اسماعیلی (آغا خانی) فرقے کے عقائد

٭٭٭٭٭

اسماعیلی (آغا خانی) فرقے کے عقائد

تعارف فرقہ آغا خانی }

یہ بھی شیعہ کی ایک شاخ ہے سید نا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی امامت تک یہ سب ایک تھے ان کے بعد اثنا عشریہ سے یہ فرقہ علیحدہ ہوگیا ۔یہ فرقہ سیدنا حضرت اسماعیل بن امام جعفر صادق رضی اللہ عنہا کی امامت کے معتقد ہوئے ۔چنانچہ ابو زہرہ مصری المذاہب الاسلام میں لکھتا ہے کہ فرقہ اسماعیلیہ امامیہ کی ایک شاخ ہے ۔یہ مختلف اسلامی ممالک میں پائے جاتے ہیں ۔اسما عیلیہ کسی حد تک جنوبی و وسطی افریقہ بلاد شام پاکستان اور زیادہ تر انڈیا میں آباد ہیں ۔کسی زمانہ میں یہ بر سر اقتدار بھی تھے ۔فاطمیہ مصر و شام اسماعیلی تھے ۔قرامطہ جو تاریخ کے ایک دور میں متعد د ممالک پر قابض ہوگئے تھے اسی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے ۔

اسماعیلیہ کا تعارف

یہ فرقہ اسماعیل بن جعفر کی طر ف منسوب ہے ۔یہ ائمہ کے بارے میں امام جعفر صادق تک اثنا عشریہ کے ساتھ متفق ہیں ۔امام جعفر صادق کے بعد ان دونوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔اثنا عشریہ کے نزدیک امام جعفر صادق کے بعد ان کے بیٹے موسی کاظم کے امامت کے منصب پر فائز ہوئے ۔اس کے برعکس اسما عیلیہ امام جعفر صادق کے بیٹے اسماعیل کو امام قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک جعفر صادق کے بعد ان کے فرزند اسماعیل اپنے والد کی نص کی بناء پر امام ہوئے ۔اسماعیل گو اپنے والد سے قبل فوت ہوگئے مگر نص کا فائدہ یہ ہوا کہ امامت ان کے ا خلاف میں موجودرہی۔ کیونکہ امام کی نص کو قابل عمل قرار دینا اس کو مہمل کر کے رکھ دینے سے بہتر ہے ۔اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کیونکہ اقوال امام امامیہ کے یہاں شرعی نصوص کی طرح واجب التعمیل ہیں ۔

اسماعیل سے منتقل ہوکر خلافت محمد المکتوم کو ملی یہ مستورائمہ میں سے اولین امام تھے امامیہ کے نزدیک امام مستور بھی ہوسکتا ہے اور اس کی اطاعت بھی ضروری ہوتی ہے محمد مکتوم کے بعد ان کے بیٹے جعفر مصدق پھر ان کے بیٹے محمد حبیب کو امام قرار دیا گیا ۔یہ آخری مستور امام تھے ۔ان کے بعد عبداللہ مہدی ہوئے جس کو ملک المغرب بھی کہا جاتا ہے اس کے بعد ان کی اولاد مصر کی بادشاہ ہوئی اوریہی فاطمی کہلائے ۔اس کے بعدکہا ۔

اسماعیلیہ کی مختصر تاریخ }

دوسرے فرقوں کی طرح شیعہ کا یہ فرقہ بھی سر زمین عراق میں پروان چڑھا اور دیگر فرقوں کی طرح وہاں تختہ مشق ظلم و ستم بنا انہیں فارس و خراسان اور دیگر سلامی ممالک مثلاً ہندو ترکستان کی طرف بھاگنا پڑا ۔وہاں جاکر ان کے عقائد میں قدیم فارسی افکار اور ہندی خیالات گڈمڈ ہوگئے اور ان میں عجیب و غریب خیالات کے لو گ پیدا ہونے لگے جو دین کے نام سے اپنی مقصد برآری کرتے رہے ۔یہی وجہ ہے کہ متعد د فرقے اسماعیلیہ کے نام سے موسوم ہوگئے بعض امور کے اندر محدود رہے اور بعض اسلام کے اساسی اصولوں کو ترک کرکے اسلام سے باہر نکل گئے ۔

اسماعیلیہ فرقہ کے افراد پر ہندو برہمنوں ۔اشراقی فلاسفہ اور بدھ مت والوں سے ملے جلے ۔ کلدانیوں اور ایرانیوں میں روحانیت اور کواکب و نجوم سے متعلق جو افکار پائے جاتے ہیں ۔وہ بھی اخذ کے پھر ان مختلف النوع افکار و نظریات کا ایک معجون مرکب تیار کیا ۔ایسے لوگ دائرہ اسلام سے بہت دور نکل گئے ۔بعض اسماعیلیہ نے صرف واجہی حدتک ان افکار سے استفادہ کیا اور اسلامی حقائق سے وابستہ رہنے کی کوشش کی ۔ان کے سب سے بڑے داعی با طنیہ تھے جو جمہور امت سے کٹ گئے تھے اور اہل سنت کے نظریات سے انہیں کوئی تعلق نہ تھا ۔یہ جس قدر حقائق کو چھپا تے تھے اسی قدر عام مسلمانوں سے دور نکلتے جاتے تھے ۔ان کے جذبئہ اخفا ء کا یہ عالم تھاکہ خطوط لکھتے وقت اپنا نام نہیں لکھتے تھے ۔مثال کے طور پر رسائل اخوان المضاء باطنیہ کی کاوش قلم کا نتیجہ ہیں ۔یہ رسائل بڑے مفید علمی معلومات پر مشتمل ہیں اور ان میں بڑے عمیق فلسفہ پر خیال آرائی کی گئی ہے ۔مگر یہ نہیں پتہ چلتا کہ کن علماء نے ان کی تسو ید ہ تحریر میں حصہ لیا (یہ فرقہ کئی فرقوں اور ناموں سے یہ دور میں موجزن رہا ابو زہرہ مذکورہ بالا تقریر لکھ کر اسماعیلیہ کا باطنیہ کے نام کی وجہ تمہید لکھتے ہیں کہ ۔

اسماعیلیہ کو باطنیہ کے نام سے موسوم کرنے کی وجوہات

اسماعیلیہ کو باطنیہ یا باطنین بھی کہتے ہیں ۔اسماعیلیہ کو یہ لقب اس لئے ملا کہ یہ اپنے معتقدات کو لوگوں سے چھپانے کی کوشش کرتے تھے ۔اسماعیلیہ میں اخفاء کار جحان پہلے پہل جو ر و ستم کے ڈر سے پیدا ہوا اور پھر ان کی عادت ثانیہ بن گئی ۔

اسماعیلیہ کے ایک فرقہ کو حشاشین (بھنگ نوش) بھی کہتے ہیں جن کی کرتو توں کا انکشاف صلیبی جنگوں اور حملہ تا تار کے آغاز میں ہوا ۔اس فرقہ کے اعمال قبیحہ کی بدولت اس دور میں اسلام اور مسلمانوں کو بڑا نقصان پہنچا ۔

ٍ ان کو باطنیہ کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ اکثر حالات میں امام کو مستور مانتے ہیں ۔ان کی رائے میں مغرب میں انکی سلطنت کے قیام کے زمانہ تک امام مستور رہا ۔یہ حکومت پھر مصر منتقل ہوگئی ۔

ان کو باطنیہ ان کے اس قول کی وجہ سے بھی کہا جاتاہے کہ شریعت کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن لوگوں کو صرف ظواہر شریعت کا علم ہے ۔باطن کا علم صرف امام کو معلوم ہوتا ہے ۔بلکہ امام باطن سے بھی آگاہ ہوتاہے ۔اسی عقیدہ کے تحت باطنیہ الفاظ قرآن کی بڑی دور از کار تاویلین کرتے ہیں ۔ بعض نے تو عربی الفاظ کو بھی عجیب و غریب تاویلات کا جامہ پہنا دیا ۔ان تاویلات بعید ہ اور اسرار امام کو وہ علم باطن کا نام دیتے ہیں ۔ظاہر و باطن کے اس چکر میں اثنا عشریہ بھی باطنیہ کے ہمنوا ہیں ۔ بہت سے صوفیاء نے بھی باطنی علم کا عقیدہ اسماعیلیہ سے اخذ کیا ۔

بہر کیف اسماعیلیہ اپنے عقائد کو پس پردہ رکھنے کی کوشش کرتے اور مصلحت وقت کے تحت بعض افکار کو منکشف کرتے ۔باطنیہ کے اخفاء و عقائد کا یہ عالم تھاکہ مشرق و مغرب میں برسر اقتدار ہونے کے دوران بھی وہ اپنے افکار و آرا ء کو ظاہر نہیں کرتے تھے ۔

باطنیہ کے اصول اساسی }

اعتدال پسند باطنیہ کے افکار و آراء دراصل تین امور پر مبنی تھے ۔ا ن سب میں اثنا عشریہ ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ۔

۱)۔علم و معرفت کا وہ فیضان الہٰی جس کی بناء پر ائمہ فضیلت و عظمت اور علم و فضل میں دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں ۔علم و معرفت کا یہ عطیہ ان کی عظیم خصوصیت ہے ۔جس میں کوئی دوسرا افراد کا سہیم و شریک نہیں ۔جو علم انہیں دیاجاتا ہے وہ عام انسانوں نے کے بالائے ادراک ہوتا ہے ۔

۲)۔امام کا ظاہر ہونا ضروری نہیں بلکہ وہ مستور بھی ہوتا ہے اور اس حالت میں بھی اس کی اطاعت ضروری ہوتی ہے ۔امام ہی لوگوں کا ہادی اور پیشوا ہوتا ہے کسی زمانہ میں اگر وہ ظاہر نہ بھی ہوتو کسی نہ کسی وقت وہ ظاہر ہوگا ۔قیام قیامت سے قبل امام کا منظر عام پر آنا ان کے نقطئہ نگاہ کے مطابق ضروری ہے ۔امام جب ظاہر ہوگا توکائنات عالم پر عدل و انصاف کا دور دورہ ہوجائے گا ۔جس طرح اس کی عدم موجودگی میں جور و استبد ادکا سکہ جاری رہتا تھا اب اسی طرح ہر طرح عدل و انصاف کی کار فرمائی ہوگی ۔

۳)۔امام کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہوتا اور اس کے افعال کیسے بھی ہوں کسی کو ان پر انگشت نمائی کا حق حاصل نہیں ملخصاً۔ (اسلامی مذاہب صہ ۷۷تا اردو مطبوعہ لاہور پاکستان )

تاریخ مذہب آغا خانی }

یہی باطنیہ آگے چل کر مختلف اسماء اور مختلف عقیدوں و طریقوں سے ابھرا جسکی طویل داستان کو مولانا نجم انفی مرحوم نے مذاہب الاسلام میں صہ ۵۔۲سے صہ ۳۵تک پھر اسی کتاب میں مختلف جگہوں میں تفصیل لکھی ہے ۔

اسماعیلیہ اپنے اسماء تاریخ کے آئینے میں }

بابکیہ بزمانہ معقم باللّٰہ من ھارون الرشید ۲۲۰ھ خرمیہ خرم کی طرف منسوب ماں بہن سے جواز نکاح کے قائل حرمیہ تناسخ کے معتقد تھے حرمیہ یہ دونوں اس بابکیہ متعلق ہیں بابک ۲۲۳ھ میں مارا گیا حمرہ و حمیرا سرخ لباس پہنتے تھے تعلمینہ انکا عقیدہ تھاکہ معرفت انہی امام کے بغیر ناممکن ہے نسیم الریا شرح سغامیں ہے کہ اسماعیلیہ کے جملہ فرقے معطلہ میں سے ہیں ۔ مبارکیہ محمد بن اسماعیل بن جعفر رضی اللہ عنہ کے پیروکار ۵۹ھ میں یہ مذہب شروع ہوا ۔اسی فرقہ سے واسطہ ہے میمونیہ یہ لوگ عبداللہ بن میمونی کے پیر وکار ہیں باطنیہ اسی میمو نیہ سے نام بد لا گیا اس لئے انکے نزدیک قرآن و حدیث کے ظاہر پر نہیں باطن پر عمل فرض ہے ۔خلفیہ یہ فرقہ خلف نامی کے مستبع تھے یہ قیامت کے منکر تھے قرامطہ جس نام سے یہ فرقہ بہت مشہور ہوا یہ فرقہ دہشت گردی اور اسلام کے مٹانے میں بہت مشہور ہے اسکی قابل نفرین حرکات سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں ۔یہی قرامطہ ہیں جن کے ہاتھوں بیت اللہ شریف میں ہزاروں حجاج کرام نے جام شہادت نوش کیا ۔یہی قرامطہ ہیںجو کعبہ سے حجرا سود اکھاڑ کرلے گئے جو ۲۳سال بعد ٹکڑوں کی صورت میں واپس ہوا ۔یہی نہیں بلکہ انہوں نے شریعت محمد ی کو چھوڑ کر ایک باطل اصول ایجاد کیا جس کی رو سے جملہ املاک بہ شمول خواتین مشترک قومی ملکیت قرار پائے ۔

قرامطہ کے بعد حسن بن صباح یعنی ایران میں قلعہ الموت کے شیخ الجبال کا نمبر آتا ہے جس کے فدائیوں کی دہشت گردی اور قتل و غارت سے پورا مشرق وسطی حتی کہ یورپ بھی چیخ اٹھا تھا ۔یہ فدائی وہی ہیں جن کہ حشیش پلا کر فردوس بریں کے وعدہ پر ہر مذموم کام کرایا جاتا تھا ۔حتی کہ صلیبی جنگوں میں کامیابی کا باعث افتخار جنرل صلاح الدین ایوبی کو بھی انہوں نے کئی بار قتل کی ناکام کوشش کی بلکہ صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کے مقابلہ میں عیسائیوں کا ساتھ دیا ۔

برقعیہ یہ فرقہ محمد بن علی برقعی کے قائل ہیں ۲۵۵ھ میں ظاہر ہوا۔

جنابیہ ابو سعید بن حسن بن بہرا م جنابی کے تا بعد وہ

نوٹ: پانچوں منخرالہ کر فرقے قرامطہ میں شامل ہیں

مھد ویہ عبداللہ مہدی کے پیروکار

دیصانیہ دیسان کی طرف منسوب ہیں

نوٹ:۔ یہ وہی عبداللہ مہدی کی پارٹی ہے اس فرقہ کو باطنیہ سے تعلق ہے خوب ترقی کی ۔انکے عہد میں تمام مصر میں مذہب اسماعیلیہ کا رواج ہوگیا ۔مفتی قاضی تمام کے تمام شیعہ ہوتے تھے ۔کوئی انکے خلاف کرتا تو قتل کردیا جاتا ۔مزید حبیب نے دور عثمانی میں حقیقت کا رواج دیا ۔مذاہب الاسلام صہ ۲۳۸یہ بعد کی بات ہے ۔(فائدہ)مہد ویہ کی حکومت میں ۲۹۶ھ میں شروع ہو ۲۶برس عبدالسلام مہدی نے حکومت کی اسکے بعد یکے بعد دیگرے مذہب کی ترقی سے امام بدلتے رہے ۔مصر میں اسماعیلیہ کی ابتداء ۲۹۶،۲۹۷ھ میں ہوئی اور اسکا خاتمہ ۵۶۷ھ میں ہوا دو سو ستر سال حکومت رہی (فائدہ ) ابو عبداللہ سے آخری امام تک کل ائمہ ۱۴ ہوئے ۔

مستعلو یہ مستنفر کے بعد مہد ویہ میں اختلا ف ہوا تو ایک گروہ نے بالا کو امام مانا

نزاویہ صاحبہ حمیریہ یہ نزار اور اسکے چیلوں کی طرف منسوب ہیں

حشیشن قرامطہ کے ایک گروہ کا نام

سبعیہ سات اشخاص کی مناسبت سے

ان تمام فرقوں کی تفصیل اور انکے علاوہ اور بھی مزید تحقیق فقیر نے مذاہب اسلام کی مدد سے تاریخ مذہب آغا خانی میں لکھی ہے ۔

مختصر خاکہ تاریخ مذہب آغا خانی ناظرین نے ملاحظہ فرمایا ۔اب ابل اسلام اپنے اسلاف صالحین کی زبانی ان کی کہانی ملاحظہ فرمالیں تاکہ اہل حق کو یقین ہو کہ یہ گروہ کتنا خطر ناک ہے ۔

آغا خانی فرقہ کے کفریات }

جیسا کہ رویہ مذکورہوا کہ جس فرقہ کا اعتقاد کفر تک پہنچے تو ازروئے شریعت یہ فرقہ مرتد ہے۔جیسا کہ شیعوں میں ایک فرقہ ہے جسے اسماعیلیہ کہاجاتا ہے ۔جس کا نام قرامطہ اور باطنیہ ہے انکے عقائد یہ ہیں ہمارا سلام (یاعلی مدد)جواب سلام (مولا علی مدد ) تو یہ سلام قرآن مقدس کے حکم کے خلاف ہے ۔ قرآن مقدس میں سلام اور جواب سلام ثابت ہے اور وہ یہ ہے ۔(واذا حییتم بتحیۃ فحیو ابا حسن منھا ) جب سلام کیا جائے تو جواب سلام اچھے طریقہ سے دیا جائے ،تو اس مشرو عیت حکم سے انکار کفر ہے ۔ (۲)

اسماعیلیہ فرقہ کا کلمہ شہادت ۔(اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ واشھدان محمد رسول اللّٰہ وشھدان علی اللّٰہ )اس کلمہ میں علی کو خدا نسبت کی گئی اور یہ کفر ہے ۔(۳)

اسماعیلیہ فرقہ یہ کہتا ہے کہ وضوکی ضرورت نہیں دل کی صفائی چاہیے ۔حالانکہ حکم خداوندی ہے کہ نماز کیلئے وضو فرض ہے ۔(یا ایھا الذین آمنو اذا قمتم الے الصلوۃ شانحسلوا وجو ھکم واید یکم الی المر افق و مسحو ایرء وسکم وار جلکم الے الکعبین )

ترجمہ :اے ایمان والوجب تم کے لئے کھڑے ہوتو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کلائی تک دھولو،اپنے سروں کا مسیح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھولو،پس قرآن پاک سے ثابت ہوا کہ غسل بمعہ اعضاء ثلاثہ اور مسح سر فرض ہے ۔اور اس حکم سے انکار ہے ۔ (ہدایہ صفحہ ۳۰جلداول )(۵)رکوع کے انکار اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وار کعو اواسجدوا ھدا یہ صہ ۹۲جلداول (۴)اسماعیلیہ فرقہ آغا خانی کے نام سے مشہورہے کہتے ہیں کہ ہماری نماز میں قبلہ روکھڑا ہونا ضروری نہیں ۔حالانکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ وحبث ما کنتم فولو او جو ھکم شطرہ(ترجمہ )جس جگہ بھی ہوتو تم اپنے کو کعبہ شریف کی جانب کرو۔ (۶)فر قہ آغا خانی کہتا ہے کہ ہمارے مذہب میں پانچ وقت نماز نہیں ۔اور اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد ہے کہ وامسجد وار کعو مع الرا کعین ط (ترجمہ )تم نماز قائم کر و اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ،تو فرض نماز سے انکارصراحتاًکفرہے ۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔فسبحان اللّٰہ حین تمبوں وحین تصحون ولہ الحمد فی السموت والارض وعشیا وحین تطھروں (ترجمہ )پاکی بیان کرو اللہ تعالیٰ کے لئے جب تم شام کو صبح کرو۔اور ثناء ہے اللہ تعالیٰ کیلئے آسمانوں اور زمینوں میں نیز پاکی بیان کرو جب تم خضتن کرو اور جب ۔(۷)آغا خانی فرقہ کا عقیدہ ہے کہ روزہ اصل میں کان آنکھ اور زبان کا ہوتا ہے کھانے پینے سے روزہ نہیں جاتا بلکہ روزہ باقی رہتا ہے کہ ہمارا روزہ سہ پہر کا ہوتا ہے ،جو صبح دس بجے کھولا جاتا ہے ،وہ بھی اگر مومن رکھنا چاہے ورنہ ہمارا روزہ فرض نہیں ہے ۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔یا ایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام ط(ترجمہ )اے ایمان والو تم پر روزہ فرض ہے ۔اس آیت مبارکہ سے روزہ رکھنا ہر بالغ مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے اور یہ بھی کہتاہے کہ ہمارا روزہ سہ پہر کا ہوتا ہے ۔ارشاد رب العزت ہے ۔کلوا واشربوا حتی یتبین لکھم الخبط الابیض من الفجر ثم اتم الصیام الے اللیل ط(ترجمہ )کھاؤ اور پیواس وقت تک حتی کہ تمہیںنظر آجائے وھاری سفید جد اوھاری سیاہ سے فجر کی پھر پورا کرو روزہ رات تک (پارہ سوم قرآن پاک )۔

آغا خانی فرقہ کی آٹھواں عقیدہ یہ ہے کہ حج اداکرنے کی بجائے ہمارے امام کا دیدار کافی ہے ۔ حج ہمارے لئے فرض نہیں اس سے کہ زمین پر خدا کا روپ صرف حاضر امام ہے ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے ۔واللّٰہ علے الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا (ترجمہ )اے لوگو تم پر فرض ہے حج بیت اللہ شریف کا اپنی استطاعت کے مطابق تو حج اللہ تعالیٰ کا فرض صم ہے ۔حج سے انکار کرنا کفر ہے ۔

