علامہ مولانا سید محمد مدنی اشرفی جیلانی

*::: شیخ الاسلام رئیس المحققین حضرت علامہ مولانا سید محمد مدنی اشرفی جیلانی :::*

*حیات و خدمات- ایک نظر میں*

*مرتب:*

*بشارت علی صدیقی اشرفی*

*اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد، دکن*

——–:::::::::——–

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*

*اسم گرامی:* سید محمد مدنی۔

*کنیت:* ابوالحمزہ۔

*تخلص:* اخترؔ۔

*القابات:*

۱) *شیخ الاسلام*- مشہور لقب۔

۲) *رئیس المحققین:* یہ لقب غزالی زماں، امام اہل سنت حضرت علامہ مولانا سید احمد سعید کاظمی چشتی صابری قادری امروہی ثم ملتانی نے عطا فرمایا۔

*ولادت:*

1رجب المرجب 1357 ھ/ 27 اگست 1938ء؛ بروز اتوار۔ بمقام کچھوچھہ مقدسہ۔

*والد گرامی:*

مخدوم الملت محدث الاعظم حضرت علامہ ابو المحامدسید محمد اشرفی جیلانی۔

*جد امجد:*

حکیم الاسلام حضرت علامہ مولانا حکیم سید نذر اشرف اشرفی جیلانی۔

*والدہ ماجدہ:*

حضرت سیدہ فاطمہ بنت سلطان الواعظین سید احمد اشرف اشرفی جیلانی۔

*سلسلہ نسب:*

26؍ واسطوں سے نسب عالی حضور غوث اعظمص سے جا ملتا ہے۔

37؍ واسطوں سے نسب عالی حضور اکرم رسول اللہ ﷺ تک پہنچتا ہے۔

*اساتذہ:*

والدہ ماجدہ اور محدث الاعظم۔ پھر حضور محدث اعظم نے 14 سال کی عمر میں 10 شوال المکرم 1371ھ/ 1951 ء کو دار العلوم اشرفیہ مصباح العلوم، مبارکپور میں داخلہ کروایا۔

*اساتذہ اشرفیہ:*

1۔جلالۃ العلم حافظ ملت حضرت علامہ مولانا مفتی حافظ عبد العزیز اشرفی محدث مرادآبادی ثم مبارکپوری۔

2۔استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبد المصطفی نقشبندی مجددی اعظمی۔

3۔اشرف العلماء حضرت علامہ مولانا سید حامد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی۔

4۔شمس العلماء حضرت قاضی مفتی سید شمس الدین رضوی قادری جونپوری۔

5۔صدر الصدورحضرت علامہ مفتی غلام جیلانی قادری اعظمی۔

6۔استاذ العلماء حضرت علامہ حافظ عبد الرؤف قادری بلیاوی۔

7۔بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان قادری اعظمی۔

8۔شیخ القراء حضرت علامہ قاری محمد یحی قادری اعظمی۔

9۔شیخ المعقولات علامہ مولانا ظفر ادیبی اعظمی۔

*ہم درس رفقاء:*

1۔صدرالعلماءحضرت علامہ مولانا محمد احمد مصباحی [ناظم تعلیمات،الجامعۃالاشرفیہ، مبارکپور]

2۔ محدث جلیل حضرت علامہ مولاناعبدالشکورقادری مصباحی [شیخ الحدیث، الجامعۃالاشرفیہ، مبارکپور]

3۔حضرت علامہ مولانامفتی مشہود رضا قادری ابن شیربیشہ اہل سنت۔

4۔حضرت علامہ مولانامفتی نعمان خان قادری رضوی [پرنسپل،جامعہ اسلامیہ،روناہی]۔

5۔حضرت علامہ مولانامفتی نعیم اللہ خان قادری رضوی [شیخ الحدیث، منظرالاسلام، بریلی شریف]

6۔حضرت علامہ مولانامفتی غلام حسین رضوی مصباحی۔

7۔حضرت علامہ مولانامفتی حنیف قادری رضوی۔

8۔حضرت علامہ مولانامفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی ۔

*وصال والد گرامی:*

16 رجب المرجب 1381ھ / 25 ڈسمبر 1961ء۔

*بیعت و خلافت:*

26 شوال المکرم 1381ھ / 1961ء میں مخدوم المشائخ قدوۃ السالکین امام اہل سنت سرکارکلاں حضرت علامہ مولانا مفتی سید محمد مختار اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی کے دست اقدس پرسلسلہ قادریہ چشتیہ اشرفیہ میں بیعت کی اور سلسلہ قادریہ چشتیہ اشرفیہ منوریہ کی خلافات سے نوازےگئے۔

دیگر تمام سلاسل کی اجازت و خلافت اشرف الاصفیاء حضرت سید مصطفی اشرف اشرفی جیلانی ابن اعلی حضرت اشرفی میاں سے حاصل ہوئی۔

