امام احمد، اسحاق، اور ابو حاتم کے نزدیک حدیث بیان کرنے کی اجرت لینے والے کی روایت مقبول نہیں ہے، اور امام ابو نعیم فضل، علی بن عبدالعزیز اور دوسرے ائمہ کے نزدیک اس کی روایت مقبول ہے، اور شیخ ابو اسحاق شیرازی کا فتویٰ یہ ہے کہ جو شخص حدیث میں مشغولیت کی وجہ سے اپنے عیال کے لیے کسب نہ کر سکے اس کے لیے حدیث کی اجرت لینا جائز ہے۔ (علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ، تقريب النواوی مع التدريب ج ۱ ص ۳۳۷، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ)
علامہ سیوطی لکھتے ہیں:
ظاہر قرآن میں اس کی شہادت ہے کیونکہ وصی کو جب حاجت ہو یا یتیم کے مال کی حفاظت کی وجہ سے وہ کسب نہ کر سکے تو وہ یتیم کے مال سے اجرت لے سکتا ہے۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۳۳۸، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ)