جہاد اکبر:جہاد بالنفس یا جہاد بالسیف؟

غلام مصطفی الا زہری

قلب کی طہارت اورصفائی ستھرائی کے بغیر تمام عبادات ناقص ہیں ، خواہ نماز ہو یا روزہ ، زکات ہو یا صدقات ، حج ہو یا جہاد

مجاہدہ ، تزکیہ اور اصلاح نفس کو عارفین باللہ جہاد اکبر سے تعبیر کرتے ہیں ، ان کا ماننا ہے کہ خواہشات اور حرص وہوا کی پیروی کرنے والا،ریا اور شک و شبہ میں گرفتار ،بدعات و منکرات اورگناہوں پر اصرار کرنے والا اور متکبر اور اَنَاخَیْرٌ مَّنْہُ(میں اس سے بڑا ہوں) کا دعوی کرنے والا شخص کبھی بھی مقام احسان تک نہیں پہنچ سکتاہےاورنہ ہی اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرسکتاہے۔

 عارفین باللہ اپنے اس دعوے پر جہاں بہت ساری قرآن کریم کی آیتیں اور احادیث صحیحہ پیش کرتے ہیں وہیں اس حدیث پاک:

رَجَعْنَا مِنْ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ۔

(ہم جہاد اصغر یعنی جہاد بالسیف سے جہاد اکبر یعنی مجاہدۂ نفس کی طرف لوٹ رہے ہیں۔)

کاذکر بار بار کرتے ہیں۔ نیزعارفین باللہ کی مجالس ، ملفوظات، افادات ، مکتوبات اور تصنیفات وتالیفات بھی اس حدیث پاک سے خالی نہیں ہیں۔

حدیث مذکورکی تخریج وتحقیق

 بیہقی نے حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مجاہدین کی ایک جماعت کسی غزوے سےواپس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 قَدِمْتُمْ خَيْرَ مَقْدَمٍ مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ۔قَالُوا: وَمَا الْجِهَادُ الْأَكْبَرُ؟ قَالَ: مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ .

 ترجمہ:جہاداصغر سے جہاد اکبر کی جانب آنا مبارک ہو،صحابہ کرام نے پوچھاکہ جہاد اکبرکیاہے؟اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ بندے کا نفسانی خواہشات سے مجاہدہ کرناجہاد اکبرہے۔

 بیہقی نےاس کی سند کو ضعیف قرار دیاہے۔(زهد كبير ، فصل في ترك الدنيا ومخالفة النفس والهوى ،ص:۱۶۵،ح: ۳۷۳)

اورخطیب بغدادی نے اسی حدیث پاک کواِن الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے :

قَدِمَ النَّبِيُّ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهٗ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:قَدِمْتُمْ خَيْرَ مَقْدَمٍ، وَقَدِمْتُمْ مِنَ الْجِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الأَكْبَرِ۔ قَالُوا: وَمَا الْجِهَادُ الأَكْبَرُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ۔ (تاريخ بغداد، جلد:۱۵،ص:۶۸۵،ح: ۴۵۹۰)

 عجلوني نے’’ كشف الخفاء‘‘میں لکھا ہے کہ حافظ ابن حجرنے’’ تسديد القوس‘‘ میں اس حدیث پاک کے بارے میںیہ کہاہےکہ’’ یہ بطور حدیث عوام میںب ہت مشہور ہے، جب کہ یہ ابراهيم بن عيلة کا كلام ہے(حدیث نہیں)۔ (جلد:۱،ص:۴۲۴، ح: ۱۳۶۲)

 ابن تیمیہ نے اس حدیث کے بارے میںیہ کہا ہے کہ اس حدیث کو بعض لوگوں نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوك کے موقع پر فرمایا:

رَجَعْنَا مِنْ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ۔

اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال جاننے والوں میں سے کسی نے بھی اس حدیث کی روایت نہیں کی ہے۔نیز یہ کہ کفار سے جہاد کرنا بہت بڑا کام ہے بلکہ تمام نفلی عبادتوں میں سب سے افضل ہے۔

 اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :

 لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُوْلِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةًوَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰی وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا(۹۵) دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةًوَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (نسا۹۶)

