بے شمار علماء سلف سے مروی ہے کہ جو احادیث حلال اور حرام کرنے سے متعلق ہوں ان میں صرف ان لوگوں کی روایت جائز ہے جو تہمت سے بری ہوں اور بدگمانی سے دور ہوں اور جو احادیث ترغیب اور مواعظ سے متعلق ہوں ان کو تمام مشائخ سے لکھنا جائز ہے، سفیان ثوری کہتے تھے کہ حلال اور حرام میں اس علم کو صرف ان لوگوں سے حاصل کرو جو اس فن کے رئیس ہیں اور علم میں مشہور ہیں جو کمی اور زیادتی کی معرفت رکھتے ہیں اور اس کے ماسوا میں باقی مشائخ سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، امام احمد بن حنبل فرماتے تھے کہ جب ہم حلال، حرام، سنن اور احکام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث روایت کرتے ہیں تو اسانید میں سخت قیود لگاتے ہیں اور جب ہم فضائل اعمال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی احادیث روایت کرتے ہیں جن سے کوئی حکم لاگو ہوتا ہے نہ ساقط ہوتا ہے تو پھر ہم اسانید میں تساہل کرتے ہیں۔ ابوزکریا عنبری نے کہا جب کسی چیز کو حلال یا حرام کرنے یا اور کسی حکم کے متعلق حدیث وارد نہ ہو اور ترغیب یا ترہیب یا تشدد یا ترخیص ہو تو اس سے اغماض کرنا اور اس کے راویوں کے احوال سے تساہل کرنا واجب ہے۔(حافظ ابوبکر احمد بن علی بن ثابت خطیب بغدادی متوفی ۴۶۳ھ، الکفایۃ فی علم روایۃ ص ۱۳۴، ۱۳۳، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ) (یا جائز ہے؟ سعیدی غفرلہ)
حافظ ابوعمرو بن صلاح لکھتے ہیں:
محدثین وغیرہم (یعنی فقہاء) کے نزدیک موضوع حدیث کے علاوہ احادیثِ ضعیفہ کو بغیر بیانِ ضعف کے روایت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ احادیث اللہ تعالیٰ کی صفات اور حلال اور حرام اور دیگر احکامِ شریعت سے متعلق نہ ہوں مثلاً مواعظ قصص، فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب کے دیگر فنون سے متعلق ہوں، جن کا احکام اور عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اور جن ائمہ نے اس میں تساہل کی تصریح کی ہے ان میں عبدالرحمٰن بن مہدی اور امام احمد بن حنبل شامل ہیں۔ (حافظ ابو عمرو عثمان بن عبدالرحمٰن شہرزوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ علوم الحدیث ص ۹۳، ۹۲، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ)
علامہ یحیٰی بن شرف نووی لکھتے ہیں:
محدثین وغیرہم کے نزدیک موضوع حدیث کے علاوہ حدیثِ ضعیف کی سند میں روایت کے وقت تساہل کرنا جائز ہے اور اس پر عمل کرنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ اس حدیث کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفات اور احکامِ شرعیہ مثلاً حلال اور حرام سے نہ ہو اور اس حدیث کا عقائد اور احکام سے کوئی تعلق نہ ہو۔(علامہ یحیٰی بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ، تقریب النواوی مع تدریب الراوی ج ۱ ص ۲۹۸، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ)
علامہ سیوطی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں:
شیخ الاسلام (حافظ ابن حجر عسقلانی) نے فضائل اعمال وغیرہ سے متعلق ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی تین شرائط ذکر کی ہیں:
(۱)۔ اس حدیث میں شدید ضعف نہ ہو، سو جس حدیث کی روایت میں کوئی کاذب راوی یا متہم بالکذب راوی منفرد ہو، وہ اس قاعدہ سے خارج ہے، اس طرح جو راوی فاحش غلطی کرتا ہو، اس کی روایت بھی خارج ہے، علامہ علائی نے اس شرط پر اتفاق نقل کیا ہے۔
(۲)۔ وہ حدیث کسی معمول بہ قاعدہ کے تحت مندرج ہو۔
(۳)۔ اس حدیث پر عمل کرتے وقت اس حدیث کے ثبوت کا اعتقاد نہ کرے بلکہ احتیاط کا اعتقاد رکھے۔(علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۲۹۸ – ۲۹۹، مطبوعہ مطبعہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ)
ڈاکٹر محمد ظحان نے بھی ان تین شرائط کو حافظ ابن حجر عسقلانی کے حوالہ سے بیان کیا ہے۔ (۲ؗ۔ ڈاکٹر محمد ظحان، تیسیر مصطلح الحدیث ۶۴-۶۵، مطبوعہ نشر السنة ملتان)
صحیح مسلم کے مقدمہ کی شرح میں علامہ نووی نے اس مسئلہ پر محققانہ گفتگو کی ہے کہ حلال اور حرام جیسے احکام شرعیہ میں حدیث ضعیف سے استدلال کرنا مطلقاً جائز نہیں ہے، لکھتے ہیں:
بسا اوقات محدثین ضعیف راویوں سے ترغیب، ترهیب، فضائل اعمال اور قصص کی احادیث اور زہد اور مکارم اخلاق وغیرہ کی احادیث روایت کرتے ہیں جن کا حلال اور حرام اور دیگر احکام شرعیہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اس قسم کی احادیث میں محدثین وغیرہ کے نزدیک تساہل جائز ہے اور غیر موضوع کی روایت بھی جائز ہے اور اس پر عمل کرنا بھی جائز ہے، کیونکہ اس کے قواعد صحیح شریعت میں مقرر اور علماء کے نزدیک معروف ہیں، بہرحال جب ضعیف راوی احکام سے متعلق حدیث کی روایت میں منفرد ہوں تو اس حدیث سے استدلال نہیں کرتے کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جس کو ائمہ حدیث میں سے کسی امام نے اور محققین علماء میں سے کسی عالم نے نہیں کیا، اور اکثر فقہاء نے جو ضعیف راویوں پر اعتماد کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے بلکہ بہت قبیح ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اس راوی کا ضعف معلوم ہے تو ان کے لیے اس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ضعیف حدیث سے احکام میں استدلال نہیں کیا جاتا اور اگر اس کا ضعف معلوم نہیں ہے تب بھی بحث اور تفتیش یا اہل علم سے سوال کیے بغیر اس حدیث سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے۔ (علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ، شرح مسلم ج ۱ ص ۲۱، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی، ۱۳۷۵ھ)
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
موضوع کے ماسوا احادیث کو ترغیب، ترهیب، قصص، مواعظ اور ایسے دیگر امور میں بیان کرنا جائز ہے البتہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور حلال اور حرام میں ان کو بیان کرنا جائز نہیں ہے، ابن مہدی اور امام احمد بن حنبل نے حدیث ضعیف السند کو روایت کرنے کی اجازت دی ہے، اور جب تم بغیر سند کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی حدیث کو منسوب کرو تو یہ نہ کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا ہے یا اسی طرح کے دیگر الفاظ جازمہ استعمال نہ کرو بلکہ تمریض کے صیغہ کو استعمال کرو، (مثلاً روایت ہے) اسی طرح جس حدیث کی صحت میں شک ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔(حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ۷۷۴ھ ، اختصار علوم الحدیث ص ۷۶-۷۵ ، مطبوعہ دار احیاء التراث القاہرہ ۱۳۹۹ھ)
حافظ زین الدین عراقی لکھتے ہیں:
حدیث ضعیف کو بغیر بیان کے ذکر کرنا جائز ہے جب کہ اس سے احکام اور عقائد کو ثابت نہ کیا جائے بلکہ مواعظ اور قصص میں ترغیب اور ترہیب کے لیے اور فضائل اعمال وغیرہ میں اس کا بیان کرنا جائز ہے اور حلال اور حرام سے متعلق احکام شرعیہ میں ، اور اللہ تعالیٰ کی صفات اور دیگر عقائد کے اثبات میں حدیث ضعیف کو ذکر کرنا جائز نہیں ہے ، امام عبدالرحمان بن مہدی ، امام احمد بن حنبل اور امام عبداللہ بن المبارک نے اس کی تصریح کی ہے۔(حافظ زین الدین عبدالرحیم بن حسین عراقی متوفی ۸۰۶ھ ، التبصرہ والتذکرہ ج ۱ ص ۲۹۱ مطبوعہ دار الباز للنشر والتوزیع ، مکہ مکرمہ)
علامہ سخاوی لکھتے ہیں:
حافظ ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ فضائل میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے ، اور علامہ نووی نے کہا ہے کہ احتیاط کے مواضع میں بھی حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے، مثلاً بیع یا نکاح سے متعلق کسی معاملہ میں حدیث ضعیف السند سے کراہت ثابت ہو تو اس سے بچنا مستحب ہے لیکن واجب نہیں ہے ، اور قاضی ابوبکر ابن العربی مالکی نے کہا ہے کہ حدیث ضعیف پر عمل کرنا مطلقاً ممنوع ہے ، لیکن علامہ نووی نے اپنی کئی کتابوں میں لکھا ہے کہ محدثین کا اجماع ہے کہ فضائل وغیرہ میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے ، اور اس کی حسب ذیل شرائط ہیں:
(۱)۔ اس حدیث کی سند میں ضعف شدید نہ ہو۔
(۲)۔ وہ حدیث کسی ایسے عام قاعدہ کے تحت درج ہو جس سے کسی کا استثناء نہ کیا گیا ہو۔
(۳)۔ اس پر عمل کے وقت اس کے ثبوت کا اعتقاد نہ رکھا جائے بلکہ احتیاط کا اعتقاد رکھا جائے ۔ (علامہ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمان سخاوی متوفی ۹۰۲ھ ، فتح المغیث ج ۱ ص ۳۳۲ – ۳۳۴ ملخصاً ، مطبوعہ دار الامام الطبری ۱۴۱۲ھ)
احمد محمد شاکر نے بھی ان شرائط کا ذکر کیا ہے۔ (احمد محمد شاکر ، الباعث الحثیث ص ۷۶ ، مطبوعہ دار التراث القاہرہ ، ۱۳۹۹ھ)