*جانشینی:*

مخدوم الملت محدث الاعظم کے فاتحئہ چہلم کے موقع پر،منعقدہ ۔ شوال المکرم 1381ھ/ 1962ءکے موقع پر اکابرین سلسلہ اشرفیہ اور مشائخ و علماء اہل سنت کی موجودگی میں جانشینی کا اعلان ہوا۔

*فراغت:*

10 شوال المکرم 1382ھ/ جنوری 1963 ء کو دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم، مبارک پور۔

*رسم مناکحت:*

26 شعبان المعظم 1384ھ / 27 ڈسمبر 1964ء؛ حضرت سرکار کلاں نے خطبہ نکاح پڑھایا۔

*اولاد: *

حضرت کی حقیقی اولاد نہیں البتہ دو فرزندان ِآغوشی ہیں:-

۱) حضرت علامہ سید حسن عسکری میاں اشرفی جیلانی(سجادہ نشین ومتولی محدث اعظم ہند) ۔

۲) حضرت سید حمزہ اشرف اشرفی (جانشین حضور شیخ الاسلام)

*پہلا خطاب:*

بہرائچ شریف، 1963ء۔

*پہلا حج:*

1973ء میں حضرت شیخ الاسلام نے اپنی والدہ، پیر و مرشد سرکار کلاں کے ساتھ کیا۔

*دینی خدمات:*

حضرت کی دینی خدمات کاتذکرہ چند صفحات میں نہیں ہوسکتا ،اس کے لیے کئی مجلد کتابیںدرکار ہیں ،ہندوستان کے ہر گوشے میں آپ کی خدمات مشہور ہیں ۔کشمیر سے کنیا کماری، آسام سے راجستھان کے صحرا تک ہر جگہ آپ کی خدمات کا چرچا ہے۔ یہاں اختصاراً دکن کے دینی خدمات کا ذکر کیا جارہا ہے۔

*پہلا دورۂ کرناٹک:*

1963 ء [حضور سید العلماء آل مصطفی برکاتی مارہروی کے ساتھ۔]

*سنی کانفرنس:*

ہبلی ،کرناٹک: 1964 ء میں ۔دکن (سائوتھ انڈیا) کا مرکزی اجلاس۔ [حضور مفتی اعظم ہند شاہ مصطفی رضا خان قادری نوری، حضور سید العلماءآل مصطفی برکاتی مارہروی، برہان ملت مفتی برہان الحق صدیقی قادری رضوی جبلپوری، حکیم الامت مفتی احمد یار خان اشرفی نعیمی بدایونی،شمس العلماء حضرت پیرسید مقبول شاہ کشمیری ، شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی اعظمی جیسے اکابرین نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس نے دکن کی مذہبی فضاء کو بدل کررکھ دیا، رد وہابیت و دیوبندیت اور اتحاد اہل سنت کے لیےمثال قائم کر دی۔]

*پہلا دورۂ حیدرآباد:* 1966ء۔

*فلسطین کانفرنس:*

ممبئی ميں 1967ء میںسنی جمیعۃ العلماء کے زیر اہتمام منعقد اس کانفرنس ميں شرکت کی، تاریخی خطاب فرمایا اورقیادت فرمائی۔ شیخ الاسلام اس تنظیم کے نائب صدر تھے اور حضرت سید العلماء علامہ مولانا سید آل مصطفی قادری برکاتی مارہروی اس کے صدر تھے۔

*ٓآل انڈیا محدث اعظم کانفرنس،ہبلی،کرناٹک:*

25-26 دسمبر 1989ء خانوادئہ محدث اعظم ہند کے ساتھ مختلف سلاسل سے وابستہ علماء اہل سنت ایک اسٹیج پر موجود تھے۔

*سنی مشائخ کانفرنس، ہبلی، کرناٹک:*

رد شيعت ورافضیت اوربيداری اہلِ سنت کےلیے 500سے زائد علما و مشایخ کوایک اسٹیج پرجمع کیا، دکن کےاکثرخانقاہوں نےشرکت کرکےایک نئی تاریخ رقم کی۔

*غوث وخواجہ کانفرنس،ہبلی کرناٹک:*

2000ء۔ اس کانفرنس میں غوث پاک کے سجادہ نقیب الاشراف سید ظفر گیلانی بغداد شریف سے اور حضرت سید مہدی میاں اجمیر شریف سے اہم مہمانان تھے۔

