*مدارس کے فارغین اور روزگار کے مواقع*

ڈاکٹرافضل مصباحی

دینی اداروں کے طالب علموں کی حالت اس وقت کسی حدتک پریشان کن ہوتی ہے، جب وہاں سے وہ فارغ ہونے لگتے ہیں۔آٹھ دس برسوں پرمشتمل مولوی، عالم اور فاضل وغیرہ کی سندلینے کے بعدان سے اہل خانہ کی امیدیں بڑھ جاتی ہیں، لیکن بسااوقات خودانہیں معلوم نہیںہوتاہے کہ اب کرنا کیاہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ حالات کے تقاضوں سے ناواقفیت اور دستیاب روزگارکے مواقع سے لاعلمی ہے۔عام طورپراسلامی دینی اداروں میں کاؤنسلنگ کاکوئی انتظام ہوتاہے اور نہ ہی طلبہ کومستقبل کے لائحۂ عمل کے بارے میں بتایاجاتاہے۔ یہا ں کیمپس سلیکشن کاتصوربھی ناپیدہے۔ گزشتہ کچھ برسوں میںمعمولی تبدیلی توآئی ہے، لیکن یہ دال میں نمک برابرہے،اسی لیے ان نوجوانوں کومیدان عمل میںآکربے پناہ دشواریوںکاسامناکرناپڑتاہے۔

عموماًلوگوں کایہی مانناہے کہ دینی اداروں کے فارغین کے لیے مدرسہ، مسجداور مکتب کے علاوہ دوسرے میدانوں میں روزگارکے مواقع دستیاب نہیں ہیں،اسی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے بچوں کو دینی اداروں میںصرف اس لیے نہیں بھیجتے ہیںکہ آخرپڑھنے کے بعد وہ کریں گے کیا؟ اس طرح کی سوچ محض اس لیے پروان چڑھتی ہے کہ مدارس کے تعلیم یافتہ افرادکے لیے دانستہ یاغیردانستہ طورپرزندگی کے کچھ شعبے مختص کردیے گئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ انہیں ان شعبوں تک محددوکردیاگیاہے، حالانکہ ایسابالکل نہیں ہوناچاہیے تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ دینی تعلیمی اداروں کے کچھ فارغین مذکورہ شعبوں کے علاوہ تجارت، مطب، کاشتکار ی، عصری تعلیمی اداروں اورمعدودے چند سیاست وغیرہ میں جگہ بنالیتے ہیں، لیکن ایسے افرادکی تعدادانگلیوں پرگنی جاسکتی ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ ایسے شعبوں کوتلاش کیاجائے، جہاں علما اپنی صلاحیتو ں کااستعمال کرسکیں۔ لگے ہاتھوں وہاں تک رسائی کے لیے لازمی تعلیمی استعداداور صلاحیت کی نشاندہی بھی ضروری ہے۔

سب سے پہلے دینی اداروں میںزیر تعلیم طلبہ یہ بات اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں کہ یہاں وہ جو تعلیم حاصل کررہے ہیں، یہ ان کے لیے نعمت غیرمترقبہ ہے۔ان کے اہل خانہ کوبھی مطمئن رہناچاہیے کہ مدارس میں ان کے بچوںکو جوتعلیم دی جارہی ہے،اس کی اہمیت دنیوی اور دینی دونوں اعتبارسے مسلم ہے، لہٰذا ان اداروں کے طلبہ دلجمعی سے علم حاصل کریں۔ ان کی یہی محنت مستقبل میں کام آئے گی۔جس قدر محنت سے وہ یہاں علم حاصل کریں گے، آنے والے دنوں میں انہیںاس کا فائدہ بھی اسی اعتبارسے ہوگا۔ اسی سے ان کی بنیادمضبوط ہوگی اور آئندہ ترقی کی راہیں بھی ہموارہوںگی، بشرطیکہ آگے بڑھنے کاجذبہ ہو۔

