Site icon اردو محفل

جرح اور تعدیل کے الفاظ کا بیان

جرح اور تعدیل کے الفاظ کا بیان

علامہ نووی لکھتے ہیں:

الفاظ تعدیل کے کئی مراتب ہیں، پہلا مرتبہ: ثقہ، متقن، ثبت یا حجت، عدل، حافظ، یا ضابط۔ دوسرا مرتبہ: صدوق، لا باس به، تیسرا مرتبہ: یہ بوڑھا ہے، اس کی حدیث لکھی جائے گی اور غور کیا جائے گا، چوتھا مرتبہ: صالح الحديث، اس کی حدیث اعتبار کے لیے لکھی جائے گی۔

الفاظ جرح کے بھی کئی مراتب ہیں: یہ قوی نہیں ہے اس کی حدیث لکھی جاتی ہے، اور یہ لین سے کم مرتبہ کا ہے اور جب وہ کہیں ضعیف الحدیث تو یہ ” قوی نہیں ہے ” اس کو پھینکا نہیں جائے گا بلکہ اس کا اعتبار کیا جائے گا” سے کم مرتبہ کا ہے، اور جب وہ کہیں متروک الحدیث یا واہی یا کذاب تو یہ ساقط ہے اس کی حدیث لکھی نہیں جائے گی، نیز ان کے الفاظ ہیں، فلاں شخص سے لوگ روایت کرتے ہیں، وسط ہے، مقارب الحدیث ہے، مضطرب ہے، اس سے استدلال نہیں کیا جاتا، مجهول ہے، لا شئ ہے، ليس بذاك، ليس بذاك القوی، اس کی حدیث میں ضعف ہے وغیرہ۔(علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ تقريب النواوي ج ۱ ص ۳۴۸ – ۳۴۲، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ، ۱۳۹۲ھ)

Exit mobile version