نصیحت کرنا اور نصیحت چاہنا دونوں آسان ہے لیکن نصیحت قبول کرنا اوراس پر عمل کرنابڑامشکل ہے ،بالخصوص ایسے شخص کے لیے جو عالم یاطالب علم ہو اوراپنے لیے فضیلت و برتری کی تلاش میں مشغول ہو ،چونکہ وہ سمجھتاہے کہ صرف علم ہی اس کے لیے نجات کا ذریعہ بن جائے گا ،اس لیے وہ عمل سے بے نیاز ہے، حالانکہ اسے علم کی بہ نسبت عمل کی زیادہ ضرورت ہے ،یہی وجہ ہے کہ عمل پر زیادہ زور دیا گیا ہے ،حدیث شریف میں وارد ہے کہ: ’’أشدُّ النّاسِ عَذاباً یَوْمَ القِیامَۃِ عالِمٌ لم یَنْفَعْہُ عِلْمُہُ ‘‘ (الطبرانی فی الصغیر،ج:۱،ص:۳۰۵) 
قیامت کے دن تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عذاب اس عالم کو دیا جائے گا جس نے اپنے علم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا ۔
چنانچہ اگر تم آخرت کی سعادت چاہتے ہو اوریہ نہیں چاہتے کہ قیامت کے دن تمہارا علم تمہارے خلاف ہو جائے تواِن چار چیزوںس ے پرہیز کرو:

۱۔مناظرہ اور مباحثہ سے بچو ،

کیونکہ اس میں محنت و مشقت اور قوت صرف کرنے کے سوا کوئی فائدہ نہیں ،بلکہ اس میں نقصان ہی نقصان ہے ،’’فَإِثْمُہ أَکْبَرُ مِنْ نَفْعِہ۔‘‘ یعنی اس کاگناہ اس کے نفع سے زیادہ ہے ۔اس لیے کہ مناظرہ برے اخلاق کاسر چشمہ ہے ،مثلاً اس سے ریا ،حسد اور فخروغرور جیسی بری صفات پیدا ہوتی ہیں ۔
البتہ! اگر تمھیں کسی مسئلے میں دشواری پیش آرہی ہو اور اس کا حل چاہتے ہو ،نیزبحث ومباحثہ کا مقصد یہ ہو کہ حق واضح ہوجائے اورصحیح مسئلہ سمجھ میں آجائے تو اس نیت سے مباحثہ ا ور مناظرہ درست ہے ،لیکن اس نیت کی درستگی کی یہ دو علامتیں ہیں: 
٭ایک یہ کہ حق کو بلا جھجھک قبول کرلے، چاہے حق اس کی اپنی زبان سے ظاہر ہو یا مخالف کی زبان سے ۔
٭دوسری یہ کہ بہتر اس بات کو سمجھے کہ یہ مباحثہ عوام کے سامنے ہونے کے بجائے تنہائی میں ہو ۔
۲۔ اپنے نفس کو نصیحت کرنے سے پہلے دوسروں کو وعظ ونصیحت کرنے سے بچو اور ہمیشہ یہ بات یاد رکھو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہی گئی کہ:
’’ أوحَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلٰی عِیسَی بْنِ مَرْیَمَ یَا عِیسیٰ عِظْ نَفْسَکَ بِحِکْمَتِی فَإِن انْتَفَعْتَ فَعِظِ النَّاسَ وَإِلَّا فَاسْتَحِ مِنِّی۔‘‘(الفردوس ج: ۱، ص:۱۴۴)
ترجمہ: اے فرزند مریم! پہلے اپنے نفس کو نصیحت کرو ،اگر اس نے نصیحت قبول کر لی ہے تو لوگوں کو وعظ کہو، ورنہ مجھ سے حیا کرو۔
اگر تم اپنے رشتے داروں میں وعظ ونصیحت کی ضرورت محسوس کرتے ہو تو ان دو چیزوں سے بچو :
٭ایک یہ کہ عبارت آرائی اور بناوٹی گفتگو سے پرہیز کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تکلف کرنے والوں کو دشمن سمجھتا ہے اورگفتگومیں تکلف باطن کی خرابی اور غفلت کی دلیل ہے ،اس لیے کہ ’’ تذکیر‘‘یعنی نصیحت کامطلب یہ ہے کہ آخرت کی مصیبت اور جہنم کی آگ کا ایساخوف دل میں پیدا کیاجائے جو انسان کو بے قرار اور بے چین کر دے ۔
٭دوسرے یہ کہ دل سے یہ خیال نکال دوکہ تمہاری تقریر اور تمہارے ولولہ انگیزبیان کو سن کرلوگ واہ واہ اور آفرین و تحسین کے نعرے لگائیں گے اور محفل میں شور مچ جائے گا اور آخر میں لوگ یہ کہیں گے کہ کیا تقریر تھی ،کیا بیان تھا اور کیا وعظ تھا!! کیونکہ اس قسم کا خیال اور یہ ساری باتیں غفلت وریاکاری کی دلیل ہیں، بلکہ یہ عزم اور ارادہ رکھو کہ لوگوں کا رخ دنیا سے آخرت کی طرف ،حرص سے زہدکی جانب اورغفلت سے بیداری کی طرف مائل ہو جائے اور جب وہ محفل سے باہر نکلیں تواُن کے دل کے اندرایک تبدیلی پیدا ہو جائے یایہ کہ اگر وہ کسی حکم خداوندی کی پیروی سے بظاہر برگشتہ ہو گئے تھے تو اب اس کی طرف راغب و مائل ہو جائیں اور جس گناہ پر نڈر اور دلیر ہو چکے تھے اب اس سے باز رہیں۔ وعظ ونصیحت اورتذکیر کااصل کرشمہ اوراصل جادوبیانی یہی ہے، ورنہ اگر یہ مقصد نہ ہوتو مقرر اورواعظ اور سننے والوں پر عذاب ہوگا ۔
۳۔ تم کسی بادشاہ ،جا ہ و منصب، عظمت و شوکت اوررعب ودبدبہ والے کے دربار میں سلام کی خاطر جانے سے بچو، اور ان سے ہرگز میل جول اور ربط وضبط نہ پیدا کرو، کیونکہ ان لوگوں کے دربار کافتنہ اور اس کی آزمائش بہت بڑی ہے،اگر کوئی شخص ان کی ملاقات کی آزمائش میں مبتلا کر دیا جائے تو اس کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کی تعریف وتوصیف میں اختصار سے کام لے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَغْضِبْ إِذَا مُدِحَ الْفَاسِقُ فِی الْأَرْضِ۔‘‘(شعب الایمان از بیہقی ج:۴، ص:۵۰۹)
یعنی اللہ تعالیٰ اس بات سے غضب ناک ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی فاسق کی تعریف کرے۔
اورحضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: 
’’مَنْ دَعَا لِظَالِمٍ بِالْبَقَائِ فَقَدْ أَحَبَّ أَنْ یُعْصَی اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ۔‘‘(شعب الایمان از بیہقی ج:۷، ص:۵۳) 
یعنی جس کسی نے ظالم کی لمبی عمرکے لیے دعا کی توبے شک اس نے اللہ کی نافرمانی کرنا پسند کر لیا ۔
۴۔بادشاہ سے کسی قسم کا وظیفہ قبول مت کرو خواہ وہ حلال ہی کیوں نہ ہو ،اس لیے کہ مال کی آرزو اور اس کی چاہت کی وجہ سے ظلم کی موافقت ،رعایت اور دین میں خرابی لازم آتی ہے اور یہ تمام چیزیں ہلا کت کے اسباب ہیں ۔
یہ چارباتیں وہ ہیں جن سے پرہیز کرنا چاہیے اورجن سے کوئی تعلق نہ رکھنا چاہیے۔باقی رہے وہ چار اصول جن کا بجا لاناضروری ہے، حسب ذیل ہیں:
پہلا یہ کہ تمہارے اور مخلوق کے درمیان جومعاملہ ہے اس کو خوش اسلوبی سے انجام دو،کیونکہ کسی بندے کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ تمام انسانوں کے لیے وہی چیز نہ پسند کرلے جو وہ اپنے لیے پسند کرتاہے ۔
دوسرا یہ کہ تمہارے اور خداکے مابین جو معاملہ ہے اس کو اس طرح ادا کرو جس طرح تمہارا غلام تمہارے حق میں ادا کرتا ہے تو تم اس کو پسند کر لیتے ہو ۔
