی شرط امام ابوداؤد سے ابلغ ہے کیونکہ حدیث جب ضعیف ہوگی یا طبقۂ رابعہ سے ہوگی تو وہ اس کا ضعف بیان کردیں گے اور اس پر تنبیہ کردیں تو یہ حدیث ان کے نزدیک شواہد اور متابعات میں سے ہوجائے گی ، اس طبقہ میں زمعہ بن صالح، معاویہ بن یحیی صدفی اور مثنی بن صباح ہیں ۔
(5) پانچواں طبقہ ضعفاء اور مجہولین کا ہے ، حدیث کو ابواب پر تخریج کرنے والے کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان کی حدیث تخریج کرے مگر اعتبار اور استشہاد کے طور پر ، اس طبقہ کے راویوں میں سے بحر بن کنیز السقاء، حکم بن عبد اللہ ایلی، عبد القدوس بن حبیب، محمد بن سعید مصلوب ۔
امام بخاری طبقہ ثانیہ کے اعیان میں احیاناً روایت کرتے ہیں، امام مسلم طبقہ ثالثہ کے اعلام سے لیتے ہیں اور امام ابوداؤد طبقہ رابعہ کے مشاہیر سے روایت لیتے ہیں۔علامہ ذہبی نے میزان میں لکھا ہے کہ جامع ترمذی کا مرتبہ سنن ابی داؤد اور سنن نسائی سے کم ہے کیونکہ امام ترمذی نے مصلوب اور کلبی اور ان کے امثال سے روایات کی تخریج کی ہے۔ (قوت المغتذی شرح جامع ترمذی ملخصاً،مقدمہ،ج1، ص4تا7،ام القرى،مكة المكرمه)
گویا کہ رُواۃ کے پانچ طبقات ہیں:(۱)کامل الضبط اور کثیر الملازمتہ (۲)کامل الضبط اور قلیل الملازمتہ (۳)ناقص الضبط اور کثیر الملازمتہ (۴)ناقص الضبط اور قلیل الملازمتہ (۵)ضعفاء اور مجہولین کا طبقہ۔
امام ترمذی نے پہلے چار سے تو روایات لی ہی ہیں پانچویں طبقہ سے بھی احیاناً روایات لی ہیں، اسی وجہ علامہ ذہبی نے کہا کہ جامع ترمذی کا مرتبہ سنن ابی داؤد اور سنن نسائی سے کم ہے کیونکہ یہ دونوں طبقہ خامسہ سے نہیں لیتے جبکہ امام ترمذی لیتے ہیں۔
صحاح ستہ میں جامع ترمذی کا مقام:
علامہ مصطفی بن عبداللہ المشہور باسم حاجی خلیفۃ (المتوفی 1067ھ) نے جامع ترمذی کو کتب ستہ میں تیسرے نمبر پر شمار کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: وهو ثالث الكتب الستة فى الحديث۔ جامع ترمذی حدیث کی کتب ستہ میں سے تیسری کتاب ہے۔ (کشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون، ج10،ص955، مكتبة المثنى،بغداد)
جبکہ علامہ ذہبی کا کہنا ہے کہ جامع ترمذی کا مقام سنن ابی داؤد اور سنن نسائی کے بعد ہے کیونکہ امام ترمذی پانچویں طبقے (جو کہ مجہولین اور ضعفاء پر مشتمل ہے) سے بھی روایت لیتے ہیں، آپ فرماتے ہیں: ’انحطت مرتبة جامع الترمذي عن سنن أبي داود والنسائي لإخراجه حديث المصلوب والكلبي وأمثالهما‘ ترجمہ: جامع ترمذی کا مرتبہ سنن ابی داؤد اور سنن نسائی سے کم ہے کیونکہ امام ترمذی نے مصلوب اور کلبی اور ان کے امثال سے روایات کی تخریج کی ہے۔ (قوت المغتذی، مقدمہ،ج1،ص7،ام القری،مكة المكرمہ)
یوں کہا جاسکتا ہے کہ صحت احادیث کے اعتبار سے جامع ترمذی کا مرتبہ نسائی اور ابو داؤد کے بعد ہے جبکہ کثیر علوم اور فوائد پر مشتمل ہونے کے اعتبار سے اس کا مرتبہ نسائی اور ابو داؤد سے پہلے ہے۔ بلکہ ماقبل میں حافظ ابو اسماعیل کا قول گزرا کہ جامع ترمذی اپنے بہترین اسلوب کی وجہ سے بخاری و مسلم سے بھی زیادہ مفید ہے، بہر حال ہر پھول کی اپنی خوشبو ہے۔
شیخ ابو جعفر بن زبیر فرماتے ہیں: ’ما اتفق المسلمون علی اعتمادہ، وذلك الكتب الخمسة، والموطّأ الذی تقدمها وضعا ولم يتأخر عنها مرتبة، وقد (اختلفت) مقاصدهم فيها، وللصحيحين فيها شفوف، وللبخاري -لمن أراد التفقه- مقاصد جليلة، ولأبي داود في حصر أحاديث الأحكام واستيعابها ما ليس لغيره، ولترمذي في فنون الصناعة الحديثية ما لم يشاركه غيره‘ ترجمہ: مسلمان جن کتب پر اعتماد کرنے میں متفق ہیں وہ پانچ کتب ہیں : مؤطا امام مالک جو ان میں سب سے پہلے لکھی گئی اور ان سے رتبہ میں متاخر نہیں، ان کتب کے مقاصد مختلف ہیں ، صحیحین (بخاری و مسلم) کا مقصد شفاف (احادیث صحیحہ) کا التزام ہے، صحیح بخاری میں مقاصد جلیلہ ہیں تفقه حاصل کرنے والے کے لیے، سنن ابی داؤد میں احادیثِ احکام کا حصر اور استیعاب ہے جو کسی اور کتاب میں نہیں، جامع ترمذی کا خاصہ فنونِ حدیثیہ کا ذکر ہے جس میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ (قوت المغتذی علی جامع ترمذی، مقدمہ، ج1، ص8، ام القری، مكة المكرمه)
حافظ ابو بکر ابن عربی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”أن كتاب الجعفی (محمد بن اسماعیل بخاری) ہو الأصل الثانی فی هذا الباب، والموطأ ہو الأوّل اللباب. وعلیہما بناء الجميع، كالقشیری (أي: الامام مسلم) والترمذی، فما دونہما ما طفقوا یصیفونہ، وليس فیہم مثل كتاب أبي عيسى حلاوة مقطع، ونفاسة منزع، وعذوبة مشرح“
