سیدنا غوث اعظم رضی اللہ ٰ تعالیٰ عنہ کے اقوال زرِّین

(۱) محبت دنیاکے علاوہ اگر ہمارااور کوئی گناہ نہ بھی ہو پھر بھی ہم دوزخ کے حقدار ہیں ۔

(۲) رہنے کے لئے مکان ، پہننے کے لئے لباس اور پیٹ بھرنے کے لئے روٹی اور بیوی دنیا داری نہیں دنیا داری یہ ہے کہ دنیا ہی کی طرف منھ ہو اور اللہ کی طرف پیٹھ ۔

(۳) دنیا دار دنیا کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور دنیا اہل اللہ پیچھے ۔

(۴) مخلوق تین طرح کی ہیں فرشتہ ، شیطان اور انسان ۔فرشتہ خیر ہی خیر ہے اور شیطا ن شر ہی شر ہے انسان مخلوط ہے جس میں خیرو شر دونوں ہیں ،جس پر خیر کاغلبہ ہو تا ہے وہ فرشتوں میں مل جاتاہے اور جس پر شر کا غلبہ ہو وہ شیطان سے ۔

(۵) مو من اپنے اہل و عیال کو اللہ پر چھوڑتا ہے اور منافق زرومال پر ۔

(۶) اپنی مصیبت کو چھپائو اللہ تعالی کی قربت نصیب ہو گی ۔

(۷) ذکر جب قلب میں جگہ بنا لیتا ہے تو بندہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں دائمی مشغول ہو جا تا ہے ۔ چاہے اس کی زبان خاموش ہو ۔

(۸) تنہائی میں خامو ش رہنا بہادری نہیں ۔ مجلس میں خاموش رہنے کی کوشش کرو ۔

(۹) بہترین عمل ، لوگو ں کو دینا ہے لوگو ں سے لینا نہیں ۔

(۱۰) لو گو ں کے سامنے معززبنے رہو اگر اپنا افلاس ظاہر کروگے تو لو گوں کی نگا ہوں سے گر جائو گے ۔

(۱۱) میانہ روی نصف رزق ہے اور اچھے اخلاق نصف دین ۔

(۱۲) وہ انسان کتنا کم نصیب ہے جس کے دل میں جانداروں پر رحم کی عادت نہیں ۔

(۱۳) تیرے سب سے بڑے دشمن تیرے برے ہم نشین ہیں ۔

(۱۴) تمام اچھائیو ں کا مجموعہ عمل سیکھنا ، عمل کرنا ، اور دوسروں کو سکھانا ہے ۔

(۱۵) جو اللہ تعالیٰ سے آشنا ہوا اس نے خلق ِ خدا کے ساتھ تواضع کا برتائو کیا

(۱۶) جب عمل میں تجھے حلاوت نہ ملے یوں سمجھ تونے اسے کیا ہی نہیں ۔

(۱۷)جب تک تیرا اِتْرا نا اور غصہ کرنا باقی ہے خود کو اہل ِعلم میں شمار نہ کر۔

(۱۸) ظالم اپنے ظلم سے مظلوم کی دنیا خراب کرتا ہے اور اپنی آخرت ۔

(۱۹) عقل مند پہلے قلب سے مشورہ کرتا ہے پھر زبان سے بولتا ہے ۔

(۲۰) اس بات کی کوشش کر کہ گفتگو کا آغاز تیری جانب سے نہ ہو تو صرف جواب دینے والا رہے ۔

(۲۱) جسے کوئی ایذا نہ پہو نچے اس میں کوئی خوبی نہیں ہے ۔

(۲۲) بے ادب خالق و مخلوق دونوںکامعتوب و مغضوب ہے ۔

(۲۳) مستحق سائل اللہ تعالیٰ کا ہدیہ ہے جو بندے کی طرف بھیجا جا تا ہے ۔

(۲۴) تو نفس کی تمنا پوری کرنے میں لگا ہے اور نفس تجھے برباد کرنے میں ۔

(۲۵) جو نفس کو درست کرنا چاہے وہ اسے سکوت اور حسن ِادب کی لگام دے ۔

(۲۶) میں ایسے مشائخ کی صحبت میں رہا ہوں کہ ان میں سے کسی ایک کے دانت کی سفیدی بھی نہیں دیکھی ۔

(۲۷) بد گمانی تمام فائدوں کے راستے کو بند کردیتی ہے ۔

(۲۸)علم کا تقاضہ عمل ہے اگر تم علم پر عمل کرتے تو دنیا سے بھاگتے کیونکہ علم میں کوئی چیز نہیں جو حبّ ِ دنیا پر دلالت کرے۔

(۲۹) اہل اللہ کے نزدیک مخلوق کی حیثیت اولاد جیسی ہے ۔