بہائی فرقے کے عقائد ونظریات

بہائی فرقے کے عقائد ونظریات

بہائی فرقہ کیونکر عالم وجود میں آیا}

بہائی فرقہ نے شیعہ اثنا عشریہ سے جنم لیا ۔

بہائی فرقہ کا بانی مرزا علی محمد شیرازی ۱۲۵۲؁ھ مطابق ۱۸۲۰؁ ء ایران میں پیدا ہوا یہ اثنا عشری شیعہ سے تعلق رکھتا تھا مگر اثنا عشریوں کی حدود سے تجاویز کرگیا ۔اس نے اسماعیل فرقہ کے عقائد باطلہ اور فرقہ سبئہ حلول کا ایک معجون مرّکب تیارکیا جسے اسلامی عقائد سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا ۔

یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ امام مستور کا عقیدہ اثنا عشری شیعہ کے اساسی عقائد میں سے ہے ۔

ان کے عقیدہ کے مطابق بارہواں امام ’’سُرّمن رائی ‘‘کے شہر میں غائب ہوگیاتھااور ابھی تک وہ اسکے منتظر ہیں ۔مرزا علی محمد بھی دیگر اثنا عشریہ کی طرح یہی عقیدہ رکھتا تھا ۔اکثر اہل فارس جن میں یہ نوجوان (مرزا علی محمد )پروان چڑھا ۔اسی نظریہ کے حامل تھے اس نے اثنا عشری فرقہ کی حمایت میں بڑی غیر ت کا ثبوت دیا ۔جس کے نتیجہ میں یہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔فن نفسیات سے اسے گہرا لگاؤ تھا یہ فلسفیایہ نظریات کے درس ومطالعہ میںبھی لگار ہتا ۔لوگوں کی حوصلہ افزائی کے صلہ میں مرزا علی محمد نے یہ دعویٰ کردیا کہ وہ امامِ مستور کے علوم وفنون کا واحد عالمِ بے بدل ہے اور اس کی طرف رخ کئے بغیر وہ علوم نہیں کیے جاسکتے اس لیے کہ شیعہ فرقہ کے قول کے مطابق دیگر ائمہ اثنا عشریہ کی طرح امام ِ مستورائمہ سابقین کی وصیت کی بناء پر قابل اتباع علوم کا جامع اور مصدر ہدایت ومعرفت ہوتاہے ۔

اس مفروضہ کی بناء پر کہ مرز ا علی ائمہ سابقین کے علوم کا حامل ہے اسے محبت سمجھاجانے لگا اور بلا چون وچرا ا س کی اطاعت کی جانے لگی ۔ایک کامل امام کی حیثیت حاصل ہوجانے پر مرزا علی محمد ایک متبوع عام قرار پائے اور بلا استثناء انکے جملہ اقوال کو قبولیت عامہ حاصل ہوئی ۔

کچھ عرصہ گزارنے پر علی محمد غلّو سے کام لینے لگا اور اس نظریہ کو مطلقاًنظر انداز کر دیا کہ وہ امام مستور کے علوم کا نا قل ہے ۔اس نے مستقل مہدی ہونے کا دعویٰ کردیا جن کا ظہور غیو بت امام کے ایک ہزار سال بعد ہونے والا تھا ۔امام غائب ۲۶۰؁ھ میں نظروں سے اوجھل ہوئے تھے ۔مرزا نے اس سے بڑھ کر یہ دعویٰ بھی واغ دیا کہ ذاتِ خداوندی اس میں حلول کر آئی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے توسط مخلوقات کے سامنے جلوہ افروز ہوتے ہیں ۔اس نے یہ بھی کہا کہ آخری زمانہ میں موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام کا ظہور اسکے ذریعہ ہوگا ۔اس نے نزول عیسیٰ کے عام عقیدہ سے تجاوز کرکے اس پر رجوع موسیٰ کا اضافہ کیا اور کہنے لگاکہ ان دونوں انبیاء کا ظہور اس کے توسط ہوگا ۔

مرزا علی محمد کی شخصیت میں اتنی جاذبیت پائی جاتی تھی کہ لوگ اسکے بلند بانگ دعاوی کو بلاچون و چرامان لیتے تھے ۔مگر علماء نے امامیہ ہوں یا خبر امامیہ یک زبان پر اسکے خلاف آواز بلند کی ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اسکے مزعومات ود عاوی قرآن کے پیش کردہ حقائق و عقائد کے سراسر منافی تھے ۔مرزا نے علماء کی مخالفت کی پرواہ نہ کی بلکہ انہیں منافق لالچی اور تملق پسند کہہ کر لوگوں کو ان سے متنفر کرنے لگا ۔

باتیں ہمہ لوگ اس کی باتوں کر سنتے اور بلا حجت وبربان اس کی پیروی کاد م بھرتے رہے ۔

بانی بہائیت کے عقائد و اعمال }

ان دعا وی باطلہ کے بعد مرزا علی محمد چند عقائد و اعمال کا اعلان کرنے لگا ۔ہم ذیل میں وہ امور ذکر کرتے ہیں ۔اعتقادی امور یہ تھے ۔

۱)…مرزا علی محمد روز آخرت اور بعد ازحساب دخولِ جنت و جہنم پر ایمان نہیں رکھتا تھا ۔اس کا دعویٰ تھاکہ روز آخرت سے ایک جدید روحانی زندگی کی جانب اشارہ کرنا مقصود ہے ۔

۲)…وہ بالفعل ذاتِ خداوندی کے اس میں حلول کر آنے پر اعتقادر رکھتا تھا ۔

۳)…رسالت محمد ی اس کے نزدیک آخری رسالت نہ تھی ۔وہ کہتا تھاکہ ذاتِ باری مجھ میں حال ہے اور میرے بعد آنے والوں میں بھی حلول کرتی رہے گی ۔گویا حلول الو ہیت کو وہ اپنے لیے مخصوص نہیں ٹھہراتا تھا ۔

۴)…وہ کچھ مرکب حروف ذکر کرکے ہر حرف کے عدد نکالتا اور اعداد کے مجموعہ سے عجیب و غریب نتائج اخذ کرتاتھا ۔وہ ہندسوں کی تاثیر کا قائل تھا ۔انیس کا ہند سہ اس کے نزدیک خصوصی مرتبہ کا حامل تھا ۔

۵)…اس کا دعویٰ تھاکہ وہ تمام انبیاء سابقین کی نمائندگی کرتاہے ۔وہ مجموعہ رسالت ہے اور اس اعتبار سے مجموعہ ادیان بھی ۔

بنا بریں بہائی فرقہ یہو دیت نصرانیت اور اسلام کا معجونِ مرکب ہے اور ان میں کوئی حدِ فاصل نہیں پائی جاتی ۔

مرزا اسلامی احکام میں تبدیلی پیدا کر کے عجیب و غریب قسم کے عملی امور مرتب کیے تھے ۔وہ عملی امور حسب ذیل ہیں ۔

۱)…عورت میراث کے امور میں مر دکے برابر ہے ۔یہ آیت قرآنی کا صریح انکار ہے جو موجب کفر ہے ۔

۲)… وہ بنی نوع انسان کی مساوات مطلقہ کا قائل تھا ۔اس کی نگاہ میں جنس و نسل دین و مذہب اور جسمانی رنگت موجب امتیاز نہیں ہے یہ بات اسلامی حقائق سے میل کھاتی ہے اور ان کے منافی نہیں ۔

علی محمد باب کے اتباع و تلا مذہ }

یہ اذکار وارا ء مرزا نے اپنی تحریر کردہ تصانیف میں جمع کردئیے تھے ۔جس کا نام البیان ہے ۔ بحیثیت مجموعی ان کے جملہ اذکار عقائد اسلام سے اعراض و انحراف بلکہ انکار پر مبنی تھے ۔اس نے حلول کے نظریہ کو از سر نو زندہ کیا۔جسے عبداللہ بن سبانے حضرت علی کے لیے گھڑا تھا اور جو صریح کفر ہے ۔انہی وجوہات کے پیش نظر حکومت اس کے خلاف ہوگئی اور مرزا علی محمد اور اسکے اتباع کو ادھر اُدھر بھگا دیا ۔مرزا ۱۸۵۰؁میں صرف تیس سال کی عمر میں راہی ملک عدم ہوا ۔

مرزا علی نے اپنی نیابت کیلئے اپنے دو مر یدان باصفا کو منتخب کیا تھا ۔ایک صبح ازل نامی اور دوسرا بہاء اللہ ۔ان دونوں کو فارس سے نکال دیا گیا تھا ۔صبح ازل قبرص میں سکونت پذیر ہوا اور بہاء اللہ نے آدر نہ کو اپنا مسکن ٹھہرا یا ۔صبح ازل کے پیر و بہت کم تھے ۔اس کے مقابلہ میں بہاء اللہ کا حلقہ ارادت خاصا وسیع تھا ۔بعد ازاں اس مذہب کو بہاء اللہ کی طرف منسوب کرکے بہائی کہنے لگے اس فرقہ کو بانی مو سِسّ کی جانب منسوب کرکے بابی بھی کہاجاتاہے ۔مرزا علی محمد نے اپنے لیے ’’باب ‘‘کا لقب تجویز کیا تھا ۔

صبح ازل اور بہاء اللہ میں نقطہ اختلاف یہ تھا کہ اول الذ کر بابی و بہائی مذہب کو اسی طرح چھوڑ دینا چاہتاتھا جیسے اس کے بانی نے اسے منظم کیا تھا ۔اس کا کا م صرف تبلیغ و اشاعت تھا ۔بخلاف ازیں بہاء اللہ نے مرزا کی طرح بہت سی اختراعات کیں ۔وہ بھی مرزا کی طرح حلول کا قائل تھااور اپنے آپ کو مظہر الوہیت قرار دیتا تھا ۔

وہ کہا کرتاتھا کہ مرزا علی محمد نے میرے متعلق بشارت دی تھی ۔مرزا کا وجود میرے لیے تمہید کا حکم رکھتا تھا جس طرح نصاریٰ کی نظر میں حضرت یحییٰ علیہ السلام ظہور مسیح کا پیش خیمہ تھا ۔

مشہور مستشرق گولڈزیہرا پنی کتاب ’’العقیدہ والشر یعہ ‘‘میں لکھتے ہیں اللہ کی شخصیت میں روح الہٰی کا ظہور ہوا تاکہ اس عظیم کام کی تکمیل کی جائے ۔جیسے بہائیت کا بانی تشنہ تکمیل چھوڑ گیا تھا ۔بنا بریں بہاء اللہ کا منصب دمقام باب کی نسبت رفیع تر ہے اس لیے کہ باب بہاء اللہ کی ذات سے قائم ہے اور بہاء اللہ اس کو قائم رکھنے والا ہے بہاء اللہ اپنے آپ کو ذاتِ الہٰی کا مظہر قرار دیتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ وہ ذات باری کے حسن و جمال کا جلوہ گاہ ہے اور اسکے محاسن شیشہ کی طرح ذات بہاء اللہ میں ضوفشاں ہیں ۔بہاء اللہ کی شخصیت بذات خود وہ جمال اللہ ،ہے جو ارض و کھما دات میں یو ں تاباں و درخشاں ہے جیسے عمدہ قسم کے پتھر کو پالش کیا جائے تو وہ تابانی کے جوہر دکھاتا ہے ۔بہاء اللہ وہ عظیم شخصیت ہے جس کا ظہور اس جوہر (مرزا علی محمد )سے ہوا ۔اس جو ہر کی معرفت بہاء اللہ کے بغیر حاصل نہیں کی جاسکتی ۔بہاء اللہ کے پیر واسے فوق البشر تصور کرتے اور اسے اکثر صفات الہٰی کا مجموعہ قرار دیتے تھے ۔(العقیدۃ والشریعۃ ص ۲۴۴ترجمہ محمد یوسف عبدالعزیز عبدالحق دعلی حسن عبدالقادر )

بہاء اللہ کے افکار و عقائد }

جس طرح عوام کا لا نعام شخص پرستی کے عادی ہوتے ہیں ۔اسی طرح بہاء اللہ کے پیرد بھی اسی جرم کے مرتکب تھے ۔بعد ازاں بہاء اللہ اور صبح ازل کے اختلافات کی خلیج و سیع تر ہوتی چلی گئی ۔یہ دونوں قریب قریب رہتے تھے ۔ایک آدرنہ میں قیام پذیر تھا اور دوسرا اور دوسرا قبرص میں ۔چنانچہ دولت ترکیہ نے بہاء اللہ کو عکا کی طرف ملک بد ر کردیا جہاں اس نے اپنے مشترکا نہ عقائد کو مد تون کرنے کا بیڑا اٹھا یا ۔اس نے قرآن کریم کے خلاف بہت کچھ لکھا اور اپنے استاد کی مرتب کردہ کتاب البیان کی تردید پر قلم اٹھا یا ۔بہاء اللہ نے عربی و فارسی دونوں زبانوں کو تعبیر و بیان کا ذریعہ بنایا ۔اس کی مشہور ترین تصنیف ’’الاقدس ‘‘ہے جس کے متعلق اس کا دعویٰ تھاکہ وہ وحی الہٰی پر مبنی اور ذاتِ خداوندی کی طرح قدیم ہے ۔وہ اعلانیہ کہا کرتا تھا کہ اس کی تصنیفات جملہ علوم کی جامع نہیں بلکہ اس نے بہت سے علوم کو اپنے برگزیدہ اصحاب کے لئے الگ محفوظ کر رکھا ہے ۔اس لیے کہ دوسرے لوگ ان باطنی علوم کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔

بہاء اللہ کا دعویٰ تھاکہ جس مذہب کی وہ دعوت دے رہا ہے وہ اسلام سے الگ ایک جدا گانہ مسلک کی حیثیت رکھتا ہے ۔یہ بات بہاء اللہ اور اس کے استاد میں مابہ الامتیاز ہے ۔اس کے استادمرزا علی محمد کا دعویٰ تھاکہ وہ اپنے افکار سے اسلام کی تجدید و احیاء کررہاہے اور وہ اسلام کے دائرہ سے خارج نہیں ہے ۔وہ بز عم خود اسلام کو ایک جدید مذہب قرار دیتا تھا اور اسکی اصلاح کا مدعی تھا ۔

بخلاف ازیں بہاء اللہ اپنے مذہب کو دین اسلام سے ایک الگ مذہب تصور کرتا تھا ۔یہ کہہ کر اس نے دین اسلام پر بڑا احسان کیا اور اسے اپنے مزعومات باطلہ کی آلودگی سے پاک رکھا ۔بہاء اللہ اپنے مذہب کو بین الاقوامی حیثیت دیتا اور اس بات کا دعویٰ دار تھا کہ یہ مذہب جمیع ادیان و مذاہب کا جامع اور سب اقوام کے لیے یکساں حیثیت رکھتا ہے ۔وہ وطن پرستی کے خلاف تھا اور کہا کرتا تھا کہ زمین سب کی ہے اور وطن سب کا ہے ۔

چونکہ بہاء اللہ اپنے مذہب کو بین الاقوامی مذہب سمجھتا اور مظہر الہٰی ہونے کا دعویٰ دار تھا ۔اس لیے اس نے مشرق و مغرب کے سلاطین و حکام کو تبلیغی خطوط ارسال کیے اور ان میں یہ دعویٰ کیا کہ ذات الہٰی اس میں حلول کرآتی ہے وہ قرآنی اجزاء کی طرح اپنی تحریر وں کو سور (سورٹ کی جمع )کہا کرتا تھا ۔ اسے غیب دانی کا بھی دعویٰ تھا ۔وہ مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والی پیش گوئیاں بھی کیا کرتا تھا ۔ اتفاق سے بعض باتیں درست ثابت ہوجاتیں مثلاً اس نے پیش گوئی کی تھی کہ نیو لین سوم کی حکومت ختم ہوجائے گی ۔چنانچہ چار سال کے بعد یہ پیشنگوئی پوری ہوگئی ۔اس پیشنگوئی کے ظہور سے اس کے پیر ؤں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ۔بہاء اللہ نے ہوشیاری سے کام لے کر زوال حکومت کی کوئی تاریخ متعیّن نہیں کی تھی ۔ممکن ہے اس نے سیاسی بصیرت کی بناء پر یہ بھانپ لیا ہوکہ یہ حکومت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی ۔مگر یہ دعویٰ کسی شخص نے بھی نہیں کیا کہ بہاء اللہ کی سب پیشگوئیاں حرف بحرف صحیح ثابت ہوئیں ۔یہاں تک کہ اس کے بڑے سرگرم پیرو کار بھی یہ دعویٰ نہ کرسکے ۔