 ترجمہ:وہ مسلمان جو بے عذر جہاد میں شریک نہ ہو اور وہ مسلمان جو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرے، برابر نہیں ہوسکتے- اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کا درجہ جہاد میں شریک نہ ہونے والوں سےبلند فرمایا ہے ، اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور اللہ نے جہاد والوں کو جہاد میں شریک نہ ہونے والوں پر بڑے ثواب اور فضیلت سے نوازا ہے ، اور اُن کے لیے اللہ کی طرف سے درجے، بخشش اور رحمت ہے ،اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (مجموع الفتاوی ،جلد: ۲۱،ص:۱۹۷)

 گویا کہ ابن تیمیہ نے اس حدیث کواور اس کے ساتھ ساتھ مجاہدہ و تزکیۂ نفس کو اصول حدیث کا سہارا لےکر رَد کردیا ہے ،اور اسے بے اصل اور موضوع قرار دیا ہے۔

 لیکن ابن تیمیہ سے اس مسئلے میں تسامح ہوا ہے، انھوں نے یہ سمجھا کہ قرآن و احادیث صحیحہ میں تو جہاد بالسیف یعنی قتال کا بڑا ذکر ہے، اس کی بڑی فضیلت آئی ہے ، جہاد کی اصطلاح قتال کے لیے ہی استعمال ہوئی ہے ، پھر یہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ اصلاح نفس ، تزکیۂ باطن اور مجاہدہ کو اس عام اصطلاحی جہاد سے زیادہ فضیلت حاصل ہوجائے۔

دوسری طرف حدیث پاک کی سند میں ضعف ہے، جو ابن تیمیہ کے زعم کو تقویت دے رہا ہے، اسی لیے اُنھوں نے اس حدیث کو بے اصل قرار دے دیا ۔

 تزکیۂ نفس کی فضیلت

 ابن تیمیہ کا قول اپنی جگہ درست ہے کہ جہاد بالسیف ہی اصل جہاد ہے ،ساری فضیلتیں اسی کے حق میں وارد ہوئی ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تمام عبادتوں کی جڑ تزکیۂ نفس اور اصلاح باطن ہے،کیوں کہ مکلّف جب بھی کوئی عمل کرتا ہے،اللہ کی بارگاہ میںخشوع و خضوع کا مظاہرہ کرتا ہے ، اس کی عبادت کے لیے کوشاں رہتا ہے، تو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ شخص مسلمان ہے،ایمان والا ہے ، شرک جلی کی گندگیوں سے پاک و صاف ہے ، کفر کی تاریکی سے دور ہے لیکن جب تک اصلاحِ باطن نہ ہوا ہو، اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا دل شرک خفی کی پراگندگیوں سے پاک و صاف ہے، ابھی تو اس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ متقی ، پرہیزگار ،شب زندہ دار ہے ، اس نے بے شمار حج و عمرے کیے ہیں ، متعدد جہاد میں دادِ شجاعت پائی ہے ، ہزاروں کفاروں کو تہہ تیغ کیا ہے ، اس کی عبادتیں ابلیس سے کسی بھی طرح کم نہیں ہیں لیکن اگر تزکیہ سے دور ہے تو کسی بھی وقت ابلیس کی طرح اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ کا دعویٰ کرسکتا ہے اورنخوت و تکبر کے شیطانی چنگل میں پھنس سکتا ہے۔ ( العیاذ باللہ)

 یہی وجہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نےاصلاح نفس ، تزکیۂ باطن اور تصفیۂ قلوب پرکافی زوردیا ہے :

 ۱۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكّٰهَا(۹)وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰهَا  (سورۂ شمس ۱۰)

 ترجمہ:وہ شخص کامیاب ہوا جس نے نفس کو پاک کیا اور وہ نامراد ہوا جس نے اُسے گناہ میں مبتلا کیا۔

 ۲۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى (اعلى ۱۴)

ترجمہ: وہی کامیاب ہوا جو پاک وستھراہوا ۔

۳۔وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَكِنَّ اللهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ (نور ۲۱)