*رحمت عالم کانفرنس،ہبلی ،کرناٹک:*

2007ء ۔مشائخ خانوادئہ اشرفیہ کے علاوہ دکن کے اکثر خانقاہوں کے مشائخ موجود تھے۔

*انٹر نیشنل محدث اعظم کانفرنس:*

پچاس سالہ دور سجادگی پر سہ روزہ انٹرنيشنل کانفرنس، واگھرا ،ضلع بھروچ گجرات؛ جس میں حضرت شیخ الاسلام کے کم و بيش5 لاکھ مریدین اور 1500سے زائد خلفاء نے شرکت کی۔ملک و بیرون ملک سے مہمانان گرامی و سامعین جمع ہوئے۔ مہمانان خصوصی کے طور پر پاکستان سے شہزادۂ خطيب اعظم پاکستان، حضرت علامہ مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی، مناظر اہل سنت حضرت علامہ سيد مظفر شاہ قادری اور عالمی شہرت یافتہ مداح رسول اويس رضا قادری،سید صبیح الدین صبیح رحمانی ،برطانیہ سےعلامہ شاہد رضا نعیمی، مفتی ایوب شمسی اشرفی ،امریکہ سے پروفیسر مسعود احمد سہروردی و دیگر ممالک سے علماء و مشائخ تشریف لائےتھے۔

*بیرون ملک میں دینی خدمات:*

صرف ملک ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ بیرون ملک میں بھی آپ کے ذریعے دین و سنیت کا بہت بڑا کام ہو اہے۔برطانیہ،امریکہ،سائوتھ ،افریقہ،کینیڈا،پاکستان کے علاوہ کئی ممالک میں آپ کے دینی و تبلیغی خدمات کی ایک عظیم تاریخ ہے۔یہاں صرف برطانیہ کا مختصر دورہ درج ہے۔

*پہلا دورۂ برطانیہ:*

1974ء میں حضرت اہلِ برطانیہ کی دعوت پر پہلی بار تشریف لےگئے۔ 25 شہروںکادورہ رہااور 30 سے زائد علمی اورفکری خطبات سے اہل سنت کوفیضاب کیا۔

*دوسرا دورۂ برطانیہ:* 1976ء۔

*تنظیمی خدمات:*

جماعت رضائےۓمصطفی، برطانیہ:

1974ء میں حضرت شیخ الاسلام نے اہل سنت کے استحکام اور ترویج و اشاعت کے لئے جماعت رضائےمصطفی کی شاخ برطانیہ میں قائم کی۔حضرت شیخ الاسلام اس تحریک کےاہم رکن تھےاور صدرشہزادئہ اعلیٰ حضرت مفتی اعظم شاہ مصطفی رضاخان قادری نوری بریلوی تھے۔

*بانی:*

(1)جماعت رضائےمصطفی، برطانیہ[1974ء[ ؛

(2) انٹرنیشل محدث اعظم مشن [18 اگست، 1978ء]؛

(3)مدنی میاں عربک کا لج[1985ء]۔

*سرپرست:*

(1) دارالعلوم شاہ احمد کھٹو،احمدآباد۔

(2) دارالعلوم شاہ عالم،احمدآباد۔

(3) انٹر نیشنل محدث اعظم مشن،احمدآباد۔

(4)شیخ الاسلام ٹرسٹ،احمدآباد۔

(5)مدنی دارالافتاء،احمدآباد۔

(6) دارالعلوم اہلسنت،جبلپور۔

(7) مکتبہ انوارمصطفی/ شیخ الاسلام اکیڈیمی، حیدرآباد،دکن۔

(8) اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد،دکن۔

(9) مدنی میاں عربک کا لج،ہبلی ،کرناٹک۔

(10)مدنی فاؤنڈیشن،ہبلی ،کرناٹک۔

(11) گلوبل اسلامک مشن،یوایس اے۔

(12)مدنی اسلامک اسٹدی سنٹر ،کرجن گجرات

*سابقہ رکنیت:*

(1) آل انڈیا الجمیعۃ الاشرفیہ؛

(2) سرپرست، آل انڈیا سنی لیگ؛

(3) نائب صدر، آل انڈیا جماعت رضائےمصطفی؛

(4)نائب صدر، آل انڈیا تبلیغ سیرت ؛

(5)نائب صدر، آل انڈیا سنی جمیعۃ العلماء۔

*قلمی خدمات:*

*ماہنامہ المیزان:*

1970ءمیں اجراء کیا اور اپنی سرپرستی میں جاری رکھا۔ شیخ الاسلام کے بھتیجے علامہ سید جیلانی اشرف اس کے مدیر تھے۔

*ترجمہ و شرح مشکاۃ المصابیح:* 1970ء میں شیخ الاسلام نے اس ترجمہ و شرح کا آغازبنام تفہیم الحدیث کیا تھاجوماہنامہ المیزان میں قسط وارشائع ہوتا تھا۔

