Site icon اردو محفل

جامع ترمذی : ابواب الطہارت : باب 2 حدیث نمبر 2

  -2 باب ما جاء في فضل الطهور

 طہارت کی فضیلت

-2 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ، أَوْ الْمُؤْمِنُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ – أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، أَوْ نَحْوِ هَذَا – وَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ – أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ – حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ)) قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ حَدِيثُ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبُو صَالِحٍ وَالِدُ سُهَيْلٍ هُوَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، وَاسْمُهُ ذَكْوَانُ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ، فَقَالُوا: عَبْدُ شَمْسٍ،

ترجمہ:

 حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مؤمن بندہ وضو کرتا ہے، چہرہ دھوتا ہے تو پانی یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ نکل جاتے ہیں جو اس کی آنکھوں نے کئے تھے اور جب وہ دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو پانی یا اس کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے ہاتھوں سے وہ تمام گناہ جھڑجاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں نے کئے، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہوکر نکلتا ہے۔“ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اسے مالک نے سہیل اور ان کے والد کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے، اور ابو صالح سہیل کے والد ہیں جو کہ ابو صالح السمان ہیں اور ان کا نام ذکوان ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام میں علماء نے اختلاف کیا ہے، کچھ نے عبد شمس کہا۔

 وَقَالُوا: عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، وَهَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهَذَا الْأَصَحُّ. وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ، وَثَوْبَانَ، وَالصُّنَابِحِيِّ، وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، وَسَلْمَانَ، وَعَبْدِاللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالصُّنَابِحِيُّ هَذَا الَّذِي رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَضْلِ الطُّهُورِ، هُوَ عَبْدُاللهِ الصُّنَابِحِيُّ وَالصُّنَابِحِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، لَيْسَ لَهُ سَمَاعٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ، وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِاللهِ، رَحَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الطَّرِيقِ، وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ، وَالصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ الْأَحْمَسِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ: الصُّنَابِحِيُّ أَيْضًا، وَإِنَّمَا حَدِيثُهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي.

اور کچھ نے عبد اللہ بن عمرو، محمد بن اسماعیل بخاری علیہ الرحمہ نے بھی ایسا ہی فرمایا اور یہی صحیح تر ہے۔ اور اس باب میں عثمان، ثوبان، صنابحی، عمرو بن عبسہ، سلمان اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے روایات مروی ہیں۔ اور یہ صنابحی جنہوں نے فضل الطہور میں روایت کی ہے عبد اللہ صنابحی ہیں اور وہ صنابحی جنہوں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے ان کا سماع نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، اور ان کا نام عبد الرحمن بن عسیلہ ہے اور ان کی کنیت ابو عبداللہ ہے، انہوں نے نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سفر کیا تھا، راستہ میں تھے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ اور صنابح بن اعسر احمسی جو کہ صحابی ہیں ان کو بھی صنابحی کہا جاتا ہے، ان کی روایت کردہ حدیث یہ ہے، کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں تمہاری کثرت سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا لہٰذا میرے بعد قتل و غارت نہ کرنا۔“

 لفظ ”اَوْ“ ذکر کرنے کی وجہ:

حدیثِ پاک میں لفظِ مسلم اور مومن نیز مع الماء اور آخر قطرة الماء کے درمیان حرف ”اَوْ“ شکِ راوی ہے یعنی راوی کو شک گزرا کہ رسولِ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لفظِ مسلم ارشاد فرمایا تھا یا مومن نیز یہ فرمایا تھا کہ وضو کے پانی سے گناہ جھڑتے ہیں یا یہ کہ آبِ وضو کے آخری قطرے کے ساتھ گناہ جھڑتے ہیں۔ (شرح النووی علی مسلم، باب خروج الخطایا مع ماء الوضو، ج3، ص132، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

 فضائلِ وضو سے متعلق احادیثِ طیبہ:

امام بخاری و امام مسلم ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: (( اِنَّ اُمَّتِی يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مَُّحَجَّلِينَ مِنْ اٰثَارِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ اَنْ يَّطِيلَ غُرَّتَهٗ فَلْيَفْعَلْ )) ترجمہ: قیامت کے دن میری امت اس حالت میں بلائی جائے گی کہ مونھ اور ہاتھ پاؤں آثارِ وضو سے چمکتے ہوں گے تو جس سے ہوسکے چمک زیادہ کرے۔ (صحیح البخاری، کتاب الوضو، باب فضل الوضو، 1/39، حدیث، 136 دار طوق النجاة)  (صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب استحباب اطالة الغرة…، 1/216، حدیث، 246 دار احیاء التراث العربی، بیروت)

صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا: (( اَلَا اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ قَالُوْا بَلٰى يَارَسُوْلَ اللهِ قَالَ: اِسْبَاغُ الْوُضُوْءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا اِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلٰوةِ بَعْدَ الصَّلٰوةِ، فَذٰلِكُمُ الرِّبَاطُ )) ترجمہ: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتا دوں جس کے سبب اللہ تعالیٰ خطائیں محو فرما دے اور درجات بلند کرے؟ عرض کی ہاں یا رسول اللہ! فرمایا: جس وقت وضو ناگوار ہوتا ہے اس وقت وضوئے کامل کرنا اور مسجدوں کی طرف قدموں کی کثرت اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار اس کا ثواب ایسا ہے جیسا کفار کی سرحد پر حمایتِ بلادِ اسلام کے لیے گھوڑا باندھنے کا۔ (صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب فضل اسباغ الوضوء علی المكاره، 1/219، حدیث، 251 دار احیاء التراث العربی، بیروت)