 ترجمہ:اگر اللہ کا فضل اور اُس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں کوئی بھی شخص کبھی نفس کی پاکیزگی حاصل نہیں کر پاتا۔ ہاں!اللہ جسے چاہتا ہے اس کے نفس کو پاک کردیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے انھیں بندوں کو قلب کی پاکیزگی اور نفس کی طہارت سے نوازتا ہےجو بندے اللہ کی عبادت کرکے بھی اس پر فخر نہیں کرتے ،بلکہ اُسے کم تر و حقیر سمجھ کر اُس کے قبول نہ ہونے کے خوف سے لرزتے رہتے ہیں ۔

 قرآن کریم میں ایسے لوگوں کی خصوصیات کو اِس طرح بیان کیاگیا ہے :

وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَا آتَوْا وَقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلٰى رَبِّهِمْ رَاجِعُوْنَ (مؤمنون۶۰)

 ترجمہ: مؤمن وہ ہیں جو جس طرح کی اور جتنی بھی عبادت کرلیں لیکن ان کا دل اس خوف سےلرزتا رہتا ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں انھیں حاضر ہونا ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہادریافت فرماتی ہیں کہ یا رسول اللہ! کیااس سے مراد وہ لوگ ہیں جو زنا کرتے ہیں،چوری کرتے ہیں اور شراب پیتے ہیں؟

اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 لاَ يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ، وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ يَصُوْمُوْنَ وَيُصَلُّوْنَ وَيَتَصَدَّقُوْنَ، وَهُمْ يَخَافُوْنَ أَنْ لَّاتُقْبَلَ مِنْهُمْ۔ (سنن ترمذي ، ابواب تفسیر القرآن، سورۂ مؤمن، ح: ۳۱۷۵)

 ترجمہ: اے عائشہ !نہیں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز ادا کرتے ہیں،روزہ رکھتے ہیں، صدقات و زکات دیتے ہیں،اس کے باوجود وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ عبادتیں ردَ نہ کردی جائیں؟

 اس کے بر عکس جو لوگ تزکیہ سے خالی ہوتے ہیں، اپنی عبادتوں پر فخر کرتے ہیں اورلوگوں سے واہ واہی چاہتے ہیں،توقیامت میں ایسے لوگوں کی عبادتیں رَد کردی جائیں گی۔

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

 إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضٰى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ بِهٖ فَعَرَّفَهٗ نِعَمَهٗ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟قَالَ: قَاتَلْتُ فِيْكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلٰكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُّقَالَ: جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيْلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهٖ فَسُحِبَ عَلٰى وَجْهِهٖ حَتّٰى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ، وَعَلَّمَهٗ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهٖ فَعَرَّفَهٗ نِعَمَهٗ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيْهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ، وَعَلَّمْتُهٗ وَقَرَأْتُ فِيْكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلٰكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ: عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ: هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيْلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهٖ فَسُحِبَ عَلٰى وَجْهِهٖ حَتّٰى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ، وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهٖ، فَأُتِيَ بِهٖ فَعَرَّفَهٗ نِعَمَهٗ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيْهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُّنْفَقَ فِيْهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيْهَا لَكَ، قَالَ:كَذَبْتَ، وَلٰكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ: هُوَ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيْلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهٖ فَسُحِبَ عَلٰى وَجْهِهٖ، ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ۔ (مسلم ، باب من قاتل للرياء والسمعة استحق النار،ح: ۱۹۰۵)

 ترجمہ:قیامت کے دن جس کا سب سے پہلے فیصلہ کیاجائے گا وہ شہید ہوگا،اُسے اللہ کی بارگاہ میں لایاجائے گا اوراللہ کی نعمتیں دکھائی جائیں گی ،وہ انھیں پہچان لے گا تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا کہ ان نعمتوںکے ہوتے ہوئے تونے کیا عمل کیا؟وہ کہے گا کہ میں نے تیری راہ میں جہاد کیا،یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔اللہ فرمائے گا کہ تو نے جھوٹ کہا،بلکہ تو اس لیے لڑرہاتھا کہ تجھے بہادرکہاجائے،تجھے بہادر کہا جاچکا۔ پھر حکم دیا جائے گاکہ اُسے منھ کے بل گھسیٹاجائے،یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔

 دوسرا شخص جس نے علم حاصل کیا اور لوگوں کو علم دیااور قرآن پڑھایااسے لایاجائے گا اوراُسے اللہ کی نعمتیں دکھائی جائیں گی ،وہ انھیں پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ان نعمتوںکے ہوتے ہوئے تونے کیا عمل کیا؟وہ کہے گا کہ میں نےعلم سیکھا،پھراُسے دوسردں کو سیکھایااورتیری رضاکے لیے قرآن مجید پڑھایا۔اللہ فرمائےگا تونے جھوٹ کہا،تونے علم اس لیےحاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائےاور قرآن اس لیے پڑھاکہ تجھے قاری کہا جائے،تو یہ سب چیزیں تجھے دنیا میں حاصل ہوچکیں۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اُسے منھ کے بل گھسیٹا جائے،یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیاجائے گا ۔

 تیسرا شخص وہ ہوگا جس کو اللہ نے خوشحال کیا تھا اور اس کوہر قسم کا مال عطا فرمایا تھا اُسے بھی لایاجائے گا اور اُسے اللہ کی نعمتیں دکھائی جائیں گی ،وہ انھیں پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے تونے کیا عمل کیا؟وہ کہے گا کہ میں نے تیری راہ میں تیری رضا حاصل کرنے کے لیے خرچ کیا تھا،اللہ فرمائے گا کہ تو نے جھوٹ کہا،بلکہ ایسا تونے اس لیے کیا کہ تجھے سخی کہا جائےاور یہ تجھے کہا جاچکا،پھر حکم دیاجائے گا کہ اسے منھ کے بل گھسیٹا جائے ، یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائےگا۔

 ان آیات و احادیث کریمہ سے واضح ہو گیا کہ قلب کی پاکیزگی اورصفائی ستھرائی کے بغیر تمام عبادات ناقص ہیں ، خواہ نماز ہو یا روزہ ، زکات ہو یا صدقات ، حج ہو یا جہاد۔ شرک جلی و خفی سے پاک ہوئے بغیر یہ سب عبادتیں برباد ہیں اوراِن عبادتوں کے باوجود جو شخص ریا و سمعہ سے پاک نہیں ہوگاوہ جہنم رسید ہوگا۔ (العیاذ باللہ)

 اس سے واضح ہوگیا کہ جہاد اکبر جہاد بالسیف کو مان بھی لیں پھر بھی تمام عبادتوں کی طرح اس کی بنیاد جس پر ٹکی ہوئی ہے وہ جہاد بالنفس ہے اور قلب کی پاکی ہے ، اسی لیے بعض محدثین نے فرمایا ہے کہ جن چار احادیث کریمہ پر دین کی بنیاد ٹکی ہوئی ہے ان میں سے ایک صحیح بخاری کی پہلی حدیث پاک ہے :

 إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوٰى۔

ترجمہ:عمل کا دارو مدار نیت پر ہے، ہر شخص کو ایسا ہی اجر ملے گاجیسی اس کی نیت ہوگی۔

 اپنی بات کو ختم کرنے سے پہلے اپنے اس موقف کو سمجھانے کے لیے کسی دانش ور کی ایک رائے نقل کرتا ہوں:

دنیا میں بڑی بڑی عمارتیں بنتی ہیں، لوگ ان فلک بوس عمارتوں کو دیکھنے کے لیے جاتے ہیں ،اس کی چوٹیوں پر کھڑے ہوکر یاد گار تصویر محفوظ کرتےہیں،لیکن بنیاد کی اینٹوں کو کوئی نہیں دیکھتا ، نہ یاد کرتاہے جن پر یہ عمارتیں اور اُن کی سو سو منزلیں ٹکی ہوئی ہیں، اگر اس کی بنیاد مضبوط نہ ہوتی تو عمارت کب کہ زمین بوس جاتی اور اُس کے ملبوں میں نہ جانے کتنی جانیں ہلاک ہوجاتیں۔ ٹھیک اسی طرح اگرانسان کی نیت صحیح نہ ہو ، اس کا قلب پاک نہ ہو ،تو اُس کی عبادتوں کا حسین تاج محل کبھی بھی زمیں بوس ہوسکتاہے،اور وہ خودہلاک ہوکر جہنم رسید ہوسکتاہے ۔