تیسرا یہ کہ جب تم علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو ایسے علم میں مشغول رہو جس میں تم اس وقت مشغول ہوتے ،جب کہ معلوم ہو جاتا کہ ایک ہفتہ کے اندر تمہاری وفات ہو جائے گی۔ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں تم کو جس علم سے دلچسپی ہو گی وہ نہ تو شاعری ہوگی نہ علم بیان ، نہ اصول مناظرہ اور نہ فلسفہ وکلام ۔جس شخص کو یہ علم ہو جائے کہ اگلے ہفتے وہ مر جائے گا اللہ کی تو فیق اس کے شامل حال ہوگی تو مراقب ہونے اور اپنے اعمال و کردار کا جائزہ لینے کے علاوہ کسی چیز میں دلچسپی نہیں لے گا ،یہاں تک وہ دنیوی تعلقات اور گندگیوں سے پاک ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کر لے گا ، اس وقت اللہ تعالیٰ اس کو اپنی محبت سے سرشار اور ایسے اوصاف و خصائل سے آراستہ کرے گا جو اس کے نزدیک پسندیدہ ہیں ۔ ۔
اگر کسی کو اطلاع دی جائے کہ بادشاہ اسلام اس ہفتہ تمہارے پاس ملاقات کے لیے آئے گا تو وہ شخص تمام کاروبار اور مشاغل کو چھوڑ کر بادشاہ کے استقبال و خیر مقدم کے لیے جس قدر اسباب ولوازم کی ضرورت ہوگی ان میں لگ جائے گا جسمانی صفائی اور گھر کی صفائی کی طرف توجہ دے گا ، صاف ستھرے کپڑے فراہم کرے گا اور بادشاہ کے اجلاس کو آراستہ وپیراستہ کرے گا اور یہاں صورت حال یہ ہے کہ:
إِنَّ اللّٰہَ لاَ یَنْظُرُ إِلَی صُوَرِکُمْ وَلَا اِلیٰ اَعمالِکُم وَلَکِنْ یَنْظُرُ إِلَی قُلُوبِکُم ْ ونِیَّاتِکُمْ ۔ (مسلم، البر، باب تحریم ظلم المسلم)
یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اعمال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتاہے۔
احوال دل کا علم اور ہلاک کرنے والی اور نجات دینے والی چیزوں کی جانکاری ہماری کتابیں احیاء العلوم ، کیمیائے سعادت یا جواہر القرآن کے ذریعے فراہم کی جا سکتی ہے ،یہی علم تمہارے لیے اہم اور فرض عین ہے ۔
ر ہے دوسرے علوم تو اُن کا مقصود یا تو بڑائی کا اظہار کرنا ہے ،جیسے مناظرہ و مباحثہ وغیرہ یا ان میں مشغول ہونا وقت ضائع کرنا ہے ،جیسے کہ شاعری اورفصاحت وبلاغت وغیرہ ۔
چوتھا اُصول یہ ہے کہ دنیا سے اس قدر مال حاصل کر وکہ اگر تم آسانی سے دوسری دنیامیں جائو تو وہ تمہارے لیے باعث نجات ہو،اسی قدر کفایتی رزق کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کے لیے پسند فرمایاہے :
’’ اللّہُمَّ اجْعَلْ قوتَ آلِ مُحَمَّدٍ کَفَافا۔‘‘
ترجمہ:اے اللہ!محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کی روزی بقدر ضرورت بنا ۔
ایک دوسرے مقام پر فرمایاگیا :
’’مَنْ أخَذَ مِنَ الدُّنْیا فَوْقَ ما یَکْفِیہِ أخَذَ بِجِیفَۃ وہُوَ لا یَشْعُرُ۔‘‘(دیلمی ج:۱،ص:۱۰۸)
یعنی جس شخص نے اپنی کفایت سے بڑھ کر دنیا حاصل کی تو اُس نے مردار حاصل کیا اور اس کااسے احساس نہیں ہوتا ۔

٭٭٭

ماہنامہ خضرِ راہ ،جون ۲۰۱۵