ترجمہ: امام بخاری کی کتاب وہ اس باب میں اصل ثانی ہے اور مؤطا اس باب میں اول ہے اور ان دونوں پر جمیع کتب کی بناء ہے چاہے وہ صحیح مسلم ہو یا جامع ترمذی یا اس کے علاوہ کتب جو لکھی گئیں اور ان میں امام ابو عیسیٰ کی کتاب جیسی جداگانہ حلاوت، اپنی طرف کھینچنے والی نفاست اور اپنے قریب کرنے والی خوشگوار مٹھاس نہیں۔ (عارضة الأحوذی بشرح صحیح ترمذی ملخصاً، مقدمہ، ج1، ص5، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
تسائل:
سندِ حدیث پر تصحیح و تحسین کا حکم لگانے میں بعض اوقات امام ترمذی سے تساہل بھی واقع ہوا ہے، اس تساہل کی نشاندہی ائمہ ناقدین نے کی ہے، اس کی کچھ امثلہ ہم پیش کریں گے:
(1) جامع ترمذی میں ہے: ((حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَتْ عَلَى نَعْلَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَجَازَهُ))، یہ حدیثِ پاک نقل کرنے کے بعد امام ترمذی لکھتے ہیں: حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. (جامع ترمذی، باب ماجاء فی مہور النساء، ج3، ص214، مکتبه مصطفی البابی، مصر)
اس حدیث کے ایک راوی عاصم بن عبید اللہ کو جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، اسے سوئے حفظ کے ساتھ موصوف کیا ہے، اس سے روایت لینے پر امام ابن عیینہ نے شعبہ پر عیب لگایا ہے، لہذا یہ روایت ضعیف ہے، امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔ ( النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر،النوع الثاني :حسن،ج 1،ص،388عمارة البحث العلمى بالجامعة الاسلاميه،مدينه منوره)
(2) جامع ترمذی میں ہے: ((حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُوُنُسَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا خَمْرٌ لِيَتِيمٍ فَلَمَّا نَزَلَتِ الْمَائِدَةُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، وَقُلْتُ: إِنَّهُ لِيَتِيمٍ، فَقَالَ: أَهْرِيقُوهُ))، یہ حدیثِ پاک نقل کرنے کے بعد امام ترمذی لکھتے ہیں :حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ- (جامع ترمذی، باب ماجاء في النهى للمسلم ان يدفع الخ،ج 3،ص 555,مکتبه مصطفی البابی، مصر)
اس حدیثِ پاک کے ایک راوی مجالد کو محدثین کی جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے اور اسے حدیث کے معاملہ میں غلطی اور خطا کرنے والا قرار دیا ہے۔ (النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر،النوع الثاني :حسن،ج 1،ص 093،عمارة البحث العلمى بالجامعة الاسلاميه،مدينه منوره)
(3) جامع ترمذی میں ہے: ((عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: إِنِّي لَمِمَّنْ يَرْفَعُ أَغْصَانَ الشَّجَرَةِ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: لَوْلاَ أَنَّ الْكِلاَبَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ، وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَرْتَبِطُونَ كَلْبًا إِلاَّ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ، إِلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ، أَوْ كَلْبَ غَنَمٍ))، یہ حدیثِ پاک نقل کرنے کے بعد امام ترمذی لکھتے ہیں :هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ- (باب ماجاء من امسک کلباً الخ،ج 4،ص،80مکتبه مصطفی البابی،مصر)
اس حدیثِ پاک کے ایک راوی اسماعیل بن مسلم کی تضعیف پر محدثین کا اتفاق ہے، انہوں نے اسے غلطی اور کثرتِ خطا کے ساتھ موصوف کیا ہے۔ (النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر،النوع الثاني :حسن،ج 1،ص،391عمارة البحث العلمى بالجامعة الاسلاميه،مدينه منوره)
وجہ وسبب:
حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
مصنف (حافظ ابن الصلاح) کی فہم کے مطابق امام ترمذی کے نزدیک یہ مستور الحال راوی کی روایت کی تعریف ہے جسے کثیر محدثین نے حسن کے قبیل سے شمار نہیں کیا اور تحقیق یہ ہے کہ امام ترمذی کے نزدیک یہ قسم مستور الحال راوی کی روایت میں مقصود نہیں بلکہ ایسی ضعیف روایت جس کا سبب راوی کا سوءِ حفظ اور غلط و خطا سے موصوف ہونا ہو، اختلاط کے بعد مختلط کی روایت ، مدلس کی معنعن اور جس کی سند میں انقطاع خفیف ہو یہ سب بھی تین شرطوں کے ساتھ اس قسم میں شریک ہیں اول: ان کی سند میں کوئی متہم بالکذب نہ ہو۔ ثانی: ان کی اسناد شاذ نہ ہو۔ اور ثالث: یہ یا اس جیسی حدیث کسی دوسری سند سے بھی مروی ہو۔
اور یہ سب مرتبہ میں برابر نہیں بلکہ بعض بعض سے قوی ہیں اور اس بات کو اس سے بھی تقویت ملتی ہے کہ امام ترمذی نے اتصال سند کی شرط بالکل نہیں لگائی اسی لئے آپ نے بہت سی منقطع السند روایات کو بھی صفتِ حسن سے موصوف کیا ہے۔ (النكت على مقدمة ابن الصلاح لابن حجر، النوع الثاني الحسن، 1/387 عمادة البحث العلمي بالجامعة الاسلامية، المدينة المنورة)
علامہ علی بن سلطان القاری فرماتے ہیں:
امام ترمذی میں تصحیح و تحسین میں کچھ تساہل ہے مگر یہ نقصان دہ نہیں۔ تحقیق انہوں نے اپنی سنن میں احادیث میں انقطاع کے باوجود حسن کا حکم لگایا ہے اور رُواة کے انفراد کے باوجود روایت کی تحسین کی ہے کہ وہ ایک حدیث لاتے ہیں پھر اس کے بعد کہتے ہیں کہ یہ حسن غریب ہے یا یہ حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے اسی سند سے جانتے ہیں۔ لیکن اس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ ایک جدید اصطلاح ہے اور اصطلاح میں کوئی مُشَاحَّت (جھگڑا) نہیں۔ (مرقاة المفاتيح، مقدمة المؤلف، ج1، ص52، دار الفكر، بيروت)
رموز واصطلاحات جامع ترمذی:
هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَىْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ:
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 119ھ) فرماتے ہیں:
یہ کلمہ بکثرت جامع ترمذی میں مذکور ہے اور امام نووی نے اذکار میں فرمایا ہے کہ اس سے حدیث کا صحیح ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ محدثین حدیثِ ضعیف سے متعلق بھی ”هَذَا أَصَحُّ مَا جَاءَ فِي الْبَابِ“ فرماتے ہیں اور اس سے ان کی مراد ”أَرْجَحُهُ“ یا ”أَقَلُّهُ ضُعْفًا“ ہوا کرتی ہے یعنی مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ حدیث اس باب میں مروی دیگر احادیث سے راجح ہے یا دیگر کی بہ نسبت کم درجہ ضعیف ہے۔ (تدریب الراوی، انواع الحديث، النوع الاول، اصح الاسانيد مطلقا،1/92دار طيبه)
هذا اصح من ذالک:
یہاں بھی اصح ارحج کے معنی میں ہوتا ہے یعنی دونوں حدیثیں صحیح ہیں اور یہ ان میں اصح ہے یا دونوں حسن ہیں اور یہ ان میں زیادہ قوی ہے یا دونوں ضعیف ہیں اور یہ ان میں کم درجہ ضعیف ہے۔
هذا حديث حسن صحيح:
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی عادت ہے کہ آپ ایک حدیث ذکر کرکے فرماتے ہیں ”هُذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ“ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یوں ایک ہی حدیث پر حسن اور صحیح دونوں کا اطلاق کرتے ہیں، اس پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ حسن اور صحیح دو مستقل قسمیں ہیں اور قسمیں باہم متبائن ہوتی ہیں لہٰذا ان دونوں کو ایک حدیث میں جمع کرنا جائز نہیں، بلفظ دیگر حسن وہ ہوتی ہے جو صحیح سے کم درجہ کی ہو لہٰذا ان دونوں کو جمع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی حدیث میں صحیح اور اس سے کم تر درجہ کو ثابت کیا جائے۔
ماہرین علوم حدیث نے اس اشکال کے متعدد جواب دیئے ہیں:
حافظ ابن حجر عسقلانی (متوفی 852ھ) فرماتے ہیں:
(1) جب کسی ایسی حدیث کے بارے ’حدیث حسن صحیح‘ کہا جائے جو فقط ایک ہی سند سے مروی ہو تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ راویانِ حدیث کے اوصاف سے متعلق ائمہ حدیث کو تردد ہے (بعض صدوق کہتے ہیں اور بعض ثقہ) لہٰذا بعض کی رائے کے مطابق حدیث حسن قرار پاتی ہے اور بعض کے مطابق صحیح بنابریں اس پر دونوں صفات کا اطلاق کردیا جاتا ہے ۔ اس صورت میں لفظِ حسن اور صحیح کے درمیان حرفِ تردد ”او“ محذوف ہے۔ اور اس تقدیر پر جس حدیث کے بارے ’حسن صحیح‘ کہا جائے وہ اس حدیث سے کم درجہ کی ہوگی جس کے بارے فقط ’صحیح‘ کہا جائے کیونکہ جزم تردد سے بہت قوی ہوتا ہے۔
(2) اور جب کوئی حدیث متعدد طرق سے مروی ہو تو مذکورہ دو اوصاف کا اطلاق دو مختلف سندوں کے اعتبار سے ہوگا یعنی مطلب یہ ہوگا کہ اس حدیث کی ایک سند حسن ہے اور دوسری صحیح ، اس تقدیر پر جس حدیث کے بارے ’حسن صحیح‘ کہا جائے وہ اس متنفرد حدیث سے اعلیٰ درجہ کی ہوگی جس کے بارے فقط ”صحیح“ کہا جائے کیونکہ کثرت طرق قوت دیتے ہیں۔ (نزهة النظر شرح نخبة الفكر، الحسن لذاته، معنى قولهم : حدیث حسن صحیح ، ص66-65 مطبعة الصباح ، دمشق ، ملخصاً)
علامہ جلال الدین سیوطی مذکورہ جواب کے بارے فرماتے ہیں: یہ جواب مجھے پسند ہے اور بالکل بے غبار ہے۔ مزید فرماتے ہیں: یہ جواب ابن الصلاح اور ابن کثیر کے جواب سے مرکب ہے۔ (تدريب الراوى ، قول الحفاظ : حديث حسن الاسناد او صحيحة، 1/178 دار طيبة)
شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی (متوفی 2501ھ) فرماتے ہیں:
(3) حسن سے حسن لذاتہ اور صحیح سے صحیح لغیرہ مراد ہو تو یوں اجتماع حسن و صحت کے جواز میں کوئی شبہ نہیں۔ (مقدمة فى اصول الحديث، اصطلاحات الترمذی، ص 80، دار البشائر الاسلامية، بيروت، لبنان)
علامہ بدر الدین زرکشی شافعی (متوفی 794) لکھتے ہیں:
(4) ممکن ہے کہ خاص اس صورت میں حسن اور صحیح سے مترادف معنی مراد لیا ہوا اور جس طرح حسن کو صحیح کی قسم قرار دینے والے محدثین کے قول پر عمل کرتے ہوئے بعض حضرات نے حدیث حسن کو صحت سے موصوف کیا ہے یونہی (امام ترمذی نے) اس کے جواز پر تنبیہ کرنے کے لیے قلیل طور پر اس کا استعمال کیا ہو۔
