خرافات شادی کا سدباب اور فکر امام احمد رضا
غلام مصطفی قادری,

امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ نے معاشرتی برائیوں کے سدباب کے لئے جو کاوشیں کی ہیں وہ بے مثال ہیں۔ اس سلسلے میں آپ نے زبان  سے زیادہ قلم کا استعمال کیا اور کئی ایک اصلاحی کتب قوم مسلم کو عطا فرمائیں اور بقول مولانا محمد احمد مصباحی اعظمی ’’امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ (۱۲۷۲ھ / ۱۳۴۰ھ) کی تصنیفات تین اہم حصوں میں تقسیم کی جاسکتی ہیں جس کی روشنی میں ان کی تجدیدی‘ اصلاحی اور علمی خدمات کا اجمالی نقشہ سامنے آجاتا ہے

(۱) اصلاح عقائد اور تصحیح نظریات

(۲) اصلاح اعمال اور تصحیح عادات

(۳) علمی افادات اور فنی تحقیقات

شادیوں میں جو غیر شرعی رسمیں اور برائیاں پائی جارہی ہیں ان سے سوائے نقصان کے کچھ ہاتھ نہیں آتا لیکن مغربی تہذیب و تمدن پر عمل کرنے میں کامیابی تصور کرنے والا مسلمان آج ان خرافات کو بجا لانے میں فخر محسوس کرتا ہیٍ یہ بات قابل افسوس ہے ‘اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے‘ اس کی تعلیمات و ہدایات ہماری کامیابی کی ضمانت ہیں۔ اس  مذہب نے ہر موڑ پر ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ چاہے وہ شادی بیاہ کا معاملہ ہو یا دیگر دینی و دنیوی معاملات۔

امام احمد رضا زندگی بھر اصلاح اعتقاد و اعمال میں سرگرم عمل رہیٍ اچھی اور اسلامی باتوں کے فوائد بھی مسلمانوں کے سامنے بیان کرتے رہے اور غیر شرعی اور بے جا رسوم کے مضر اثرات بھی واضح کرتے رہے‘ وہ ہمارے خیرخواہ تھے‘ اس لئے ہمیشہ خیرخواہی ہی کرتے رہے۔ ملت اسلامیہ ان کے احسانات کا کماحقہ شکریہ ادا نہیں کرسکتی۔

۱۳۱۲ھ میں مولوی محمد احسن نے کانپورسے ایک استفتاء امام موصوف کی بارگاہ میں بھیجا جس میں خرافات نکاح و شادی کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا حکم دریافت کیا۔ امام احمد رضا کی خداداد صلاحیتوں اور وسعت نظر کا اکابر علماء و مشائخ نے اعتراف کیا۔ مختصر سے سوال کو مدلل اور مبرہن کرکے حسین انداز میں تفصیلی جواب دینا آپ کا کمال تھا۔ اور یہاں بھی ایسا ہی ہوا کہ امام احمد رضا نے شادی کی خرافات اور غیر مناسب رسموں کے بارے میں مفصل جواب عنایت فرمایا جو مستقل رسالہ کی شکل اختیار کرگیا اور ہادی الناس فی رسوم الاعراس (لوگوں کا رہنما شادیوں کی رسموں کے بارے میں) کے تاریخی نام سے منظرعام پر آیا۔ مذکورہ رسالہ میں آپ نے شادی اور نکاح کے جائز طریقے بھی بیان فرمائے اور غیر اسلامی طریقوں کے نقصانات کی نشاندہی بھی فرمائی۔

کئی جگہ مسلمانوں کے اسلامی تہواروں میں دوسری بہت سی رسموں کے ساتھ آتش بازی بھی پائی جاتی ہے۔ اس طرح شادی کے موقع پر بھی آتش بازی خوب ہوتی ہے جس میں فائدہ تصور کرنا بے وقوفی ہے بلکہ سلیم الفطرت سوچنا بھی غلط سمجھے گا۔ امام احمد رضا اس کے بارے میں لکھتے ہیں

آتش بازی جس طرح شادیوں اور شب برات میں رائج ہے‘ بے شک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں تضیع مال (مال برباد کرنا) ہے۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کا بھائی فرمایا گیاہیٍ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا

’’اور فضول نہ اڑا بے شک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے‘‘

(پ ۱۵‘ ع ۳‘ترجمہ کنز الایمان)

رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں

’’بے شک اﷲ تعالیٰ نے تین چیزیں تمہارے لئے ناپسند رکھیں (۱) قیل و قال (بے کار گفتگو) (۲) بربادی (۳) کثرت سوال

