۵۴۲ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، یَعْنِی ابْنَ مُقَاتِلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِی غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظُّهَائِرِ فَسَجَدْنَا عَلَى ثِيَابِنَا اِتِّقَاءَ الْحَرِّ.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد یعنی ابن مقاتل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے خبر دی انہوں نے کہا: ہمیں خالد بن عبدالرحمن نے خبر دی انہوں نے کہا: مجھ سے غالب القطان نے حدیث بیان کی از بکر بن عبداللہ المزنی از حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اکثر ظہر کی نماز پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے۔
اس حدیث کی شرح صحیح البخاری: ۳۸۵ میں گزرچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: گرمی کی شدت میں کپڑے پر سجدہ کرنا اور یہاں اس کا عنوان ہے: زوالِ آفتاب سے ظہر کا وقت ہے اور اس حدیث میں دونوں عنوانوں کی گنجائش ہے اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ گرمی کی شدت میں ظہر کی نماز پڑھی گئی یہ بیان جواز کے لیے ہے اور گرمی کی شدت میں نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کے منافی نہیں ہے کیونکہ گرمی کی شدت میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنا مستحب ہے، نیز اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ مستحب کام کو کبھی کبھی ترک بھی کردینا چاہیے نیز اس حدیث میں “ظھائر” کا لفظ ہے یہ “ظھر” کی جمع ہے اس سے مراد ہے: کئی ایام کی ظہر۔