عالم دین ہونے کایہ مطلب ہرگزنہیںہے کہ وہ مدرسہ میں مدرس، مسجدکا امام اور مکتب کا استاذ ہی بننے پرمجبورہے یاوہ اسی کے لائق ہے، بلکہ علم دین حاصل کرنے کا مقصدیہ ہے کہ وہ اپنی زندگی اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں بسرکرے اور اپنے گھروالوں، رشتہ داروں اور ملنے جلنے والوںکی بھی رہنمائی کرے۔قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے واضح لفظوں میں حکم دیاہے؛ ترجمہ:’’تم اپنے آپ کواوراپنے گھروالوں کوجہنم کی آگ سے بچاؤ‘‘۔اس حکم کی تعمیل دینی معلومات کے بغیرناممکن ہے۔البتہ علم دین کے حصول کاتقاضہ یہ ہے کہ علما جہاں بھی رہیں، وہاں ان کی عالمانہ شان برقراررہے۔ اگرمدرسہ میں تدریس، مسجدمیں امامت یاکسی مکتب میںپڑھانے کا موقع مل جائے توٹھیک، ورنہ انہیں دیگرشعبوں میں قدم رکھنے کے لیے بھی ذہنی طورپرآمادہ رہناچاہیے اور اس کے لیے پیشگی تیاری بھی کرنی چاہیے۔یادرہے، مذکورہ تین شعبے ہی مدارس کے فارغین کاانتظارنہیں کررہے ہیں، بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میںان کی ضرورت ہے۔سب سے پہلے ہم پیشگی تیاریوں کاجائزہ لیتے ہیں۔

انگلش اور کمپیوٹرکی جانکاری

پیشگی تیاریوں کے سلسلے میں میراماننایہ ہے کہ مدرسوں میں وہ جو علم حاصل کررہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انگلش اور کمپیوٹرکی تعلیم بھی حاصل کرلیں۔یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہے کہ آج کے دور میں انگلش اور کمپیوٹرکی جانکاری کے بغیرمستقبل کی راہیں محدودہوجاتی ہیں۔ اس وقت انگریزی زبان کسی مخصوص قوم ، ملت یا خطے کی زبان نہیں رہ گئی ہے بلکہ اسے بین الاقوامی زبان کادرجہ حاصل ہے اوراس کی اہمیت روزروشن کی طرح واضح ہے۔ اسلام کی تبلیغ کے لیے بھی اس زبان کاجانناضروری ہے،اس لیے مدارس کے تمام طلبہ کوانگلش اور کمپیوٹرکی تعلیم بہرصورت حاصل کرنی چاہیے۔اسی طرح مدارس کے فارغین (علما)خواہ وہ کسی بھی شعبے میں مصروف عمل ہوں، وہ انگلش اور کمپیوٹرکی تعلیم کے لیے لازماًاپناوقت نکالیں۔ مساجدکے ائمہ کو خصوصی طورپراس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس کے بعد وہ خوداپنے اندرایسی تبدیلی محسوس کریں گے، جس کاتصور وہ اس کے بغیرنہیں کرسکتے ہیں۔ تبلیغ دین کے نقطۂ نظرسے بھی دیکھیںتوانگلش اور کمپیوٹرکی جانکاری کے بعدعلمااپنے آپ کودنیاسے جوڑنے میں کامیاب رہیں گے اوران کادائرۂ کارکافی وسیع ہوجائے گا، ساتھ ہی اکناف عالم میںکہاں کیاہورہاہے، اس کے بارے میںوہ باخبرہوسکیں گے۔کمپیوٹرکی تعلیم کے بعد وہ اسلام کی تعلیمات کوبین الاقوامی سطح پرعام کرنے کے اہل ہوسکتے ہیں۔اس کامطلب یہ ہے کہ ایک شخص اسی وقت اپنے آپ کودنیاسے جوڑسکتاہے، جب وہ انگریزی جانتاہواور اس زبان میں اپنی بات دوسروں کوسمجھانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

انگریزی اور کمپیوٹرکی معلومات کے بعد فوری طورپرجوفائدہ ہوگا،وہ یہ کہ اس وقت بہت سے اسکولوں میں اسلا مک اسٹڈیز(اسلامیات) پڑھانے کے لیے اساتذہ رکھے جارہے ہیں، لیکن انہیں انگلش میڈیم سے پڑھاناہوتا ہے ۔ اگرہمارے علماانگلش کے جانکارہوں اور ان کے اندراسے بولنے او رلکھنے پڑھنے کی صلاحیت ہو تووہ ان اسکولوں میں آسانی کے ساتھ تدریسی فریضہ انجام دے سکتے ہیں۔ یہ کام بعینہ مدرسوں میں تدریسی فریضہ انجام دینے جیسا ہے۔اگر کمپیوٹرجانتے ہیں تو اسلامیات کی تدریس کے لیے اسمارٹ کلاسیزکاسہارالے سکتے ہیں۔ اس طرح انگلش میڈیم اسکولوں کے طلبہ کوآسانی کے ساتھ اسلامیات کی تعلیم دی جاسکتی ہے۔ انگلش اور کمپیوٹرکی جانکاری کایہ ایک معمولی فائدہ ہے، جس کامیںنے ذکرکیاہے۔اس کے علاوہ اس کے بے شمارفوائدہیں، جن کااندازہ اپنے آپ ہوجائے گا۔

