وسیلے کی بحث میں ایک علمی خیانت

 مولانا فیضان المصطفی قادری

حضور اقدسﷺ کی تشریف آوری سے قبل آسمانی کتابوں میں آپ کی آمد کی بشارت دی گئی تھی بلکہ آپ کی صفات بھی بیان کی گئی تھیں۔ جس کا علم پہلی قوموں خصوصا یہود کو تھا‘ بلکہ انہیں آپ کے مقام ہجرت کا بھی علم تھا۔ چنانچہ وہ مختلف علاقوں سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ اور سا کے قرب وجوار میں آبسے تھے۔ یہاں کے لوگوں کو انہوں نے ہی آنے والے نبی کے بارے میں بتایا تھا۔ بلکہ وہ ان کی صفات اور خوبیوں کا بھی تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ آنے والے نبی کا اس شدت سے انتظار کرتے تھے کہ جب بھی کسی قبیلے سے کوئی ان بن ہوتی تو کہتے کہ وہ نبی آئے گا تو ہم اس کے ساتھ تم سے اچھی طرح نمٹ لیں گے۔ اوس و خزرج یا عرب کے دیگر مشرک قبائل سے ان کی جنگیں ہوتیں تو وہ اسی نبی کے وسیلے سے فتح کی دعا کیا کرتے تھے۔ بلکہ جنگ شدت اختیار کرتی تو توریت کے اس مقام پر جہاں پیغمبر آخر الزماں کا تذکرہ اور ان کے آنے کی خوشخبری تھی‘ ہاتھ رکھتے اور ان کا واسطہ دے کر بارگاہ الٰہی میں فتح ونصرت کی دعا کرتے تو انہیں فتح و کامرانی نصیب ہوتی لیکن جب وہ نبی آخر الزماں مبعوث ہوئے تو جانتے پہچانتے ہوئے بھی اس بناء پر منکر ہوگئے کہ وہ ان کی قوم کی بجائے عرب قوم میں مبعوث ہوئے۔

سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۸۹ میں اسی واقعہ کا ذکر ہے اور اجمال یا تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ تقریبا تمام کتب تفیسر میں مذکور ہے۔ تمام علمائے اہلسنت نے اس آیت کریمہ کے ترجمہ اور تفسیر میں اسی مفہوم کو بیان کیا۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اس آیت کا ترجمہ فرماتے ہیں

ترجمہ: اور جب ان کے پاس اﷲ کی وہ کتاب (قرآن) آئی جو ان کے ساتھ والی کتاب (توریت) کے تصدیق فرماتی ہے اور اس سے پہلے وہ اس نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا‘ ان سے منکر ہو بیٹھے تو اﷲ کی لعنت منکروں پر (کنز الایمان)

یہی ترجمہ مفتی احمد یار خاں نے تفسیر نعیمی میں اختیار کیا ہے اور اسی مفہوم کا ترجمہ و تفسیر حضرت پیر کرم شاہ ازہری نے تفسیر ضیاء القرآن میں فرمائی ہے۔

لیکن آئندہ سطور سے قارئین کو حیرت ہوگی کہ صحابہ و تابعین اور ہر دور کے مفسرین کے مابین اس آیت کے جس مفہوم و معنی کا غلغلہ رہا ہے وہ دیوبند پہنچنے کے بعد نہ جانے کہاں کھوگیا۔ چنانچہ مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نے یوں ترجمہ کیا ہے:

’’اور جب ان کو ایک ایسی کتاب پہنچی (یعنی قرآن) جو منجانب اﷲ ہے (اور) اس کی (بھی) تصدیق کرنے والی ہے جو (پہلے سے) ان کے پاس ہے (یعنی توریت) حالانکہ اس کے قبل وہ (خود) بیان کیا کرتے تھے کفار سے پھر جب وہ چیز آپہنچی جس کو وہ (خوب جانتے) پہچانتے ہیں تو اس کا (صاف) انکار کر بیٹھے سو(بس) خدا کی مارہو ایسے منکرو پر‘‘

مفتی شفیع صاحب نے معارف القرآن میں اور مودودی صاحب نے تفہیم القرآن میں فتح و نصرت مانگنے کا تو ترجمہ کیا لیکن ترجمہ و تفسیر میں اس کا کچھ ذکر نہیں کہ اس دعا میں وہ نبیﷺ کا کس طرح تذکرہ کرتے تھے‘ بلکہ مفتی شفیع صاحب نے خلاصہ تفسیر کے ذیل میں یستفتحون کا معنی ’’خود بیان کرنا‘‘ ہی اختیار کیا اور ان کے بقول یہی ترجمہ مفتی محمود الحسن دیوبندی کا ہے کہ انہوں نے معارف القرآن کے مقدمہ میں ذکر کیا کہ خلاصہ تفسیر کے طور پر مفتی محمود الحسن صاحب کے ترجمہ کو ہی تذیبیل کے ساتھ نقل کردیا ہے۔

مودودی صاحب نے یوں ترجمہ کیا ہے:

’’اور اب جو ایک کتاب اﷲ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے‘ ان کے ساتھ ان کا کیا برتائو ہے؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی‘ باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلہ میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے مگر جب وہ چیز آگئی جسے وہ پہچان بھی گئے تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا‘ خدا کی لعنت ان منکرین پر‘‘

مودودی صاحب کے ترجمہ یا تفسیر میں کہیں اس کا نام و نشان نہیں کہ وہ لوگ پیغمبر آخرالزماں کے وسیلے سے فتح و نصرت کی دعا کرتے تھے۔ حالانکہ اس فتح ونصرت کی دعا میں پیغمبر آخرالزماں کا کوئی ذکر ملحوظ نہ ہو تو اس آیت میں فتح و نصرت کی دعا کا ذکر بے فائدہ سا لگتا ہے۔ واقعہ کا سارا پس منظر ذہن میں رکھتے ہوئے ذرا پوری آیت ملاحظہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ نبی آخر الزماں کے وسیلے کو ’’المحذوف کالمذکور‘‘ کے مرحلے میں ملحوظ نہ رکھا جائے تو آخر اس جملے ’’وکانو من قبل یستفتحون علی الذین کفروا‘‘ کا کیا مفاد ہوسکتا ہے؟

ہاں! اس مفہوم میں یہ ملحوظ ہوکہ اس نبی کے وسیلے سے فتح و نصرت کی دعا کرتے تھے تو سارا مفہوم بالکل واضح اور صاف ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ یہود حضورﷺ کی آمد سے پہلے انہیں کے وسیلے سے کافروں پر فتح و نصرت کی دعا کرتے تھے اور اب جب وہ آگئے تو پہچان کر بھی منکر ہوگئے شاید ’’یستفتحون‘‘ کا ترجمہ (بے ذکر نبی کے) فتح و نصرت کی دعا کرنے میں اسی انتشار معنی کا مسئلہ ہوگا جس کی بناء پر مولوی اشرف علی تھانوی صاحب نے یہاں دعا کا معن یہی ختم کردیا بلکہ ایسا ترجمہ اختیار کیا جس سے ان مسائل کی جڑ ہی کٹ جائے۔ چنانچہ وہ’’یستفتحون‘‘ کا ترجمہ کرتے ہیں۔ عربی قواعدولغت کے اعتبار سے یہ معنی کس قدر درست ہے اور کتب تفسیر میں اس کی کیا سند موجود ہے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے قطع نظر اس سوال کے مقام حیرت یہ ہے کہ اس علمی دنیا میں رہتے ہوئے آخر اس معنی و مفہوم سے کیوں نظریں ہٹالی گئیں جسے کسی مفسر نے نظر انداز نہ کیا۔

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کے ترجمہ پر یہ تشویش تھی کہ ’’اسی نبی کے وسیلے سے‘‘   کا حصہ زائدہے جوآیت مذکورہ کے کسی حصہ کا ترجمہ نہیں ہے۔ نہ اس کے مفہوم کاکوئی کلمہ ہی اس آیت میں مذکور ہے۔ پھر ترجمے میں اس حصے کے اضافے کی ضرورت کیا پڑی؟ لیکن تفسیروں کے مطالعہ کے بعد معلوم ہوا کہ اس آیت کا یہی مفہوم سلفا عن خلف منقول ہے اور راقم کے مطالعہ میں نہیں کہ کسی مفسر نے اس مفہوم کو نظر انداز کیا ہو۔ چنانچہ اس کی وضاحت کے لئے چند مشہور تفسیروں کی عبارتوں کا حوالہ نذر قارئین ہے۔

(۱) جلالین شریف میں ہے۔ قبل مجیئہ‘ یستنصرون‘ یقولون اللھم انصرنا علیھم بالنبی المبعوث آخر الزمان

(۲) تفسیر ابن کثیر میں ہے: ترجمہ:یعنی اس رسول کے اس کتاب لانے سے پہلے مشرکین دشمنوں سے جب ان کی مڈ بھیڑ ہوتی تو ان کی تشریف آوری سے مدد مانگتے‘ کہتے عنقریب ایک نبی مبعوث کیا جائیگا جس کے ساتھ ہم تمہیں عاد وارم کی مانند قتل کرڈالیں گے۔

اسی میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما کے حوالے سے ہے۔

یعنی بعثت سے قبل یہود اوس و خزرج پر رسول اﷲ ﷺکے وسیلے سے فتح مانگتے تھے۔ جب اﷲ نے انہیں عرب سے مبعوث فرمایا تو منکر ہوگئے اور ان کے بارے میں اپنے بیانات سے بھی مکرگئے۔ تو حضرت معاذ بن جبل‘ بشربن براء اور دائود بن سلمہ رضی اﷲ عنہم نے ان سے کہا ’’اے یہودیو! اﷲ سے ڈرو اور مسلمان ہوجائو کہ جب بھی شرک کے ماحول میں تھے تو تم محمدﷺ کے وسیلے سے ہم پر فتح کی دعا کرتے تھے اور تم ہمیں ان کے آنے کی خبر دیتے اور ان کے اوصاف بتاتے تھے تو بنو نضیر کے سلام بن مشکم نے کہا کوئی ایسی چیز نہ لائے جسے ہم جانتے ہوں اور جس کا ہم تم سے ذکر کررہے تھے وہ نہیں ہیں۔ نیز حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے ہی مروی ہے کہ مشرکین عرب پر حضورﷺ کی تشریف آوری سے مدد مانگتے تھے۔ ابوالعالیہ فرماتے ہیں کہ یہود مشرکین عرب پر محمدﷺ کے وسیلے سے مدد مانگتے تھے۔ کہتے تھے اے اﷲ! اس نبی کو بھیج دے جس کا ذکر ہم اپنے پاس لکھا پاتے ہیں تاکہ ہم مشرکین کو قتل کردیں تو جب اﷲ تعالیٰ نے محمدﷺ کو بھیجا اور انہوں نے دیکھا کہ یہ تو دوسری قوم سے ہیں تو عرب سے حسد کی بناء پر منکر ہوگئے حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ آپ اﷲ کے رسول ہیں۔

(۳) تفسیر کبیر میں ہے: ترجمہ: یعنی اس آیت کی شان نزول میں چند وجوہ ہیں۔ اول یہ کہ یہود حضور اقدسﷺ کی بعثت اور نزول قرآن سے قبل فتح و نصرت کی دعا کرتے اور کہتے تھے اے اﷲ! نبی امی کے وسیلے سے ہمیں فتح و نصرت عطا فرمائے۔

(۴) روح المعانی میں ہے:یعنی بنو قریظہ اور بنو نضیر کے حق میں نازل ہوئی‘ یہ بعثت سے قبل حضور اقدسﷺ کے وسیلے سے اوس و خزروج پر فتح مانگتے تھے۔ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت قتادۃ رضی اﷲ عنہما کا قول ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے ان کے وسیلے سے مشرکین پر مدد مانگتے۔ جیسا کہ سدی سے مروی ہے کہ جب ان کے اور مشرکین کے مابین جنگ شباب پر ہوتی تو توریت نکالتے اور جہاں حضورﷺ کا ذکر جمیل ہے اس مقام پر اپنا ہاتھ رکھتے اور کہتے اے اﷲ! ہم تجھ سے اس نبی کے حق کے وسیلے سے سوال کرتے ہیں جس کو بھیجنے کا تونے ہم سے وعدہ فرمایا ہے کہ آج دشمنوں پر ہماری مدد فرما‘ تو ان کو مدد ملتی تھی۔

(۵) قرطبی میں ہے: علامہ قرطبی نے حدیث کے حوالے سے استفتاح کا معنی ’’مدد طلب کرنا‘‘ ثابت کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ

وفی الحدیث: کان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم یستفتح بصعالیک المھاجرین‘‘

یعنی حدیث شریف میں یستفتح کا صیغہ مدد طلب کرنے کے معنی میں وارد ہوا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم فقیر مہاجرین کے وسیلے سے مدد طلب کرتے تھے۔ اسی میں آگے ہے:

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ خیبر کے یہود کی غطفان سے جنگ ہوتی تھی تو جب مقابلہ ہوتا تو یہود ہزیمت کھاتے تو یہی دعا کرتے اور کہتے ’’اے اﷲ ہم تجھ سے اس نبی امی کے حق کے وسیلے سے سوال کرتے ہیں جن کو آخری زمانے میں ہمارے لئے مبعوث فرمانے کا تونے وعدہ فرمایا ہے کہ ان دشمنوں پر ہماری مدد فرما‘ تو مقابلے کے وقت جب یہ دعا کرتے تو غطفان کو شکست دے دیتے۔ جب اﷲ تعالیٰ نے اس نبی کو مبعوث فرمادیا تو انہوں نے ان کا انکار کردیا تو اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی‘ اور کافروں پر فتح کی دعا مانگتے تھے۔ یعنی آپ کے وسیلے سے اے محمدﷺ!

(۶) روح البیان میں ہے:ترجمہ: محمد مصطفیٰﷺ کی آمد سے پہلے مشرکین عرب اور کفار مکہ پر مدد طلب کرتے تھے اور کہتے ’’اے اﷲ! اس نبی کے وسیلے سے ہماری مدد فرما جو آخری زمانے میں مبعوث ہوگا جس کا ذکر خیر ہم توریت میں پاتے ہیں اور اپنے دشمنوں سے کہتے کہ اس نبی کا زمانہ قریب آگیا ہے جو ہمارے قول کی تصدیق لائے گا تو ان کے ساتھ ہم تمہیں عاد وارم کی مانند قتل کرڈالیں گے۔

(۷) مدارک التنزیل میں ہے: ترجمہ: جب مشرکین سے مقابلہ ہوتا تو ان پر مدد مانگتے‘ کہتے اے اﷲ! اس نبی کے وسیلے سے ہماری مدد فرما جو آخری دور میں مبعوث ہوگا جن کی صفت ہم توریت میں پاتے ہیں اور اپنے مشرکین دشمنوں سے کہتے: اس نبی کا زمانہ قریب آگیا ہے جو ہماری تصدیق لائے گا تو اس کے ساتھ ہم تمہیں عاد وارم کی مانند قتل کردیں گے۔

(۸) تفسیر السعدی میں ہے: ترجمہ: یہ لوگ دور جاہلیت میں جب ان کے اور مشرکین کے مابین جنگیں ہوتیں تو اسی نبی کے وسیلے سے مدد مانگتے تھے۔

(۹) کشاف میں ہے: ترجمہ: مشرکین پر مدد مانگتے‘ جب ان سے جنگ ہوتی تو کہتے‘ اے اﷲ اس نبی کے وسیلے سے ہماری مدد فرما جو آخری دور میں آنے والا ہے جس کی صفات ہم توریت میں پاتے ہیں۔

(۱۰) فتح القدیر للشوکانی میں ہے : یعنی پہلے وہ لوگ اﷲ تعالیٰ سے اپنے دشمنوں پر اسی نبی کے وسیلے سے مدد مانگتے تھے جو آخری زمانے میں آنے والا ہے جس کی صفات اپنے پاس توریت میں پاتے تھے۔

(۱۱) تفسیر طبری میں ہے‘ترجمہ: ان یہود کے پاس جب اﷲ کی طرف سے کتاب آئی جو ان کے ساتھ کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی تھی‘ جنہیں اﷲ تعالیٰ نے قرآن سے قبل نازل فرمایا تھا تو ان لوگوں سے انکار کردیا۔ یہ لوگ محمدﷺ کے وسیلے سے مدد مانگتے تھے اور استفتاح کا معنی مدد طلب کرنا ہےیعنی ان کے بعثت سے پہلے انہیں کے وسیلے سے مشرکین عرب پر اﷲ سے مدد مانگتے۔

اسی تفسیر میں حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ کی روایت سے ہے کہ یہ آیت انصار اور یہود کے بارے میں نازل ہوئی۔ کہتے ہیں کہ ہم انصار دور جاہلیت میں ان پر غالب رہے‘ ہم اہل شرک تھے اور وہ اہل کتاب تھے۔ تو وہ کہتے کہ ایک نبی کی بعثت کا وقت آگیا ہے جو تمہیں عاد وارم کی طرح قتل کریں گے۔ جب اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول کو قریش میں سے بھیجا تو ہم نے تو ان کی اتباع کی اور ان لوگوں نے انکار کردیا اور حضرت ابن عباس کی روایت سے ہے کہ یہود اوس وخزرج پر رسول اﷲﷺ کی بعثت سے پہلے انہیں کے وسیلے سے فتح کی دعا مانگتے تھے (کانو یستفتحون علی الاوس والخزرج برسول اﷲﷺ)  تو جب اﷲ تعالیٰ نے انہیں عرب سے مبعوث فرمایا تو انہوں نے انکار کردیا۔ تو حضرت معاذ بن جبل اور بشر بن براء رضی اﷲ عنہما نے ان سے کہا: اے یہودیو! اﷲ سے ڈرو اور اسلام قبول کرلو‘ تم تو ہم پر محمدﷺ کے وسیلے سے فتح کی دعا مانگتے تھے (فقد کنتم تسفتحون علینا بمحمد صلی اﷲ علیہ وسلم)حالانکہ ہم مشرک تھے اور تم ہمیں بتاتے تھے کہ وہ مبعوث ہونے والے ہیں اور ان کی صفات بھی بتاتے تھے تو سلام بن مشکم نے کہا ’’ہماریپاس ایسی چیز نہ لائے جو ہم جانتے ہوں اور یہ وہ نہیں جن کا ہم تم سے ذکر کرتے تھے۔ تو اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یوہیں علامہ طبری نے اپنی تفسیر میں دس مختلف صحابہ کرام سے دس حدیثیں نقل کی ہیں جو اسی مفہوم پر صریح ہیں کہ یہود شرکوں پر حضورﷺ کے وسیلے اور ان کی تشریف آوری سے فتح کی دعا مانگتے تھے‘ وغیرہ (ملاحظہ کریں تفسیر طبری آیت مذکورہ)

(۱۲) تفسیر المیسر میں ہے:ترجمہ: اور بعثت سے قبل یہ لوگ مشرکین عرب پر انہیں کے وسیلے سے مدد طلب کرتے تھے اور کہتے: نبی آخر الزماں کی تشریف آوری قریب ہے‘ ہم ان کی پیروی میں تم سے جنگ کریں گے‘ لیکن جب وہ رسول ان کے پاس آگئے جن کی سچائی اور صفات کو پہچان گئے تو ان کا انکار کر بیٹھے۔

(۱۳) تفسیر بغوی میں ہے:ترجمہ:یہود محمدﷺ کی بعثت سے قبل مشرکین عرب پر مدد مانگتے تھے‘ وہ یوں کہ جب انہیں کوئی مصیبت پیش آتی یا کبھی دشمن دھمکی دیتا تو کہتے: اے اﷲ! نبی آخر الزماں کے وسیلے سے ہماری مدد فرماجن کی صفات ہم توریت میں پاتے ہیں تو انہیں مدد ملتی۔ مشرکین سے یہ بھی کہتے کہ اس نبی کا زمانہ قریب آگیا ہے جو ہمارے قول کی تصدیق لائے گا ان کے ساتھ مل کر ہم تمہیں عاد وثمودوارم کی مانند قتل کردیں گے تو جب ان کا جانا پہچانا یعنی حضورﷺ غیر نبی اسرائیل میں تشریف لائے اور وہ ان کی خوبیاں اور صفات پہچان بھی گئے تو حسد کے باعث ان کے منکر ہوگئے‘ کافروں پر اﷲ کی لعنت ہو۔

(۱۴) تفسیر بیضاوی میں ہے

ای یستنصرون علی المشرکین و یقولون اللھم انصرنا بنبی آخر الزماں المنعوت فی التوارۃ

یعنی مشرکین پر مدد طلب کرتے اور کہتے: اے اﷲ! نبی آخرالزماں کے وسیلے سے ہماری مدد فرما جن کا ذکر توریت میں ہے

(۱۵) حاشیہ شیخ زادہ علی البیھاوی میں ہے:ترجمہ: رسول اﷲ علیہ السلام کی بعثت سے قبل جب کسی دشمن کا انہیں سامنا ہوتا یا کوئی بڑی مصیبت درپیش ہوتی تو اپنے دشمن پر اﷲ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اپنی مصیبت کے دور ہونے کی دعا کرتے۔ اس دعا میں بارگاہ الٰہی میں حضورﷺ کے مقام و مرتبہ کا وسیلہ لاتے اور کہتے۔ اے اﷲ! ہم تجھ سے اس نبی امی کے حق کے وسیلے سے سوال کرتے ہیں جن کو آخری زمانے میں مبعوث فرمانے کا تونے ہم سے وعدہ فرمایا ہے‘ کہ تو ہماری مدد فرما۔ تو جب یہ دعا کرتے تو اپنے دشمن پر غالب آجاتے۔

(۱۶) تنویر المقباس فی تفسیر ابن عباس :ترجمہ: محمدﷺ اور قرآن کے وسیلے سے اپنے دشمن اسد‘ غطفان‘ مزینہ اور جہینہ پر مدد طلب کرتے تھے۔

(۱۷) تفسیر سمرقندی میں ہے:فقیہ ابو اللیث نصر بن محمد سمرقندی المتوفی ۳۷۵ھ فرماتے ہیں

ترجمہ: یعنی حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل مشرکین پر مدد طلب کرتے تھے کیونکہ بنو قریظہ ونضیر نے اپنی کتابوں میں آپ کا ذکر پایا تو شام سے مدینہ آئے اور اس کے قریب نزول کیا اور آپ کی آمد کا انتظار کرتے رہے‘ جب کبھی اپنے قرب و جوار کے مشرکین عرب سے مقابلہ ہوتا تو ان پر مدد طلب کرتے اور کہتے ’’اے ہمارے پروردگار! اپنے نبی کے نام اور اپنی اس کتاب کے وسیلے سے ہماری مدد فرما جو ان پر نازل ہوگی جس کا تونے ہم سے وعدہ فرمایا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ نبی انہیں میں ہوں گے تو دشمنوں پر ان کو مدد ملتی۔‘‘ الخ

یہاں چند امور قابل ذکر ہیں

(۱) یہود نبی کے وسیلے سے دعا مانگتے تھے تو اس کا مطلب آیا یہ ہے کہ وہ یہ دعا کرتے تھے ’’اے اﷲ ہمیں اس نبی کے ذریعہ فتح عطا فرما! یعنی انہیں بھیج کر ہماری مدد فرما‘ یا یہ مقصود ہے کہ اس نبی کے نام اور ذکر کے وسیلے اور برکت سے فتح عطا فرما۔ مذکرہ تفاسیر سے دونوں مفہوم واضح ہیں مثلا ابن کثیر‘ روح البیان‘ مدارک‘ بغوی وغیرہ سے یہ واضح ہے کہ وہ یہ دعا کرتے کہ اس نبی کو بھیج کر ہماری مدد فرما اور جلالین‘ ابن کثیر‘ رازی‘ روح المعانی وغیرہ تفاسیر سے واضح ہے کہ اس نبی کے وسیلے اور اس کے نام اور مقدس ذکر کی برکت سے فتح کی دعا کرتے۔ اس دوسرے مفہوم کے راجح ہونے پر چند قرائن یہ ہیں۔

(الف) وہ حالت جنگ میں دعا کرتے تھے۔ ظاہر ہے اس وقت یہ دعا اس طور پر نہیں ہوسکتی کہ انہیں بھیج کر مدد فرما کہ ان کو فورا مدد چاہئے ہوتی تھی۔ اور ایسی کوئی مثال نہیں کہ کسی نبی کو اچانک مدد کے طور پر ظاہر فرمادیا گیا ہو۔ ان حالات میں ان کی دعا کا یہی مفہوم ہوسکتا ہے کہ وہ اس آنے والے نبی کی ذات اور نام کے وسیلے سے دعا مانگا کرتے تھے۔

