دھوکہ دہی کی مذمت

دھوکہ دہی کی مذمت

رئیس احمد اشرفی 
 
آج دھوکہ دہی لوگوں کے درمیان ایک عام سی چیز بن گئی ہے، جب کہ اسلام میں یہ حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ اس میں دنیاوی اور اخروی دونوں طرح کے نقصان ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے:
 يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ۔(البقرہ:۹)
 وہ اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر در اصل وہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں لیکن وہ سمجھتے نہیں ۔  
یخادعون ’’خدع‘‘ سے مشتق ہے جس کا لغوی معنیٰ چھپانا اور اصطلاحی معنیٰ دھوکہ دینا ہے۔ امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: معناہ: یخادعون رسول اللہ کما قال یؤذون اللہ ای اولیااللہ۔ اس کے معنیٰ ہیں وہ رسول اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا : بے شک وہ اللہ کو اذیت دیتے ہیں، اس سے مراد اولیا ہیں، یعنی اللہ کے محبوب بندوں کو اذیت دیتے ہیں۔ امام نسفی نے تفسیر مدارک میں ایک لطیف بات کہی ہے، فرماتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نسبت منافقین کی مخادعت کو اپنی مخادعت قرار دے کر آپ کا درجہ اور قدر ومنزلت بلند فرمادیاہے۔ یہ آیت اسی طرح ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محبوب بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں در حقیقت وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔(تفسیر نسفی، تحت آیت مذکورہ بالا)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے: 
اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلیٰ صُبْرَۃِ طَعَامٍ فَاَدْخَلَ یَدَہٗ فِیْھَا، فَنَالَتْ اَصَابِعُہٗ بَلَلاً فَقَالَ: مَا ہٰذَا یَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟ قَالَ اَصَابَتْہُ السَّمَائُ یَارَسُوْلَ اللہِ۔ قَالَ: اَفَلاَ جَعَلْتَہٗ فَوْقَ الطَّعَامِ کَیْ یَراہُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنِّی۔ (مسلم، باب قول النبی ﷺ من غشنا فلیس منا)
 ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایک غلے کے پاس سے گزر ہوا ۔ آپ نے اپنا ہاتھ اس غلے میں داخل کیا تو ہاتھ میں تری پائی۔ آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم! آسمان سے بارش ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا: اسے اوپر کیوں نہ کیا کہ لوگ اسے دیکھ لیتے، جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ 
 قرآن وحدیث میں اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دھوکہ دینے کی سخت مذمت کی ہے ۔آج کے دور میں لوگ دوسروں کے خلاف سازش اور مخفی منصوبہ بندی میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ اس ترقی کے دور میں کسی کی مخالفت کرتے ہیں تو چھپے انداز میں۔ یہ دھوکہ بازی لوگوں کی طبیعتوں میں اتنی تیزی کے ساتھ عام ہوتی جارہی ہے کہ ان کا پورا کرداروعمل اسی سے عبارت ہوکر رہ گیا ہے۔اس بلا میں گرفتار ہونے کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات اور نبوی ارشادات پر عمل کے حوالے سے ہم کوسوں دور ہیں۔ اگر قرآن وحدیث پر ہمارا ایمان کامل ہوتا تو اس طرح کی ذلیل حرکت ہم سے ہرگز صادر نہ ہوتی۔ 
 دھوکہ دینا کئی طرح سے ہوتا ہے۔
 (۱) اللہ عز وجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے احکام کی بجا آوری نہ کرنا۔ 
(۲) والدین اور عزیز واقارب کو دھوکہ دینا 
(۳) خود کو اور اپنے دوستوں کو دھوکہ دینا
 (۴) کارو بار اور منفعت کے لیے دھوکہ دہی کرنا۔
 اسلام نے ان تمام صورتوں سے منع کیا ہے۔ ہمارے لیےلازم ہے کہ ہم قرآن وحدیث کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تاکہ دونوں جہاں میں سرخرو اور تابناک ہوسکیں۔

 

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.