اسلامی سمرکلاسیز

اسی سلسلے کی ایک کڑی پرائمری اسکولوں کے بچوںتک دینی علوم کاپہنچاناہے۔انگلش، ہندی اور اردومیڈیم اسکولوں کے طلبہ تک اسلامی تعلیمات کاپہنچاناعلمائے کرام کادینی فریضہ ہے۔اس کے لیے کئی طریقے اپنائے جاسکتے ہیں ۔ اسکولوں کے اوقات کے علاوہ گھنٹے دوگھنٹے انہیں دینی تعلیم دی جاسکتی ہے۔ اس عظیم مقصدکے لیے گرمی کی طویل چھٹیوں کوبھی استعمال میں لایاجاسکتاہے۔ موسم گرما میںتقریباً دوماہ کی تعطیل کلاں ہوتی ہے۔ اس موقع پراگر ’سمرکلاسیز‘کاانتظام کیاجائے اور’سمر کیمپ برائے اسلامی تعلیمات‘ کااہتمام کیاجائے تو یہ ایک مصروفیت اور آمدنی کاذریعہ ثابت ہوسکتاہے۔ مثال کے طورپر گرمی کے ایام میں کوئی بھی اسکول کرائے پرلے کرمسلم بچوں کو دینی تعلیم دی جاسکتی ہے اور اس کے لیے فیس بھی وصول سکتے ہیں، لیکن یہ کام منظم طریقے سے کرناہوگا اور اسکولوں میں تعلیم وتعلم کاجوطریقہ ہے، اس کواپناناہوگا۔پاورپوئنٹ پرزنٹیشن(پی پی ٹی)اور اسمارٹ کلاسیزکے ذریعے اگر طلبہ کودینی تعلیم دی جائے، تو ان کی دلچسپی بڑھے گی اور کم وقت میں انہیں زیادہ سے زیادہ سکھایابھی جاسکتاہے۔

درس وتدریس کامیدان

اگرعلمادینی اداروں سے فارغ ہوکریونیورسٹیزکارخ کرتے ہیں، تو اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ اس کے لیے انہیں وہاں دوران تعلیم بہارمدرسہ بورڈ، اترپردیش مدرسہ بورڈ، مولاناآزاداردویونیورسٹی(مانو)، اندراگاندھی اوپن یونیورسٹی(اگنو)یاکسی بھی فاصلاتی تعلیمی ادارے سے آئی۔ اے۔ (انٹرآف آرٹس) یامساوی درجے کاامتحان پاس کرناہوگا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یونیورسٹیزمیں گریجویشن، پوسٹ گریجویشن، ایم فل اورڈاکٹریٹ وغیرہ میں آٹھ دس سال محنت کرنی پڑتی ہے، لیکن اس کے بعد جو کامیابی ملتی ہے، اس کی بات ہی کچھ اورہے۔ یوں بھی کسی بھی میدان میں مہارت حاصل کرنے کے لیے برسوں درکارہوتے ہیں، لیکن مذکورہ کورسیزکی تکمیل کے بعد یونیورسٹیزاور کالجزمیں اسسٹنٹ پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسراورپروفیسروغیرہ بن سکتے ہیں۔ اس طرح تدریسی شعبوں کے علاوہ انتظامی شعبوں میں بھی ملازمت حاصل کرسکتے ہیں۔ مدارس کے طلبہ اگرتوجہ دیں تو آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس وغیرہ دیگرمقابلہ جاتی امتحانات میں اچھی کامیابی کے امکانات ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ مدارس کا تربیتی نظام ہے، جو کسی بھی ہدف تک پہنچنے میں معاون ثابت ہوگا۔ یونیورسٹیزمیں تعلیم حاصل کرنے کے بعد پرائیویٹ اور سرکاری اداروں میں ملازمت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔یونیورسٹیزکے میدان میں آکر آسانی کے ساتھ دین کی تبلیغ کامستحکم فریضہ بھی انجام دیاجاسکتاہے۔اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعدسوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی بڑھ جاتی ہیں اور ذہن بھی وسیع ہوجاتاہے۔ لہٰذادینی اداروں کے فارغین کو اس سلسلے میں ضرورغوروفکرکرناچاہیے۔

