یہ وہ حدیث ہے جس میں راوی اثناء سند میں زیادہ ثقہ راویوں کی مخالفت کرے بایں طور کہ وہ وهم اور غلطی سے اثناء سند میں ایک یا ایک سے زائد راویوں کا ان ثقات کی بہ نسبت زیادہ ذکر کرے ، اور اس کی شرط یہ ہے کہ زیادتی کی جگہ پر ان ثقات نے اپنے سماع کی تصریح کی ہو ورنہ اگر ان کی حدیث معنعن ہوئی تو پھر اس کی زیادتی ترجیح ہوگی کیونکہ ثقہ کی زیادی مقبول ہوتی ہے ۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ، شرح نخبۃ الفکر ص ۶۵ ، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)
ملا علی قاری لکھتے ہیں ؛
عن ابن المبارك قال حدثنا سفيان عن عبد الرحمن بن يزيد حدثني بسر بن عبد الله قال سمعت ابا ادريس قال سمعت واثلة يقول سمعت ابا مرثد يقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها۔
از ابن المبارک از سفیان ، از عبد الرحمن بن یزید از بسر بن عبیداللہ از ابی ادریس از واثلہ از ابو مرثد روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبروں پر نہ بیٹھو نہ ان کی طرف نماز پڑھو۔
اس حدیث میں دو جگہ زیادتی کی گئی ہے پہلی جگہ میں لفظ سفیان ہے اور دوسری جگہ میں لفظ ابوادریس ہے اور یہ زیادتی کا سبب راوی کا وهم ہے لفظ سفیان کو زیادہ ذکر کرنے کی وجہ ابن مبارک سے سننے والے کا وهم ہے کیونکہ ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اس حدیث کو ابن المبارک سے از عبد الرحمن بن یزید روایت کیا ہے اور بعض نے یہ تصریح بھی کی ہے کہ ابن المبارک نے عبد الرحمن بن یزید سے سنا ہے، لہٰذا متعین ہوگیا کہ درمیان میں سفیان کا لفظ زائد ہے۔ اور لفظ ابو ادریس کی زیادتی یہ ابن المبارک کا وهم ہے کیونکہ ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اس حدیث کو عبد الرحمن بن یزید سے روایت کیا ہے اور ابو ادریس کا ذکر نہیں کیا اور بعض ثقہ راویوں نے یہ تصریح کی ہے کہ بسر بن عبید اللہ نے واثلہ سے سماع کیا ہے، پس ظاہر ہو گیا کہ درمیان میں ابو ادریس کا ذکر زائد ہے۔
اس کا منشاء وهم یہ ہے کہ ابو حاتم رازی نے بیان کیا ہے کہ اکثر بسر بن عبد اللہ، ابو ادریس سے روایت کرتے ہیں، اس لیے ابن المبارک کو وهم ہوا اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ بسر نے اس کو بھی ابو ادریس سے روایت کیا ہے حالانکہ یہاں بسر نے واثلہ سے سماع کیا تھا۔ (ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ھ، شرح شرح نخبة الفكر ص ۱۳۹، موضوعاً، مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ، ۱۳۹۷ھ)