Site icon اردو محفل

اہل علم کے عمل کی وجہ سے حدیث ضعیف کی تقویت کی تحقیق

اہل علم کے عمل کی وجہ سے حدیث ضعیف کی تقویت کی تحقیق

بعض اوقات علماء اور صلحاء کے عمل کی وجہ سے بھی حدیث کی صحت پر استدلال کیا جاتا ہے۔

امام حاکم نیشاپوری صلوۃ التسابیح کی صحت پر استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ومما يستدل به على صحة هذا الحديث استعمال الائمة من اتباع التابعين الى عصرنا هذا اياه ومواظبتهم عليه وتعليمهمن الناس منهم عبد الله بن المبارك رحمة الله عليه۔(امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ۴۰۵ھ ، المستدرک ج ۱ ص ۳۱۹ ، مطبوعہ دار الباز للنشر والتوزيع مکہ مکرمہ)

جس چیز سے اس حدیث کی صحت پر استدلال کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اتباع تابعین سے لے کر ہمارے اس دور تک تمام ائمہ اس پر دوام کے ساتھ عمل کرتے رہے ہیں اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتے رہے ہیں ان ائمہ میں سے عبد اللہ بن مبارک بھی ہیں۔

مولانا عبد الحی لکھنوی متوفی ۱۳۰۴ھ نے لکھا ہے کہ امام بیہقی نے بیان کیا ہے کہ عبد اللہ بن مبارک صلوۃ التسابیح پڑھتے تھے اور بعد کے تمام علماء اس کو ایک دوسرے سے نقل کرکے پڑھتے رہے اور اس عمل میں اس حدیث مرفوع کی تقویت ہے۔ (الآثار المرفوعة ص ۲۳)

لیکن میں نے امام بیہقی کی سنن کبری، معرفت السنن والآثار اور شعب الایمان میں دیکھا ان کتابوں میں یہ عبارت نہیں ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔

ملا علی قاری لکھتے ہیں:

امام ترمذی نے یہ حدیث روایت کی:

عن علي ومعاذ بن جبل رضی الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اتى احدكم الصلوة والامام على حال فليصنع كما يصنع الامام وقال هذا حديث غريب لا نعرف احد اسنده الا ما روى من هذا الوجه قال والعمل على هذا عند اهل العلم۔

حضرت علی اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے آئے تو امام جس حال میں ہو (یعنی رکوع میں ہو یا سجدہ میں ہو) تو اسی طرح کرے جس طرح امام کررہا ہے، اور امام ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے اس سند کے علاوہ کسی اور سند سے مسنداً مروی نہیں ہے، اور اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے۔

اس کے بعد ملا علی قاری لکھتے ہیں:

قال النووي واسناده ضعيف نقله ميرك فكان الترمذي يريد تقوية الحديث بعمل اهل العلم۔(ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ھ مرقات ج ۲ ص ۹۸ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، ۱۳۹۰ھ)

علامہ نووی نے میرک سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور امام ترمذی اہل علم کے عمل سے اس حدیث کی تقویت کا ارادہ کررے ہیں۔

Exit mobile version