بہاء اللہ اپنی دعوت کوپھیلانے کیلئے اپنے اتباع کو تر غیب دلایا کرتا تھا کہ وہ دوسری زبانیں سیکھیں ۔

بہاء اللہ کی دعوت کے خصوصی خدوخال }

بہاء اللہ کی دعوت کے خصوصی نکات یہ تھے

۱۔بہاء اللہ نے تمام اسلامی قواعد و ضو ابط کو ترک کردیا تھا ۔بنا بریں اس کا مذہب اسلام سے قطعی طور پر بے تعلق تھا ۔یہ بات بہاء اللہ اور اسکے استاد مرزا علی محمد میں مابہ الا متیاز ہے ۔

۲۔وہ انسانوں کے رنگ و نسل اور ادیان و مذاہب کے اعتبار سے مختلف ہونے کے باوجود ان کی مساوات کا قائل تھا ۔مساوات بنی آدم کا نظریہ اس کی تعلیمات میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا ۔تعصّب و اختلافات سے پُر کائنات عالم میں بہاء اللہ کا یہ نظر یہ بڑا جاذب نظر تھا ۔

۳۔بہاء اللہ نے عائلی نظام مرتب کیا اور اس میں اسلام کے بنیادی قوانین کی خلاف ورزی کی ۔

چنانچہ وہ نعد وا زواج سے ردکتا تھا اور شاذ و نادر حالات میں اس کی اجازت دیتا تھا ۔بصورت اجازت بھی وہ دو بیویوں سے تجاویز نہیںکرنے دیتا تھا۔طلاق کی اجازت دہ ناگزیر حالات میں دیتا تھا ۔اس کے یہاں مطلقہ کے لیے کوئی عدت مقرر نہ تھی بلکہ طلاق کے بعد وہ فی الفور نکاح کر سکتی تھی ۔

۴۔نماز با جماعت منسوخ کردی ۔صرف نماز جنازہ میں جماعت کی اجازت تھی ۔

۵۔وہ خانہ کعبہ کو قبلہ قرار نہیں دیتا تھا بلکہ اس کا اپنا سکو نتی مکان قبلہ کی حیثیت رکھتا تھا ۔چونکہ وہ حلول باری تعالیٰ کا عقیدہ رکھتا تھالہٰذا قبلہ وہی جگہ ہونی چاہئیے ۔جہاں خدا کی ذات حال ہو اور وہ بزعم خویش بہاء اللہ کا مکان تھا ۔جب بہاء اللہ اپنی سکونت تبدیل کرلیتا تو بہائی بھی اپنا قبلہ تبدیل کرلیا کرتے تھے ۔

۶۔بہاء اللہ نے اسلام کی پیش کردہ طہارت جسمانی ورو حانی کو بحال رکھا تھا بنا بریں وہ وضو اور غسل جنابت کا قائل تھا ۔

۷۔بہاء اللہ نے حلا ل و حرام سے متعلق جملہ احکام اسلامی کو نظر انداز کردیا اور اس ضمن میں عقل انسانی کو حاکم تصور کرنے لگا ۔اگر حق کی تو فیق شامل حال ہوتی تو اسے معلو م ہوتاکہ اسلام کی حلال کردہ اشیاء عقل کے نزدیک بھی حلال ہیں اور محرمات کے حق میں عقل بھی حرمت کا فیصلہ صادر کرتی ہے ۔اس ضمن میں ایک اعرابی کا واقعہ ذکر کرنے کے قابل ہے ۔اس سے جب پوچھا گیا کہ تم محمد ﷺپر کیوں کر ایمان لائے ۔