پیشہ ورانہ تربیتی کورسیز

دینی اداروں کے فارغین اگرکسی میدان میں سال دوسال کاتربیتی کورس یاڈپلومہ وغیرہ کرلیں، تو اس سے انہیں میدان عمل میں آنے میں بڑی آسانی ہوگی۔مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی، جواہرلعل نہرویونیورسٹی، نئی دہلی، البرکات اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ اور انڈیااسلامک کلچرسنٹر، نئی دہلی وغیرہ میں پیشہ ورانہ تربیتی کورسیزکرائے جاتے ہیں۔ان اداروںمیں کمپیوٹراور ڈیجیٹل کلاسیزکے ذریعہ تربیتی کورسیزکا انتظام ہے، جن میں انگریزی، کمپیوٹر، صحافت، دینیات، دعوت وتبلیغ، این جی او وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔اس طرح کے کورسیزکرنے کے بعدطلبہ کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور انہیں بخوبی اندازہ ہوجاتاہے کہ دنیاکتنی وسیع ہے اور ان کے لئے کہاں کہاں کیسے کیسے مواقع دستیاب ہیں۔

صحافت یعنی میڈیاکامیدان

قرآن کریم اور احادیث کریمہ میں جگہ جگہ میڈیاکے لیے رہنمااصول ملتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس روز ’دین مکمل ‘ ہونے کااعلان کیا، اسی دن گویا زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنماہدایات دے دی گئیںاور حکم دیاگیا، ’’اسلام میں مکمل طورپرداخل ہوجائو‘‘۔ توکیاصحافت جیسے شعبے کو اسلام نے یوں ہی چھوڑدیاہوگا؟کیا قرآن کریم اور احادیث کریمہ میں اتنے اہم شعبہ کے لیے تعلیمات نہیں ہوں گی؟ ایسانہیں ہوسکتاہے۔ہمیں اسلام کی تعلیمات میں جگہ جگہ میڈیایعنی صحافت کے لیے رہنماہدایات ملتی ہیں۔ اس موضوع پرتفصیلی بحث کسی اورموقع پرہوگی۔ بس ضرور ت اس بات کی ہے کہ ہم اس پرخاص توجہ دے کراس شعبے کے لیے کام کریں اور دنیاکے سامنے ایک متبادل نظام پیش کریں۔ علمائے کرام اگرچاہیں تووہ اس میدان میں آگے بڑھ سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ایک مشن کے طورپرکام کرناہوگا۔تجارتی نقطۂ نظرسے بھی یہ شعبہ انتہائی اہم ہے۔

اخبارات میں مواقع

اخبارات میں دوطرح کے مواقع دستیاب ہیں

(۱) آپ خود اپنااخبارنکالیں،اس کے لیے بڑی پونجی کی ضرورت ہے۔اگراپنے پاس پونجی ہے فبہا، ورنہ سرمایہ داروںکی مدد لے کر اس میدان میںقدم رکھاجاسکتاہے۔اگرایساکرنے میں آپ کامیاب ہوتے ہیںتویہ آپ کے لیے اور آپ جیسے بہت سے افرادکے لیے روزی روٹی کاذریعہ بھی ہوسکتاہے اور سماج کی خدمت کاموقع بھی ہاتھ آسکتاہے، ساتھ ہی اس کے توسط سے دین کی تبلیغ کافریضہ بھی اداکیاجاسکتاہے۔

(۲) آپ اخبارات میں کسی بھی عہدے پرکام کرسکتے ہیں۔اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ آپ اخبارا ت میں کیاکیاکرسکتے ہیں؟ ایڈیٹر، سب ایڈیٹر، رپورٹر، ٹرانسلیٹر(مترجم)، پروف ریڈر، کمپیوٹرآپریٹر،مارکیٹنگ ایگزیکٹواورسرکولیشن آفیسروغیرہ عہدوں پرآپ کورس کر کے یا بغیرکورس کئے بھی کام کرسکتے ہیں۔ اخبارات کے تمام شعبوںمیںمدارس کے فارغین کے لیے یکساں مواقع ہیں۔اردواخبارات میں بڑی تعدادمیں مدارس کے فارغین پہلے سے کام کررہے ہیں۔ اگرتھوڑی توجہ دیں تو ہندی و انگریزی اخبارات اورٹیلی ویژن میں بھی اپنی جگہ بناسکتے ہیں۔اگرایساہوجاتاہے تواس کے اچھے اثرات مرتب ہوںگے۔