*اعلی حضرت نمبر:*

مجلس رضا قائم کی۔ اس مجلس کےزیراہتمام 1396ھ/ 1976ء میں ماہنامہ ا لمیزان نے اعلی حضر ت پرایک تاریخی نمبرشائع کیا۔ یہی نمبر دوسرے سال یعنی 1977ء دوبارہ انواررضا کےنام سےلاہورسےشائع ہوا، اور پھرتیسری بارماہ نامہ قاری نے 1989ء میں شائع کیا۔ اس نمبرکےمحرک اوراہم نگران شیخ الاسلام تھےجب کہ مدیراعلی حضرت مولانا سید جیلانی اشرفی کچھوچھوی تھے۔

*تصانیف عالیہ:*

*قرآنیات:*

( ۱ ) تفسیر اشرفی (سید التفاسیر) ۔ 10 جلدیں۔

( ۲ ) کنز الایمان اور دیگر تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ (محاسن کنز الایمان پر جامع رسالہ)۔

*حدیثیات:*

( ۳ ) تفہیم الحدیث شرح مشکوٰۃ شریف ( جس کی تکمیل نہ ہوسکی ۔ اے کاش ۔۔۔ )

( ۴ ) الاربعین الاشرفی۔

( ۵ )شرح حدیث ’’انماالاعمال بالنیات‘‘۔

( ۶) تعلیم دین اورتصدیق جبریل امین۔

( ۷) محبت رسول روح ایمان۔

*اعتقادیات:*

( ۸ )مسئلہ حاضر و ناظر۔

( ۹ ) اسلام کا نظریہ ختم نبوت اور تحذیر الناس (رد قاسم نانوتوی و دیو بندیہ)۔

( ۱۰ ) شرح التحقیق البارع فی حقوق الشارع۔(شرح ۔رسول اکر م کے تشریعی اختیارات)

( ۱۱ )اشتراکیت۔

*فقہیات:*

( ۱۲ ) ویڈیواور ٹی وی کاشرعی استعمال (تاریخی تحقیقی فتوی)۔

(۱۳ )کتابت نسواں اورعصری تقاضے۔

*رد مودودیت:*

( ۱۴ ) اسلام کا تصورالہ اورمودودی صاحب۔

(۱۵ ) اسلام کا نطریہ عبادت اورمودودی صاحب۔

(۱۶ ) دین اور اقامت دین۔

(۱۷) فریضہ دعوت و تبلیغ۔

*تحقیقات و تنقیحات:*

(۱۸)تحریک دعوت اسلامی کاتنقیدی جائزہ۔

( ۱۹ ) مسلم پرسنل لاء یااسلامک لاء؟

(۲۰ ) دین کامل۔

(۲۱ ) اظہار حقیقت ۔

*مقالات:*

(۲۲ ) مقالات شیخ الاسلام (حصہ اول)۔

(۲۳ )مقالات شیخ الاسلام (حصہ دوم؛مرتب راقم الحروف- بشارت علی صدیقی۔غیر مطبوعہ)

*شعریات: *

(۲۴ ) تجلیات سخن۔

*خطبات کےمجموعے:*

1- خطبات برطانیہ (سرزمین برطانیہ میں ہوے9 خطبات کا مجموعہ۔مرتب : سید جیلانی میاں )

2- خطبات حیدرآباد۔ (4 خطبات کا مجموعہ ۔مرتب: علامہ مولاناسیف خالداشرفی)

3- خطبات شہادت امام حسین۔(7 خطبات کامجموعہ؛مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی)

4- خطبات شیخ الاسلام۔ سیریز۔1 (10 خطبات کامجموعہ؛مرتب: مولانااصغرعلی اشرفی)

5-خطبات شیخ الاسلام۔ سیریز۔2 (10 خطبات کا مجموعہ، مرتب: مولانا نعیم الدین اشرفی)

6- خطبات جامعہ نظامیہ،حیدرآباد۔ (3 خطبات کامجموعہ؛ مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی۔غیر مطبوعہ)

7- خطبات میلادوسیرت رسول۔(7 خطبات کامجموعہ؛مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی۔غیر مطبوعہ)

8- خطبات معارف القران۔(4 خطبات کامجموعہ؛مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی۔غیر مطبوعہ)

9- خطبات رفعت مصطفی۔(7 خطبات کامجموعہ؛مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی۔غیر مطبوعہ)

10- خطبات عظمت مصطفی۔(7 خطبات کامجموعہ؛مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی۔غیر مطبوعہ)

11- خطبات تصوف ومقامات اولیاء۔(7 خطبات کامجموعہ؛مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی۔غیر مطبوعہ)

12- خطبۂ جدہ بنام ۔ شان علی (مرتب: راقم الحروف- بشارت علی صدیقی۔غیر مطبوعہ)

13-تین(3) مجددین۔(مرتب: راقم الحروف- بشارت علی صدیقی۔غیر مطبوعہ)

©

*اشرفیہ اسلامک فاؤنڈ یشن-حید رآباد ،دکن*Copy post parvez Alam noori

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.