بدعتی کی روایت کردہ حدیث کا کوئی مستقل نام نہیں ہے تاہم اس کو حدیث مردود کی اقسام میں شمار کیا جاتا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
بدعت کی دو قسمیں ہیں، ایک بدعت مکفرہ ہے اور ایک دوسری بدعت مفسقہ ہے
بدعت مکفرہ کے مرتکب کی حدیث کو جمہور محدثین قبول نہیں کرتے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس روایت مطلقاً مقبول ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اگر وہ اپنے مذہب کی تائید کے لیے کذب کو جائز نہیں اعتقاد کرتا تو اس کی روایت مقبول ہے ورنہ نہیں، اور تحقیق یہ ہے کہ ہر بدعت مکفرہ کے مرتکب کی حدیث مردود نہیں ہوتی، کیونکہ ہرگروہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا مخالف بدعتی ہے اور بھی مبالغہ کرکے اپنے مخالف کی تکفیر کرتا ہے، اگر اس قول کو مطلقاً اعتبار کرلیا جائے تو تمام فرقوں کی تکفیر لازم آئے گی، اسی لیے معتمد بات یہ ہے کہ جو شخص کسی ایسے امر متواتر کا انکار کرے جس کا دین سے ہونا بداہتہً معلوم ہو (جیسے پانچ نمازیں اور ماہِ رمضان کے روزے) اس کی روایت مردود ہوگی، اسی طرح اس کی روایت مردود ہوگی، جو کسی ایسے امر کا اعتقاد رکھتا ہو جس کے متعلق بداہتہً معلوم ہو کہ یہ دین کے مخالف ہے، (جیسے بت پرستی) اور جو اس طرح نہ ہو اور اس کا حفظ اور ضبط تام ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ متقی اور پرہیزگار بھی ہو اس کی حدیث قبول کرنے سے کوئی مانع نہیں ہے۔
بدعتِ مفسقہ وہ ہے، جس کے ارتکاب پر مطلقاً تکفیر نہیں کی جاتی، اس کے رد اور قبول میں بھی اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ اس کی روایت مطلقاً مردود ہے اور یہ بہت بعید ہے، اس پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اس کی روایت کو قبول کرنے سے اس کے طریقہ کی ترویج ہوگی اور اس کی تعظیم ہوگی، اس دلیل پر یہ اعتراض ہے کہ پھر بدعتی کی اس روایت کو بھی نہیں قبول کرنا چاہیے جس کو روایت کرنے میں کوئی غیر بدعتی بھی شریک ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اگر وہ کذب کے حلال ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتا تو اس کی روایت مطلقاً مقبول ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اگر اس کی روایت اس کی بدعت کی تائید نہیں کرتی تو اس کی روایت مقبول ہوگی، کیونکہ اپنی بدعت کو مزین کرنے کے لیے ہوسکتا ہے وہ روایات میں تحریف کرے۔ اور یہی زیادہ صحیح قول ہے اور اکثر ائمہ کا یہی قول ہے اور جو روایت اس کے مذہب کو تقویت پہنچاتی ہو اس کو مذہبِ مختار پر مسترد کردیا جائے گا۔ امام ابو داؤد کے شیخ حافظ ابو اسحاق ابراہیم بن یعقوب جوزجانی اور امام نسائی نے اس کی تصریح کی ہے۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبة الفکر، ص ۷۴۔۷۲، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)