بزار نے باسنادِ حسن روایت کی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے غلام حمران سے وضو کے لیے پانی مانگا اور سردی کی رات میں باہر جانا چاہتے تھے حمران کہتے ہیں: میں پانی لایا، انہوں نے مونھ ہاتھ دھوئے تو میں نے کہا اللہ آپ کو کفایت کرے رات تو بہت ٹھنڈی ہے اس پر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سنا ہے: ((لَايُسْبِغُ عَبْدٌ الْوُضُوْءَ اِلَّا غَفَرَ اللّٰهُ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ وَمَا تَاَخَّرَ)) ترجمہ: جو بندہ وضوئے کامل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے۔ (البحر الزخار المعروف بمسند البزار، مسند عثمان بن عفان،محمد بن كعب القرظي عن حمران، 1/75 الحديث، 422، مكتبة العلوم والحكم،المدينة المنورة)

طبرانی نے اوسط میں حضرت امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَسْبَغَ الْوُضُوْءَ فِی الْبَرْدِ الشَّدِیْدِ، کَانَ لَهٗ مِنَ الْاَجْرِ کِفْلَانِ)) ترجمہ: جو سخت سردی میں کامل وضو کرے اس کے لیے دونا ثواب ہیں۔ (المعجم الاوسط للطبرانی، باب الميم، من اسمه محمد، 5/298الحديث، 5366دار الحرمين ، القاهرة)

امام احمد بن حنبل نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ تَوَضَّأَ وَاحِدَةً فَتِلْكَ وَظِيْفَةُ الْوُضُوْءِ الَّتِيْ لَابُدَّ مِنْهَا، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثِنْتَيْنِ فَلَهٗ كِفْلَانِ، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا فَذَلِكَ وُضُوْئِيْ ، وَوُضُوْءُ الْاَنْبِيَاءِ قَبْلِيْ)) ترجمہ: جو ایک ایک بار وضو کرے تو یہ ضروری بات ہے اور جو دو دو بار کرے اس کو دونا ثواب اور جو تین تین بار دھوئے تو یہ میرا اور اگلے نبیوں کا وضو ہے۔ (مسندامام احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، مسندعبدالله بن عمر، 10/27حدیث، 5735مؤسسة الرسالة)

صحیح مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوْءَهٗ ، ثُمَّ يَقُوْمُ فَيُصَلِّيْ رَكْعَتَيْنِ ، مُقْبِلٌ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهٖ وَوَجْهِهِ ، اِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ)) ترجمہ: جو مسلمان وضو کرے اور اچھا وضو کرے پھر کھڑا ہو اور باطن و ظاہر سے متوجہ ہو کر دو رکعت نماز پڑھے اس کے لیے جنت واجب ہوتی ہے۔ (صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب الذكر المستحب عقب الوضوء، 1/209حدیث، 234دار احياء التراث العربي، بيروت)

مسلم میں حضرت امیر المؤمنین فاروق اعظم عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ يَّتَوَضَّأُ فَيُبْلِغُ – اَوْ فَيُسْبِغُ – الْوُضُوْءَ ثُمَّ يَقُوْلُ: اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُوْلُهٗ اِلَّا فُتِحَتْ لَهٗ اَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ اَيِّهَا شَاءَ)) ترجمہ: تم میں سے جو کوئی وضو کرے اور کامل وضو کرے پھر پڑھے “اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللهُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ” اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔ (صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب الذكر المستحب عقب الوضو، 1/209، حدیث، 234 دار احیاء التراث العربی، بیروت)

ترمذی نے حضرت عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ تَوَضَّأَ عَلَی طُہْرٍ كَتَبَ اللهُ لَہٗ بِهٖ عَشْرَ حَسَنَاتٍ)) ترجمہ: جو شخص وُضو پر وُضو کرے اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی ۔ (سنن ترمذی، ابواب الطهارة، باب ماجاء انه يصلى الصلوات بوضوء واحد، 1/91 حديث، 61 شركۃ مكتبۃ ومطبعۃ مصطفیٰ البابی الحلبی، مصر)

ابنِ خُزیمہ اپنی صحیح میں راوی کہ عبدُ اللہ بن بُرَیدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ایک دن صبح کو حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو بلایا اور فرمایا: ((یَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِیْ اِلَی الْجَنَّةِ اِنِّیْ دَخَلْتُ الْبارِحَةَ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ اَمَامِیْ ، فَقَالَ بِلَالٌ یَارَسُوْلَ اللهِ! مَا اَذْنَبْتُ قَطُّ اِلَّا صَلَّیْتُ رَكْعَتَیْنِ ، وَمَا اَصَابَنِیْ حَدَثٌ قَطُّ اِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَہَا ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: بِهٰذَا)) ترجمہ: اے بلال کس عمل کے سبب جنت میں تو مجھ سے آگے آگے جا رہا تھا میں رات جنت میں گیا تو تیرے پاؤں کی آہٹ اپنے آگے پائی۔ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں جب اذان کہتا اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھ لیتا اور میرا جب بھی وُضو ٹوٹتا وُضو کرلیا کرتا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا اسی سبب سے ۔ (صحیح ابن خزيمة، کتاب الصلاة، باب استحباب الصلاة عند الذنب…، 2/213 حدیث، 1209 المكتب الاسلامی، بیروت)

