شادی خانہ آبادی یا بربادی

مولانا مفتی ولی محمد صاحب رضوی ، باسنی ، ناگور ، راجستھان

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

سرکار پیارے مصطفیﷺ کا یہ ارشاد گرامی ’’النکاح من سنتی ‘‘ نکاح میری سنت ہے ۔ امت کے لئے رہنما اصول ہے ۔ کہ اس سے ایک رشتۂ پاکیزہ وجود میں آتا ہے ۔ جس سے ایک گھر آباد ہوتا ہے ۔ پھر رب کے فضل سے اس میں پھول کھلتے ہیں ۔ اس طرح یہ آہستہ آہستہ خاندان ، قبیلہ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس طرح دنیا کی آبادی کی شروعات سے لے کر دنیا کے آخری دور تک یہ سلسلہ قائم رہے گا ۔

مگر اسلام نے اس رسم شادی و نکاح کو طہارت کا نمونہ پیش کیا ہے۔ کہ ولیمہ کا کھانا ، اعزا و اقربا کو کھلایا جائے خطبہ دیا جائے ، مہر مقرر کی جائے جو عورت کا حق ہے ۔ ایجاب وقبول اور پھر چھوہاروں کی تقسیم اور اس طرح کے دوسرے مفید احکام و آداب بتائے ۔ جتنا آسان طریقہ ہو سکے اختیار کیا جائے ۔ اس سے ساس و سسر بھی دونوں خوشحال بھی رہیں گے اور محبت بھی بڑھتی رہے گی۔ اس طرح سکون و چین کا موسم ہوگا ۔ اگر قوم کے ذمہ دار حضرات قوم کی قیادت نیک نیتی سے کریں گے تو بہت سی برائیوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اور ہم فالتو اخراجات سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

الحمد للہ ! اس دور میں قصبہ باسنی ایک مثالی بستی ہے ۔ جہاں کی شادیاں قوم مسلم کے لئے قابل تقلید نمونہ ہیں ۔ ۱۰؍ شوال المکرم سے لیکر ۲۰؍ ذی الحجہ تک تقریبا ۲۰۰؍شادیاں ہوتی ہیں ۔ جن میں خصوصی علمائے کرام کو بلوا کر دینی مجالس اور جلسوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ اور بعض مقامات پر نعتیہ پروگرام ہوتے ہیں ۔ اے کاش ! ہر جگہ مسلمان اسی طرح شادیاں کرتے رہیں ۔ علمائے کرام سے نکاح اور شادی پر مشتمل بیان کروائے جائیں ۔ سیرت رسولﷺاور صحابہ کرام کی سیرت بیان کی جائے ۔ اور ایسے موقع پر دولہا دولہن کو نیک اور اچھی ہدایتیں کی جائیں ۔ قوم مسلم کو اسی طرح بیدار کیا جائے ۔ جس طرح اس خوش قسمت بستی میں علمائے کرام اور دیندار حضرات نے بیڑا اُٹھایا اور وہ بحمدہٖ تعالیٰ کامیاب رہے جس کی بناء پر پوری شادی کے ماحول میں روحانیت چھائی رہتی ہے ۔

الحمد للہ! رسول رحمتﷺکے طفیل اس بستی کے حوصلہ مند حضرات نے ایک زبردست اور مثالی کارنامہ یہ انجام دیا کہ ایک قومی جماعت نامی تنظیم بنائی جو علماء کرام کے زیر سرپرستی کام کر رہی ہے ۔ مسائل و احکام میں علماء کی رہنمائی حاصل کرتی ہے ۔ اس کے اچھے کاموں کی علماء حضرات تائید کرتے ہیں جس سے جماعت کے حوصلے بلند ہوتے ہیں ۔ اس آبادی میں بحمدہٖ تعالیٰ بینڈ باجے ، گانے بجانے ، ویڈیو شوٹنگ اور آتش بازی پر سخت پابندی ہے ۔ کسی کی مجال نہیں ہے ، چاہے وہ کتنا ہی بڑا آدمی ہو وہ کیساہی سرمایہ دار کیوں نہیں ہو سب ان اصول کے پابند ہیں اور یہ قصبہ اس لعنت سے کئی سال سے محفوظ و مامون ہے جبکہ آج اغیار کی پیروی کرتے ہوئے قوم مسلم میں بری طرح یہ برائیاں شادیوں میں داخل ہو کر قوم مسلم کو تباہی و بربادی کی طرف ڈھکیل رہی ہیں ۔ خدا و رسول ﷺ کے احکام اور فرمودات کو چھوڑ کر مسلمان طرح طرح کی آفات و بلیات میں گرفتار اور قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ دکان و مکان ، زمین و کھیت بھی برباد کرتے ہیں ۔ اور فقیری و مفلسی کی بھنور میں خطرناک طریقے پر پھنس گئے ہیں ۔ کاش کہ اب بھی ہماری قوم مسلم کو ہوش آجائے اور حق و صداقت کی ڈگر پر وہ چلنا شروع کردیں جو دینی و دنیوی کامیابی و کامرانی کا سر چشمہ و برکات و خیرات کا بیش بہا خزانہ ہے۔

بزرگان دین کا فیض ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس بستی کو یہ بھی فضیلت حاصل ہے کہ یہاں جہیز نام کی وہ چیز نہیں ہے جس نے والدین سے رات کی نیند اور دن کے سکون کو چھین لیا ہے۔ کہ بیٹی جو جگر کا ٹکڑا ہے وہ بھی دو اور گھر بھی پھونکو۔ اس رسم بد نے قوم مسلم کی معاشی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ حالانکہ اسلام میں قطعی جہیز کی ضرورت نہیں تھی مگر ہم نے اس غلط رسم و رواج سے اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری ہے ۔ اب ناک بچانے کے لئے سارے بیجا مطالبات پورے کئے جاتے ہیں گویا کہ بیٹی کا سودا ہو رہا ہے ۔ ہائے قوم مسلم کی بربادی !

آج باسنی میں اگر کوئی ذرا سی حرکت کردے تو سزا ملتی ہے ۔ ایک مرتبہ ایک بارات میں رومال تقسیم کر دئے تو معافی نامہ قوم کے سامنے لکھنا پڑا ۔ ایک شادی میں بگی میں بیٹھ کر بری کی رسم ادا کر دی تو دادا کو نکاح میں شرکت سے روک دیا ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ شادی جتنی ہی سادہ و سہل ہو گی اتنے ہی اس کے فائدے طرفین کو حاصل ہوں گے اور وہ سکھ چین سے رہ سکیں گے ۔

آج باسنی کی مثالی شادیاں قوم مسلم کو آواز دے رہی ہیں کہ اب بھی وقت ہے ہمت سے کام لو ؎

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

اے قوم مسلم کے غیور و جیالے نوجوانوں اور بزرگوں ! خدارا ملت کو بربادی سے بچائو ۔ کشتیٔ ملت کو غرق ہونے سے بچائو اور مل جل کر سر جوڑ کر بیٹھو اور برائیوں کے خلاف کمر کس لو ۔ نیک نیتی اور خلوص ہو گا تو انشاء اللہ تعالیٰ کام آسان اور بیڑا پار ہو گا۔ ؎

مرد باید کہ ہراساں نہ شود مشکلے نیست کہ آساں نہ شود

اپنے یہاں سنجیدہ لوگوں کی میٹنگ لو اور اس میں سخت فیصلہ کر کے اٹھو کہ ہمیں شادیوں سے ان غلط مراسم کو باہر نکالنا ہے۔ اور سنت رسول ا کو اسلامی احکام کے تحت ادا کرنا ہے ۔ چند قومی ہمدردی رکھنے والے حضرات طے کریں گے تو دوسروں کو ہمت ملے گی اس طرح بربادی دینی و دنیوی سے نجات ملے گی، قوم میں خوشحالی آئے گی ، پھر بیٹی کی پیدائش جو حقیقت میں رحمت ہے اس موقعہ پر گھر میں نہ غمی ہوگی بلکہ اس کی پیدائش پر اسی طرح خوشی ہو گی جس طرح بیٹے کی ولادت پر خوشی ہوتی ہے ۔ میں امید کرتا ہوں کہ میری قوم میری آواز پر لبیک کہے گی اور وہ کام کرے گی جس سے قوم میں خوشحالی ، سدھار اور نکھار پیدا ہوگا اور بچی سسرال میں چین سے رہے گی وہاں اس کے والدین کے مال پر للچائی نظروں سے نہیں دیکھا جائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے جو دیا ہے اس پر صبر و شکر کے ساتھ گزارہ کریں گے ۔ عزت و وقار والے حضرات ایسا ہی کرتے ہیں بلکہ خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے عزت کی زندگی گزارتے ہیں اپنی بہو کو اپنی پیاری بیٹی بنا لیتے ہیں کہ نئے گھر میں داخل ہوکر بھی چین و سکون اور عزت و پیار کا ماحول پائے گی تو خدا کا شکر ادا کرے گی اس طرح گلشن آباد ہوگا۔

پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو! از روئے اسلام بھی ان برائیوں کا خاتمہ کرنا ہم پر واجب ہے اور ان میں شرکت گناہ ہے ہمارے سرکار پیارے مصطفیﷺکا فرمان عالی شان ہے۔ ’’من رایٰ منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فمن لم یستطع فبلسانہ فمن لم یستطع فبقلبہ ‘‘ جو تم میں سے برائی کو دیکھے تو اسے ہاتھ سے مٹا دے اگر اس کی قدرت نہ ہو تو زبان سے ختم کرے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے اسے برا جانے ۔

اس فرمان نبی معظمﷺنے ہم پر واجب کیا ہے کہ ہم برائیوں کے خلاف اپنی طاقت اور حیثیت سے جہاد کریں ایمانی تقاضوں کو پورا کریں اور اسلام کی شان و شوکت کو دوبالا کرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کریں ورنہ خدا کی بارگاہ میں بڑے مجرم و خطا کار ہوں گے لہٰذا ہر ایک کو اپنی ذمہ داری نبھا کر خدا و رسول د و ا کی رضا مندی کا مستحق ہونا چاہئے۔

اے خدائے بزرگ و برتر ! واسطہ رسول کریمﷺ قوم کو نفس و شیطان کے فتنہ و فساد سے بچا۔ اور جو نفس و شیطان کے غلام ہیں ان کو بھی ان کے فتنہ و فساد سے محفوظ و مامون رکھ اور ایمان، آبرو و جان و مال کی حفاظت فرما ۔ ہر مومن کے دل میں توفیق خیر کا جذبہ پیدا فرمادے ۔ آمین بجاہ سید المرسلین ا

خادم سنی تبلیغی جماعت آل راجستھان باسنی 2005