(5) ہوسکتا ہے کہ حسن اور صحیح کا حقیقی معنی مراد لے کر دو زمانوں اور حالتوں کا اعتبار کرتے ہوئے ان دونوں کو ایک سند میں جمع کیا ہو پس جائز ہے کہ ایک مرتبہ یہ حدیث کسی شخص سے اس حالت میں سنی ہو کہ وہ مستور الحال ہو یا صدق و امانة میں مشہور ہو بعدہ اس کی حالت درجۂ عدالت تک ترقی کرجائے اور امام ترمذی نے ایک مرتبہ پھر اس سے یہ حدیث سنی ہو یا دوسری مرتبہ کسی اور شخص سے یہ حدیث سنی ہو اور دونوں اوصاف کو بیان کردیا ہو۔ اور بہت سے حضرات کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے ایک حدیث ایک ہی شیخ سے کئی مرتبہ سنی ہے لیکن یہ معاملہ قلیل ہے۔
اور یہ احتمال اگرچہ بعید ہے لیکن جو کچھ اس بارے کہا گیا اس کی بنسبت بہت مناسب ہے اور ابن دقیق العید کے کلام کی جانب راجع ہے۔
(6) یہ بھی احتمال ہے کہ امام ترمذی کے اجتہاد میں یہ حدیث حسن یا صحیح ہو (یعنی خود امام ترمذی اس حدیث کے بارے متردد ہوں کہ یہ حدیث حسن ہے یا صحیح؟ تو دونوں صفات کو جمع کر دیا) یا پھر یہ حدیث حسن کے اعلیٰ اور صحیح کے اول درجہ میں تھی تو امام ترمذی نے محدثین کے دو مذہب کا اعتبار کرتے ہوئے انہیں جمع کردیا۔ (النكت على مقدمة ابن الصلاح للزركشى،النوع الثاني معرفة الحسن من الحديث،فائدة ،375-1/374اضواء السلف ،الرياض)
اور حافظ ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن معروف بہ ابن الصلاح شہر زوری (متوفی 643ھ) نے اس اشکال کے دو جواب دیئے ہیں،فرماتے ہیں:
(7) اس کا جواب یہ ہے کہ یہ صفات اسناد کی جانب راجع ہیں پس جب ایک حدیث دو اسناد سے مروی ہو،ان میں سے ایک حسن اور دوسری صحیح ہو تو اس حدیث کے بارے ”حدیثٌ حسنٌ صحیحٌ“ کہنا بالکل درست ہے کہ وہ حدیث ایک سند کے اعتبار سے حسن اور دوسری کے اعتبار سے صحیح ہے۔
(8) بعض حضرات نے جو یہ کہا کہ حسن سے اصطلاحی معنی کی بجائے لغوی معنی مراد ہے یعنی ”وہ حدیث جس کی طرف نفس مائل ہوا اور دل اسے ناپسند نہ کرے۔“تو یہ بھی کچھ بعید نہیں۔ (مقدمة ابن الصلاح، النوع الثاني: معرفة الحسن من الحديث، ص39، دار الفكر، بيروت)
ابن دقیق العید (متوفی 207ھ) فرماتے ہیں:
(9) اگرچہ حدیث حسن کے راویوں کی صفات میں حدیث صحیح کے راویوں کی صفات کی نسبت قصور و کمی ہوتی ہے اور جب لفظ حسن ہی پر اکتفا کیا جائے تو یہ کمی مفہوم بھی ہوتی ہے لیکن یہ کمی حدیث حسن (کے صادق آنے) کے لئے شرط نہیں ہے۔ پس اس میں جو قصور ہوتا ہے وہ لفظ حسن پر اکتفا کرنے کی وجہ سے آتا ہے اس کی حقیقت و ذات میں نہیں ہوتا۔ اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ راویان حدیث کی وہ صفات جو قبول روایت کی مقتضی ہوتی ہیں ان کے مختلف درجات ہیں اور ان میں سے بعض بعض سے ارفع ہیں جیسے تیقظ ،حفظ اور اتقان، پس نچلے درجہ مثلاً صدق اور عدم تہمّت بالکذب کا پایا جانا اعلیٰ درجہ مثلاً حفظ و اتقان کے موجود ہونے کے منافی نہیں اور اعلیٰ درجہ کا وجود ادنیٰ کے منافی نہیں جیسے حفظ کا وجود صدق کے ساتھ، لہٰذا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ حدیث ادنیٰ درجہ کی صفت مثلاً صدق کے پائے جانے کی وجہ سے حسن اور اعلیٰ درجہ کی صفت مثلاً حفظ و اتقان کے پائے جانے کی وجہ سے صحیح ہے۔
زیادہ سے زیادہ اس پر یہ لازم آتا ہے کہ ہر صحیح حدیث حسن ہو اور محدثین اس کا التزام کرتے ہیں اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ ان حضرات سے احادیث صحیحہ پر”ھذ احدیث حسن“ کا قول وارد ہے اور یہ اطلاق متقدمین کے کلام میں بھی موجود ہے۔ (الاقتراح في بيان الاصطلاح، الباب الاول في الفاظ متداولة،… ص10-11 دار الكتب العلمية ، بيروت)
حافظ ابن کثیر دمشقی (متوفی 774ھ) لکھتے ہیں:
(10) مجھ پر جو جواب ظاہر ہوا وہ یہ ہے کہ ایسی حدیث صحت و حسن دونوں سے حصہ پاتی ہے (یعنی ”حسن صحیح“، حسن اور صحیح کے درمیان ایک درجہ ہے) لہٰذا جس حدیث کے بارے ”حسن صحیح“ کہا جائے وہ رتبہ میں حسن سے زیادہ اور صحیح سے کم ہے۔ پس جس حدیث پر محض صحت کا حکم کیا جائے وہ اس سے قوی ہوگی جس پر حسن و صحت دونوں کا حکم کیا جائے۔ (الباعث الحثيث الى اختصار علوم الحديث ، قول الترمذى ”حسن صحيح“، ص44-43 دار الكتب العلمية، بيروت)
لیکن ابو الفضل زین الدین عراقی (متوفی 608ھ) فرماتے ہیں: یہ تحکم ہے، اس پر کوئی دلیل نہیں۔ (التقييد والايضاح شرح مقدمة ابن الصلاح، النوع الثاني معرفة الحسن من الحديث ، 1/62 المكتبة السلفية بالمدينة المنورة)
مقارب الحديث :
”مُقَارِبُ الحديث“ راء کے فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ معروف ہے اور بہر صورت الفاظ تعدیل میں سے ہے اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اس لفظ سے تقویت راوی مراد لیتے ہے،علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں : عراقی نے کہا کہ اصولِ صحیحہ میں لفظِ مقارِب الحدیث راء کے کسرہ کے ساتھ درج ہے اور کہا گیا ہے کہ ابن سید الناس نے فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ حکایت کیا ہے لیکن کسرہ کے ساتھ الفاظ تعدیل اور فتحہ کے ساتھ الفاظ جرح میں سے ہے اور فرمایا کہ یہ صحیح نہیں بلکہ فتحہ اور کسرہ دونوں معروف ہیں ابن عربی نے شرح ترمذی میں دونوں حکایت کئے ہیں اور یہ دونوں الفاظ تعدیل میں سے ہیں۔
اور جن حضرات نے یہ بات ذکر کی ہے ان میں امام ذہبی بھی ہیں ، آپ فرماتے ہیں: جو شخص اس (مُقَارَب بفتح الراء کے الفاظ جرح سے ہونے) کا قائل ہے گو یا کہ وہ مقارَب بفتح الراء سے یہ سمجھا کہ شے مقارب ردی ہے اور یہ عوامی بات ہے لغت میں معروف نہیں اور راء کے فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ یہ لفظ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ((سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا)) سے ماخوذ ہے پس جس نے کسرہ کے ساتھ پڑھا تو اس کے قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ اس راوی کی حدیث غیر کی حدیث کے قریب ہے اور جس نے فتحہ کے ساتھ پڑھا کے مطابق مطلب یہ ہے کہ غیر کی حدیث اس کی حدیث کے قریب ہے اور باب مفاعلہ کا مادہ مشارکت کا تقاضا کرتا ہے۔ اور جن حضرات نے مقارَب بفتح الراء کے جرح ہونے پر اعتماد کیا ہے ان میں بلقینی ہیں محاسن اصطلاح میں کہتے ہیں: اسے ثعلب نے حکایت کیا ہے اور وہ تبر مقارب یعنی ردی ہے۔(تدريب الراوي، النوع الثالث والعشرون صفة من تقبل روايته، … الثالثة عشرة الفاظ الجرح والتعديل ، 412-1/411 دار طيبة)
”صدوق“ کی وضاحت:
”صدوق“ الفاظِ تعدیل میں سے ہے ابن ابی حاتم اور ان کی اتباع میں حافظ ابن الصلاح اور علامہ نووی نے تعدیل کے چار مراتب بیان کئے ہیں اور لفظ ”صدوق“ کو دوسرے مرتبہ میں شمار کیا ہے جبکہ امام ذہبی اور عراقی کے بیان کردہ پانچ اور شیخ الاسلام کے بیان کردہ چھ مراتبِ تعدیل کے مطابق لفظ ”صدوق“ بالترتیب تیسرے اور چوتھے مرتبہ میں آتا ہے۔
هذا حديث حسن:
حدیث حسن کی کی عام تعریف یہ ہے ”حدیث حسن وہ ہے جو درجہٴ ضعیف سے برتر ہو لیکن درجہٴ صحت کو نہ پہنچے۔“ (الموقظة في علم مصطلح الحديث، الحسن، صـ26 مكتب المطبوعات الاسلامية، حلب)
مگر حدیث حسن کے حوالے سے امام ترمذی علیہ الرحمة کی اپنی اصطلاح ہے، آپ ”العلل الصغیر“ میں فرماتے ہیں:
ہم نے اس کتاب میں جو ”حدیث حسن“ ذکر کیا ہے تو اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ ہمارے نزدیک اس حدیث کی اسناد حسن ہے پس ہر وہ حدیث جس کی سند میں نہ کوئی متہم بالکذب ہو نہ حدیث شاذ ہو اور وہ حدیث کسی دوسری سند سے بھی مروی ہو تو وہ ہمارے نزدیک حسن ہے۔ (العلل الصغير للترمذى (المطبوع بآخر المجلد الخامس من سنن الترمذى)، معاني الاصطلاح للترمذى، صـ857، دار احياء التراث العربي، بيروت)
هذا حديث حسن غريب:
حدیث حسن کی تعریف سابقہ باب میں گزری کہ ”حدیث حسن وہ ہے جو درجہٴ ضعیف سے برتر ہو لیکن درجہٴ صحت کو نہ پہنچے۔“ (الموقظة في علم مصطلح الحديث، الحسن، صـ26 مكتب المطبوعات الاسلامية، حلب)
اور حدیث غریب کی تعریف کرتے ہوئے حافظ ابو الفضل ابن حجر عسقلانی علیہ رحمة الله الکافی (متوفی 258ھ) فرماتے ہیں: کسی حدیث کو روایت کرنے میں ایک شخص متفرد ہو عام ازیں کہ تفرد سند میں کہیں بھی واقع ہو تو یہ حدیث غریب ہے۔ (نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر، الغريب، صـ50 مطبعة الصباح، دمشق)
اس تقدیر پر حسن اور غریب کو جمع کرنے میں کوئی استحالہ نہیں لیکن امام ترمذی علیہ الرحمة نے العلل الصغیر میں حدیث حسن کی تعریف کرتے ہوئے یہ قید لگائی ہے کہ ”وہ حدیث کسی دوسری سند سے بھی مروی ہو۔“ (العلل الصغير للترمذی، معانی الاصطلاح للترمذی،ص:758 دار احیاء التراث العربی، بیروت)
اب اس تعریف کے لحاظ سے ان دونوں کے جمع کرنے پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ حدیث غریب وہ ہوتی ہے جسے روایت کرنے میں ایک راوی متفرد ہو اور امام ترمذی کے نزدیک حدیث حسن وہ ہے جو کسی دوسری سند سے بھی مروی ہو،لہذا ان دونوں کو ایک ہی حدیث میں جمع کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ہی حدیث متعدد سندوں سے بھی مروی ہے اور اسے روایت کرنے میں کوئی ایک راوی متفرد بھی ہے حالانکہ یوں ایک ہی چیز میں دو متضاد صفتیں جمع ہونا محال ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ رحمۃ اللہ الکافی (متوفی 852ھ) اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: امام ترمذی نے (جس تعریف میں یہ قید لگائی ہے کہ ’وہ حدیث کسی دوسری سند سے بھی