حدیث ضعیف کی بدترین قسم موضوع ہے، اور اس پر سب کا اتفاق ہے، پھر اس کے بعد متروک ہے، پھر منکر ہے، پھر معلل ہے، پھر مدرج ہے، پھر مقلوب ہے، پھر مضطرب ہے، یہ حافظ ابن حجر عسقلانی کی بیان کردہ ترتیب ہے، اور علامہ خطابی نے کہا بدترین ضعیف موضوع ہے، پھر مقلوب ہے، پھر مجهول ہے، اور علامہ زرکشی نے کہا بدترین موضوع ہے، پھر مدرج ہے، پھر متروک ہے، پھر مقلوب ہے، پھر منکر ہے، پھر شاذ ہے، پھر مضطرب ہے، میں کہتا ہوں یہ بہت عمدہ ترتیب ہے لیکن متروک کو مدرج سے پہلے رکھنا چاہیے اور سند کے اعتبار سے حدیثِ ضعیف کی اقسام کی ترتیب اس طرح ہے، بدترین ضعیف معضل ہے، پھر منقطع ہے پھر مدلس ہے پھر مرسل ہے اور یہ بالکل واضح ہے۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۲۹۵، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ، ۱۳۹۲ھ)