ماں باپ بڑی نعمت ہیں

ماں باپ بڑی نعمت ہیں

محمد ساجد سعیدی مصباحی  حسین
 

اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ اس نے انسان کو دنیا کی بہترین نعمتوں سے سرفراز فرمایاہے، ساتھ ہی ساتھ اسے مخلوق میں افضل و احسن بنایا ہے۔اگر انسان اس کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہے تو شمار نہیں کر سکتا۔ ان ہی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت والدین بھی ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے محبت و شفقت کی شکل میں عنایت فرمایاہے۔ یہی نہیں بلکہ انھیں اولاد کا ایک اہم ذریعہ بھی بنایا ہے۔
والدین کی طرح مشفق اور مہربان انسان دنیا میں ملنا کافی مشکل ہے ۔ والدین کی محبت و شفقت بچپن سے لے کر جوانی تک بلکہ تا حیات باقی رہتی ہے۔ یہ والدین ہی ہیں جو اپنی اولاد کو کسی پریشانی میں دیکھتے ہیں تو ان کا کلیجہ دہل جاتاہے اور اپنی اولادکو پریشانی سے چھٹکارا دلانے کے لیے اپنی جان و مال تک قربان کر دیتے ہیں،پھر انسان اپنے والدین کی فرمانبرداری کیوں نہ کرے؟
اللہ تبارک و تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی سخت تاکید فرمائی کہ: اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، ان سے اچھا برتاؤ کرواور ان کی فرمانبرداری کرو۔
اس لیے انسان کو چاہیے کہ والدین کی فرمانبرداری اور ان کی خوشنودی حاصل کرکے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرے۔ چونکہ جس انسان پر والدین کا سایہ رحمت بن کر رہتا ہے تو وہ انسان، اس کے ذریعے دنیا کے مشکل سے مشکل کاموں کو حل کرنے کی صلاحیت اپنے اندر پاتاہے اور دنیااسے عزت کی نظرسے دیکھتی ہے ۔ چنانچہ جو شخص اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا ہے،ایسے خوش نصیب انسان کے لیے جن و انسان تو کیا فرشتے بھی دعا کرتے ہیں اور فریاد کرتے ہیں کہ اے مولیٰ! اس شخص پر رحمت نازل فرما جیسا کہ اس نے اپنے والدین پر رحم کیا اور ان کی خدمت کی۔
اللہ رب العزت نے قرآن مقدس کے پندرہویں پارے میں ارشاد فرمایا کہ :
تمھارے رب نے حکم دیا کہ اس کے علاوہ کسی کو نہ پوجو اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں اُف تک نہ کہو۔
مگر افسوس ہے ان اولاد پر جو والدین کے ساتھ اچھے برتاؤ کی بجائے انھیں گھر سے نکالنا ، تکلیفیں دینا اوران کے ساتھ دیگر غیر اخلاقی باتوں کا مظاہرہ کرنا اپنا معمول بنا لیا ہے۔ ایسی اولاد کو اس آیت مبارکہ سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ جب اللہ رب العزت نے ’’اُف‘‘ تک کہنے کی اجازت نہیں دی ہے اور بڑی سختی سے روکا ہے تو پھر والدین کے ساتھ بدسلوکی کو وہ کیسے برداشت کرے گا۔ ایسا کرنے والے نہ صرف دنیا میں ذلیل و رسوا ہوتے ہیں بلکہ ان کے لیے آخرت میں بھی ہلاکت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ والدین کی نافرمانی سے بچو، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انھیں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ دو۔ جو والدین کی عظمت کی دلیل ہے۔
والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے ان کو تکلیف پہنچے اور اپنی جان و مال ہر طرح سے ان کی خدمت کی جائے۔ حدیث شریف میں بھی والدین کے ساتھ اچھے برتاؤ کی بہت تاکید آئی ہے،چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے والدین کو ستائے گا وہ جنت کی بو نہیں پائے گا۔
اس سے پتہ چلا کہ جو شخص والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے گا وہ جنت کی خوشبو سے محروم نہ رہے گا۔ ایک اور حدیث شریف ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی:
یا رسول اللہ! والدین ہمارے لیے کیا ہیں؟
تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے لیے جنت بھی ہیں اور دوزخ بھی، یعنی اگر تم نے اپنی زندگی میں انھیں کوئی تکلیف نہ دی، ان کی ہر حاجت پوری کی اور ان کو خوش اس لیے رکھاکہ اللہ اور رسول کی خوشنودی حاصل ہو جائے تو وہ تمہارے لیے جنت ہیں اور اگر تم نے انھیں اپنی زندگی میں تکلیف دی، ان کی خدمت نہ کی اور ان سے جدا ہو کر لوگوں سے میل جول رکھا تو جان لوکہ وہ تمہارے لیے جنت کے بجائے جہنم ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو والدین کی نافرمانی سے بچائے اور تا حیات ان کی دل جوئی کی توفیق بخشے۔(آمین)

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.