بعدہ محقق علی الاطلاق سیدنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے حوالے سے رقم طراز ہیں

’’بہت بری بدعتوں میں سے ہے جو اکثر بلادہند میں متعارف ہے کہ لوگ آگ سے کھیل تماشا کے لئے اکھٹا ہوتے ہیں اور پٹاخے چھوڑتے ہیں‘‘ (ماثبت بالسنتہ ‘مترجم)

جہالت میں زندگی گزارنے والے لوگ اپنی شادیوں کے موقع پر گانا بجانا بھی فخر سمجھتے ہیں اور کہیں تو یہ رسم ورواج ناک مونچھ کا مسئلہ بن جاتا ہے اور رشتہ داروں کے طعن و تشنیع سے بچنے کے لئے ایسی محفلیں آراستہ کی جاتی ہیں‘ بھلے ہی ان میں ہزاروں لاکھوں روپے کیوں نہ خرچ ہوجائیں۔ معاذ اﷲ جس شادی میں یہ ناچ گانے نہ ہوں‘ اسے شادی ہی نہیں سمجھا جاتا۔ جبکہ اسلام ان سے سخت منع کرتا ہٍے امام احمد رضا اس سلسلے میں رقم طراز ہیں

’’اسی طرح یہ گانے باجے کہ ان بلاد (شہروں) میں معمول و رائج ہیں‘ بلاشبہ ممنوع و ناجائز ہیں‘ خصوصا وہ ناپاک ملعون رسم کہ بہت خسران بے تمیز‘ احمق جاہلوں نے شیاطین ہنود‘ ملاعین بے بہبود سے سیکھی‘ یعنی محش گالیوں کے گیت گوانا‘ اور مجلس کے حاضرین وحاضرات کو لچھے دار سنانا‘ سمدھیانہ کی عفیف پاک دامن عورتوں کو الفاظ زنا سے تعبیر کرانا‘ خصوصا اس ملعون بے حیا رسم کا مجمع زناں میں ہونا‘ اس کا اس ناپاک فاحشہ حرکت پرہنسنا‘ قہقہے اڑانا‘ اپنی کنواری لڑکیوں کو یہ سب کچھ سنا کر بدلحاظیاں سکھانا‘ بے حیائی‘ بے غیرت‘ خبیث‘ بے حمیت مردوں کا اس شہدپن کو جائز رکھنا‘ کبھی برائے نام لوگوں کے دکاوے کو جھوٹ سچ ایک آدھ بار جھڑک دینا مگر بندوبست قطعی نہ کرنا۔

یہ وہ شنیع گندی مردود رسم ہے جس پر صدہا لعنتیں اﷲ عزوجل کی اترتی ہیں۔ اس کے کرنے والے ‘ اس پر راضی ہونے والے اپنے یہاں اس کا کافی انسداد (روک) نہ کرنے والے سب فاسق فاجر‘ مرتکب کبائر‘ مستحق غضب جبار و عذاب نار ہیں۔ والعیاذ باﷲ تبارک و تعالیٰ‘ اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت بخشے آمین

(ہادی الناس‘ اردو ترجمہ‘ رسوم شادی ص ۵۔۶)

آگے مزید فرماتے ہیں

’’جس شادی میں یہ حرکتیں ہوں‘ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس میں ہرگز شریک نہ ہوں۔ اگر دانستہ شریک ہوگئے تو جس وقت اس قسم کی باتیں شروع ہوں یا ان لوگوں کا ارادہ معلوم ہو سب مسلمان مردوں عورتوں پر لازم ہے کہ فورا فورا اسی وقت اٹھ جائیں اور اپنی جورو‘ بیٹی‘ ماں‘ بہن کو گالیاں نہ دلوائیں‘ فحش نہ سنوائیں‘ ورنہ یہ بھی ان ناپاکیوں میں شریک ہوں گے اور غضب الٰہی سے حصہ لیں گے‘ والعیاذ باﷲ رب العالمین

(حوالہ مذکور ص ۶)

جو لوگ امام حمد رضا کو بدعتیوں کے امام‘ بدعات و منکرات کو فروغ دینے والا اور ان جیسے نہ جانے کیسے کیسے القاب دیتے ہیں وہ مذکور سطور کو بغور پڑھیں اور اپنی غلط گمانی کا محاسبہ کریں‘ نیز اندازہ لگائیں کہ انہوں نے بدعتوں کا سدباب کیا یا ان کو فروغ دیا؟ جو قائد و رہبر اسلامی شریعت کے خلاف شادی بیاہ کی مجلسوں کو گوارا نہ کرے‘ وہ بدعات و منکرات کو کیسے گوارا کرسکتا ہے۔ پروفیسر محمد مسعود احمد مظہری نے کتنی حقیقت بھری بات کہی ہے کہ

’’جہلا نے جو نت نئی بدعات نکالی ہیں ان سے امام احمد رضا کا کوئی تعلق نہیں‘ وہ ایک جہان علم و فضل تھے‘ کوئی اس جہان کی تو سیر کرے گا پھر جو نہ دیکھا تھا دیکھے‘ اور جو نہ سناتھا‘ سنے۔ امام احمد رضا نے معاشرہ کو برائیوں سے پاک کرنے کے لئے بڑی جدوجہد کی۔ ان برائیوں کی نشاندئی کی جو منشائے شریعت کے خلاف اور حرام و ناجائز ہیں۔(رہبر و رہنما ص ۱۱)

آج بھی ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے کی کوشش کی جائے تو معاشرہ پر نکھار ہوسکتا ہے‘ بدعات و منکرات کی بیخ کنی کے لئے تصنیفات امام احمد رضا سے ہمیں بہت کچھ مل سکتا ہے اور ہم بے جا رسوم جو برسوں سے‘ ہمارے معاشرے اور ماحول کو کھوکھلا کررہی ہیں‘ سے نئی نسل کو بچا سکتے ہیں۔

ہاں یہ بھی سچائی ہے کہ رسم و رواج کی جڑیں جب کسی قوم یا خاندان یا اس کے افراد واشخاص کی رگ و پے میں سرایت کرجاتی ہیں اور ان رسوم و عادات کے پائوں مضبوطی سے ان میں جم جاتے ہیں تو انہیں ترک کرنا نفس پر بڑا شاق گزرتا ہے اور انسان انہیں بہت جلد چھوڑنا گوارا نہیں کرتا۔ تاہم یہ تو سوچئے کہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کے لئے وہی کام کرنا ضروری ہے جو خدا اور رسول جل جلالہ وصلی اﷲ علیہ وسلم کو راضی کرنے والا ہو اور ہر اس فعل سے اجتناب کرنا لازم ہے جو خدا اور رسول کو ناراضی کا سبب بنتا ہو۔ کیا قرآن کریم میں آپ نے نہیں پڑھا کہ مسلمانوں کو شیطان کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور اسلام میں پورے طور پر داخل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسلام ترقی اور کامیابی کا ضامن ہے مگر اس کی برکتیں تب ہی رونما ہوسکتی ہیں جب اہل اسلام اس کی ہر ہدایت و تعلیم پر دل و جان سے عمل پیرا ہوں‘ امام احمد رضا خاں قادری نے یہی پیغام دیا اور ہر موڑ پر اسلامی احکام کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا سفر شوق آگے بڑھانے کی تلقین فرمائی۔

شادی میں دولہا اور دلہن کے گلے میں پھولوں کے ہار بھی ڈالے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں امام احمد رضا ہماری رہنمائی کرتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں

’’شرع شریف کا قاعدہ کلیہ ہے کہ جس چیز کو خدا اور رسول اچھا بتائیں وہ اچھی ہے اور جسے برا فرمائیں وہ بری۔ اور جس سے سکوت فرمائیں یعنی شرع سے اس کی خوبی نکلی نہ برائی وہ اباحت اصلیہ پر رہتی ہے کہ اس کے فعل و ترک میں ثواب نہ عتاب۔ یہ قاعدہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ اکثر جگہ کام آئے گا‘‘ (رسوم شادی ص ۴۰)

پھر اس کا حکم بیان فرماتے ہیں

’’پھولوں کا سہرا جیسا سوال میں مذکور‘ رسوم دنیویہ سے ایک رسم ہے جس کی ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہیں‘ نہ شرع میں اس کو کرنے کا حکم آیا تو مثل اور تمام عادات ورسوم مباحہ کے مباح رہے گا‘‘ (مرجع سابق)

قارئین کرام غور کریں! مسلمان اپنے نبی کی سنت(نکاح وشادی) ادا کرتے وقت وہ رسمیں کیوں اختیار کرتا ہے جو دشمنان اسلام نے جاری کی ہیں۔ ہمیں خدا اور رسول کو خوش کرنا ہے تو رضائے رب اور خوشنودی رسول حاصل ہونے والے طریقے اپنانے چاہئیں نہ کہ مغربی طرز شادی اور یورپین رسوم و رواج جن کے شامل ہونے کے سبب شادی خانہ آبادی کے بجائے شادی خانہ بربادی نہ بن جائے۔