شیعہ کے فرقے

غالی شیعہ اور ان کے فرقہ جات }

غالی شیعہ نے حضرت علی کوالوہیت کے مرتبہ پرفائز کردیاتھا ۔بعض ان کو نبی مانتے تھے اور آنحضور ﷺسے بھی افضل قرار دیتے تھے ۔اب ہم ان غالی شیعہ کا حال بیان کریں گے جو اس مبالغہ آمیزی کی بدولت دائرہ اسلام سے نکل گئے تھے اور موجودہ شیعہ ان کو اپنے میں شمار نہیں کرتے ۔ہم بھی ان کو خارج از اسلام تصور کرتے ہیں ۔

1۔فرقہ سبیئہ }

یہ عبداللہ بن سبا کے متبّع تھے ۔عبداللہ حیرہ کے رہنے والے یہود میں سے تھا ۔اس کی ماں ایک سیاہ فام باندی تھی ۔اسی لیے اسے ابن السودا ء (سیاہ فام عورت کا بیٹا )کہہ کر پکارتے تھے ۔ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ حضرت عثمان اور انکے حکام کے شدید مخالفین میں سے تھا ۔

عبداللہ بن سبا نے حضرت علی کے متعلق مسلمانوں میں اپنے شرارت آمیز اور گمراہ کن خیالات پھیلانا شروع کردیئے ۔وہ کہا کرتا تھا میں نے تو رات میں دیکھا کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے اورحضرت علی رضی اللہ عنہ محمد ﷺکے وصی تھے جس طرح نبی کریم افضل الانبیاء تھے اسی طرح حضرت علی افضل الا وصیاء تھے ۔ محمد ﷺ دوبارہ زندہ ہوکر دنیا میں تشریف لائیں گے ۔وہ کہا کرتا تھا میں حیران ہوںکہ لوگ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔مگر آنحضور ﷺ کی رجعت کو تسلیم نہیں کرتے ۔پھر رفتہ رفتہ الوہیت علی کا پر چار کرنے لگا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو اسے قتل کرنے کے درپے ہوئے ۔مگر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے روک دیا ۔اگر آپ نے اسے ختم کردیا تو آپ کے متبعین میں اختلاف پیدا ہوجائے گا ۔حالاں کہ آپ اہل شام سے جنگ لڑنے جارہے ہیں ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اُسے مدائن کی طرف ملک بدر کردیا ۔

جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شہادت پائی تو ابن سبا نے لوگوں کی حبّ علی سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور آپ کی عدم موجودگی کو نہایت الم ناک انداز میں پیش کرنے لگا ۔آپ کی موت کے بارے میں طرح طرح کی افسانہ طرازیاں شروع کیں ۔کہنے لگا حضرت علی قتل نہیں ہوئے بلکہ مقتول ایک شیطان تھا جو آپ کی صورت میں متشکل تھا ۔حضرت علی حضرت عیسیٰ کی طرح آسمان پر چڑھ گئے ہیں ۔جس طرح یہود و نصاریٰ نے جھوٹ موٹ حضرت عیسیٰ کو قتل کرنے کا دعویٰ کیاتھا اسی طرح خوارج نے قتلِ علی کا ڈھونگ رچایا ۔یہود و نصاریٰ نے ایک شخص کو مصلوب ہوتے دیکھاتھا اور اسے حضرت عیسی سمجھے ۔حضرت علی کے قتل کے دعویٰ داروں نے بھی ایک شخص کو قتل ہوتے دیکھاجو حضرت علی کا ہم شکل تھا تو انہوں نے خیال کیا یہ حضرت علی ہیں حالانکہ آپ آسمان پر تشریف لے جاچکے ہیں ۔وہ کہاکرتا تھا بادل سے جو کڑک کی آواز آتی ہے یہ حضرت علی کی آواز ہے اور بجلی آپ کی مسکراہٹ ہے ۔

اس فرقہ کے لوگ جب بادل کی آواز سنتے تو کہتے ’’السلامُ علیک یا امیر المومنین ‘‘۔

عمر بن شُر حبیل راوی ہیں کہ ابن سباء سے کہا گیا حضرت علی شہادت پا گئے ۔وہ بولا اگر تم آپ کے سر کے مغز کسی تھیلی میں بند کرکے لاؤ تو میں آپ کی موت کو تسلیم نہیں کروں گا جب تک کہ آپ آسمان سے نازل ہوکر سب دنیا کے مالک نہ بن جائیں ۔ (الفرقُ بین الفرق از عبدالقاہر بغدادی )

اس فرقہ کے بعض لوگ یہ اعتقادر رکھتے تھے کہ ذات باری تعالیٰ، حضرت علی رضی اللہ عنہ میں حلول کر آئی ہے ۔دیگر ائمہ کے بارے میں بھی وہ یہی اعتقادر رکھتے تھے ۔یہ عقیدہ بعض قدیم مذاہب سے ہم آہنگ ہے ۔جو کہتے تھے کہ خداوند تعالیٰ بعض انسانوں میں حلول کرآتے تھے ۔یہ فرقہ کے لوگ یہ اعتقادر رکھتے تھے کہ روح خداوندتعالیٰ باری باری اماموں میں داخل ہو تی ہے قدیم مصری بھی فرا عنہ کے بارے میں یہی عقیدہ رکھتے تھے ۔(معاذ اللہ)

فرقہ سبئہ کے بعض لوگ یہ اعتقادر رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مجسّم ہوکر علی کی شکل میں نازل ہوگیا ہے ۔ وہ حضرت علی کو خدا تصور کرتے تھے ۔ہم قبل ازیں بیان کرچکے ہیں کہ حضرت علی نے ان کو نذر آتش کرنے کا ارادہ کیا تھا ۔

2۔غرابیہ }

یہ بھی شیعہ کا ایک غالی فرقہ ہے ۔یہ سابق الذکر فرقہ کی طرح حضرت علی کی الوہیت کے قائل نہیں تھے ۔مگر حضرت علی کو تقریباً آنحضور سے افضل قرار دیتے تھے ۔یہ اس زعم باطل کا شکار تھے کہ نبی دراصل حضرت علی تھے ۔مگر جبریل غلطی سے محمد ﷺپر نازل ہوگیا ۔ان کو غرابیہ (غراب کوّے کو کہتے ہیں )ان کے اس قول کی وجہ سے کہاجاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے اس طرح مشابہ ہیں جیسے ایک کوّ ا دوسرے کوّے کا ہم شکل ہوتاہے ۔(معاذ اللہ)

علماء نے انکے اس لغو عقیدہ تروید کاکوئی دقیقہ اٹھانہ رکھا ۔محدث ابن حزم نے اپنی کتاب الفصل میں اس بے بنیاد عقیدہ کی دھجیاں فضائے آسمانی میں بکھیر کر رکھ دیں ۔دراصل یہ عقیدہ تاریخی جہالت اور حقائق سے بے خبری کا عجیب نمونہ ہے ۔آنحضور ﷺ بعثت کے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ

صرف نو سال کے بچے تھے اور نبوت و رسالت کی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہو نے کے قابل نہ تھے ۔

بلکہ اس عمر میں توبچہ شرعی احکام سے مکلف بھی نہیں ہوتا چہ جائیکہ اس پر تبلیغِ احکام کی ذمہ داری ڈالی جائے ۔واقعات سے نابلد ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حضرت علی جب بڑے ہوئے تو اس وقت بھی آپ کی شکل و صورت آنحضور ﷺجیسی نہ تھی بلکہ دونوں کے خدو خال ایک دوسرے سے ممیز تھے جیسا کہ کتب میں مذکور ہے ۔

آنحضور اور حضرت علی کے پوری عمر کو پہنچ جانے کے بعد اگر ان کی جسمانی مما ثلت کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ بعثت کے وقت بھی یہ مشا بہت موجود ہوگی ۔ایک چالیس سالہ شخص اور نو سال کے بچے کی مشابہت ویگا نت بڑی لغو بات ہے پھر جبریل کیونکر ایک پورے مرد (نبی کریم )اورنو سالہ بچے (حضرت علی )میں امتیاز نہ کرسکے ۔پھر یہ معاملہ ایک کوّے کے دوسرے کوّے سے مشابہ ہونے کی طرح کیونکر ہوا ۔

شیعہ سے خارج فرقے }

متذکرۃ الصدر فرقے اور ان کے اشباہ و امثال اب شیعہ میں شمار نہیں کیے جاتے موجودہ شیعہ ان کو غالی قرار دیتے تھے ۔اور کہتے ہیں کہ یہ اہل قبلہ بھی شمار کیے جاتے کے لائق نہیں چہ جائیکہ انکو شیعہ تصور کیاجائے ۔اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اگر چہ تاریخ اسلام میں ان فرقوں کو شیعہ میں شمار کیا گیا ہے ۔ مگر اکثر شیعہ مصنفین نے ان سے اظہار برأت کیا ہے ۔

3۔فرقہ کیسانیہ }

مختا زبن عبید ثقفی کے پیرو کار تھے ۔مختار پہلے خارجی تھا ۔پھر شیعہ کا لبادہ اوڑھ لیا جو حضرت علی کے حامی تھے ۔کیسا نیہ کی نسبت کیسا ن کی طرف ہے ۔بعض کہتے ہیں مختار ہی کا نام کیسان تھا ۔ بعض کی رائے میں کیسان حضرت علی کا آزاد کر دہ غلام تھا بعض کے نزدیک آپ کے بیٹے محمد بن حنفیہ کے شاگردکا نام ہے ۔

یہ کوفہ میں اس وقت آیا جب مسلم بن عقیل حضرت حسین کی طرف سے کوفہ آئے تھے اس کا مقصد یہ تھاکہ عراق کے حالات معلوم کرکے حضرت حسین کو لکھے کہ لوگوں میں ان کی محبت کہاں تک پائی جاتی ہے ۔جب کوفہ کے امیر عبید اللہ بن زیاد کو مختار کی آمد کا علم ہوا تو اس نے بلا کر مختار کو پیٹا اور حضرت حسین کی شہادت تک اسے مجوس رکھا ۔پھر ابن زیاد کے بہنوئی عبداللہ بن عمر کی سفارش پر اسے شرط پر رہا کر دیا کہ وہ کوفہ سے نکل جائے مختار سے منقول ہے کہ اس نے کوفہ سے جاتے وقت کہا تھا :

میں شہید مظلوم مسلمانوں کے سردار نبیرہ رسول حضرت حسین کا انتقام لے کر رہوں گا ۔اور ان کے بدلہ میں اس قدر آدمیوں کو قتل کروں گا جتنے یحییٰ بن زکر یا علیہ السلام کے خون کے عوض مارے گئے تھے ۔

مختار پھر ابن زبیر سے مل گیا جو ان دنوں حجاز اور دیگر بلا د اسلام پر قابض ہو جانا چاہتے تھے اور اس شرط پر بیعت کی خلیفہ ہونے پر اسے کوئی عہدہ دیں گے ۔چنانچہ اس نے عبداللہ بن زبیر سے مل کر اہل شام سے لڑائی کی اور یزید کی موت کے بعدکو فہ لوٹ آیا ۔اس وقت مسلمان انتشار کا شکار تھے ۔

مختار لوگوں سے کہنے لگا میں حضرت حسین کے بھائی محمد بن حنفیہ کی طرف سے آیا ہوں اور حضرت حسین کا انتقام لینا چاہتا ہوں ۔

محمد بن حنفیہ مہدی اور وصی ہیں ۔وہ لوگوں سے یوں مخاطب ہوا :

’’مجھے وصی و مہدی نے تمہاری طرف امین اور وزیر بناکر بھیجا ہے اور ملحدین کو قتل کرنے اہل بیت کے خون کا بدلہ لینے اور کمزور وں سے مدا فعت کرنے کا حکم صادر کیا ہے ‘‘۔

مختار محمد بن حنفیہ کے نام کی دعوت دینے لگا کیونکہ وہی حضرت حسین کے خون کے وارث تھے ۔ محمد بن حنفیہ بڑے جلیل القدر تھے ۔لوگ ان سے بے پناہ محبت کرتے اور آپ کے علم و فضل کے مداح تھے ۔ آپ بہت اچھے عالمِ دین صاحب فکر و نظر اور نتائج و عوا قب میں بڑے صائب الرائے تھے ۔ آپ کے والد ماجد حضرت علی نے آپ کو ہونے والی جنگوں کے حالات بتا دیئے تھے ۔

مختار ثقفی }

محمد بن حنفیہ کو جب مختار کی بد نیتی اور اسکے اوہام داکا ذیب کا پتہ چلا تو کھلم کھلا مختار سے اظہار بیزاری کیا ۔لیکن برأت کے باوجود بھی بعض شیعہ مختار کی اطا عت کا دم بھرتے تھے کیونکہ ان میں حضرت حسین کا انتقام لینے کا جذبہ کار فرماتھا ۔مختار عربی کاہنوں کا پارٹ بھی ادا کیا کرتا اور ان کی طرح مسبّع و مقفیٰ عبارت بولتا ۔وہ آئندہ زمانہ کی باتیں جاننے کا بھی دعویٰ دار تھا ۔

چنانچہ اس سے یہ فقرے منقول ہیں:

اما ورب البحاروالنخیل والا شجاروالمھامہ القفار والملائکۃ الابرار لاقتلن کل جبار بکل لدن خطار ومھند بقنطار۔

ترجمہ :ا س ذات کی قسم جو سمندروں ،کھجور کے درختوں عام درختوں جنگلوں اور فرشتوں کی مالک ہے ۔

میں لچکدار نیزے اور شمشیر خارا شگاف سے تمام بغاوت پیشہ لوگوں کو موت کی نیند سلادوں گا ۔

حتی اذا تمت عمود الدین وزایلت شعب صدع المسلمین وشفیت صدور المؤمنین لم یکبر علی زوال الدنیا ولم احفل بالموت اذا اتی۔

ترجمہ :جب میں دین کو درست کرلوں گا ۔مسلمانوں کی خامیوں کی اصلاح ہوجائے گی اور میں مومنوں کے سینوں کی پیاس بجھالوں تو دنیا کے زوال کی میرے نزدیک کوئی قیمت نہ ہوگی نہ مجھے موت کی پرواہ ہوگی وہ جب چاہے آجائے ۔

مختار کی موت }

مختار قاتلان حسین سے نبر د آزما ہوا اور انہیں بے دریغ قتل کرتا رہا ۔شہادت حسین میں شرکت کرنے والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر موت کے گھاٹ اتارا ۔شیعہ اسے بہت چاہنے لگے انہوں نے ہالہ کی طرح مختار کو گھیر لیا اور ہر جگہ اس کا ساتھ دینے لگے ۔لیکن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بھائی مصعب رضی اللہ عنہ کی لڑائی میں مختار مارا گیا ۔مختار نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا تھا جس کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا ۔

فرقہ کیسا نیہ کے عقائد }

کیسانیہ فرقہ سبئیہ کی طرح الوہیت ائمہ کا عقیدہ نہیں رکھتے ۔بلکہ ان کے عقیدہ کی اساس یہ ہے کہ :

۱)۔امام ایک مقدس انسان ہوتا ہے جس کی وہ اطاعت کرتے اس کے علم وفضل پر پورا بھروسہ کرتے ہیں اور علم الہٰی کا نشان ہونے کے اعتبار سے اسے گناہوں سے معصوم سمجھتے ہیں ۔

۲)۔کیسانیہ بھی سبئیہ شیعوں کی طرح رجعت امام کا اعتقاد ر کھتے ہیں ۔وہ امام ان کے خیال میں حضرت علی حسن اور حسین کے بعد محمد بن حنفیہ ہیں ۔بعض کہتے ہیں کہ فوت ہوچکے ہیں اور پھر واپس آئیں گے ۔لیکن اکثر یہ اعقاد رکھتے ہیں کہ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ رضوی نامی پہاڑ پر رہتے ہیں ۔ ان کے پاس شہد اور پانی رکھا ہے ۔مشہور شاعر کثیر عزّہ انہی میں سے تھا وہ کہتا ہے ؎

الا ان الائمۃ من قریش

ولاۃ الحق اربعۃ سواء

بلا شبہ قریش کے امام اور حق و صداقت کے وارث صرف چار بزرگ ہیں

علی والثلا ثۃ من بنیہ ھم الاسباط لیس بہم خفاء

حضرت علی اور آپ کے تین صاحبزادے نبیر گان رسول ہیں ان میں کوئی پوشید گی نہیں

فسبط سبط ایمان وبر و سبط غیبتہ کربلا ء

ان میں سے ایک تو ایمان و نیکی والے تھے (حسن )اور دوسرے کو کر بلا نے غائب کر دیا

وسبط لایذوق الموت حتی یقود ا لخیل یتبعۃ اللواء

ان میں سے تیسرے اس وقت تک موت سے ہمکنار نہ ہونگے جب تک

وہ فوج کی سپہ سالاری کے فرائض انجام نہ دے لیں

تغیب لا یر ی عنم زمانا برضوی عند ہ عسل وماء

وہ (محمد بن حنفیہ )رضوی پہاڑ پر دنیا کی آنکھ سے اوجھل ہوگئے اور ان کے پاس شہد اور پانی رکھا ہے ۔

۳)۔کیسانیہ ’’بداء ‘‘کا عقیدہ رکھتے ہیں مختار نے بداء کا عقیدہ اس لیے اختیار کیا کہ وہ ہونے والے واقعات کا دعویٰ کرتا ہے یا تو اس لیے کہ اس پر وحی نازل ہوتی تھی یا امام کے پیغام کی وجہ سے ۔وہ اپنے رفقاء سے جب کسی واقعہ کے حدوث و ظہور کا وعدہ کرتا اور وہ اسی طرح ظہور پذیر ہوجاتا تو اسے وہ اپنے دعویٰ کی دلیل قرار دیتا ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو کہتا خدا نے اپنا ارا دہ بدل لیا ۔

۴)۔کیسانیہ تناسخ ارواح کے قائل ہیں یعنی روح کا ایک جسم سے نکل کر دوسرے میں حلول کرنا یہ عقیدہ ہندی فلسفہ سے ماخوذ ہے اہل ہنود کا قول ہے کہ انسان کو عذاب دینے کے لیے اس کی روح گھٹیا حیوان میں منتقل کردی جاتی ہے اور اجروثواب کے لیے اعلیٰ حیوان میں وہ تنا سخ ارداح کے عقیدہ کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتے تھے بلکہ اس کا اطلاق صرف ائمہ پر کرتے تھے کسی اور پر نہیں ۔

۵)۔کیسانیہ کا خیال ہے کہ ہر چیز کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہوتا ہے ۔ہر شخص کی ایک روح اور ہر نازل شدہ آیت کی ایک تفسیر و تاویل ہوتی ہے ۔اس کائنات ارضی کی ہر مثال ایک حقیقت رکھتی ہے ۔

آفاقِ ارضی میں جو اسرار حکم پھیلے ہوئے ہیں وہ انسان کے وجود میں جمع ہیں ۔یہی وہ علم ہے جو حضرت علی نے اپنے لختِ جگر محمد بن حنفیہ کو سکھا یا اور جس ہستی میں یہ سب علوم جمع ہوں وہی سچا امام ہے ۔ (الملل والخل شہر ستانی )

کیسانیہ کے عقائد اس حقیقت کے آئینہ دار ہیں کہ وہ رسالت مآب کے متعلق ایسے خیالات کا اظہار کرتے ہیں جن کا منصب رسالت سے کوئی تعلق نہیں ۔ وہ اولاد علی کی تعریف میں اس حد تک اغراق و مبالغہ سے کام لیتے ہیں کہ انہیں نبوت کے مرتبہ پر فائز کردیتے ہیں ۔خدا وند تعالیٰ کی تنز بہہ و تقدیس اور صفات کے بارے میں ان سے کوئی ایسا قول منقول نہیں جو ذاتِ باری کے شایانِ شان نہ ہوا البتہ وہ بداء کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ا نکے بعض عقائد میں فلسفیا نہ افکار کی آمیز ش بھی پائی جاتی ہے ۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آفاقی ارضی میں جو اسرارو حکم پھیلے ہوئے ہیں ۔وہ انسان کے وجود میں جمع ہیں ۔ یہی وہ علم ہے جو حضرت علی نے اپنے لختِ جگر محمد حنفیہ کو سکھایا ۔وہی حضرت علی کے بعد ان علوم کے وارث قرار پائے اور حضرت علی کی شخصیت ان میں حلول کر آئی ۔بلا داسلامیہ میں کیسانیہ کے پیروکار کہیں بھی موجود نہیں جن کا ذکر کیاجائے ۔