۲۳ – بَابُ السُّجُودِ عَلَى الثوْبِ فِي شِدَّةِ الْحَرِ

شدید گرمی میں کپڑے پر سجدہ کرنا

اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ شدید گرمی میں نمازی اپنے کپڑے کی مثلاً آستین یا دامن پر سجدہ کرسکتا ہے ۔ باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ اس میں بستر پر نماز پڑھنے کا ذکر تھا اور اس میں کپڑے پر سجدہ کرنے کا ذکر ہے اور دونوں بابوں میں یہ بات مشترک ہے زمین پر سجدہ نہیں کیا گیا بلکہ زمین اور سجدہ کے درمیان بستر یا کپڑا حائل تھا۔

وقال الْحَسَنُ كَانَ الْقَوْمُ يَسْجُدُونَ عَلَى الْعِمَامَةِ وَالْقَلَنَسُوَةِ وَيَدَاهُ فِي كُمِّهِ.

اور حسن بصری نے کہا: لوگ عمامہ پر سجدہ کرتے تھے اور ٹوپی پر اور ان کے ہاتھ اپنی آستین میں ہوتے تھے۔

اس تعلیق کی اصل یہ حدیثیں ہیں:

اشعث بیان کرتے ہیں کہ حسن بصری اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی کپڑے پر سجدہ کرے۔( مصنف ابن ابی شیبه : ۲۷۷۵)

ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سخت سردی میں لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی پھر اپنے کپڑے کے ایک پلو کو زمین پر رکھ کر اس پر سجدہ کیا، پھر فرمایا: اے لوگو! جب تم میں سے کسی کو شدید گرمی یا سردی لگے تو وہ کپڑے کے پہلو پر سجدہ کرلیا کرے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۲۷۶۷ – ج 1 ص ۲۴۱ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۶ھ )

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شدید گرمی میں نماز پڑھتے تھے اور جب ہم میں سے کسی شخص کے لیے زمین پر چہرہ رکھنا ممکن نہ ہوتا تو وہ زمین پر کپڑا بچھاکر اس پر سجدہ کرتا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۲۷۶۹)

٣٨٥ – حدثنا أبو الْوَلِيدِ ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ،قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضِّلِ قَالَ حَدَّثَنِي غَالِبُ الْقَطَانُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِاللهِ، عَنْ انس بن مالک، قالَ كُنَّا نُصَلّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اليَضَعُ أَحَدُنَا طَرَفَ القَوْبِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرَ فی كان السجود .اطراف الحديث : ۵۴۲ – 1208]

صحیح مسلم : ۶۳۰ الرقم المسلسل : ۱۳۸۱، سنن ابوداؤد: ۶۶۰ ، سنن ترمذی: ۵۸۴ سنن نسائی : 1116،  سنن ابن ماجه: ۱۰۲۳ مصنف ابن ابي شيبه ج ا ص 269،  سنن دارمی: ۱۳۳۷ مسند ابو یعلی : ۴۱۵۲، صحیح ابن خزیمہ : ۶۷۵ ، صحیح ابن حبان : 2354،  سنن بیہقی ج ۲ ص ۱۰۵ شرح السنته : 357،  مسند احمد ج ۳ ص ۱۰۰ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۱۹۷۰ – ج ۱۹ ص 33 مؤسسة الرسالة بيروت جامع المسانيد لابن الجوزی : ۱۳۴ مكتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے بشر بن المفضل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے غالب القطان نے حدیث بیان کی از بکر بن عبداللہ از حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے کپڑے کا پلو سجدہ کی جگہ پر رکھتا۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں ان سب کا تعارف ہوچکا ہے اس کی سند کے دوسرے راوی ہیں : بشر بن المفضل الرقاشی العثمانی یہ ہر روز چار سو رکعت نماز پڑھتے تھے اور تیسرے راوی غالب القطان ہیں ان کا نام ہے: غالب بن خطاف۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: پھر ہم میں سے کوئی شخص گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے کپڑے کا پلو سجدہ کی جگہ پر رکھتا۔

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نماز میں تھوڑا سا عمل معاف ہے کیونکہ سجدہ کی جگہ پر کپڑا رکھنا بھی ایک عمل ہے۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: ۱۳۰۷۔ ج ۲ ص ۲۴۲ پر مذکور ہے اس کی شرح کا عنوان ہے: نمازی کا اپنے فاضل کپڑے پر سجدہ کرنا۔