لغت میں اضطراب کا معنی ہے کسی نظام کا فساد اور کسی امر کا اختلال، جب سمندر کی موجیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں تو اس کو اضطراب کہتے ہیں، اور اس کی اصطلاحی تعریف یہ ہے:
حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:
مضطرب وہ حدیث ہے جو مختلف سندوں سے مروی ہو یا ان کی روایت مختلف ہو اور وہ سندیں مساوی قوت کی ہوں اگر وہ سندیں مساوی نہ ہوں مثلاً کسی سند کے راوی کا حافظہ زیادہ قوی ہو یا وہ اپنے شیخ کے ساتھ زیادہ عرصہ رہا ہو یا کوئی اور وجہ ترجیح ہو، تو راجح اور مرجوح میں سے کوئی بھی مضطرب نہیں ہوگی، راجح حدیث کو صحیح قرار دیا جائے گا اور مرجوح شاذ یا منکر قرار پائے گی۔
پھر اضطراب کبھی متن حدیث میں ہوتا ہے اور کبھی اسناد میں، اور اضطراب کبھی ایک راوی سے ہوتا ہے اور کبھی کئی راویوں سے، اور اضطراب حدیث میں ضعف کا موجب ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ راوی نے حدیث کو ضبط نہیں کیا۔ (حافظ ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن شہر زوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ علوم الحدیث ص ۸۵، ۸۴، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ، ۱۳۸۶ھ)
علامہ سیوطی لکھتے ہیں:
حدیث مضطرب السند کی مثال یہ حدیث ہے:
عن ابي بكر انه قال، يا رسول الله أراك شبت شَیَّبَتْنِي هُودٌ وَأَخَوَاتُهَا۔(جامع ترمذی ص ۴۷۳)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ میں بڑھاپے کے آثار دیکھ رہا ہوں؟ آپ نے فرمایا مجھے سورہ ھود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کردیا۔
امام دارقطنی نے کہا یہ حدیث مضطرب ہے، کیونکہ یہ صرف ابو اسحاق کی سند سے مروی ہے، اور ابو اسحاق سے اس حدیث کو دس مختلف سندوں کے ساتھ روایت کیا گیا ہے، بعض نے اس کو مرسلاً روایت کیا، بعض نے موصولاً روایت کیا، بعض نے اس کو حضرت ابوبکر سے مسنداً و متصلاً روایت کیا، بعض نے اس کو حضرت سعد سے مسنداً روایت کیا، بعض نے اس کو حضرت عائشہ سے مسنداً روایت کیا اس کے علاوہ اور بھی سندیں ہیں، اور سب کے راوی ثقہ ہیں، اور ان میں سے بعض کو بعض پر ترجیح دینا ممکن نہیں ہے اور ان میں تطبیق مشکل ہے۔
اور حدیث مضطرب المتن کی مثال میں عراقی نے یہ حدیث ذکر کی ہے:
عن فاطمة بنت قیس قالت سئل النبي صلى الله علیہ وسلم عن الزكوة فقال: ان فی المال لحقاً سوى الزكوة ۔ (جامع ترمذی ص ۱۱۹)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زکوٰۃ کے متعلق سوال کیا گیا، آپ نے فرمایا مال میں زکوٰۃ کے علاوہ اور بھی حق ہے۔
امام ترمذی نے اس حدیث کو اس سند سے روایت کیا ہے از شریک از ابی حمزہ از شعبی از فاطمہ اور امام ابن ماجہ نے بھی اس سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور اس میں یہ الفاظ ہیں:
لیس فی المال حق سوى الزكوة ۔ (سنن ابن ماجہ ص ۱۲۸)
مال میں زکوٰۃ کے سوا اور کوئی حق نہیں ہے۔
اور یہ ایسا اضطراب ہے جو کسی تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۲۶۶۔ ۲۶۵، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ )