(تحفظ ناموس رسالت کی کوششیں (تحسین‘ چشم پوشی‘ مخالفت

راجا رشید محمود ماہنامہ تحفظ مئی ۲۰۰۸

ایک ہستی…

کہ جہاں پیدا ہوئی‘ جہاں اس کا بچپن گزرا‘ جہاں اس نے اوائل شباب اور پھر بھرپور شباب کے دن گزارے‘ جس چھوٹے سے گائوں میں اس کے چالیس تینتالیس سال بیتے تھے‘ اس کے کردار نے دیکھنے والوں‘ ملنے والوں‘ اس کے ساتھ کاروبار کرنے والوں کی آنکھیں خیرہ کئے رکھیں۔ وہ ہستی اپنے قبیلے کی آنکھ کا تارا ہی نہ تھی‘ وہاں کے سب قبیلے اس کو ’’حکم‘‘ مانتے تھے۔ اس کے شفاف اور بے داغ کرداسر و عمل کی‘ اس کی دانش و حکمت کی‘ اس کی صداقت و امانت کی قسم کھاتے تھے‘ اپنی امانتیں اس ہستی کے پاس رکھواتے تھے۔ اپنے مناقشات اس سے فیصل کراتے تھے۔ جب وہ ہستی کوہ صفا پر کھڑی ہوئی تو کوئی ایک آواز ایسی نہ تھی جو اس کے خلاف اٹھتی‘ کوئی ایک انگلی نہ تھی جو اس کی زندگی کے کسی پہلو کی طرف اٹھ سکتی۔

وہ ہستی…

جس نے اپنی نبوت و رسالت کا اعلان فرمایا‘ خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کی راہ دکھائی‘ خود ساختہ بتوں اور مظاہر فطرت کو پوجنے سے منع کیا‘ آبائوواجداد کی راہوں پر چلنے والوں کو ان کی غلط روی کا احساس دلانے کی کوشش کی تو مخالفتیں ہوئیں‘ حق کو تلسیم نہ کرنے کی روش اختیار کی گئی۔ اس ہستی کی دعوت کے راستے میں کانٹے بھی بچھائے گئے… لیکن … اس کی سیرت پر حرف زنی نہ کی جاسکی۔ بات نہ مانی لیکن جھوٹا نہ کہا جاسکا… اس ہستی اور اس کے مٹھی بھر ساتھیوں کا مقاطعہ تک کیا گیا‘ لین دین روک دیا گیا‘ مگر اپنی امانتوں کا امانت دار اس کے سوا کسی اور کو نہ بنایا جاسکا۔

وہ ہستی…

اپنی جنم بھومی چھوڑ کر دوسرے شہر کو ہجرت بھی کرگئی‘ اسے مار دینے کی سازشں نے سو اونٹوں کی پیشکش تک بات پہنچائی۔ اس دوسرے شہر میں بھی کوشش کی گئی کہ ان کا ناطقہ بند کیا جائے۔ لڑائیاں تک لڑی گئیں‘ لیکن ان کے بے داغ اور مصفی کردار پر کلوخ اندازی تو کیا‘ ہلکے پھلکے جھوٹ کی کوئی تلوار بھی سیدھی نہ کی جاسکی۔

وہ ہستی…

جس کی دعوت و تبلیغ نے جھوٹے خدائوں کے سروں کو نیموڑا دیا‘ جھوٹوں کی کمر توڑ دی‘ آس پڑوس ہی نہیں دور دور کے رہنے والے اس ہستی کی بارگاہ میں حاضر ہو ہوکر اس کی حقانیت کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے لگے۔ ایسے میں بھی معاندین اس ہستی کی مہر آسا شخصیت کی طرف کسی اعتراض کی نگاہ نہ اٹھا سکے۔

وہ ہستی…

چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اس ہستی کے ماننے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی خواہشیں دل میں پالنے والی طاقتوں کی ساری کوششوں کے باوجود‘ آج بھی نظر رکھنے والے ‘ صاحب دل اور اہل انصاف جس کی سیرت و کردار کے حضور حرف استحسان پیش کرتے ہیں۔ جس شخص کی نگاہ نقد اس ہستی کے سوانح کے تمام گوشوں میں جستجو کرتی ہے‘ اسے خوبیوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ وہ خوبیاں جوشخصیت کو تو بڑا ثابت کرتی ہی ہیں‘ معاشرے کو بھی صاف ستھرا بناتی ہیں‘ ماحول کو بھی ہر آلودگی سے پاک رکھتی ہیں۔ انسانیت کو اس کے اوج کمال تک پہنچانے کی راہ دکھاتی ہیں۔ اس مبارک ہستی کی زندگی کے ایک ایک گوشے سے پھوٹتی ہیں۔

اس صورتحال میں جب کوئی بدبخت‘ شپرہ چشم ‘ ٹرنا مشخص اس ہستی معصوم کی شان میں کسی گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے تو کائنات کا ذرہ ذرہ اس پر نگاہ غیظ ڈالتا ہے‘ کائنات کا مالک و مختار اسے ’’اتر‘‘ کرتا ہے۔ اس کے ’’زینم‘‘ ہونے کا اعلان فرماتا ہے۔ جس ہستی کے لئے کائناتیں تخلیق کی گئیں‘ جسے رب کریم نے اپنے اوصاف کا مظہر بنا کر دنیا میں مبعوث فرمایا‘ جس کی معصومیت اپنے ذمے رکھی جس کی جان کے دشمن بھی اس کی ذات کے کسی گوشے کی طرف انگشت نمائی نہ کرسکے‘ اس کے خلاف کچھ کہنے والے‘ اس کی شان سے فروتر کوئی کلمہ ادا کرنے والے‘ اس کی ناموس و حرمت پر ژاژخائی کی جسارت کرنے والے سے بڑھ کر مستحق قتل اور کون ہوسکتا ہے؟

حضور پرنور ہادی اعظم‘ نور مجسم رحمت ہر عالمﷺ‘ خالق و مالک حقیقی جل شانہ کے محبوب ہیں۔ متفق علیہ حدیث پاک ہے

’’حضور سرور کائنات علیہ السلام والصلواۃ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی تمام تر محبتوں سے زیادہ محبت میرے ساتھ نہ رکھے‘ وہ مومن نہیں‘‘

پھر خدا کے محبوبﷺ کی شان میں کسی گستاخی کو برداشت کرنے سے بڑھ کر کفر کیا ہوگا۔ اور اگر کوئی اپنی سب سے محبوب ہستی کی ناموس پر کوئی چھینٹا پڑنے دے تو اس کا ایمان کہاں ہے؟

اصل میں اسلام دشمن طاقتیں وقتا فوقتا ایسی جسارتوں کے ذریعے مسلمانوں کے ایمان کا امتحان لیتی رہتی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ’’روح محمدﷺ‘‘ مومن کے دل سے نکال دیں۔ لیکن ہر زمانے میں ناموس رسالت کے کسی نہ کسی محافظ نے ایسی کوششوں‘ ایسی تحریکوں کے سدباب کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے عالم کفر پر ثابت کردیا ہے کہ ہم ان کی تہذیبی‘ ثقافتی‘ سیاسی یورشوں کے آگے تو سربخم نظر آتے ہیں مگر جہاں ہمارے آقا و مولا علیہ التحیتہ والثناء کی حرمت و ناموس کا موقع آتا ہے‘ ہمارے لئے جان لینا اور جان دینا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

عہد نبویﷺ اور عہد صحابہ (رضی اﷲ عنہم) سے لے کر آج کے دور انحطاط تک جہاں کہیں ایسا واقعہ پیش آیا‘ غیرت اسلامی کا ایک نہ ایک علمبردار اٹھا اور اس نے ملبوس شماتت کے پرخچے اڑادیئے۔ خطیبوں نے گستاخ کے خلاف لب کھولے‘ ارباب ادب نے قلم کو بگٹٹ کیا‘ شعراء نے اپنے جذبات کو مربوط و منظوم صورت میں پیش کیا‘ شعروسخن کی زبان دی۔

اس موضوع پر اردو کے چند شعراء کرام کی منظومات میں سے نمونے کے طور پر چند اشعار نذر قارئین کرام ہیں

ہم اپنے دین پر جان اپنی وار سکتے ہیں

ہمارے دین کا مطلب ہے آبروئے رسولﷺ

صابر گیلانی

نماز اچھی‘ حج اچھا‘ روزہ اچھا اور زکواۃ اچھی

مگر میں باوجود اس کے‘ مسلماں ہو نہیں سکتا

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ طیبہ کی حرمت پر

خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

ظفر علی خان

جو ہو تحفظ ناموس مصطفیﷺ پہ فدا

بفضل حق وہ سعادت نصیب ہو جائے

قبول خالق کون و مکان ہو اس کا عمل

اسے مقام شہادت نصیب ہوجائے

قمر یزدانی

ہے شرط اول ایماں محبت سرور دیںﷺ کی

تحفظ فرض ہے ناموس پیغمبرﷺ کا امت پر

ضیاء محمد ضیاء

ہماری جان ھبی قربان ہے ناموس رسالت پر

لٹادیں دولت کونین ہم اس کی ایک دولت پر

محمد حنیف نازش قادری

جو غلام احمد مرسلﷺ ہے اس پر لا جرم

فرض ہر شام و سحر ہے حفظ ناموس رسولﷺ

عزیز لدھیانوی

دنیا میں جو ناموس نبوت کا امیں ہے

گہوارہ رحمت میں ہے وہ‘ خواہ کہیں ہے

سید ہلال جعفری

نبیﷺ کے نام پہ جان دینے والے زندہ ہیں

بقائے زیست کا ساماں ہے احترام رسولﷺ

محمد افضل کوٹلوی

عشق نبیﷺ والوں سے پوچھو‘ تخت سے بہتر تختہ ہے

کوئی بڑا اعزاز نہیں اس اعزاز شہادت سے

محمد حسین آسی

عشق میدان وفا میں ہوچکا تھا سرخرو

عقل ابھی بیٹھی ہوئی پڑھتی تھی قرآن مجید

علیم ناصری

ارباب وفا کا دل دکھانے والے

اخلاق کی دھجیاں اڑانے والے

پھٹ جائے فلک تجھ پہ گرے تجھ پر رعد

حرمت پہ نبیﷺ کی حرف لانے والے

حزیں کاشمیری

خدا کے قہر سے وہ شخص بچ سکتا نہیں ہرگز

وہ جو گستاخ دربار گہر بار نبوت ہے

محمد اکرم رضا

ناموس مصطفیﷺ پہ دل و جان وار دو

گستاخ کو جو دیکھو‘ بلا خوف مار دو

فیض رسول فیضان

کردیا جان دے کے ثابت غازی علم الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے

قیمتی ہے غازیوں کی جان سے ناموس رسالتﷺ

اصغر نثار قریشی

تجھے معراج عشق شاہﷺ سولی پر مبارک ہو

تجھے اوج سعادت کا یہ تاج سر مبارک ہو

عیش فیروز پوری

گرم رکھتی ہے یاد اس کی اپنا لہو

جب شہادت نے کی تھی تری آرو

تو رسالت کے دربار میں سرخرو

تو پیمبرﷺ کے اسلام کی آبرو

مجید تمنا

ذرہ ذرہ تیری تربت کا چراغ طور ہے

مشرقستان مہ و خورشید ہے یہ سرزمیں

صابر خلیلی میں اپنے رب کریم جل و علا کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ اس نے شعر گو کی حیثیت سے بھی مجھے اس موضوع پر سب سے زیادہ لکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ نامور محقق ڈاکٹر سید محمد سلطان شاہ‘ صدر شعبہ علوم اسلامیہ جی سی یونیورسٹی لاہور نے لکھا

’’تحفظ ناموس رسالتﷺ شاعر نعت راجا رشید محمود کا خاص موضوع ہے۔ آج تک کسی نعت گو نے اس مضمون پر اتنا زور نہیں دیا۔ بلکہ اس کے عشر عشیر بھی کسی نے نہیں کہا‘‘

(شاعر نعت راجا رشید محمود ص ۱۰۶)

الحمدﷲمیری ہر دوسری چوتھی نعت میں اس موضوع پر کوئی شعر ضرور ہوتا ہے۔ کئی نعتیں خاص اسی موضوع پر ہیں۔ نیز حرمت سرکارﷺ کے حوالے سے اب تک ماہنامہ ’’نعت‘‘ کے ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل مضامین نظم و نثر شائع کرچکا ہوں۔

ایک مجموعہ کلام ’’منظومات‘‘ میں صفحہ 91 تا 102 پر ’’مناقب شہیداں ناموس سرکارﷺ‘‘ ہیں۔ میرے 42‘ اردو مجموعہ ہائے نعت میں سے ایک ’’قطعات نعت‘‘ میں اس عنوان سے گیارہ قطعات ہیں۔ وہ قطعے یہ ہیں۔

بارگاہ مصطفیﷺ میں جو بھی گستاخی کرے

وہ ہے مرتد‘ قتل اس بدبخت کا واجب ہوا

ابن منذر‘ فاسی و حنبل ہوں یا قاضی عیاض رحمہم اﷲ

ذکر سب کرتے ہیں اس بارے میں اک اجماع کا

شان آقاﷺ میں ہوا تنقیص کا جو مرتکب

دین قیم میں نہیں ہے اس کی توبہ بھی قبول

اس کی تفصیلات ہیں ’’اصارم المسلول‘‘ میں

ابن تیمیہ نے یوں کی ہے بیاں شان رسولﷺ

’’الصارم المسلول علی شاتم الرسولﷺ‘‘ ابن تیمیہ کی ایک اہم تصنیف ہے۔ چھ سو صفحات پر مشتمل اس کتاب میں موضوع پر سیر حاصل بحث ہےﷺ لیکن بدقسمتی دیکھئے کہ اپنی عمر کے آخری حصے میں خود ابن تیمیہ سے شان رسالت میں گستاخیاں ہوئیں۔ چنانچہ عبان 726ھ میں اس بناء پر اسے پابند سلاسل کردیا گیا کہ اس نے روضہ سرکارﷺ کی زیارت کے لئے جانے والے سفر کو شرک کہا۔ وہ ذیقعدہ میں قید ہی میں مرا۔ پروفیسر این میری شمل اپنی کتاب ’’اینڈ محمدﷺ از ہز میسنجر‘‘ میں لکھتی ہیں کہ ابن تیمیہ کو دمشق میں حضور علیہ الصلواۃ والسلام کے نعلین مبارک کے نقش کی توہین کرنے کی وجہ سے غیر معمولی سزا سنائی گئی۔

برصغیر میں جن محافظان ناموس حضورﷺ نے اپنے خون سے داستان محبت رقم کی‘ ان میں سے چند اہم نام یہ ہیں:

غازی علم الدین شہید رحمتہ اﷲ علیہ

راجپال کی گستاخانہ کتاب نے اسے 6 اپرل 1929ء کو غازی کے ہاتھوں واصل جہنم کرایا۔ 30 اکتوبر کو میانوالی جیل میں غازی اپنے آقاﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوگیا۔

باوجود معصیت لاہور جو مامون ہے

چتر داتاؒ کا ہے اس پر سایہ علم الدین کا

غازی عبدالقیوم شہید رحمتہ اﷲ علیہ

نتھو رام کی گندی زبان کو ایڈیشنل جوڈیشنل کمشنر کراچی کی عدالت میں 20 ستمبر 1934ء کو غازی نے خاموش کردیا اور 19 مارچ 1935ء کو تختہ دار کو چوم کر ہمیشہ کے لئے امر ہوگئےﷺ

نور نظر تھا عبداﷲ کا‘ آقاﷺ کا شیدائی تھا

مرگ و زیست کا اک اک نکتہ اس پرحق نے کھول دیا

شاعر مشرق حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے لاہور و کراچی‘‘ کے عنوان سے غازی علم الدین اور غازی عبدالقیوم کو یوں خراج عقیدت پیش کیا (ضرب کلیم)

نظر اﷲ پر رکھتا ہے مسلمان غیور

موت کیا شے ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر

ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ

قدروقیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

آہ‘ اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں

حرف ’’لاتدع مع اﷲ الھا اخر‘‘

غازی عبدالرشید قاضی شہید رحمتہ اﷲ علیہ

مسلمانوں کو ہندو بنانے والی تحریکوں شدھی اور سنگھٹن کا داعی شردھانند تھا۔ وہ اسلام اور سرکاردوعالمﷺ کے بارے میں بھی نازیبا باتیں کرتا تھا۔ غازی سید عبدالرشید نے جو ایک خوشنویس تھے‘ دسمبر 1926ء میں قلم ہاتھ سے رکھا اور موذی کا سر قلم کردیا… اور خود جام شہادت نوش کیا۔ افسوس کہ اس پر تحریک خلافت کے لیڈروں نے ہندوؤں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

سرکارﷺ تجھ سے خوش ہیں اﷲ تجھ سے راضی… عبدالرشید قاضی

فردا ترا ہے روشن‘ ضوبار تیرا ماضی… عبدالرشید قاضی

غازی محمد صدیق شہید رحمتہ اﷲ علیہ

فیروزپور کے اس غازی نے پالامل سنار کو  17 ستمبر 1934ء کو بابا بلھے شاہ کے مزار کے پاس قصور میں جہنم رسید کیا۔ 6 مارچ 1935ء کو خود جنت کی راہ لی۔

آگیا فیروز پور سے پالا مل کو مارنے

قتل کر ڈالا اسے اس مرد باکردار نے

آخر آخر منہ کی کھائی کفر کی یلغار نے

خواب میں یہ کام سونپا اس کو خود سرکارﷺ نے

حکم کی تعمیم نے اس کا بڑھایا مرتبہ

غازی میاں محمد شہید رحمتہ اﷲ علیہ

تلہ گنگ (میرے ضلع چکوال) کے اس باغیرت فوجی جوان نے ایک ہندو ڈوگرے چرن داس کو گستاخی کے جرم پر سزا دی اور 12 اپریل 1938ء کو مدراس ہی میں شہید اور دفن ہوا۔

یہ قصر کفر وضلالت آخر کو اب تزلزل میں آگیا جو

میاں محمدؒ نے قتل شاید کیا چرن داس ڈوگرے کو

غازی مرید حسین شہید رحمتہ اﷲ علیہ

میرے ضلع چکوال کے گائوں بھلہ کریالہ کے اس نوجوان نے 8 اگست 1937ء کو ضلع حصار کے قصبہ نازنوند میں پہنچ کر خر شماتت وٹنری ڈاکٹر رام گوپال کو اس کے انجام تک پہنچادیا اور خود 24 ستمبر کو آقا حضورﷺ کے دربار گہر بار میں حاضر ہوگیا۔

مار ڈالا نبیﷺ کے شاتم کو

زندہ باد اے میاں مرید حسین رحمتہ اﷲ علیہ

غازی محمد عبداﷲ شہید رحمتہ اﷲ علیہ

مردود و مرتد چلچل سنگھ کو مارنے پر شہادت کے رتبے کو پانے والا خانقاہ ڈوگراںکا نوجوان زندہ باد

ایک بے غیرت کہ بدقسمت بھی تھا‘ بے راہ بھی

پہلے تھا نور محمد‘ پھر وہ چلچل سنگھ بنا

اور ڈھایا اک ستم‘ سرکارﷺ کی توہین کی

کیوں نہ غازی قتل کرتا اس کو‘ سو اس نے کیا

غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہید رحمتہ اﷲ علیہ

ڈنمارک کے اخبار نے توہین رسالت پر مبنی کارٹون چھاپے‘ غازی عامر چیمہ جرمنی میں بغرض حصول تعلیم مقیم تھے۔ وہاں کے اخبار نے بھی یہ کارٹون شائع کردیئے تو غازی نے اخبار کے مالک کو زخمی کردیا جو بعد میں مرگیا۔ غازی کو 3 مئی 2006ء کو تشدد کے ذریعہ جیل میں شہید کردیا گیا۔

نعرہ توحید سے قصر شماتت ڈا دیا

عطر غیرت خون ہمت سے کیا کس نے کشید

جرات عامر شہید رحمتہ اﷲ علیہ

حفظ ناموس نبیﷺ تھا مطمح قلب و نظر

مصطفیﷺ پر جان قربان کرکے لی جنت خرید

قسمت عامر شہید رحمتہ اﷲ علیہ

کیسے توہین نبیﷺ برداشت کرسکتا تھا وہ

خیل فاروق معظمﷺ کا تھا اک فرد فرید

حضرت عامر شہید رحمتہ اﷲ علیہ

راجا سید اکبر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ایک انگریز جج کے خانساماں نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی پر ایک میجر کو چھری مار کر ہلاک کردیا۔ سر محمد شفیع رکن پارلیمنٹ خانساماں کا کیس لڑرہے تھے۔ دوران سماعت حضورﷺ کے ذکر پر سر شفیع جذباتی اورآبدیدہ ہوگئے۔ دو انگریز جج سماعت کررہے تھے۔

انہوں نے کہا: سر شفیع!آپ کے پائے کا قانون دان بھی اتنا جذباتی ہوگیا؟

جواب میں سر شفیع بولے’’ سر! اگر شفیع بھی اس خانساماں کی جگہ ہوتاتو یہی کچھ کرتا‘‘

امرتسر کے گرجا گھر کے سامنے ایک پادری حضرت عیسٰی علیہ السلام کے فضائل بیان کررہا تھا۔ وہ حضور اکرمﷺ کا اسم گرام احترام سے نہیں لیتا تھا۔ ایک بھنگڑ کھڑا ہوگیا۔ کہنے لگا ’’پادری ! ہم حضرت عیسٰی علیہ السلام کو برحق نبی مانتے ہیں اور ان کا نام ادب سے لیتے ہیں تو بھی ہمارے سچے سرکارﷺ کا نام ادب سے لے۔ وہ نہیں مانا‘ جب تیسری بار ایسا ہی ہوا تو بھگنڑ نے بھنگ گھوٹنے والا ڈنڈا مار کر  پادری کو جہنم پہنچا دیا۔ یہ عاشق صادق پکڑا گیا‘ موت کی سزا ہوئی۔ اپیل میں انگریز جج نے یہ لکھ کر بری کردیا کہ پادری کا قاتل تکیہ نشین بھنگڑ ہےﷺ کوئی مولوی نہیں۔ واضح رہے کہ یہ قتل کسی رنجش کی بناء پر نہیں ہوا۔ پادری نے اس کے جذبات مجروح کئے تو ایسا ہوا۔ لہذا میں اسے بری کرتا ہوں

(یہ واقعہ محقق عصر حکیم محمد موسیٰ امرتسری رحمتہ اﷲ تعالیٰ نے امر ملت پیر جماعت علی شاہ علی پوری کے حوالے سے بیان کیا)

شہیدان ناموس رسالت میں بہت سے خصوصیات مشترک نظر آتی ہیں۔ یہ سب نوجوان یا جوان تھے۔ انہوں نے اپنے کارنامے کسی فوری اشتعال کے تحت نہیں‘ غوروکر کے زیر اثر انجام دیئے۔ زیادہ غازیوں کو خواب میں سرکار ابد قرارﷺ نے زیارت سے مشرف فرمایا اور گستاخ کی شکل دکھا کر ڈیوٹی پر مامور کیا۔ اسی لئے ان میں سے ہر ایک اپنی کارکردگی پر تفاخر کا اظہار کرتا رہا۔ تاسف کی کوئی صور تنہیں بنی۔ سب نے موذیوں کو للکار کر مارا‘ سب نے قتل کا اقرار اور اس پر اصرار کیا۔ ان میں سے کوئی موقع سے فرار نہیں ہوا۔ خود گرفتاری دی۔ موت کی سزا سننے کے بعد سوائے  ان بہی بختوں کے ہر قاتل کا وزن کم ہوجاتا ہے‘ لیکن ان سب خوش قسمت ہستیون کا وزن پھانسی کوٹھڑیوں میں بڑھتا رہا۔

ان عظیم المرتبت انسانوں کے کارناموں پر پوری ملت اسلامیہ کا سر فخر سے بلند ہوا۔ کیونکہ انہوں نے سب مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا۔ لیکن ایک طبقے کا کردار اس معاملے میں قابل مذمت بھی رہا۔ مثلا غازی سید عبدالرشید قاضی شہید رحمتہ اﷲ علیہ نے ہزاروں مسلمانوں کو ہندو بنالینے والے گستاخ رسولﷺ شردھانند کو واصل جہنم کیا تو مفتی کفایت اﷲ دہلوی نے غازی عبدالرشید شہید کے بارے میں فتویٰ دیا کہ وہ جنت سے محروم ہے کہا کہ

’’کافر معاہد کا قاتل جنت کی بو بھی نہیں سونگھے گا‘‘

(روزنامہ ہمدم لکھنو‘ جنوری 1927)

شردھانند کے قتل کے دو ماہ بعد خلافت کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سیٹھ حاجی عبداﷲ ہارون نے ہندوئوں اور ان کے لیڈر شردھانند کے ساتھ اپنی محبت کا اور شاتم رسولﷺ کے قاتل غازی عبدالرشید کے اقدام قتل پر تاسف کا اظہاریوں کیا

’’سوامی شردھانند کے قتل کے واقعہ نے ہندو مسلمانوں کے درمیان نفرت اور ناانصافی کی خلیج کو اور بھی وسیع کردیا ہے۔ جس طرح اس کا قتل ہونا بیان کیا گیا ہے‘ وہ بہت ہی افسوس ناک ہے اور ہم مسلم پریس اور مسلم لیڈر اس واقعہ پر افسوس کرچکے ہیں۔ مجھے بھی ہندو بھائیوں کے ساتھ ان کے اس صدمہ میں دلی ہمدردی ہے‘‘

(خطبہ صدارت جناب سیٹھ حاجی عبداﷲ ہارون 27-28 فروری1927ء بمقام لکھنو‘ قاضی محمد مجتبیٰ کوتانوی نے نیپئر روڈ کراچی سے شائع کیا)

کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ کے ناشر راجپال کو غازی علم الدین شہید رحمتہ اﷲ علیہ نے کتے کی موت مار دیا تو ابو الکلام آزاد نے ایک عزیز طالب حق ہندو کے خط کے جواب میں لکھا

’’میں ایک لمحے کے لئے بھی یہ طریق عمل پسند نہیں کرسکتا کہ مسلمان اپنی طبیعت اس انداز کی بنالیں کہ جہاں کسی ٹٹ پونجئے نے ایک چار ورقی رسالہ چھاپ کر شائع کردیا‘ ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک تمام مسلمان شورواویلا مچانا شروع کردیں کہ اسلام کی کشتی غرق ہوگئی اور تحفظ ناموس رسولﷺ کی حفاظت کا سوال پیدا ہوگیا۔

نعوذ باﷲ! اگر چند جاہل اور کور چشم انسانوں کے بکواس کردینے سے ناموس رسالتﷺ کی حفاظت کا سوال پیش آسکے یا اسلام اور مسلمانوں کے لئے یہ کوئی مصیبت ہو‘ ایسا سمجھنا اسلام کی عزت و شرف اور مسلمانوں کے مذہبی خود داری کے اس درجہ خلاف ہے کہ میں نہیںسمجھ سکتا کہ ایک مسلمان اس کا تصور بھی کرسکتا ہے۔ اس قسم کا ایک رسالہ کیا معنی‘ اگر ایک ہزار یا ایک لاکھ رسالے بھی چھاپ دیئے جائیں جب بھی نعوذ باﷲ‘ اسلام اور داعی اسلام کے ناموس کے تحفظ کا کوئی سوال پید انہیں ہوسکتا‘‘

(ابوالکلام آزاد‘ تصریحات آزاد‘ مکتبہ اشاعت ادب‘ لاہور‘ بار اول دسمبر 1960ء صفحہ 164-165)

ناموس رسالت سے دلی تعلق رکھنے والے قارئین محترم کو میں ایک تکلیف دہ واقعہ یاد دلانا چاہتا ہوں۔ اگست 1980ء میں اس وقت کے صدر ضیاء الحق نے ایک دو روزہ علماء کنونشن بلایا۔ اس میں سید محمود احمد رضوی نے یہ قرارداد پیش کی جس کی تائید عرفان حیدر عابدی نے کی اور کنونشن کے شرکاء نے متفقہ طور پر اسے منظور کیا کہ:

’’حکومت اﷲ تعالیٰ‘ حضور رسول اکرمﷺ‘ خلفائے راشدین اور اہل بیت کی شان میں گستاخی کو قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دے‘‘ (نوائے وقت لاہور‘ 25 اگست 1980)

ضیاء الحق نے اس تجویز سے کلی اتفاق کرتے ہوئے جلدازجلد قانون بنانے کا وعدہ کیا۔ لیکن قانون بناتے وقت اﷲ تعالیٰ اور حضور اکرمﷺ کا نام نکال دیا گیا۔ (نوائے وقت 18 ستمبر 1980)

’’امہات المومنین اہل بیت کرام‘ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی شان میں گستاخی جرم قرار دے دی گئی۔ صدر نے تعزیرات پاکستان میں نئی دفعہ شامل کردی‘‘

دیکھئے قرارداد کیا تھی‘ قانون کیا بنا‘ لیکن زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ حرکت نہ تو صدر کو نظر آئی‘ نہ سید محمود احمد رضوی اور عرفان حیدر عابدی کو اس پر تعجب ہوا‘ نہ علماء کنونشن میں شامل ’’علماء و مشائخ‘‘ میں سے کسی ایک نے بھی اس پر احتجاج کیا۔ معلوم ہوا کہ کنونشن میں ھکانے پینے کے ساتھ ٹی اے ڈی اے لیتے ہی ان کا تعلق ہر چیز سے ختم ہوچکا تھا۔

ایسی میں صرف ایک نحیف سی آواز میری تھی جو صفحہ قرطاس پر کندہ ہوئی۔ میں ان دنوں ماہنامہ ’’نوارالحبیب‘ بصیرپور میں ’’ستارہ یمانی‘‘ کے نام سے کالم ’’طلوع‘‘ لکھا کرتا تھا۔ ذوالحجہ 1400ھ (1980) کے شماری میں‘ میں نے نوائے وقت کی اس موضوع پر ساری خبروں کی سرخیوں کی عکسی نقل کے ساتھ صورتحال لکھ دی تھی لیکن…

پانچ سال بعد جب اہانت رسولﷺ کا کیس وفاقی شرعی عدالت میں چلا تو ’’نورالحبیب‘‘ نے ستارہ یمانی کا یہی کالم اپنے جمادی الاول 1406ء کے شمارے میں دوبارہ شائع کیا۔

پاکستان کے ’’اسلام پسند‘‘ صدر کو پاکستان کے کسی مولوی کو‘ پاکستان کے کسی حامی کو‘ نہ حکومت کی اس حرکت پر غصہ آیا‘ نہ میرے کالم کو پڑھ کر ندامت یا غیرت کا احساس ہوا‘ لیکن مجھے اطمینان ہے کہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریمﷺ کی بارگاہ میں میرے احساسنات و جذبات پذیراہوگئے۔ الحمدﷲ

میں نے ماہنامہ ’’نعت‘‘ کے پانچ شماروں بعنوان ’’شہیدان ناموس رسالت‘‘ کے اداریوں میں بھی اپنے جذبات و احساسات کو زبان دی تھی‘ فروری 1991ء کا اداریہ دیکھئے۔

’’قصر تاریخ کے شکستہ حصوں میں راجپال‘ شردھانند‘ پالامل‘ سلمان رشدی اور ان جیسے دوسرے بھوت پریت ہونکتے بھونکتے دکھائی دیتے ہیں‘‘

اس مخلوق کا سلسلہ نسب ’’حماللتہ الخطب‘ اور ’’بعد ذالک زنیم‘‘ کے کھنڈرات میں ملتا ہے۔

اس نسل کے پھیلے ہوئے ہونٹوں اور لٹکتی ہوئی زبانوں کا انقطاع تاریخ کے ہر دور کی اہم ضرورت رہی ہےﷺ

تاریخ کے ہر عہد اور قصر تاریخ کے ہر حصے کی یہ اہم ضرورت‘ وقت پر متصرف کسی شخص نے پوری کردکھائی۔

جب بھی ایسا موقع آیا‘ گویا جوانمردی اور جان سپاری کا سورج بام قصر پر چمکا۔ جھرکوں سے جھانکنے والے چہروں پر حیرت و استعجاب کے نقوش گہرے ہوگئے۔ آس پڑوس کے باسیوں نے نعرہ ہائے تحسین بلند کئے۔ تھڑ دلوںکی زبانیں گنگ ہوگئیں‘ حوصلہ مندوں نے سینے تان لئے۔

ناموس رسالت کے محافظ‘ وقت پر حمکران تھے‘ دلیری ان کے قدم چومتی رہی‘ دنیا حیران ہوئی کہ ان سے پہلے جان لینے اور جان دینے کا عمل اتنا معمولی کب تھا؟

قصر تاریخ کے کھنڈرات کو شاتمیت کے بھوتوں کا مدفن بنا کر خوشی سے دار پر جھول جانے والے… انسانیت کا ناز ہیں‘ ملت کا سرمایہ ہیں‘ اﷲ کے محبوب ہیں‘ ان کے ذکر میں جھک جانے والے سر کہیں نہیں جھکتے‘‘

جہنم کا مگرمچھ منہ کھولے ابھی تک سلمان رشدی شیطان کے انتظار میں ہے۔ میری ایک آزاد نظم ’’سلمان رشدی کا قتل‘‘ بھی حاضر ہے۔

وہ ایک لمحہ

وہ وقت پہ حکمران لمحہ

کہ جب عزیمت کی جرات افزا منڈیر پر جھلملاتے دیپک

اگائیں گے روشنی کی فصلیں

دھنک جمے گی فضا میں ہر سو‘ محافﷲ رنگ و نور ہوں گی

زمانے بھر میں اجالا ہوگا

اجالا ہوگا سعادتوں کا

سعادتوں کا اجالا ہوگا جسارتوں سے

جسارتیں

جو محبتوں کی نقیب ہوں گی

جو میرے آقاﷺ کی عزتوں اور حرمتوں کا نشاں رہیں گی

جسارتیں جو علم اٹھائیں گی حفظ ناموس مصطفیﷺ کا

اور

بے اصل رشدی ایسا خبیث اس لمحے مارا جائے گا

جراتوں کے‘ جسارتوں‘ کے عزیمتوں کے شناسا ہاتھوں سے

میری ہاتھوں سے…