ابواب طهارت
عموماً محدثین کی عادت ہے کہ اولاً ”کتاب“ کا عنوان باندھتے ہیں پھر اس کے تحت ”باب“ ذکر کرتے ہیں مثلاً امام بخاری لکھتے ہیں ”کتاب العلم باب فضل العلم، کتاب الوضوء باب لا تقبل صلوۃ بغیر طہور وغیرہ، لیکن امام ترمذی کا اندازِ ذرا منفرد ہے، آپ کی عادت یہ ہے کہ ”کتاب“ کا عنوان باندھنے کی بجائے ”ابواب“ کا عنوان ذکر کرتے ہیں اور پھر اس کے تحت ”باب“ لاتے ہیں جیسے ابواب الطهارة باب ما جاء لا تقبل صلوة بغیر طهور، ابواب الصلوة باب ما جاء في مواقيت الصلاة عن النبي صلى الله عليه وسلم وغیرہ۔
لفظ ”ابواب“ کی مناسبت سے اولاً ہم کتاب، باب اور فصل کی تعریفات ذکر کریں گے پھر لفظ ”طہارت“ کا اعراب اس کا لغوی و اصطلاحی معنی، طہارت کی اقسام، ابوابِ طہارت کو دیگر پر مقدم کرنے کی وجہ اور اس کے بعد امام ترمذی کا ”ابواب الطهارة“ کے بعد ”عن رسول الله صلى الله عليه وسلم“ کا اضافہ کرنے کی حکمت بیان کر کے احادیثِ طیبہ کی شرح کا آغاز کریں گے۔
کتاب، باب اور فصل کی تعریفات:
”موسوعة کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم“ میں ہے: ”مصنفین کی اصطلاح میں ایک ہی جنس کے مخصوص مسائل پر دلالت کرتے الفاظ کے مجموعہ کو کتاب کہا جاتا ہے، ابواب اس جنس کی مختلف انواع پر دلالت کرتے ہیں اور فصول اس کی اصناف پر، اور ابواب و فصول کے لفظ کبھی ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ”جامع الرموز“ اور ”شرح المنهاج“ میں یوں ہی مذکور ہے۔“(کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم، حرف الكاف، 2/1359 مكتبة لبنان ناشرون، بیروت)
لفظ ”طہارت“ کا اعراب اور اس کا لغوی معنی:
ابن منظور افریقی (متوفی 711ھ) اور مرتضی حسینی زبیدی (متوفی 1205ھ) لکھتے ہیں: ”لفظ طَہارت (بفتح الطا) پانی کے ذریعے پاکی حاصل کرنے کے فعل پہ بولا جاتا ہے یعنی استنجا اور وضو کے لئے اور طُہارت (بضم الطا) جس شے سے نظافت حاصل کی جائے اس کے باقی ماندہ کو کہتے ہیں (جیسے وضو کا بچا ہوا پانی)“ (لسان العرب،حرف الراء،فصل الطاء المهملة،ج 4،ص 506دارصادر، بیروت) (تاج العروس،فصل الطاء المهملة مع الرائ،12/449دارالهدایه)
علامہ سراج الدین ابن نجیم (متوفی 1005ھ) لفظِ طہارت کے بارے لکھتے ہیں: ”طاء پر زبر ہو تو لغت میں اس کا مطلب ہے حسی اور معنوی میل سے صاف ستھرا ہونا اور ایک قول یہ ہے کہ (صرف) حسی میل کچیل سے صاف ستھرا ہونا، طاء کے نیچے زیر ہو تو اس سے مراد ہے آلہ نظافت اور طاء پر ضمہ ہو تو یہ طہارت کے بچے ہوئے پانی کو کہتے ہیں۔“ (نهر الفائق،کتاب الطهارة،ج1،ص21،قدیمی کتب خانه،کراچی)
”طہارت“ کا اصطلاحی معنی:
علامہ زین الدین ابن نجیم (متوفی 970ھ) فرماتے ہیں: ”اصطلاح میں نجاستِ حکمیہ یا حقیقیہ کے زوال کو طہارت کہتے ہیں۔ مزید نجاستِ حکمیہ اور حقیقیہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”نجاستِ حکمیہ اس (معنوی) شرعی رکاوٹ کا نام ہے جو اعضائے وضو یا اعضائے غسل کے ساتھ اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس کو زائل کرنے والی کوئی چیز استعمال نہ کی جائے اور نجاستِ حکمیہ کو زائل کرنے والی چیزیں دو طرح کی ہیں:
(1) طبعی: جیسے پانی (2) شرعی: جیسے مٹی
اور نجاستِ حقیقیہ اس عین کو کہتے ہیں جو شرعاً گندگی ہو۔“ (بحر الرائق،کتاب الطهارت،ج1،ص8،دار الکتاب الاسلامی،بیروت)
طہارت کی بنیادی اقسام
بنیادی طور پر طہارت کی دو قسمیں ہیں:
(1) طہارتِ باطنیہ (2) طہارتِ جسمانیہ