دارَقُطنی اور بیہقی اپنی سُنَن میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ، کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((اِذَا تَطَهَّرَ اَحَدُكُمْ فَلْیَذْكُرِ اسْمَ اللهِ، فَاِنَّہٗ یُطَهِّرُ جَسَدَهٗ كُلَّہٗ،وَإِنْ لَّمْ یَذْكُرِ اسْمَ اللهِ فِیْ طُهُوْرِهٖ لَمْ یُطَهِّرْ مِنْهُ اِلَّا مَا مَرَّ عَلَیْهِ الْمَاءُ)) ترجمہ: جس نے بسم اللہ کہہ کر وُضو کیا سر سے پاؤں تک اس کا سارا بدن پاک ہوگیا اور جس نے بغیر بسم اللہ وُضو کیا اس کا اتنا ہی بدن پاک ہوگا جتنے پر پانی گزرا۔ (سنن الدار قطنی، کتاب الطهارة، باب التسمية على الوضوء ، 1/124 الحدیث، 231 مؤسسة الرسالة ، بیروت)

نوٹ: مندرجہ بالا اکثر احادیث طیبہ بہارِ شریعت حصہ دوم میں مذکور ہیں، اصل عربی متن اور تخریج شامل کرکے بطور تبرک حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ کے الفاظِ مبارکہ من وعن نقل کر دیے گئے ہیں۔

 وضو سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں یا کبیرہ بھی؟

جمہور محدثین کی یہی رائے ہے کہ وضو اور یونہی دیگر عبادات سے گناہ جھڑنے والی احادیث میں گناہِ صغیرہ مراد ہیں اور صغیرہ بھی وہ کہ جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے جبکہ حقوق العباد اور کبیرہ گناہ توبہ، حد یا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی سے معاف ہوتے ہیں البتہ اگر کسی شخص نے صرف کبیرہ کا ارتکاب کیا ہو اور صغیرہ نہ کیا ہو یا صغیرہ کیا مگر توبہ یا کسی اور سبب سے معاف ہوچکا اور اب اس کے ذمے صرف کبیرہ ہی ہے تو امید ہے کہ وضو اور یونہی دیگر مکفّر ذنوب اعمال کی برکت سے اس کے کبیرہ میں تخفیف کی جائے گی، لہٰذاعلامہ شعرانی کی میزان الشریعہ میں مذکور امام اعظم اور سید علی الخواص علیہما الرحمۃ کے کشف کو بھی اسی صورت پر محمول کرنا چاہئے ۔علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ابن عربی نے کہا ہے کہ جن گناہوں کی مغفرت کا حکم کیا گیا وہ صغیرہ گناہ ہیں نہ کہ کبیرہ، کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ”کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے تو پانچوں نمازیں اور جمعہ اگلے جمعہ تک کی ان خطاؤں کا کفارہ ہیں جو ان کے درمیان سرزد ہوئیں“، پس جب وضو اور نماز مل کر کبیرہ گناہوں کو نہیں مٹاتے تو اکیلے وضو کا اسے نہ مٹانا زیادہ لائق ہے۔ فرمایا: اس حدیث میں جن گناہوں کے مٹنے کا تذکرہ ہے وہ حقوق اللہ سے متعلق گناہ ہیں اور جن گناہوں کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو ان میں نظر اس جانب ہے کہ حسنات کو برائیوں کا بدلہ کردیا جائے۔ مزید فرمایا: اگر دل کو گناہوں کے میل کچیل سے پاک کرکے باطنی اور شریعت کے طریقے کے مطابق اعضا پر پانی بہا کر ظاہری طہارت کی جائے اور پھر یوں نماز پڑھی جائے کہ دل دنیاوی خیالات اور وسوسوں سے خالی ہو اور تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام پھیرنے تک سب فکر و خیال اجزائے عبادت میں مجتمع رہیں، تو کبیرہ گناہ بخش دیئے جاتے اور سب معاصی مٹا دیئے جاتے ہیں اور اسلاف کا وضو ایسا ہی ہوا کرتا تھا ۔(قوت المغتذی علی جامع الترمذی، ابواب الطهارة، باب فضل الطهور، ج1، ص35 جامعه ام القرى، مكة المكرمة)

علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں : ظاہر حدیث تمام گناہوں کی مغفرت کو شامل ہے لیکن یہ (مغفرت) صغیرہ گناہوں کے ساتھ خاص ہے اور کبیرہ گناہ اور بندوں کی حق تلفیاں توبہ ہی سے معاف ہوتی ہیں ۔ (عمدة القارى، كتاب الوضو، باب الوضو ثلاثا، 3/7 دار احياء التراث العربي، بيروت)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی لکھتے ہیں : اس (مغفرت ذنوب) کا معنیٰ یہ ہے کہ کبیرہ کے علاوہ سب گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں کیونکہ کبیرہ اس طرح نہیں بخشے جاتے ۔۔۔ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث میں گناہوں کی بخشش کا جو ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک گناہِ کبیرہ کا ارتکاب نہ ہو۔ یہی اہلسنت کا مذہب ہے، اور کبیرہ گناہ توبہ یا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل سے مٹتے ہیں۔ (شرح النووی علی مسلم، فضل الوضو والصلوة عقبة، ج3، ص112 دار احياء التراث العربي، بيروت)