مروی ہو،‘ وہ) مطلقاً حسن کی تعریف نہیں کی بلکہ آپ نے اپنی کتاب میں واقع ہونے والی ایک خاص نوع کی تعریف کی ہے اور یہ وہ ہے جس کے بارے آپ نے بغیر کسی دوسری صفت کے فقط حسن فرمایا ہے اور معاملہ یہ ہے کہ آپ نے بعض احادیث کے بارے حسن، بعض کے بارے صحیح، بعض کے بارے غریب، بعض کے بارے حسن صحیح، بعض کے بارے حسن غریب، بعض کے بارے صحیح غریب اور بعض کے بارے حسن صحیح غریب فرمایا ہے اور تعریف فقط اول کی تحریر کی ہے اور آپ کی عبارت بھی اسی طرف رہنمائی کرتی ہے چنانچہ آپ نے اپنی کتاب کے آخر میں فرمایا: ”وما قلنا فی کتابنا: حدیث (حسن)؛ فإنما أردنا بہ حسن إسنادہ عندنا، (إذ) کل حدیث یروی ولا یکون راویہ متہماً بکذب، ویروی من غیر وجہ نحو ذلک، ولا یکون شادّاً؛ فہو عند نا حدیث حسن“ ”ہم نے اس کتاب میں جو ’حدیث حسن‘ کہا ہے تو اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ ہمارے نزدیک اس حدیث کی اسناد حسن ہے پس ہر وہ حدیث جس کی سند میں نہ کوئی متہم بالکذب ہو نہ حدیث شاذ ہو اور وہ حدیث کسی دوسری سند سے بھی مروی ہو تو وہ ہمارے نزدیک حسن ہے۔ پس مذکورہ عبارت سے معلوم ہوا کہ آپ علیہ الرحمہ نے ان الفاظ سے فقط حسن کی تعریف کی ہے اور جس طرح فقط صحیح یا فقط غریب کی تعریف نہیں کی یونہی حسن صحیح، حسن غریب یا حسن صحیح غریب کی تعریف کرنے کے درپے بھی نہیں ہوئے، گویا کہ آپ نے اہل فن کے ہاں ان اصطلاحات کی تعریف مشہور ہونے کی وجہ سے انہیں ترک کردیا اور صرف اس نوع کی تعریف پر اکتفا کیا جس کے بارے آپ نے فقط حسن فرمایا ہے یا تو اس کی تعریف کے مبہم ہونے کی وجہ سے یا اصطلاح جدید ہونے کی وجہ سے اور اسی لئے امام ترمذی علیہ الرحمہ نے اس تعریف میں ”عندنا“ کی قید لگائی ہے (کہ ہمارے نزدیک حدیث حسن وہ ہے جو کسی دوسری سند سے بھی مروی ہے) اور خطابی کی طرح اسے محدثین کی طرف منسوب نہیں کیا؛ اس تقریر سے، بہت سے ایسے اعتراضات دور ہوجاتے ہیں جن میں بحث طول پکڑجاتی ہے لیکن کوئی توجیہ واضح نہیں ہوتی۔ (نزهة النظر فى توضیح نخبة الفكر، الحسن لذاته، ص،68-67 مطبعة الصباح، دمشق)
فلان ذاهب الحديث:
اس کا مطلب ہے کہ یہ شخص حدیث کو یاد رکھنے والا ، اس کی حفاظت کرنے والا نہیں۔ علامہ علی بن سلطان القاری حنفی فرماتے ہیں: ”(ذَاهِبُ الْحَدِيثِ) أَيْ: غَيْرُ حَافِظٍ لَهُ“ ترجمہ: ذاہب الحدیث کا مطلب ہے کہ یہ شخص حدیث کو یاد رکھنے والا نہیں۔ (مرقاة المفاتيح، باب الخلع والطلاق، ج 5، ص،2142 دار الفکر، بیروت)
هذا حديث جيد:
علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں:
مذکورہ قول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حافظ ابن صلاح جید اور صحیح کے درمیان مساوات کے قائل ہیں اور یہ قول نقل کرنے کے بعد علامہ بلقینی نے ایسے ہی کہا ہے کہ جودت سے صحت کو تعبیر کیا جاتا ہے، جامع ترمذی ابواب الطب میں ہے: هَذَا حَدِيثٌ جَيِّدٌ حَسَنٌ، یہ حدیث جید حسن ہے، لہذا محدثین کے نزدیک جید اور صحیح میں کوئی فرق نہیں مگر جہبذ جید اور صحیح میں کچھ فرق کرتے ہیں، ان کے نزدیک جید حدیث حسن لذاتہ سے ترقی کرجاتی ہے اور صحیح کے درجہ میں پہنچنے میں متردد ہوتی ہے، تو جید کے ساتھ موصوف کرنا صحیح سے کم درجہ دینا ہے۔ (تدريب الراوی، حکم حدیث روی من وجوه ضعيفة، ج 1، ص،194 مطبوعه دارطیبه)
شیخ لیس بذاک:
علامہ علی بن سلطان القاری (متوفی 1014ھ) فرماتے ہیں:
(شيخ ليس بذلك) ”شیخ“ کا مطلب ہے ایسا بوڑھا جس پر نسیان کا غلبہ ہو جائے اور ”لیس بذلک“ کا مطلب ہے کہ وہ ایسے درجہ پر نہیں کہ ان پر اعتماد کیا جا سکے یعنی ان کی روایت قوی نہیں ہے۔ شرح طیبی میں ایسے ہی ہے، اس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حارث بن وجہ کے حق میں ”شیخ“ کہنا جرح کے لیے ہے، یہ بات اس کے مخالف ہے جو ائمہ جرح وتعدیل تو فرماتے ہیں کہ ”شیخ“ مراتب تعدیل کے الفاظ میں سے ہے۔ اسی وجہ سے امام ترمذی کے قول ”شیخ لیس بذلک“ کے بارے میں ایک دوسرا اشکال پیدا ہوتا ہے کیونکہ علماء کا قول ”لیس بذلک“ بالاتفاق راوی کی جرح کو بیان کرنے کے لئے ہے۔ تو ایک ہی شخص کے بارے میں دونوں الفاظ (یعنی ”شیخ“ اور ”لیس بذلک“) کہنا دو متضاد چیزوں کو جمع کرنا ہے۔ تو درست طریقہ یہ ہی ہے کہ ”شیخ“ اگرچہ یہ الفاظ تعدیل میں سے ہے لیکن ”لیس بذلک“ کے قرینہ سے اس کو بھی جرح پر محمول کیا جائے تاکہ اس راوی کی جرح بھی واضح ہوجائے کیونکہ ”شیخ“ کا لفظ اگرچہ الفاظ تعدیل میں سے شمار کیا گیا ہے لیکن علماء نے اس بات کی بھی تصریح کی ہے کہ یہ جرح کے قریب ہونے کو بھی بتاتا ہے۔ یا ہم کہیں گے کہ کسی شخص کے ثقہ ہونے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں (1) عادل ہونا (2) ضابط ہونا۔ جب کوئی شخص عادل تو ہو لیکن ضابط نہ ہو تو عدالت کے لحاظ سے اس کی تعدیل کی جائے گی لیکن ضابط نہ ہونے کی وجہ سے اس پر جرح کی جائے گی۔ تو جب حقیقت واضح ہوگئی تو ”شیخ“ اور ”لیس بذلک“ ایک ہی شخص کے بارے میں کہنے سے تضاد لازم نہیں آئے گا۔ (مرقاة المفاتيح، باب الغسل، ج2، ص429 دار الفكر، بيروت)