اور ان دونوں کا ذکر قرآنِ کریم میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے {أُولٰئِكَ الَّذِيْنَ لَمْ يُرِدِ اللّٰهُ أَنْ يُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ }
ترجمہ کنز الایمان: وہ (لوگ) ہیں کہ اللہ نے اُن کا دل پاک کرنا نہ چاہا انہیں دنیا میں رسوائی ہے اور انہیں آخرت میں بڑا عذاب۔ (پ6،المائدة،آیت41)
مذکورہ آیت طہارتِ باطنی سے متعلق ہے، جبکہ طہارتِ ظاہری کا ذکر درج ذیل آیت میں ہے، ارشاد ہوتا ہے {يَاأَيُّهَا اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَاءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَائِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ مَا يُرِيْدُ اللهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَلٰكِنْ يُرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ}
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو تو اپنا منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹھوں (ٹخنوں) تک پاؤں دھوؤ اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہولو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا یا تم نے عورتوں سے صحبت کی اور ان صورتوں میں پانی نہ پایا تو پاک مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے، ہاں یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب ستھرا کردے اور اپنی نعمت تم پر پوری کردے کہ کہیں تم احسان مانو۔ (پ6، المائدہ، آیت6)
طہارت باطنی سے متعلق حجة الاسلام امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 505ھ) فرماتے ہیں: ’’اہلِ بصیرت جانتے ہیں کہ سب سے زیادہ اہمیت باطن کی صفائی کی ہے کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان ’صفائی نصف ایمان ہے‘ سے یہ ہرگز مراد نہیں ہوسکتا کہ ظاہر کو تو پانی بہا کر پاک کرلیا جائے اور باطن کو نجاستوں اور گندگیوں سے آلودہ چھوڑ دیا جائے۔‘‘ کچھ آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’اصل مقصود دل کی طہارت ہے اور اس کے دو درجے ہیں (1) دل کو اچھے اخلاق اور شرعی عقائد سے آباد کرنا اور (2) برے عقائد اور ناپسندیدہ خصلتوں سے پاک رکھنا، ان میں سے ہر درجہ دوسرے کے لئے شرط ہے۔‘‘ مزید فرماتے ہیں: ’’بندہ اس وقت تک باطن کو صفات مذمومہ سے پاک اور عادات محمودہ سے آباد نہیں کرسکتا جب تک کہ دل کو بری عادات سے پاک اور اچھی عادات سے آباد نہ کرلے اور جب تک بندہ ظاہری اعضاء کو گناہوں سے پاک اور عبادات سے مزین نہ کر لے اس بلند مقام کو نہیں پاسکتا، پس جب مطلوب عز و شرف والا (مرتبہ و مقام) ہو تو اس کا راستہ دشوار اور طویل ہوتا ہے اور گھاٹیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں لہٰذا یہ خیال نہ کیا جائے کہ یہ چیز باَسانی حاصل ہوجائے گی۔ البتہ! جو شخص ان مراتب میں فرق کو نہیں سمجھ سکتا وہ طہارت کا آخری درجہ ہی سمجھ سکتا ہے (یعنی ظاہر کو نجاستوں اور گندگیوں سے پاک کرنا) جو کہ مطلوب مغز کے اعتبار سے آخری ظاہری چھلکا ہے وہ اس میں بہت غور وخوض اور اس کے طریقوں میں مبالغہ کرتا ہے، اپنے تمام اوقات استنجا کرنے، کپڑے دھونے، ظاہر کی صفائی کرنے اور بہنے والے وافر پانی کی طلب میں گزار دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے وسوسے اور عقلی گمان میں یہی سمجھتا ہے کہ طہارت جو مطلوب ہے وہ یہی ہے، ایسا شخص اسلاف کی سیرت سے نا آشنا ہے۔ (احیاء علوم الدین، ربع العبادات، کتاب اسرار الطهارة، 126-1/125، دار المعرفة، بيروت)