(ب) تفسیر روح المعانی‘ تفسیر بغوی اور حاشیہ شیخ زادہ کے حوالے سے گزرا کہ ان کی دعا قبول ہوتی تھی اور انہیں فتح یابی ہوتی تھی۔ یہ اسی وقت ہوسکتا ہے کہ جبکہ نام و ذکر کا ہی وسیلہ ہو‘ کیونکہ اگر وہ یہ دعا کرتے کہ اس نبی کو بھیج کر ہماری مدد فرما تو دوران جنگ تو نبی کو مبعوث نہ فرمایا گیا‘ پھر نبی کو بھیجے بغیر ان کو فتح مل جانا یہ دعا کی قبولیت نہ قرار پائے گی۔ بلکہ یہ تو معاندین کے لئے سامان استہزا بھی ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں نے نبی کو بھیج کر مدد مانگی تھی اور اس نبی کے بھیجے بغیر ہی انہیں فتح مل گئی تو ان کی اس فتح میں نہ نبی کی ضرورت تھی اور نہ اس دعا کی۔

اشکال: یہاں پر ایک اشکال یہ ہے کہ اس نبی کے وسیلے سے دعا مانگنے کا ذکر تو قرآن میں نہیں ہے لیکن اس ذکر کے محذوف ہونے پر اگر ’’ماعرفوا کفروابہ‘‘ کو قرینہ قرار دیا جائے تو اس سے حضورﷺ کی ذات کیوں کر مراد ہوسکے گی جبکہ کلمہ ’’ما‘‘ غیر ذوی العقول کے لئے ہے اور حضورﷺ کی ذات مقصود ہوتی تو ’’ما‘‘ کے بجائے ’’من‘‘ ہوتا۔

اس کا جواب علامہ آلوسی نے روح المعانی میں یہ دیا ہے کہ ’’ما‘‘ سے مراد حق ہے اور حق کا اطلاق ذات مصطفیٰﷺ پر ہوسکتا ہے۔

نیز اس ’’ما‘‘ سے قرآن مراد لینا دشوار ہے کیونکہ یہاں یہ فرمایا جارہا ہے ’’جسے وہ پہچانتے تھے‘‘ ظاہر ہے کہ تورات میں آنے والے نبی کا ذکر اوران کے اوصاف بیان کئے گئے تھے نہ کہ آنے والی کتاب کا ذکر اوصاف کا بیان تھا‘ تو تورات کے ذکر و بیان سے تو وہ آنے والے نبی کو پہچانتے تھے‘ نہ یہ کہ ان کو قرآن کی کچھ صفات و خوبیاں بتائی گئی تھیں‘ جنہیں سنتے ہی انہوں نے پہچان لیا ہو اور انکار کیا ہو۔ اسی لئے کئی مفسرین جنہوں نے ’’ماعرفوا‘‘ سے قرآن مراد لیا‘ انہوں نے قرآن کی معروفت کو نبی کی معرفت پر محمول کیا ہے۔ علامہ نسفی نےمدارک التنزیل میں لکھا کہ ’’ماعرفوا‘‘ سے کتاب مراد ہے اور قرآن کی معرفت دراصل حضور اقدسﷺ کی معرفت ہے۔ لان معرفتہ من انزل ھوعلیہ معرفتہ لہ (نفسی) کنی بہ عن الکتاب لان معرفتہ من انزل علیہ معرفتہ لہ (روح المعانی)

بہرحال یہ بات طے ہے کہ وہ نبی کے وسیلے سے دعا کرتے تھے اور ان کی دعا قبول ہوتی تھی۔

مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمتہ اﷲ علیہ نے اس مقام پر فرمایا کہ ’’یستفتحون‘‘ کا معنی خود بیان کرنا‘ کسی مفسر نے ذکر نہ کیا۔ (تفسیر نعیمی اول)

اس سے ان کی مراد ترجیحی طور پر ذکر کرنا ہے۔ کیونکہ بیضاوی‘ رازی اور روح المعانی کی عبارتوں سے یہ معنی مستفاد ہوسکتا ہے لیکن ان مفسرین نے اس کو ثانوی طور پر ذکر کیا اور اس کے بیان سے پہلے ’’قیل‘‘ کہہ کر اس کی تضعیف کردی ہے۔ سوال یہ نہیں‘ سوال یہ ہے کہ جس معنی کو تمام مفسرین نے اولیت دی بلکہ کئی مفسرین نے صرف وہی واحد معنی ذکر کیا‘ بلکہ طبری اور ابن کثیر نے تو اس کی سند میں احادیث ذکر کیں اور کسی مفسر نے اس مفہوم کو دبانے کی کوشش نہ کی‘ اب اس کو کیوں دبایا جارہاہے اور اسے ذکر کرنے میں آخر کیا اندیشہ ہے…!!!