اسناده ليس بذاک:
اس روایت کی اسناد اس مقام پر نہیں کہ اس پر اعتماد کیا جا سکے یعنی اس کی اسناد قوی نہیں۔ (مرقاة المفاتيح، باب الغسل، ج2، ص429 دار الفكر، بيروت)
هذا حديث غريب:
حدیث غریب کی تعریف کرتے ہوئے حافظ ابوالفضل ابن حجر عسقلانی علیہ رحمۃ اللہ الکافی (متوفی 258ھ) فرماتے ہیں: کسی حدیث کو روایت کرنے میں ایک شخص منفرد ہو عام ازیں کہ تفرد سند میں کہیں بھی واقع ہو تو یہ حدیث غریب ہے۔ (نزهة النظر فی توضیح نخبة الفكر، الغريب، ص05، مطبعة الصباح، دمشق)
امام ترمذی کتاب العلل میں غرابت حدیث کی تین وجہیں بیان کی ہیں:
(1) سند حدیث میں ایک راوی اپنے شیخ سے اس حدیث کی روایت میں منفرد ہو اگرچہ دوسرے طرق کے لحاظ سے وہ حدیث مشہور ہوتی ہے، اس کی مثال یہ ہے: ((حدثنا ہناد، ومحمد بن العلاء، قالا:حدثنا وکیع، عن حماد بن سلمة وقال أحمد بن منیع، حدثنا یزید بن ہارون، قال:حدثنا حماد بن سلمة، عن أبی العشراء، عن أبیه،قال:قلت:یا رسول الله، أما تكون الذكاة إلا فی الحلق واللبة؟قال:لو طعنت فـــي فخذها لأجزأ عنه)) وفي الباب عن رافع بن خديج۔ اس حدیث کی غرابت کا سبب یہ ہے کہ حماد بن سلمہ کے علاوہ کوئی شخص ابو العشراء سے اس حدیث کو روایت نہیں کرتا۔ اسی کو امام ترمذی یوں بیان کرتے ہیں: هذا حديث غريب، لا نعرفه إلا من حديث حماد بن سلمة، ولا نعرف لأبي العشراء عن أبيه غير هذا الحديث۔
(۲) متن حدیث طرق متعدد سے مروی ہو مگر صرف ایک راوی متن حدیث میں دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادی بیان کرتا ہے تب بھی وہ حدیث غریب کہلاتی ہے بشرطیکہ وہ ایسا راوی ہو جس کے حافظہ پر اعتماد ہو۔ اس کی مثال یہ ہے: ((روى مالك بن أنس، عن نافع، عن ابن عمر قال: فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر من رمضان على كل حر، أو عبد ذكر أو أنثى من المسلمين، صاعا من تمر، أو صاعا من شعير)) امام مالک کے علاوہ دوسرے طرق سے جو حدیث مروی ہے اس میں ”من المسلمین“ کے الفاظ نہیں، یہ زیادی امام مالک علیہ الرحمہ کی روایت میں ہے اس لیے یہ حدیث غریب ہے جیسا کہ امام ترمذی بیان فرماتے ہیں : وزاد مالك في هذا الحديث من المسلمين۔
(۳) عام ائمہ حدیث کے نزدیک وہ حدیث کسی خاص سند سے معروف ہو اور اس کے سوا کسی اور طریقہ سے حدیث کی روایت کی جائے تو وہ حدیث غریب ہوگی، اس کی مثال یہ ہے: ((حدثنا أبو كريب وأبو هشام الرفاعلي، وأبو السائب، والحسين بن الأسود، قالوا: أخبرنا أبو أسامة، عن بريد بن عبد الله بن أبي بردة، عن جده أبي بردة، عن أبي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الكافر يأكل في سبعة أمعاء والمؤمن يأكل في معاء واحد)) اس حدیث کی دوسری سند جو امام بخاری اور دوسرے ائمہ حدیث کے نزدیک معروف ہے وہ یہ ہے: عن ابي اسامۃ عن برید بن عبد اللہ۔ امام ترمذی کی سند اس کے خلاف ہے لہذا اس سند کے ساتھ یہ غریب ہوگئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں :فقال: هذا حديث أبي كريب عن أبي أسامة، وسألت محمد بن اسماعيل عن هذا الحديث، فقال: هذا حديث أبي كريب عن أبي أسامة، ولم نعرفه إلا من حديث أبي كريب، فقلت له: حدثنا غير واحد عن أبي أسامة، بهذا فجعل يتعجب، وقال ما علمت أن أحدا حدث بهذا غير أبي كريب۔ کہ جب میں نے امام بخاری کو بتایا کہ ابو کریب کے علاوہ ابو ہشام، ابو سائب اور حسین بن اسود بھی اس حدیث کی روایت کرتے ہیں تو وہ حیران رہ گئے اور کہنے لگے میں نہیں جانتا تھا کہ اس حدیث کو ابو کریب کے علاوہ بھی اور کوئی روایت کرتا ہے۔ ہذا حدیث غريب من ہذا الوجه من قبل اسناد وقد روی ہذا الحديث من غیر وجہ۔ (العلل الصغير للترمذی ملخصاً،معانی الاصطلاح للترمذی ،ج1،ص857،دار احياء التراث العربی، بیروت)
اهل الرائے:
اس لقب سے عام طور پر امام ترمذی احناف کا ارادہ کرتے ہیں، ملا علی قاری نے تصریح کی ہے کہ بعض اکابر علماء جو احناف کو اصحاب الرائے سے موسوم کرتے ہیں اس کی وجہ احناف کی دقتِ رائے اور حذقِ عقل ہے۔
علامہ علی بن سلطان القاری حنفی فرماتے ہیں:
طیبی کے کلام سے علماء حنفیہ پر اعتراض کی بو آرہی ہے کہ احناف رائے کو حدیث پر ترجیح دیتے ہیں اسی وجہ سے انہیں اصحاب الرائے کہا جاتا ہے، انہوں نے یہ نہ جانا کہ پہلے کے علماء نے ائمہ احناف کی دقتِ رائے اور حذقِ عقل کی وجہ سے ان کا نام اصحابِ رائے رکھا ہے، اسی وجہ سے امام شافعی نے فرمایا کہ تمام لوگ فقہ میں امام ابو حنیفہ کی عیال ہیں، ابن حزم نے لکھا ہے کہ تمام حنفیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان کے امام کا مذہب یہ ہے کہ ضعیف حدیث بھی ان کے نزدیک رائے اور قیاس سے اولیٰ ہے، اسے سخاوی نے ذکر کیا ہے۔