علامہ بدر الدین عینی فرماتے ہیں: حدیث کے ظاہر سے صغیرہ اور کبیرہ دونوں کی بخشش معلوم ہوتی ہے اور اللہ کا فضل وسیع ہے، لیکن اس حدیث اور اس طرح کی دوسری احادیث جیسے وضو، یومِ عرفہ اور یومِ عاشورا کے روزوں وغیرہ سے گناہ معاف ہونے والی احادیث کے بارے مذاہبِ علماء میں سے مذہبِ مشہور یہ ہے کہ اس سے صرف صغیرہ گناہوں کی بخشش مراد ہے، جیسا کہ وضو والی حدیث میں ’’مَالَمْ تُؤْتَ كَبِيْرَةٌ، مَالَمْ تُجْتَنَبِ الْكَبَائِرُ ‘‘ وارد ہوا کہ ’جب تک کبیرہ کا ارتکاب نہ کرے، جب تک کبائر سے بچا جائے‘۔ علامہ نووی نے کہا ہے کہ (ان روایات کو) صغیرہ گناہوں کی بخشش کے ساتھ خاص کر دینا محلِ نظر ہے، لیکن اس بات پر اجماع ہے کہ کبیرہ گناہ توبہ یا حد کے ذریعے ہی ساقط ہوتے ہیں۔ (عمدة القارى، ج1، ص233,234 داراحياء التراث العربي، بيروت)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: اگر کسی نے ایک یا متعدد کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ہوا اور کوئی صغیرہ نہ کیا ہو تو امید ہے کہ اس کے ان گناہوں میں تخفیف کی جائے گی۔ علامہ نووی فرماتے ہیں: ہمیں امید ہے کہ اس کے کبیرہ گناہوں میں تخفیف کی جائے گی۔ (عمدة القارى، كتاب الوضو، باب الوضو ثلاثا ،3/13 داراحياء التراث العربي، بيروت)(شرح النووی علی مسلم، فضل الوضو والصلوة عقبة ، 3/113 داراحياء التراث العربي، بيروت)

قوت المغتذی میں ہے: امام قرطبی وغیرہ متاخرین فرماتے ہیں: بعید نہیں کہ حسبِ اخلاص بعض اشخاص کے صغیرہ اور کبیرہ بھی مٹا دیئے جائیں اور یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔ (قوت المغتذی علی جامع الترمذی،ابواب الصلاة، 1/129 جامعه ام القرى، مكة المكرمة)

علامہ بدر محمود العینی حنفی علیہ رحمة الله القوی (متوفی 855ھ) فرماتے ہیں: اگر ان (مکفرِ ذنوب) اعمالِ حسنہ کے مقابلے میں صغیرہ آئیں تو یہ انہیں مٹا دیتے ہیں اور اگر ان کے مقابلے میں صغیرہ نہ آئیں مثلاً ان کاموں کا کرنے والا کم سنی کے باعث صغیرہ (وکبیرہ) گناہوں سے محفوظ رہا کہ اس وقت مکلف نہیں، یا پھر اسے یہ توفیق ملی کہ اس نے صغیرہ گناہ کیا ہی نہیں یا کرکے توبہ کرلی یا صغیرہ کے بعد کوئی ایسی نیکی کر لی جس نے اسے مٹا دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے {اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ} ’’بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں‘‘ تو اس شخص کے لئے ان اعمال کے بدلے نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے درجات بلند ہوں گے اور بعض علماء کہتے ہیں: امید ہے کہ (ان اعمال کے بدلے) کبیرہ کے بعض حصے میں یا بعض کبیرہ گناہوں میں تخفیف کی جائے گی۔ (عمدة القاری،کتاب الایمان،باب تطوع قیام رمضان،1/234دار احیاء التراث العربی،بیروت)

 اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی رائے:

امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان (متوفی 1340ھ) لکھتے ہیں ’بہت علماء فرماتے ہیں یہاں گناہوں سے صغائر مراد ہیں۔ اقول: تحقیق یہ ہے کہ کبائر بھی ڈھلتے ہیں اگرچہ زائل نہ ہوں، یہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ اکابر اولیائے کرام قدست اسرارہم کا مشاہدہ ہے جسے فقیر نے رسالہ ‘الطرس المعدل فی حد الماء المستعمل’ (1320ھ) میں ذکر کیا اور کرم مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بحر بے پایاں ہے، حدث عن البحر ولا حرج والحمد لله رب العالمین۔ اور بات وہ ہے جو خود مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت بیان کرکے ارشاد فرمائی کہ ((لا تغتروا)) اس پر مغرور نہ ہونا۔ رواہ البخامری عن عثمان ذی النورین رضی الله تعالى عنهم وحسبنا الله ونعم الوكيل۔ (فتاویٰ رضویہ،ج 1 ،ص،831 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

 سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کشف:

علامہ عبدالوہاب شعرانی (متوفی 973ھ) لکھتے ہیں: ”سیدی علی خواص رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف بڑے اہل کشف تھے، جب کسی پانی کو دیکھتے جس کو لوگوں نے وضو میں استعمال کیا ہوتا تو پانی میں گرے ہوئے گناہوں کو پہچان لیتے تھے اور جس طرح اشیائے محسوسہ کو ایک دوسرے سے ممتاز کرلیا جاتا ہے یونہی کبیرہ گناہوں کے دھوون کو صغیرہ صغیرہ کے دھوون کو مکروہات اور مکروہات کے دھوون کو خلاف اولیٰ سے ممتاز کرلیتے تھے، پھر فرمایا: ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جامع (مسجد) کوفہ کے طہارت خانہ میں داخل ہوئے تو ایک نوجوان کو وضو کرتے دیکھا اور اس کے اعضاء سے ٹپکتا ہوا پانی ملاحظہ کر کے فرمایا: اے میرے بیٹے! والدین کی نافرمانی سے توبہ کر، اس نے کہا: میں نے بارگاہِ خداوندی میں اس گناہ سے توبہ کی، ایک دوسرے شخص کا غسالہ دیکھا تو اسے فرمایا: اے میرے بھائی! زنا سے توبہ کر، اس نے کہا: میں نے زنا سے توبہ کی، ایک اور شخص کا غسالہ دیکھ کر اسے فرمایا: شراب نوشی اور موسیقی سننے سے توبہ کر، اس نے کہا میں نے توبہ کی۔  (میزان الشريعة الكبرى،کتاب الطهارة،1/130،دار الكتب العلمية بيروت)