اس نے جواباًکہا میں نے کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جس میں محمد ﷺاس کو انجام دینے کا حکم صادر کریں اور عقلِ انسانی کہے کہ ایسا نہ کر ۔اور نہ کوئی ایسا معاملہ میری نگاہ سے گزار کہ عقل منع کرے اور آپ وہ کام کرنے کا حکم دین اگر بہاء اللہ اس اعرابی کی بات پر غور کرتا تو حقیقت کر پالیتا ۔مگر اسکا مقصد صرف تخریب تھا ۔ظاہر ہے کہ تخریب کے لیے صرف پھاؤڑ مطلوب ہے جو ہر چیز کو تہس نہس کرکے رکھ دیتا ہے ۔

۸۔اگر چہ بہاء اللہ اور اس کا استاد مرزا علی محمد انسانی مساوات کے قائل تھے ۔مگر جمہوریت کو تسلیم نہیں کرتے تھے ۔بادشاہ کو معزول کرنا ان کے نزدیک جائز نہ تھا ۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ سلطان کو معزول کرنا ان کے نظریات سے میل نہیں کھاتا تھا ۔ان کے مذہبی نظریات کی اساس یہ تھی کہ ذاتِ باری انسانوں میں حلول کر آتی ہے ۔ظاہر ہے کہ اندریں صورت انسانوں کی تقدیس کا قائل ہونا پڑتا ہے ۔اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ذات ان میں حال نہ بھی ہو اس لیے کہ ان میں حلول کا امکان ہوتا ہے ۔ بنا بریں تقدیس سلاطین کا نظریہ ان کی عقل و منطق کے ساتھ ہم آہنگ تھا ۔

تقدیس سلطان کے باوجود بہاء اللہ علماء کی فضیلت و عظمت کو تسلیم نہیں کرتا تھا بلکہ اس کا استاد مرزا علی محمد ان علماء کے خلاف جنگ آزمار ہا جو اس کے نظریات کا ابطال کرتے تھے ۔اسی طرح بہاء اللہ بھی علمی اجارہ داری کے خلاف معرکہ آرا ء رہا ۔خواہ وہ مسلمانوں میں پائی جاتی ہو یا یہود و نصاریٰ میں ۔

بہاء اللہ کا جانشین عباس آفندی }

۹۔بہاء اللہ کا اقتدار ۱۶مئی ۱۸۹۲؁ کو اس کی موت کے ساتھ ختم ہوگیا ۔اس کے بعد اس کا بیٹا عباس آفندی جسے عبدالبہار یا غصنِ اعظم (بڑی شاخ )بھی کہتے تھے اس کانائب قرار پایا ۔چونکہ سب عقیدت مند بہاء اللہ سے خلوص رکھتے تھے اس لیے کوئی بھی بہاء اللہ کا خلیفہ بننے میں اس کا مزاحم نہ ہوا ۔عباس آفندی مغربی تہذیب و تمدن سے پوری طرح باخبر تھا ۔اس لیے اسنے اپنے والد کے افکار کو مغربی طریقِ فکر و نظر میں ڈھال دیا ۔اسنے حلول کے عقیدہ کو اپنے مذہب سے خارج کردیا ۔

مغربی تہذیب و ثقافت کے زیر اثر اس نے یہود و نصاریٰ کی مقدس کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کیا ۔

(بہائی مذہب کی تدریجی ترقی کی داستان بڑی عجیب ہے )اس مذہب کے اولین بانی نے اسلام کی تجدید و اصلاح کے نام سے ا سکی تعلیمات کا بیڑا اٹھا یا تھا ۔جب اسکا نائب بہاء اللہ مسند نشین اقتدار ہوا تو اس نے جملہ تعلیمات اسلامی کا انکار کرکے اپنے استاد کے مشن کی تکمیل کردی ۔جب تیسرے گدی نشین نے مسند سنبھالی تو اسنے اصولِ اسلامی کے انکار پرہی بس نہ کی بلکہ قرآن کریم کی بجائے کتب یہود و نصاری کی جانب متوجہ ہوا اور ان سے اخذوہ استفادہ کرنے لگا ۔