ریڈیو

اسلامی ریڈیوچینل(ایف۔ ایم کی شکل میں ) اس کی اجازت لی جاسکتی ہے۔ ایف۔ ایم چینل کی طرح سما ج اور معاشرے کے لیے کارآمداسلامی تعلیمات کاسلسلہ کیوں نہیں شروع کیاجاسکتاہے؟اخلاقیات کی جو تعلیمات اسلام نے دی ہیں، وہ دیگرمذاہب کے پیروکاروں کے لیے بھی اہم ہیں، بلکہ موادکی ترتیب اس طرح دی جاسکتی ہے جو سب کے لیے یکساں طورپر کارآمدہو۔ پورے سماج کو مدنظررکھ کرپیش قدمی کریں تواس کااچھاپیغام جائے گا۔ یہ ایسامیدان ہے جوپوری طرح خالی ہے۔ بس سوچنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

ترجمہ نگاری

مدارس کے فارغین کے لیے ترجمہ نگاری کافن انتہائی کارآمد ثابت ہوسکتاہے۔عام طورپریہاں کے فارغین اردوزبان جانتے ہیں،اس لیے وہ عربی ، ہندی، انگلش، فرانسیسی، چینی، ترکی اور اسپینی وغیرہ زبانوںمیں سے کوئی ایک زبان سیکھ کر ترجمہ نگاری کے میدان میںبہ آسانی آسکتے ہیں۔ دوزبانوں پرمہارت ہواور ان میں ترجمہ نگاری کواپنا پیشہ بنالیں، توروزگار کے لیے یہاں وہاں بھٹکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سفارت خانوں، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ، بین الاقوامی کمپنیوں، بڑے اسپتالوں، تعلیمی اداروں، این سی ای آرٹی، سی بی ایس ای، یونی سیف، یونیسکو، سیاحتی مقامات اوربیرونی ملکوں سے آنے والے تاجروں اوربے شمارسرکاری وغیرسرکاری اداروں کے لیے ترجمہ نگارو ں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مدارس کے طلبہ اگرعربی زبان بولنے، عربی سے ترجمہ کرنے،عربی میں مضامین وغیرہ لکھنے کی صلاحیت پیداکرلیں، توپورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ انہیں ادھرادھرہاتھ پیرمارنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔

قابل غورپہلویہ ہے کہ دینی اداروں میں جب عربی میں لکھی ہوئی ساری کتابیں پڑھائی جاتی ہیںاور اساتذہ ان کتابوں کوپڑھاتے بھی ہیں، توآخرکیاوجہ ہے کہ ان میں عربی زبان بولنے اور اپنامافی الضمیر اداکرنے کی صلاحیت پیدانہیں ہوپاتی ہے۔ طلبہ توطلبہ، بہت سے اساتذہ عربی زبان بولنے پرقادرنہیںہوپاتے ہیں۔ اس کے برخلاف جوطلبہ انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں، انہیں ہائی اسکول تک انگریزی زبان بولنے، انگریزی میںبحث ومباحثہ کرنے اورانگریزی میں مضامین وغیرہ لکھنے کی صلاحیت پیداکردی جاتی ہے۔ وہاں کے تمام اساتذہ انگلش بولنے اور انگلش میں پڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ آخردینی مدرسوں میں آٹھ دس برسوں میںیہ صلاحیت کیوں نہیں پیداہوپاتی ہے؟ آخرکمی کہاں رہ جاتی ہے؟ اس پرمدارس کے ذمہ داروں اور اساتذہ کومل جل کرغورکرناہوگا۔

اسلامی بینک

علمائے کرام کے لیے اسلامک بینکنگ(اسلامی بینک کاری) کامیدان کئی اعتبارسے اہم ہے۔پوری دنیا میں اسلامک بینکنگ سسٹم تیزی سے رائج ہورہاہے۔ظاہرہے جیسے جیسے اس کادائرۂ کار بڑھے گا، ویسے ویسے اسلامی اقتصادیات کے ماہرین کی ضرورت محسوس ہوگی۔علمائے کرام اگراسلامی اقتصادی نظام پراپنی گرفت مضبوط کریں اور اس میں مہارت حاصل کرلیںتو میں سمجھتاہوں کہ اس میدان میں ان کے لیے بے پناہ امکانات ہیں۔اس کے لیے اسلامی تجارت کے علاوہ ریاضی، اکنامکس اور کامرس وغیرہ کی معلومات بھی ضرور ی ہے۔