طہارت جسمانیہ کی اقسام:
طہارت جسمانیہ کی ابتداءً دو قسمیں ہیں:
(1) حدث سے طہارت، اسے طہارت حکمیہ بھی کہتے ہیں۔
(2) خُبْث سے طہارت، اسے طہارت حقیقیہ بھی کہتے ہیں۔
پھر طہارت حکمیہ کی تین قسمیں ہیں:
اور طہارت حقیقیہ کی دو قسمیں ہیں:
(1) نجاستِ غلیظہ سے طہارت (2) نجاستِ خفیفہ سے طہارت
امام ابو بکر بن مسعود بن احمد کا سانی حنفی (متوفی 587ھ) طہارت کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”در اصل طہارت کی دو قسمیں ہیں: (1) طہارت عن الحدث، اسے طہارت حکمیہ کہتے ہیں اور (2) طہارت عن الْخَبَث، اسے طہارت حقیقیہ کہتے ہیں اور طہارت عن الحدث کی تین انواع ہیں: وضو، غسل اور تیمم۔ (بدائع الصنائع، كتاب الطهارة، فصل فی انواع الطهارة، 3/1، دار الكتب العلميه، بيروت)
علامہ حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی فرماتے ہیں: ”نجاست حقیقیہ کی دو قسمیں ہیں: (1) نجاست غلیظہ، یہ غلیظہ اس اعتبار سے ہے کہ اس میں قلیل مقدار کی معافی ہے، نہ کہ پاک کرنے کی کیفیت کے اعتبار سے کیونکہ پاک کرنے کا طریقہ غلیظہ اور خفیفہ میں مختلف نہیں ہے۔ (2) نجاست خفیفہ، یہ خفیفہ اس اعتبار سے ہے کہ اس میں کثیر مقدار کی معافی ہے جو کہ غلیظہ میں نہیں ہے، یہ بھی پاک کرنے کے اعتبار سے خفیفہ نہیں ہے۔ (مراقی الفلاح، ج1، ص64، المكتبة العصريه، بيروت)
ابواب طہارت کو مقدم کرنے کی وجہ:
عبادات اپنی اہمیت وعظمت کے باعث معاملات وعقوبات سے مقدم ہیں اور نماز افضل العبادات ہے لہذا نماز کے ابواب کو دیگر پر مقدم کرنا متعین ہوا پھر طہارت کا نماز کی شرط ہونا نص سے ثابت ہے اور شرط طبعاً مشروط پر مقدم ہوتی ہے اس لئے وضعاً (ذکر کرنے میں) بھی شرط کو مشروط سے مقدم کر دیا۔ (ماخوذ من ”ارشاد الساری،کتاب الوضوء، 225-1/224 المطبعة الكبرى الاميرية، مصر“ و ”الدرالمختار مع رد المحتار،کتاب الطهارة، 1/ 80 دارالفكر، بیروت“ مع من زيادة)
سوال: طہارت کے علاوہ نماز کی اور بھی شرائط ہیں مثلاً ستر عورت اور استقبال قبلہ وغیرہ تو ان میں سے طہارت ہی کو کیوں مقدم کیا؟
جواب: دیگر شرائط کے بجائے طہارت کو اس لئے مقدم کیا کہ یہ ان سب سے اہم ہے یہاں تک کہ طہارت کسی عذر سے ساقط نہیں ہوتی۔ (بحرائق،کتاب الطهارت،باب احکام الوضو،ج 1،ص 8،دارالکتاب الاسلامی،بیروت مرقاة المفاتيح ،کتاب الطهارة،1/341،دارالفکر بیروت)
اور طہارت کی تخصیص کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہ نسبت دیگر، مسائل طہارت کی بہت زیادہ حاجت ہوا کرتی ہے(اور اس کے مسائل اکثر درپیش رہتے ہیں ۔) (عمدة القاری،کتاب الوضو،2/225دارالفکربیروت) (مرقاة المفاتیح،کتاب الطهارة،1/341دارالفکربیروت)
غالباً اسی وجہ سے کتب حدیث وفقہ میں دیگر شرائط نماز کا بیان تو ”کتاب الصلوۃ“ کے ضمن میں ہوتا ہے جبکہ مسائل طہارت کے بیان کے لئے مستقل کتاب ”کتاب الطہارة“ کے نام سے قائم کی جاتی ہے۔
”ابواب الطهارة“ کے بعد ”عن رسول الله صلى الله عليه وسلم“ کا اضافہ کرنے کی حکمت:
اس اضافہ سے امام ترمذی علیہ رحمتہ اللہ القوی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ابواب طہارت میں احادیث مرفوعہ مذکور ہوں گی یعنی وہ احادیث جو قولاً ،فعلاً یا تقریراً جانِ عالم علیہ الصلوۃ والسلام کی جانب منسوب ہوں اور آثار صحابہ ذکر نہیں کئے جائیں گے۔
—