حدیث نمبر :259

روایت ہے حضرت زیاد ابن حدیرسے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا جانتے ہو کہ اسلام کو کیا چیز ڈھاتی ہے۲؎ میں نے کہا نہیں فرمایا اسلام کو عالِم کی لغزش منافق کا قرآن میں جھگڑنا اور گمراہ کن سرداروں کی حکومت تباہ کرے گی ۳؎(دارمی)

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابومغیرہ ہے،قبیلہ بنی اسد سے ہیں،کوفہ کے رہنے والے ہیں،تابعی ہیں،حضرت عمر وعلی سے احادیث لیں۔

۲؎ یعنی اسلام کی عزت لوگوں کے دل سے دورکرتی ہے۔

۳؎ یعنی جب علماء آرام طلبی کی بنا پرکوتاہیاں شروع کردیں،مسائل کی تحقیق میں کوشش نہ کریں،اور غلط مسئلے بیان کریں،بے دین علماءکی شکل میں نمودار ہوجائیں،بدعتوں کو سنتیں قرار دیں،قرآن کریم کو اپنی رائے کے مطابق بنائیں،اور گمراہ لوگوں کے حاکم بنیں اور لوگوں کواپنی اطاعت پر مجبور کریں تب اسلام کی ہیبت دلوں سے نکل جائے گی جیسا آج ہورہا ہے۔بعض نے فرمایا کہ عالم کی لغزش سے مراد ان کا فسق و فجورمیں مبتلا ہوجانا ہے عالم کا عمل بھی تبلیغ ہونا چاہیئے۔