۲۰۰۹ءمیںراقم الحروف کو’’ برٹش کونسل‘‘ کی دعوت پرایک وفدکے ساتھ برطانیہ جانے کااتفاق ہوا تھا ۔ اس سے کچھ ہی دنوں قبل پوری دنیاکومعاشی بحران کاسامناکرناپڑاتھا،چنانچہ برطانیہ میں اسلامی بینک کے اہل کارو ں نے ہندوستان سے برطانیہ کے دورہ پرآئے وفدکوبتایاکہ عالمی معاشی بحران سے تمام بینک متاثرہوئے اور انہیں بری طرح خسارے کاسامناکرناپڑا۔ اس کی وجہ انہوں نے سودی نظام کوبتایا۔ البتہ اسلامی بینک کواس کانقصان نہیں ہوا، جہاں غیرسودی نظام نافذہے۔ یہ پہلاموقع تھاجب عالمی برادری کواسلام کے غیرسودی نظام کا احساس ہوا۔ اس کے بعدکئی بڑے بینکوں نے اپنے یہاں اسلامک بینکنگ کاڈپارٹمنٹ کھولا۔ ماحصل یہ کہ علما ئے کرام کئی طریقے سے اس کافائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اس لیے مدارس کے ذمہ داران کوچاہیے کہ وہ اپنے یہاں اسلامی طریقۂ تجارت کی تعلیم پرخاص توجہ دیں، اس کے لیے الگ سے ڈپارٹمنٹ کھولیںاورماہرین اقتصادیات کی خدمات حاصل کرکے ایسے کورسیزڈیزائن کریں، جنہیں پڑھ کر علما آسانی کے ساتھ بینکوں میں ملازمت حاصل کرسکیں ، ساتھ ہی تجارت اور سرمایہ کاری کے میدان میں وہ شرعی نقطۂ نظرسے دنیاکی رہنمائی کرنے کی صلاحیت اپنے اندرپیداکرسکیں۔ یقینی طورپر مسلمانوں کے علاوہ دوسروںکوبھی اس سے فائدہ پہنچے گا۔ذراغورفرمائیں، وراثت ، ترکہ، خریدوفروخت، تجارت اور تمام طرح کے لین دین شرعی نقطۂ نظرسے ہونے لگیں توکیااس کااجران علمائے کرام کونہیں ملے گاجو اس کارخیرمیں مصروف ہوں گے اور اپنی خدمات انجام دیں گے؟ وراثت، ترکہ، تجارت اورخریدوفروخت وغیرہ کے تعلق سے اب تک جوفتوے دئے گئے ہیں، وہ کب عوام الناس کے کام آئیں گے؟علمائے کرام اگران کامطالعہ کریں، انہیںسہل اندازمیں عام لوگوں کے سامنے پیش کریں اورعوام کی رہنمائی کافریضہ انجام دیں تو اس سے اچھی بات اورکیاہوسکتی ہے؟