(۹)عقیدہ آغا خانی فرقہ یہ ہے کہ زکوۃ کی بجائے ہم اپنی آمدنی میں دو آنہ فی روپیہ کے حساب سے فرض سمجھ کر جماعت خانوں میں دیتے ہیں جس سے زکوۃ ہوجاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔واتو الزکوۃ (زکوۃ دیتے رہو )ابقولہ علیہ السلام ،ادوز کوۃ امو الکم (وعلیہ الا جما لح الا مۃ )ترجمہ :حضورعلیہ السلام کا فرمان ہے کہ اپنے مالوں سے زکوٰۃ ادا کرتے رہوا ور اس بات پر اجماع اُمت ہے ۔

(۱۰) عقیدہ آغا خانی کا فرقہ یہ ہے کہ گناہوں کی معافی امام کی طاقت میں ہے ۔جو یہ سر اسر کفر ہے ۔

کیونکہ گناہوں کی معافی خداوند کریم کی طاقت میں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے ۔معافی مخلوق کے بس میں نہیں اور نہ ہی گھٹ پاٹ یعنی گندہ پانی چھڑکانے یا پینے سے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔

اس لئے فرائض میں کسی ایک فرض کا انکار بھی کفر ہے ۔تلک شرہ کا سلام ۔

عقیدہ :آغا خانی کلمہ :اشھد ان لاالہ الا اللّٰہ واشھدان محمد رسول اللّٰہ واشھدان امیر المومنین علی اللّٰہ ۔

ترجمہ :میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک محمد اللہ کے رسول ہیں اور میں گواہی دیتاہوں کہ علی اللہ ہیں یا (علی اللہ میں سے ہیں )۔

(بحوالہ :شکشن مالا بال منکہ ،منظور شدہ درسی کتاب :مطبوعہ اسماعیلیہ الیوسی ایشن برائے ہند بمبئی )

عقیدہ :یا علی مدد۔آغا خانیوں کاسلام ہے ۔

(بحوالہ :شکشھن مالا سبق نمبر 2،ص6درسی کتاب :نائب اسکولز ،مطبوعہ :اسماعیلیہ ایسو سی ایشن برائے انڈیا بمبئی )

عقیدہ :مولا علی مدد۔آغا خانیوں کے سلام کا جواب ہے ۔سلام کی جگہ یا علی مد د کہنا ۔

(بحوالہ :سبق نمبر 2ص7،کتاب :شکشھن مالا )(درسی کتاب برائے فارسی ،نائب اسکولز ،اسماعیلیہ ایسو سی ایشن برائے انڈیا )

عقیدہ :پیرشاہ :پیر شاہ ہمارے گناہ بخش دیتے ہیں ۔پیر شاہ ہم کو اچھی سمجھ عطا فرماتے ہیں ۔ پیر شاہ ہماری دعا قبول کرتے ہیں۔دعا پڑھنے سے حاضر امام خوش ہوتے ہیں ۔حاضر امام کو پیر شاہ کہتے ہیں۔

(بحوالہ :شکشھن مالا کہ جی ،سبق نمبر 17،ص12،درسی کتاب :ریلیجئس نائٹ اسکو ل مطبوعہ اسماعیلیہ ایسوسی ایشن برائے انڈیا بمبئی )

عقیدہ :پیر شاہ یعنی نبی اور علی :ہمارے پہلے پیر حضرت محمد ﷺہیں ۔ہمارے پہلے امام حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ہمارا پچاسواں پیر حضرت شاہ کریم الحسینی ہے ۔ہما را انچاسواں امام حضرت مولانا شاہ کریم الحسینی ہے ۔

(بحوالہ :سبق نمبر17،سبق نمبر 11کتاب :شکشھن مالا ،درسی کتاب برائے ریلیجیئس نائب اسکول مطبوعہ اسماعیلیہ ایسو سی ایشن برائے انڈیا بمبئی )

یہ تمام کفریہ عقائد مختصر کرکے پیش کئے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے موجودہ اسماعیلیہ آغا خانی فرقہ باطل عقائد پر مشتمل ہے جس کا اسلام سے دور دور تک کا بھی واسطہ نہیں ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.