سیدنا علی الخواص رحمۃ اللہ علیہ کا کشف:

یہی علامہ شعرانی لکھتے ہیں: سیدی علی الخواص باوجود شافعی المذہب ہونے کے اکثر اوقات مساجد کے حوضوں سے وضو نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان حوضوں کا پانی گناہوں سے آلودہ ہونے کے باعث ہم جیسوں کے جسم کو صاف نہیں کرتا۔ مزید لکھتے ہیں کہ شیخ علی الخواص رحمۃ اللہ علیہ گناہوں کے دھوون میں فرق بھی کرلیتے تھے کہ یہ حرام کا دھوون ہے یا مکروہ کا یا خلاف اولیٰ کا، ایک دن میں شیخ کے ساتھ مدرسۃ الازہر کے وضو خانہ میں داخل ہوا تو انہوں نے ارادہ کیا کہ حوض کے پانی سے استنجا کریں لیکن اسے دیکھا تو واپس لوٹ آئے ، میں نے عرض کیا کہ آپ نے اس پانی سے طہارت کیوں نہ کی؟ فرمایا: میں نے اس میں ایک گناہِ کبیرہ کا دھوون دیکھا ہے جس نے فی الحال اس پانی کو متغیر کردیا ہے، پھر میں نے اس شخص کو دیکھا جو شیخ سے پہلے وہاں داخل ہوا تھا وہ باہر نکلا تو میں اس کے پیچھے گیا اور سارا معاملہ اسے بتایا، اس نے کہا: شیخ نے درست فرمایا مجھ سے زنا واقع ہوا ہے اور پھر شیخ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر تائب ہوا۔ یہ میرا اپنا مشاہدہ ہے۔ (میزان الشریعة الکبری،کتاب الطهارة،1/132دارالکتب العلمية بيروت)

 خطاؤں(گناہوں) کے مجسم ہونے کی تحقیق:

علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حدیثِ پاک کے جزء (فغسل وجهه خرجت كل خطيئة نظر إليها بعينيه) کی شرح میں فرماتے ہیں:

ابنِ عربی کہتے ہیں: ”خرجت كل خطيئة“ (میں خروج سے) مراد یہ ہے کہ اس کی (خطائیں) معاف کردی جاتی ہیں کیونکہ خطائیں (گناہ) تو افعال و اعراض ہیں جن کا وجود باقی نہیں رہتا تو انہیں دخول و خروج کے ساتھ کیسے متصف کیا جاسکتا ہے؟ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے مغفرت کو ہر عضو میں طہارتِ کاملہ پر موقوف کیا تو اس کے لئے خروج کی مثال اس لئے بیان کی کہ طہارت وہ حکمِ مستقر ہے جس کے لئے دخول ثابت ہے۔

میں (عبدالرحمن السیوطی) کہتا ہوں: بلکہ ظاہر یہ ہے کہ لفظ ”خروج“ کو حقیقت پر محمول کیا جائے، کیونکہ گناہ ظاہر و باطن میں اثر کرتے ہیں اور طہارت اسے زائل کرتی ہے، اور اس پر وہ حدیثِ پاک شاہد ہے جسے خود مصنف (ابوعیسیٰ ترمذی)، نسائی، ابنِ ماجہ، ابنِ حبان اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک بندہ جب ایک گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، پھر اگر توبہ کر لے، گناہ سے باز رہے اور استغفار کرے تو اس کے دل کو صاف کردیا جاتا ہے، اور اگر پھر گناہ کرے تو سیاہی بڑھ جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے دل پہ غالب آجاتی ہے یہی وہ ”ران“ ہے کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ {كَلَّا بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ} کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کی کمائیوں نے زنگ پڑھا دیا ہے۔ اور امام احمد و ابن خزیمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے تخریج کی، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجر اسود ایک سفید جنتی یاقوت ہے اور برف سے زیادہ سفید تھا مشرکین کی خطاؤں نے اسے کالا کر دیا، پس جب خطائیں پتھر میں اثر کرتی ہیں تو خطاکاروں کے جسم پر بدرجہ اولیٰ اثر کریں گی۔

لہٰذا ”خرج من وجهه أثر كل خطيئة“ مقدر مانا جائے کہ اس وضو کرنے والے کے چہرے سے ہر خطا کا اثر یعنی خطا سے پیدا ہونے والی سیاہی دور ہوجاتی ہے یا پھر یوں کہا جائے کہ خطا بذات خود بدن سے متعلق ہوتی ہے کیونکہ عالم مثال کو ثابت کرنے کی بنا پر یہ عرض کی بجائے جسم ہے اور اسی وجہ سے (کہ اعراض عالم اجسام میں مجسم ہوتی ہیں) حضرت آدم علیہ السلام پر اور پھر ملائکہ پر اعراض کا پیش کرنا درست ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مجھے ان کے نام بتاؤ، ورنہ اگر اعراض کی صورت مشخصہ نہ ہو تو انہیں حضرت آدم اور ملائکہ پر پیش کرنا کیسے متصور ہے؟ اور میں نے اپنی ایک مستقل تالیف میں اس پر تحقیق کی ہے اور تفسیر بیضاوی پر اپنے تحریر کردہ حاشیہ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔

اور عالمِ امثال میں خطاؤں کے مجسم ہونے پر متعدد شواہد میں سے ایک یہ حدیث پاک ہے جسے امام بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے تخریج کیا ہے، کہتے ہیں کہ میں نے سید عالم علیہ الصلاۃ والسلام کو فرماتے سنا: ”جب بندہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے گناہوں کو لا کر اس کے سر اور کندھوں پر رکھ دیا جاتا ہے جب جب بندہ رکوع اور سجدہ کرتا ہے تو گناہ سر سے گرجاتے ہیں“ نیز امام طبرانی و بزار نے حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اس حال میں نماز پڑھتا ہے کہ اس کی خطائیں اس کے سر پر رکھی ہوتی ہیں جب جب سجدہ کرتا ہے خطائیں گرجاتی ہیں۔ (قوت المغتذی علی جامع الترمذی، ج1،ص،34جامعہ ام القری،مكة المكرمة)