یہود نصاریٰ میں بہا ئیت کی اشا عت }

۱۰۔اسی کے زیر اثر یہ مذہب یہود و نصاریٰ اور مجوس میں پھیلنے لگا اور ان مذاہب کے لوگ جو ق درجوق بہا ئیت میں داخل ہونے لگے ۔دوسری وجہ یہ تھی کہ جب عباس آفندی اور اس کا والد بہاء اللہ مسلمانوں سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے اپنی توجہ دیگر مذاہب والوں کی طرف منعطف کرنا شروع کی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرزمین فارس اور اس کے قریب وجوار میں یہود و نصاریٰ کثرت سے بہائیت کے حلقہ بگوش ہوگئے انہوں نے بلا و تر کستان میں عمارتیں تعمیر کر رکھی تھیں جہاں اجلاس منعقد کیا کرتے تھے یہ مذہب یورپ و امریکہ میں بڑی تیزی سے پھیلنے لگا اور بہت سے لوگ ان کے دامِ تزویر میں پھنس گئے ۔

مشہور کتاب ’’العقیدۃ والشریعۃ ‘‘کا مصنف لکھتا ہے :

’’بہا ء اللہ نے محسوس کیا کہ یورپ و امریکہ کے بعض لوگ بڑے جوش و خروش سے بہائیت کرتے جارہے تھے ۔یہاں تک کہ عیسائیوں میں بھی ان کے حلقہ بگوش پیدا ہوگئے ۔امریکہ میں جن اوبی انجمنوں کا قیام عمل میں آیا وہ بہائیت کے اصول و ضوابط کے استحکام میں ممدو معاون ہوتی تھیں ۔امریکہ سے ۱۹۱۰ ؁ ء میں ایک مجلہ ’’نجم الغرب ‘‘نامی نکلنا شروع ہوا۔جس کے سال بھر میں انیس شمارے شائع ہوا کرتے تھے انیس کے عدد کی وجہ تخصیص یہ تھی کہ یہ ہند سہ ان کے یہاں بڑا مؤثر تھا ۔بہائی یوں بھی اعداد کی قوت تاثیر کے قائل تھے جیسا کہ ہم مرزا علی محمد کا حال بیان کرتے وقت تحریر کر آئے ہیں ‘‘۔

مصنف مذکور مزید لکھتا ہے :

’’بہائیت اضلاع متحدہ امریکہ کے دور افتادہ علاقوں میں پھیل گئی اور شکا گو میں ایک مرکز بھی قائم کر لیا ‘‘۔(العقیدۃ والشریعۃ ص ۲۵۰)

بہائی فرقہ والوں نے عیسائیوں کو ورغلانے کے لیے ان کی کتابوں سے استد لال کرنا شروع کیا اور یہ دعویٰ کھڑا کر دیا کہ عہدِ قدیم و جدید میں بہاء اللہ اور اس کے بیٹے کی بشارت موجود ہے ۔

گولڈ زیہر اس ضمن میں لکھتا ہے :

’’عباس آفندی کے ظہور سے بہائی مذہب نے تورات و انجیل سے مدد لے کر ایک نیا قالب اختیار کیا ۔ تورات و انجیل میں عباس آفندی کے ظہور کی خبر گئی تھی اور بتایا گیا تھاکہ وہ امیر و رئیس ہوگا ۔

اور عجیب و غریب القاب سے ملّقب ہوگا ۔یہ ذکر کتاب اشعیاء کے انیسویں باب کی آیت نمبر ۶ میں مذکور ہے ۔اس میں مر قوم ہے :

’’ہمارے یہاں ایک لڑکا (بہاء اللہ )پیدا ہوگا جس کے گھر میں ایک بچہ جنم لے گا ۔جو بڑا نام پائے گا ۔ اسے بڑے القاب و آداب سے یاد کیاجائے گا اور رئیس الاسلام کے نام سے پکار ا جائے گا ۔‘‘

(العقیدۃ و الشریعۃ )

قارئین آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ’’بہائی ‘‘ فرقہ باطل عقائد پر مشتمل ہے اس فرقے کے باطل عقائد میں سب سے زیادہ باطل عقیدہ یہ ہے کہ (نعوذباللہ) خدا انسان میں حلول کرتاہے ۔اس کے بعد نماز وزکوٰۃ کا انکار کرناا ور روزہ ، حج وجہاد کو ساقط قرار دینا ہے ۔

کیا یہ لوگ مسلمان کہلانے کے اوراسلام کی چاہت کادعویٰ کرنے کے حقدار ہیں؟

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.