دعوت و تبلیغ اور ہماری ناکامی

ارشاد الحسین برکاتی

اگر داعی مخلص نہ ہو تواُس کی تمام تر داعیانہ کوششیں بےمعنی ہوکر رہ جائیں گی اور ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد عالی شان ہے:

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَااِلَی اللّٰهِ(فصلت۳۳)

ترجمہ: اس بات سے اچھی اورکیاچیز ہو سکتی ہے کہ اس کے ذریعے حق کی دعوت دی جائے ۔

 اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ عمل اعلیٰ ترین عمل ہے کوئی کام اس سےبہتر نہیں۔دعوت دین فرض ہے اور اُمت مسلمہ کا مقصد وجود بھی ، خاتم الانبیاء سرورکائنات صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد قیامت تک یہ اُمت پیغام الٰہی کی حامل ہے۔ جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حق امانت کی ادائیگی کی، اسی طرح اُمت محمدیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اُسی عزم و حوصلے کے ساتھ اس امانت کو نسل در نسل منتقل کرتی رہیں۔

 داعی اعظم محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی حیات طیبہ میں ایک داعی و مبلغ کے لیے جو اصول و اسباب بتادیے ہیں اگر ایک داعی اُن کو اپنا لے تو اُسے اور دروازے پر دستک دینے کی ضرورت ہی نہ پڑے ،لیکن آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نے ان ہی اسباب کو پس پشت ڈال دیا ہے جن کی بناپردعوت و تبلیغ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 ہم ذیل میں چند ایسے اسباب کا ذکر کرتے ہیں جن کی وجہ سے میدان دعوت میں ہم ناکام ہیں:

 اپنے گھر سے بے خبری

 ہماری ناکامی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ آج ہم ملکی و غیر ملکی اسٹیج پر تبلیغ کرتے تونظر آتے ہیں لیکن ہم اپنے اہل خانہ کی طرف توجہ نہیں دیتے،حالاں کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارے اہل خانہ حقیقت دین سے بے خبر ہیں اور دنیاوی رنگینیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں،اس کے باوجودہم اُن کی خبرنہیں لیتے،یہی وجہ ہے کہ ہماری دعوت وتبلیغ موثر نہیں ہوتی، اور اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسلام و ایمان سے قریب ہونے کے بجائے دورہورہے ہیں،جب کہ محسن کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھاکہ آپ نے سب سے پہلے اپنے اعزہ واقربا کو دعوت دین دی۔

حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب آیت کریمہ وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم صفا نامی پہاڑی پر تشریف لےگئے اور باآواز بلند فرمایا:اے بنی فہر! اے بنی عدی! جب یہ لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایاکہ جو بات میں بتانے والا ہوں کیا تم اس کی تصدیق کروگے ؟

 سب نے یک زبان ہو کر کہا :کیوں نہیں ،ہم ضرور آپ کی مانیںگے ،کیوں کہ ہمیں خوب تجربہ ہے کہ آپ سچ کے علاوہ کچھ نہیں کہتے۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمھیں آنے والے ایک بھیانک عذاب سے ڈرا رہا ہوں۔

 یہ سن کرابولہب نے کہا کہ آج پورے دن تمہارے لیے ہلاکت ہو، کیا تم نے ہمیں اسی لیے جمع کیا ہے ؟چنانچہ اس کے جواب میں آیت کریمہ تَبَّتْ یَدَااَبِیْ لَهَبٍ نازل ہوئی۔

 اس حدیث پاک سےدعوت وتبلیغ کایہ بنیادی طریقہ معلوم ہوتاہےکہ ہمیں دعوت کا آغازسب سے پہلےاپنے گھر، کنبہ اور اپنےقبیلے سے کرنا چاہیے ۔

 اعلی کردار سے دوری

 ہماری ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہےکہ ہمارے اخلاق وکرداردیکھ کربہت سےلوگ ہم سےکتراتے ہوئےنظر آتے ہیں، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کااخلاق وکرداریہ تھاکہ جب آپ نے کوہ صفا پر فرمایا کہ تم میری بات کی تصدیق کروگے ؟ تو سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ کیوں نہیں ،ہمیں خوب تجربہ ہے کہ آپ سچ کے علاوہ کچھ نہیں کہتے۔

 اس سے بخوبی پتا چلتا ہے کہ داعی ،مدعو کے درمیان رہ کر اپنی شخصیت منوائے کہ اُس کی شخصیت دھوکہ ، فریب ،کذب و بہتان اور دوسرے عیوب فاحشہ سے پاک وصاف ہے،بلکہ اپنے اخلاق وکردارسے اِنَّکَ لَعَلٰی خُلْقٍ عَظِیْمٍ کی عملی تفسیر پیش کرے۔