حاشیہ تفسیر بیضاوی میں فرماتے ہیں:

 یہاں میرے ذہن میں ایک سوال آتا ہے اور وہ یہ کہ مسمیات دو طرح کے ہوتے ہیں (1) اعیان اور (2) معانی، حضرت آدم علیہ السلام اور فرشتوں پر اعیان کا پیش کرنا تو ظاہر ہے لیکن الم ولذت، فرح وحزن، علم وجہل اور بھوک و پیاس وغیرہ دیگر معانی(اعراض) کو کیسے پیش کیا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہی ہے جو میں نے کئی مرتبہ بیان کیا کہ معانی (اعراض) صرف اس عالم میں دکھائی نہیں دیتے جبکہ عالم ملکوت میں خاص صورتوں سے متشکل ہوتے ہیں نظر آتے اور گفتگو بھی کرتے ہیں اور یہ اسی عالم مثال کی مانند ہے جسے ایک گروہ نے ثابت کیا ہے اور اس کے منکروں کی باتوں سے دھوکے میں نہ پڑنا کیونکہ ہم نے اس کے ثبوت پر دلائل قائم کئے ہیں اور ایمان و نماز، قراءت و علم، ایام و لیالی اور رحم وغیرہ کے متشکل ہونے سے متعلق وارد احادیث اس پر دلیل ہیں اور میں نے اس بارے ’المعانی الدقیقۃ فی ادرالالحقیقۃ‘ کے نام سے ایک رسالہ تالیف کیا ہے اور شیخ عبدالغفار القوصی نے ’کتاب التوحید والمعانی‘ میں فرمایا ہے کہ معانی متشکل ہوتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ پر محال نہیں ہے۔ (نواہد الابکار وشوارد الافکار،پارہ 1،سورة البقرة،تحت الآیة {وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ۔۔۔} [آیت13]، 2/194،جامعة ام القری،المملكة العربية السعودية)

”هٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ“ کی وضاحت:

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی عادت ہے کہ آپ ایک حدیث ذکر کرکے فرماتے ہیں ”هٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ“ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یوں ایک ہی حدیث پر حسن اور صحیح دونوں کا اطلاق کرتے ہیں، اس پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ حسن اور صحیح دو مستقل قسمیں ہیں اور قسمیں باہم متبائن ہوتی ہیں لہٰذا ان دونوں کو ایک حدیث میں جمع کرنا جائز نہیں، بلفظ دیگر حسن وہ ہوتی ہے جو صحیح سے کم درجہ کی ہو لہٰذا ان دونوں کو جمع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی حدیث میں صحیح اور اس سے کم تر درجہ کو ثابت کیا جائے۔

ماہرینِ علومِ حدیث نے اس اشکال کے متعدد جواب دیئے ہیں:

حافظ ابنِ حجر عسقلانی (متوفی 852ھ) فرماتے ہیں:

(1) جب کسی ایسی حدیث کے بارے ’حدیث حسن صحیح‘ کہا جائے جو فقط ایک ہی سند سے مروی ہو تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ راویانِ حدیث کے اوصاف سے متعلق ائمہٴ حدیث کو تردد ہے(بعض صدوق کہتے ہیں اور بعض ثقہ) لہٰذا بعض کی رائے کے مطابق حدیث حسن قرار پاتی ہے اور بعض کے مطابق صحیح بنابریں اس پر دونوں صفات کا اطلاق کردیا جاتا ہے

۔ اس صورت میں لفظ حسن اور صحیح کے درمیان حرفِ تر دّد ”او“ محذوف ہے۔ اور اس تقدیر پر جس حدیث کے بارے ”حسنٌ صحیحٌ“ کہا جائے وہ اس حدیث سے کم درجہ کی ہوگی جس کے بارے فقط ”صحیحٌ“ کہا جائے کیونکہ جزم، تردد سے بہت قوی ہوتا ہے۔

(2) اور جب کوئی حدیث متعدد طرق سے مروی ہو تو مذکورہ دو اوصاف کا اطلاق دو مختلف سندوں کے اعتبار سے ہوگا یعنی مطلب یہ ہوگا کہ اس حدیث کی ایک سند حسن ہے اور دوسری صحیح ، اس تقدیر پر جس حدیث کے بارے ”حسنٌ صحیحٌ“ کہا جائے وہ اس مقررہ حدیث سے اعلیٰ درجہ کی ہوگی جس کے بارے فقط ”صحیحٌ“ کہا جائے کیونکہ کثرتِ طرق قوت دیتے ہیں۔ (نزهة النظر شرح نخبة الفكر، الحسن لذاته، معنى قولهم : حدیث حسن صحیح، ص 66-65 مطبعة الصباح ، دمشق، ملخصاً)

علامہ جلال الدین سیوطی مذکورہ جواب کے بارے فرماتے ہیں: یہ جواب مجھے پسند ہے اور بالکل بے غبار ہے۔ مزید فرماتے ہیں: یہ جواب ابن الصلاح اور ابن کثیر کے جواب سے مرکب ہے۔ (تدريب الراوی، قول الحفاظ : حدیث حسن الاسناد او صحيحة، 1/178دار طيبة)