حلال مصنوعا ت کی انڈسٹریز

اسی نوعیت کا ایک اہم میدان حلال مصنوعات کی انڈسٹریزکاہے۔ ہم آئے دن سوشل میڈیامیںپڑھتے ہیں کہ فلاں فلاں پروڈکٹ میں خنزیرکی چربی کااستعمال کیاگیاہے، فلاں فلاں مصنوعات میں الکحل کی آمیزش پائی جاتی ہے اور فلاں فلاں مصنوعات میں حرام اشیا کااستعمال کیاجاتاہے۔ اس طرح کی ناجائزاشیا سے مسلمانوں کوبچنے کامشورہ بھی دیاجاتاہے،لیکن میری معلومات کے مطابق ہندوستان میں ابھی تک اس سلسلے میں کوئی منظم کام نہیں ہواہے۔ اس طرح کے شکوک وشبہات سے بچنے کے لیے ’حلال مصنوعات کی انڈسٹریز‘کوضرورمتعارف کرایاگیاہے ، لیکن حلال مصنوعات کی حصولیابی جوئے شیرلانے کے مترادف ہے۔ہاں ، یہ امیدکی ایک کرن ضرورہے۔ علما اگردلچسپی لیں تو لوگوں کی توجہ اس کی طرف مبذول کرائی جاسکتی ہے۔ یوروپی ملکوں میںاس کارواج عام ہے۔وہاں کے مسلمان ہم سے زیادہ بیدارہیں۔ برصغیرہندوپاک میں ابھی تک اس تعلق سے بیداری نہیں آئی ہے۔یہاں اگراس سلسلے میں بیداری آجائے یاپیداکردی جائے توحلال انڈسٹریزکے قیام کے لیے غیرمسلم تاجروں کوبھی اسلامیات کے ماہرین کی ضرورت پڑے گی، جوانہیں مشورے دے سکیں گے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے کیاجائزاور کیاناجائزہے۔اس کے علاوہ ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیاحلال وحرام کے فرق کو واضح کرنے کے لیے کوئی ایساشعبہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، جہاں سے اس بات کی تصدیق کی جائے کہ کن مصنوعات میں حرام اجزا پائے جاتے ہیں اور کن میں نہیں؟ میں سمجھتاہوں کہ یہ تحقیق طلب اورانتہائی اہم کام ہے، جس کی طرف علماکی توجہ بالکل نہیں ہے۔جن یونیورسٹیزمیں اسلامیات اوراسلامی تھیالوجی کے شعبہ جات ہیں، اگروہ یہ ذمہ داری قبول کریں، تو اپنے آپ میں یہ ایک بڑاکام ہوگا اور اگرعلما یہ فریضہ انجام دیں، تو یہ ان کی مصروفیت کاایک مستقل ذریعہ بھی ہوسکتاہے۔اس وقت جواشیائے خوردونوش مارکیٹ میں دستیاب ہیں، ان کے ریپرپراجزائے مشمولات کی فہرست ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ’کوڈورڈ‘ کااستعمال کیاجاتاہے۔ مشمولات کی فہرست دیکھ کراور کورڈورڈ سے کیامراد ہے، اس کی صحیح جانکاری حاصل کرکے مسلمانوں کی رہنمائی ایک اہم مسئلہ ہے۔ میں نے برطانیہ کے متعدد شاپنگ مالز میںدیکھاکہ حلال اشیا کے لیے الگ سے سیکشن مختص تھے اور صاف لفظوں میں لکھاہوا تھا ، ’’حلال‘‘ اس کامطلب ہے کہ ان اشیا میں اسلامی نقطۂ نظرسے حرام اجزا کااستعمال نہیں کیاگیاہے۔ غورطلب امریہ ہے کہ ہم میں سے کتنے لوگ ہیںجواس سلسلے میں محتاط ہیں؟اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ دورمیں بہت سی چاکلیٹ، چونگم، مشروبات،بسکٹ اور کھانے پینے کی اشیامیں شرعی طورپرحرام اجزا کااستعمال کیاجاتاہے۔ آئس کریم میں خنزیرکی چربی کااستعمال عام ہے۔اس کے علاوہ دیگراشیا میںبھی حرام جانوروںکی چربی اور الکحل وغیرہ کااستعمال کیاجاتاہے۔چین اور دیگرغیرمسلم ملکوں سے جواشیائے خوردونوش آتی ہیں، ان کے بارے میں تصور کرکے ہی کلیجہ منہ کوآنے لگتاہے۔الامان والحفیظ،کیایہ عام مسلمانوں کے لیےاہم مسئلہ نہیں ہے او راس کی طرف ہمیں توجہ نہیں دینی چاہیے؟

این جی اواورٹرسٹ

این جی او( نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز)کو اردومیں’ غیرحکومتی تنظیم‘ کہتے ہیں۔ علمائے کرام این جی اواور ٹرسٹ بناکرتعلیمی،تہذیبی، ثقافتی، سماجی، معاشرتی ، معاشی اورادبی ہرطرح کی سرگرمیوں کوآگے بڑھاسکتے ہیں۔ مسلمان خاص طورپرعلمائے کرام اور ائمہ عظام اس میدان میں سرگرم نہیںہیں۔ حالانکہ یہ ایک ایسامیدان ہے، جس میں آکروہ خودکفیل ہوسکتے ہیںاوربڑاسے بڑاکارنامہ انجام دے سکتے ہیں۔اس وقت بین الاقوامی سطح پر این جی اوزکی اہمیت مسلم ہے۔ قومی اور ریاستی حکومتوں کوہمیشہ این جی اوزکی ضرورت پڑتی ہے اور ان کے ذریعے ہرعلاقے میں بڑاسے بڑاکام لیاجاتاہے۔ قدرتی آفات کے موقع پر این جی اوزکی سخت ضرورت پڑتی ہے۔ بہت سی بین الاقوامی تنظیمیں تعلیم، صحت اور روزگار وغیرہ کے لیے علاقائی این جی اوزکی مددلیتی ہیں، لیکن علمائے کرام اس میدان میں کہاںنظرآتے ہیں؟ ان میںسے بیشترکواس کے بارے میںسرے سے معلوم ہی نہیں ہے۔ ظاہرہے، اس طرح انہیںاس کی اہمیت کااندازہ کیسے ہوسکتاہے؟ چندعلما اور ائمہ آپس میں مل کراین جی اوبناسکتے ہیںاور کام کاکوئی بھی میدان منتخب کرسکتے ہیں۔

عام طورپرلوگوں کوشکایت رہتی ہے کہ علما اپنے فلاحی کاموں کومسلمانوں تک محدودرکھتے ہیں ۔ یہ بات کسی حدتک درست بھی ہے۔ علما اگرسماجی اورفلاحی کاموں کادائرہ دوسروں تک وسیع کردیں توبرادران وطن کے مابین جودوریاں ہیں، ان میں کمی آئے گی اور علماکے تعلق سے کچھ لوگوں میں جوغلط فہمیاںپائی جاتی ہیں، ان کا ازالہ بھی کسی حدتک ہوگا۔