 بد کلامی اور فحش گوئی 

 ہماری ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہےکہ اگر کوئی ہم سے بد کلامی کرتا ہے توہم اس کا جواب اس سے بھی زیادہ سخت و تلخ الفاظ میں دیتے نظر آتے ہیں،جب کہ مبلغ اعظم حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کاطریقۂ دعوت یہ رہاہےکہ اگر کوئی بدکلامی سے بھی پیش آتاتوآپ اُس پر صبر و ضبط اور تحمل سے کام لیتے۔جیساکہ ابو لہب نے کوہِ صفاپربد کلامی کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کسی ردِّ عمل کا اظہار نہیں کیا۔

اس کے برعکس آج ہماری حالت یہ ہو چکی ہے کہ گالی گلوج،دھوکہ، فریب اورکذب و بہتان ہماری سرشت میں سرایت کرچکاہے، جس کی وجہ سے ہم دعوت و تبلیغ میں ناکام ہیں۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

 لَمْ يَكُنْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا، وَلَا لَعَّانًا، وَلَا سَبَّابًا۔ (صحیح بخاری،باب ماینہی من السباب واللعن)

 ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نہ فحش گوتھے،نہ لعنت ملامت کرنے ،نہ گالی گلوج کرنے والے ۔

 شدت پسندی اورسختی

 ہماری ناکامی کی ایک اہم وجہ ہےہماری شدت پسندی اور جبر۔بارہا ایسا ہوتا ہے کہ دعوت وتبلیغ میں نرمی اورآسانی اختیارکرنےکے بجائے اپنی بات منوانے کے لیےشدت پر اُترآتے ہیں،اوراِس قدرسختی کرتے ہیں کہ ہمارامدعو ہم سے اپنی جان چھڑانے لگتاہے،جس کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ ہم حق اور درست بات بھی نہیں پہنچاپاتے،جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت پسندی اور سختی سے منع فرمایاہے۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :

يَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا، وَسَكِّنُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا۔ (صحیح مسلم،باب الامربالتیسیروترک التنفیر)

 ترجمہ: نرمی اور آسانی پیدا کرو، دشواری اور سختی کا معاملہ نہ کرواورلوگوں کو تسلی دو نفرت نہیں۔

 جبروکراہت

 ظلم وجبر اورناپسندیدہ باتیں بھی دعوت وتبلیغ کی راہ میں سخت مانع ہوتی ہیں،اس لیے مدعوکےمزاج اورمیلان طبع کا خیال رکھنا بھی لازم وضروری ہے۔

مصنف ابن ابی شیبہ بیان کرتے ہیں :

حَدِّثِ الْقَوْمَ مَا أَقْبَلُوْا عَلَيْكَ بِوُجُوهِهِمْ، فَإِذَا الْتَفَتُوْا، فَاعْلَمْ أَنَّ لَهُمْ حَاجَات۔ (سنن دارمی،باب من کرہ ان یمل الناس )

ترجمہ: لوگ جب متوجہ رہیں تواُن سے گفتگو کرواور جب وہ منھ پھیر لے تو سمجھ جائو کہ اُنھیں کوئی ضرورت درپیش ہے۔

 اخلاص عمل 

کبھی کبھی عدم اخلاص کی وجہ سےبھی ہم ناکام ہوجاتے ہیں،اس لیے ایک داعی کے اندراخلاص عمل کا ہوناانتہائی لازم ہے۔

اس تعلق سے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں:

إِنَّ اللهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهٗ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهٖ وَجْهُهٗ۔(سنن نسائی،باب من غزایلتمس الاجر والذکر )

 ترجمہ: اللہ تعالیٰ صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو، اور اُس سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی مقصود ہو۔

 چنانچہ یہ حدیث بھی ہمیشہ داعی کے پیش نظر ہونی چاہیے، کیوں کہ اگر داعی مخلص نہ ہو تواُس کی تمام تر داعیانہ کوششیں رائیگاں اور بےمعنی ہوکر رہ جائیں گی اور اُسےناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئےگا ۔

 دعوت وتبلیغ کی راہ میں ناکامی کے یہ بنیادی اسباب ہیں ، اگراُن کا خیال رکھا جاے تو ہماری دعوتی کوششیں یقیناً کامیاب ہوسکتی ہیں۔(ان شاءاللہ)