(3) شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی (متوفی 1052ھ) فرماتے ہیں: حسن سے حسن لذاتہ اور صحیح سے صحیح لغیرہ مراد ہو تو یوں اجتماعِ حسن وصحت کے جواز میں کوئی شبہ نہیں۔ (مقدمة فى اصول الحديث، اصطلاحات الترمذی، ص 80 دار البشائر الاسلامية ، بيروت، لبنان)

علامہ بدر الدین زرکشی شافعی (متوفی 794) لکھتے ہیں:

(4) ممکن ہے کہ خاص اس صورت میں حسن اور صحیح سے مترادف معنی مراد لیا ہوا اور جس طرح حسن کو صحیح کی قسم قرار دینے والے محدثین کے قول پر عمل کرتے ہوئے بعض حضرات نے حدیثِ حسن کو صحت سے موصوف کیا ہے یونہی (امام ترمذی نے ) اس کے جواز پر تنبیہ کرنے کے لئے قلیل طور پر اس کا استعمال کیا ہو۔

(5) ہوسکتا ہے کہ حسن اور صحیح کا حقیقی معنی مراد لے کر دو زمانوں اور حالتوں کا اعتبار کرتے ہوئے ان دونوں کو ایک سند میں جمع کیا ہو پس جائز ہے کہ ایک مرتبہ یہ حدیث کسی شخص سے اس حالت میں سنی ہو کہ وہ مستور الحال ہو یا صدق و امانت میں مشہور ہو بعدہ اس کی حالت درجۂ عدالت تک ترقی کرجائے اور امام ترمذی نے ایک مرتبہ پھر اس سے یہ حدیث سنی ہو یا دوسری مرتبہ کسی اور شخص سے یہ حدیث سنی ہو اور دونوں اوصاف کو بیان کردیا ہو۔ اور بہت حضرات کے بارے مروی ہے کہ انہوں نے ایک حدیث ایک ہی شیخ سے کئی مرتبہ سنی ہے لیکن یہ معاملہ قلیل ہے۔

اور یہ احتمال اگرچہ بعید ہے لیکن جو کچھ اس بارے کہا گیا اس کی بنسبت بہت مناسب ہے اور ابن دقیق العید کے کلام کی جانب راجع ہے۔

(6) یہ بھی احتمال ہے کہ امام ترمذی کے اجتہاد میں یہ حدیث حسن یا صحیح ہو (یعنی خود امام ترمذی اس حدیث کے بارے متردد ہوں کہ یہ حدیث حسن ہے یا صحیح ؟ تو دونوں صفات کو جمع کردیا) یا پھر یہ حدیث حسن کے اعلیٰ اور صحیح کے اول درجہ میں تھی تو امام ترمذی نے محدثین کے دو مذاہب کا اعتبار کرتے ہوئے انہیں جمع کر دیا۔ (النکت على مقدمة ابن الصلاح للزرکشی، النوع الثاني معرفة الحسن من الحديث، فائدة، 375/1-374، اضواء السلف، الرياض)

اور حافظ ابوعمرو عثمان بن عبد الرحمن معروف بہ ابن الصلاح شہر زوری (متوفی 643ھ) نے اس اشکال کے دو جواب دیے ہیں، فرماتے ہیں:

(7) اس کا جواب یہ ہے کہ یہ صفات اسناد کی جانب راجع ہیں پس جب ایک حدیث دو اسناد سے مروی ہو، ان میں سے ایک حسن اور دوسری صحیح ہو تو اس حدیث کے بارے ”حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ” کہنا بالکل درست ہے کہ وہ حدیث ایک سند کے اعتبار سے حسن اور دوسری کے اعتبار سے صحیح ہے۔

 (8) بعض حضرات نے جو یہ کہا کہ حسن سے اصطلاحی معنی کی بجائے لغوی معنی مراد ہے یعنی ”وہ حدیث جس کی طرف نفس مائل ہو اور دل اسے ناپسند نہ کرے۔” تو یہ بھی کچھ بعید نہیں۔ (مقدمة ابن الصلاح، النوع الثاني: معرفة الحسن من الحديث، ص 39، دار الفکر، بیروت)

ابن دقیق العید (متوفی 702ھ) فرماتے ہیں:

(9) اگرچہ حدیث حسن کے راویوں کی صفات میں حدیث صحیح کے راویوں کی صفات کی نسبت قصور و کمی ہوتی ہے اور جب لفظ حسن ہی پر اکتفا کیا جائے تو یہ کمی مفہوم بھی ہوتی ہے لیکن یہ کمی حدیث حسن (کے صادق آنے) کے لئے شرط نہیں ہے۔ پس اس میں جو قصور ہوتا ہے وہ لفظ حسن پر اکتفا کرنے کی وجہ سے آتا ہے اس کی حقیقت وذات میں نہیں ہوتا۔ اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ راویانِ حدیث کی وہ صفات جو قبولِ روایت کی مقتضی ہوتی ہیں ان کے مختلف درجات ہیں اور ان میں سے بعض، بعض سے ارفع ہیں جیسے تیقظ ، حفظ اور اتقان ، پس نچلے درجہ مثلاً صدق اور عدمِ تہمَت بالکلذب کا پایا جانا اعلیٰ درجہ مثلاً حفظ و اتقان کے موجود ہونے کے منافی نہیں اور اعلیٰ درجہ کا وجود ادنیٰ کے منافی نہیں جیسے حفظ کا وجود صدق کے ساتھ ،لہٰذا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ حدیث ادنیٰ درجہ کی صفت مثلاً صدق کے پائے جانے کی وجہ سے حسن اور اعلیٰ درجہ کی صفت مثلاً حفظ و اتقان کے پائے جانے کی وجہ سے صحیح ہے۔