سیاست کامیدان

گزشتہ دنوں اترپردیش کے انتخابات میں علما کے درمیان آپسی رسہ کشی کودیکھتے ہوئے ، اس کاذکرکئے بغیر آگے بڑھناچاہ رہاتھا، لیکن یہ دیانتداری کے خلاف تھا، اس لیے ضروری سمجھاکہ سرسری طورپرہی سہی یہاں اس میدان کابھی ذکرکیاجائے۔ سیاست کامیدان ایمانداراور ملت کے لیے اخلاص کاجذبہ رکھنے والے علما حضرات کے لیے پوری طرح خالی ہے۔میں حیران ہوں کہ آخرمخلص علما اس میدان میں کیوں نہیں آتے ہیں؟ اگر علما نہیں آئیں گے، ملت اور قوم کی قیادت نہیں کریں گے، توظاہرہے دوسرے لوگ اس پر قابض ہوں گے۔اس لیے علما کوہرحال میں سیاست میں آناچاہیے اور وارڈ ممبرسے لے کرپارلیمنٹ تک کاسفرطے کرناچاہیے۔ تب جاکرملت کی نمائندگی ہرجگہ ہوسکتی ہے اور صاف ستھری سیاست کی بنیادرکھنے میںکامیابی مل سکتی ہے۔ اس وقت سیاست میں بدعنوانیوں کادوردورہ ہے، اس سے نجات کے لیے دیانتدارعلما کااس میدان میں آنابے حدضروری ہے۔ دیانتدار علما جب اس میدان میں آئیں گے، تب جاکرصاف ستھری سیاست کاتصور کیاجاسکتاہے اور ملت کے مسائل آسانی سے حل ہوسکتے ہیں۔

منظم کوشش

مذکورہ شعبوں میں رہنمائی کے ساتھ ضروری سمجھتاہوں کہ کچھ اپنے تجربات بھی قارئین کی خدمت میں پیش کروں۔میراتجربہ ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے منظم ہونااور وقت کی پابندی ضروری ہے۔نمازکی پابندی اس کے لیے بے حدکارآمدہے۔ نمازکی فرضیت اپنی جگہ مسلم ہے، البتہ اس کی وجہ سے نمازیوںکو جو فائدے ہوتے ہیں، اس کی مثال دنیامیں کہیں اورنہیں ملتی ہے۔اس کا اہم ترین فائدہ وقت کی پابندی ہے۔مثال کے طور پر نمازکے اوقات کی مناسبت سے اپنے کام کی زمرہ بندی کی جاسکتی ہے۔ فجرکے بعد فلاں کام، ظہرکے بعد یہ کام، عصرکے بعد چہل قدمی، مغرب کے بعد فلاں کام اور عشا کے بعد فلاں فلاں کام۔ اس طرح آپ منظم ہوجاتے ہیں اور میراتجربہ رہا ہے کہ کسی بھی طرح کی کامیابی حاصل کرنے کے لیے منظم ہونابے حدضروری۔ نمازکی وجہ سے آپ کی تعلیم اورآپ کے دیگرکاموں میںجو برکت ہوتی ہے، وہ کامیابی کے حصول میں سونے پرسہاگہ کاکام کرتی ہے۔

وسعت قلب ونظر

مدارس کے فارغین جب یہاں سے نکل کردوسروں کے درمیان جاتے ہیں تو ان کواندازہ ہوتاہے کہ وہ کس دنیامیں تھے اور کس دنیامیں آگئے۔ظاہرہے، ہم میں سے کوئی بھی جب دوسروں کے درمیان جاتاہے، تو ان کے لیے اپنے دل میں جگہ بناتاہے۔یعنی کسی سے ملیں گے تواس کاطریقہ کیاہوگا، ان سے کس طرح بات کریںگے، اس کی تربیت بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے وسعت قلبی کی اشد ضرورت ہے۔اس سلسلے میںپرسنالٹی ڈیولپمنٹ کورسیزکافی معاون ثابت ہوتے ہیں۔عام طورپر دینی اداروں کے فارغین جس طرح کی محدود سوچ لے کرنکلتے ہیں، اس سے تھوڑاہٹ کرانہیں سوچناہوگا،تب جاکرمیدان عمل میں کامیابی کے امکانات روشن ہوں گے۔

*(جام نورآن لائن،شمارہ اگست ۲)*