*جزاک اللہ خیرا کی حقیقت*

*جزاک اللہ خیرا کی حقیقت*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کا سلوک کیا گیا اور اس نے اس نیکی کرنے والے سے *جزاك الله خيراً* ”اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلا دے“ کہا اس نے اس کی پوری پوری تعریف کر دی“

جامہ ترمیزی جلد ١ ، ٢١٠١ -حسن

عمر‌ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر لوگوں کو *جزاك الله خيراً* کہنے کا ثواب معلوم ہو جائے تو وہ ایک دوسرے کو یہ بہت زیادہ کہنے لگ جائے

مصنفه ابنُ أبي شيبة ٢٦٥١٩

ایک بار اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جزاك الله خيراً یعنی الله آپ کو اچّھا صلہ عطا فرماۓ کہا تو ان کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے *وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا* یعنی "آپ کو بھی، الله آپ کو بھی اچّھا صلہ عطا فرماۓ” کہا

صحيح ابن حبان ٧٤٣٦-حسن

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا ( بھی ) شکر ادا نہیں کرتا ۔

سنن ابی داؤد جلد ۳ ۱۳۸۳ صحیح

مبروك یوم الجمعہ

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.