علامہ ابن حجر نے المناقب الحسان میں فرمایا: یہ بات جان لو کہ بعض علماء نے جو امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کو اصحاب الرائے لکھا ہے تو اس کی وجہ ان کی تنقیص کرنا نہیں، نہ یہ وجہ ہے کہ یہ رائے کو سنت اور اقوالِ صحابہ پر مقدم کرتے ہیں کیونکہ احناف اس سے بری ہیں، کثیر طرق سے امام ابوحنیفہ کا یہ قول موجود ہے کہ وہ پہلے قرآن میں موجود حکم کو لیتے ہیں، اگر قرآن میں نہ پائیں تو سنت سے لیتے ہیں اور اگر سنت میں نہ پائیں تو اقوالِ صحابہ سے لیتے ہیں اگر ان میں اختلاف ہو تو جو قول قرآن و سنت سے زیادہ قریب ہوا اسے لیتے ہیں، اگر صحابہ کا کوئی قول نہ ہو تو پھر خود اجتہاد کرتے ہیں۔
عبداللہ بن مبارک امام اعظم سے نقل کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیث آجائے تو سر اور آنکھوں پر اور جب صحابہ سے کوئی قول آجائے تو میں اسے اختیار کرتا ہوں، اور جب تابعین سے قول آئے تو میں خود اجتہاد کرتا ہوں۔ انہی سے امام اعظم کا قول مروی ہے کہ لوگوں پر یہ بات کہنے میں تعجب ہے کہ میں رائے سے فتویٰ دیتا ہوں، میں تو صرف اثر ہی سے فتویٰ دیتا ہوں۔ انہی سے امام اعظم کا قول ہے کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کتاب اللہ کے ساتھ اپنی رائے سے کلام کرے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت کے مقابلہ میں رائے سے کلام کرے، اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ صحابہ جس بات پر مجتمع ہوں اس کے مقابلہ میں رائے استعمال کرے، ہاں اگر صحابہ میں اختلاف ہو تو ہم اس قول کو اختیار کرتے ہیں جو کتاب اللہ اور سنت کے قریب ہو اور ہم اجتہاد کرتے ہیں۔ امام اعظم کے مذہب کے قیاسات کی دقت کی وجہ سے امام مزنی ان کے کلام میں کثیر نظر کرتے ہیں یہاں تک کہ اس بات نے ان کے بھانجے امام طحاوی کو ابھارا کہ مذہب شافعی سے مذہب حنفی کی طرف منتقل ہو جائیں جیسا کہ امام طحاوی نے خود اس کی تصریح کی ہے۔ (مرقاة المفاتیح، باب الجماعة وفضلہا، ج3، ص، 846,847 دارالفکر، بیروت)
بعض اہل الكوفة:
ان الفاظ سے امام ترمذی کی مراد کبھی امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور کبھی امام سفیان ثوری ہوتے ہیں۔
شروحات جامع ترمذی:
حضرت علامہ مصطفی بن عبد اللہ المشہور باسم حاجی خلیفہ (المتوفی 1067ھ) اپنی مشہور کتاب ”کشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون“ میں جامع ترمذی کی شروحات کے بارے میں لکھتے ہیں:
(1) عارضة الاحوذی فی شرح الترمذی: یہ شرح الحافظ ابوبکر محمد بن عبد اللہ الاشبیلی المالکی (متوفی 645ھ) کی تالیف ہے۔ جو ابن عربی مالکی کے نام سے مشہور ہیں۔
(2) المنقح الشذی: یہ شرح حافظ ابو الفتح محمد بن محمد بن سید الناس الیعمر ی الشافعی (متوفی 347ھ) کی تالیف ہے، انہوں نے جامع ترمذی کے دو ثلث سے کم کی شرح دس جلدوں میں کی ہے، مصنف اس شرح کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے، اگر وہ صرف فن حدیث پر اقتصار کرتے تو یہ مکمل ہو جاتی ، بعد میں حافظ زین الدین عراقی (متوفی 608) نے اس کی تکمیل کیے۔
(3) شرح الزوائد علی الصحيحين وابی داؤد: یہ شرح سراج الدین عمر بن علی بن ملقن (متوفی 408ھ) کی ہے۔
(4) العرف الشذی علی جامع الترمذی: یہ سراج الدین عمر ابن ارسلان الملقنی (المتوفی 508ھ) کی تالیف ہے ، انہوں نے جامع ترمذی کے صرف ایک حصے کی شرح کی ہے، مکمل نہ کی۔
(5) شرح الترمذی: یہ شرح الحافظ زین الدین عبد الرحمان بن احمد بن نقیب المحنبلی کی تالیف ہے۔ یہ شرح بیس جلدوں پر مشتمل ہے مگر ایک فتنہ میں جل کر ضائع ہوگئی۔
(6) قوت المغتذی علی جامع الترمذی: یہ شرح علامہ جلال الدین سیوطی (متوفی 119ھ) کی تصنیف ہے۔
(7) شرح الترمذی: حافظ زین الدین عبدالرحمان بن احمد بن رجب الحنبلی (متوفی 597ھ) کی تالیف ہے۔ (کشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون، ج، 01، ص، 559 مكتبة المثنى، بغداد)
مختصرات:
جامع ترمذی کی مختصرات بھی تالیف کی گئی ہیں، جن میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں:
(1) مختصر الجامع: یہ نجم الدین محمد بن عقیل بالسی شافعی (متوفی 729ھ) کی تالیف ہے۔
(2) مختصر الجامع: یہ نجم الدین سلیمان بن عبدالقوی طوفی حنبلی (متوفی 710) کی تالیف ہے۔
(3) ملأۃ حدیث منتقاۃ من الترمذی: یہ حافظ صلاح الدین خلیل بن کیکلدی علائی (متوفی 761ھ) کی تالیف ہے۔ (کشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون، ج، 01، ص، 559 مكتبة المثنى، بغداد)