زیادہ سے زیادہ اس پر یہ لازم آتا ہے کہ ہر صحیح حدیث حسن ہو اور محدثین اس کا التزام کرتے ہیں اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ ان حضرات سے احادیث صحیحہ پر ”ھذا حدیث حسن“ کا قول وارد ہے اور یہ اطلاق متقدمین کے کلام میں بھی موجود ہے۔ (الاقتراح في بيان الاصطلاح، الباب الاول فى الفاظ متداولة…،ص11-10، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

حافظ ابن کثیر دمشقی (متوفی 774ھ) لکھتے ہیں:

(10) مجھ پر جو جواب ظاہر ہوا وہ یہ ہے کہ ایسی حدیث صحت و حسن دونوں سے حصہ پاتی ہے (یعنی ”حسن صحیح“ ،،حسن اور صحیح کے درمیان ایک درجہ ہے) لہٰذا جس حدیث کے بارے ”حسن صحیح“ کہا جائے وہ رتبہ میں حسن سے زیادہ اور صحیح سے کم ہے۔ پس جس حدیث پر محض صحت کا حکم کیا جائے وہ اس سے قوی ہوگی جس پر حسن و صحت دونوں کا حکم کیا جائے۔ (الباعث الحثيث الى اختصار علوم الحديث، قول الترمذی ”حسن صحیح“، ص34-44، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)لیکن ابو الفضل زین الدین عراقی (متوفی 806ھ) فرماتے ہیں: یہ تحکم ہے، اس پر کوئی دلیل نہیں۔(التقييد والايضاح شرح مقدمة ابن الصلاح، النوع الثاني معرفة الحسن من الحديث، 1/62، المكتبة السلفية بالمدينة المنورة)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام اور کنیت:

علامہ بدر الدین عینی حنفی فرماتے ہیں:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے والد کے نام کے بارے تیس مختلف اقوال ہیں، اقرب یہ ہے کہ آپ کا نام عبداللہ یا عبدالرحمن بن صخر الدوسی ہے، سب سے پہلے یہ کنیت آپ ہی کو دی گئی کیونکہ آپ ایک بلی کے ساتھ کھیلا کرتے تھے، آپ کی یہ کنیت نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے رکھی تھی اور ایک قول یہ ہے کہ آپ کے والد نے رکھی تھی، آپ اہل صفہ کے نگران تھے، بالاتفاق خیبر کے سال ایمان لائے اور خیبر میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوئے، ابن عبدالبر کہتے ہیں: کسی بھی شخص کے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام کے نام میں اس قدر اختلاف نہیں ہوا جتنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام میں ہے۔ مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں آپ کا نام عبدشمس تھا اور زمانہ اسلام میں عبدالرحمن رکھا گیا، والدہ کا نام میمونہ اور ایک قول کے مطابق امیمہ ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا سے اسلام لائیں تھیں۔ (عمدة القاری شرح صحیح بخاری، باب امور ایمان، ج1، ص124، داراحیاء التراث العربی، بیروت)

علامہ علی بن سلطان القاری تحریر فرماتے ہیں:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام اور نسب میں لوگوں نے کثیر اختلاف کیا ہے، اور زیادہ مشہور قول یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں آپ کا نام عبدشمس یا عبد عمرو تھا اور اسلام میں عبداللہ یا عبدالرحمن رکھا گیا اور آپ دوسی ہیں، حاکم ابو احمد نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام کے بارے میں ہمارے پاس اصح قول یہ ہے کہ ان کا نام عبدالرحمن بن صخر ہے، اور آپ کی کنیت نام پر ایسی غالب آئی کہ گویا آپ کا نام ہی کوئی نہیں، کہا گیا ہے کہ آپ کی کنیت کا سبب وہ روایت ہے جسے ابن عبدالبر نے آپ سے روایت کیا ہے، فرماتے ہیں: میں ایک دن ایک بلی کو اپنی آستین میں اٹھائے ہوئے تھا، نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: بلی، فرمایا: یا ابا ہریرة (اے چھوٹی بلی والے)۔ ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ مجھے ایک بلی ملی تو میں نے اسے آستین میں اٹھا لیا، پھر مجھ سے پوچھا گیا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: بلی، تو مجھ سے کہا گیا کہ تو ابوہریرہ ہے۔ بعض نے پہلے قول کو راجح قرار دیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ بچپن میں بلی سے کھیلتے تھے (اس لئے آپ کی کنیت ابوہریرہ رکھی گئی)، اور ایک قول کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ بلی سے اچھا سلوک کیا کرتے تھے۔ اور کہا گیا ہے کہ آپ کی یہ کنیت آپ کے والد نے رکھی تھی۔  (مرقاة المفاتيح مختصراً،كتاب الايمان،ج1، ص69، دارالفكر، بيروت)

 والصنابحي هذا الذي…الخ:

صنابجی نامی تین راوی ہیں:

(1) عبداللہ صنابجی، فضل الطہور میں ان ہی کی روایت ہے۔

(2) عبدالرحمن بن عسیلہ، یہ تابعی ہیں، ان کی کنیت ابو عبداللہ ہے، انہوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیے سفر کیا تھا، مگر راستہ میں ہی تھے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا، لہذا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے احادیث نہیں سنیں، انہوں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے احادیث سنیں ہیں۔

(3) صنابح بن اعسر صحابی، ان کو بھی صنابجی کہا جاتا ہے، ان سے فضل الطہور میں روایت نہیں ہے، ان سے یہ روایت ہے: فانی مکاثر بکم الامم فلا تقتتلن بعدی۔

ان تینوں حضرات کے ناموں میں صنابجی آتا ہے، اس لیے امام ترمذی نے فرق کرنے کے لیے ان کا ذکر کیا ہے کہ کہیں قاری کو اشتباہ نہ ہو۔

Exit mobile version