صحابہ حفاظت حدیث کی خاطر ایک سے زیادہ راویوں سے شہادت لیتے

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان تمام چیزوں کے ساتھ اس بات پر بھی خاص زور دیا کہ حدیث رسول اور سنت مصطفی علیہ التحیۃ والثناء ہر قسم کے جھوٹ کی ملاوٹ اور شائیبہ تک سے پاک رہے ۔کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے جہاں حدیث کو یاد کرنے، دوسروں تک پہونچانے اور عمل کرنے کی ترغیب ملی تھی وہیں آپ کی جانب بے بنیاد اور غلط بات منسوب کرنے پر وعید شدید کا سزاوار بھی قرار دیا گیا تھا ،لہذا وہ حضرات نہایت احتیاط کے ساتھ روایتیں بیان کرتے اور جب کسی چیز کا فیصلہ سنت سے کرنا مقصود ہوتا تو اس کی تائید وتوثیق میں چند صحابہ کی شہادت کو سامنے رکھا جاتا تھا ۔

امیرالمومنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ایک عورت آئی اور اس نے اپنے پوتے کی وراثت میں سے حصہ مانگا ، وراثت میں دادی کے حصہ کے متعلق نہ قرآن حکیم میں ذکر تھا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی حدیث پاک حضرت صدیق اکبر نے سنی تھی، آپ نے لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ اٹھے اور عرض کیا : مجھے معلوم ہے کہ حضور نے دادی کو چھٹا حصہ دیا تھا ، انہوں جب حدیث پیش کی تو آپ نے ان سےگواہ پیش کرنے کو کہا ،حضرت محمد بن مسلمہ نے گواہی دی تو آپ نے فیصلہ فرمایا۔

ایک دفعہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو باہر سے تین دفعہ سلام کیا لیکن جواب نہ ملا ،آپ واپس لوٹ آئے ، حضرت عمر نے ان کو بلوایا اور واپس جانے کی وجہ پوچھی ،آپ نے کہا : حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔جو شخص تین دفعہ سلام کہے اور اسے صاحب خانہ اندر جانے کی اجازت نہ دے تووہ خواہ مخواہ اندر جانے پر مصر نہ ہو بلکہ واپس لوٹ جائے ۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس حدیث کی صحت پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہاری خبر لوں گا ۔وہ صحابہ کے پاس گئے تو پریشان تھے ،وجہ پوچھی تو آپ نے سارا ماجراکہہ سنایا، صحابہ کرام میں سے چند نے گواہی دی کہ ہم نے بھی یہ حدیث سنی ہے ، چنانچہ ایک صاحب نے حضرت عمر کے پاس آکر شہادت دی اس پر حضرت فاروق اعظم نے فرمایا: ۔

انی لم اتہمک ولکنی خشیت ان یتقول الناس علی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔(ضیاء النبی ۷/۹۹)

اے ابوموسی ! میرا ارادہ تمہیں متہم کرنے کا نہیں تھا ، لیکن میں نے اس خوف سے اتنی سختی کی کہ کہیں لوگ بے سروپا باتیں حضور کی طرف منسوب نہ کرنے لگیں ۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ ٔ خلافت میں مسجد نبوی کو وسیع کرنے کی ضرورت پیش آئی ،مسجد کے قبلہ کی طرف حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مکان تھا ،حضرت عمر نے ان سے مسجد کیلئے مکان فروخت کرنے کی درخواست کی ،حضرت عباس نے انکارکردیا،دونوں حضرات حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے ،انہوں نے جب صورت حال کے متعلق سنا تو فرمایا : اگر چاہوتو میں تمہیں ایک حدیث پاک سنا سکتاہوں جواس مسئلہ میں آپکی رہنمائی کریگی ۔ آپ نے فرمایا : سنائو۔حضرت ابی کعب نے فرمایا : میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف وحی کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کریں جس میں اسکو یاد کیا جائے ۔اللہ تعالیٰ نے اس گھر کیلئے جگہ کا تعین بھی فرمادیا ،حضرت دائود علیہ السلام کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ وہ اس شخص سے وہ جگہ زبردستی حاصل کرلیں تواللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی ،اے دائود ! میں نے تمہیں اپنا گھر تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا جس میں میرا ذکر کیا جائے اور تم میرے گھر میں غصب کو داخل کرنا چاہتے ہو ، غصب کرنا میری شان کے شایاں نہیں ہے ، اب تمہاری اس لغزش کی سزا یہ ہے کہ تم میرے گھر کو تعمیر کرنے کے شرف سے محروم رہوگے ۔

حضرت دائود نے عرض کی ! پروردگار ! کیامیری اولاد اس گھر کو تعمیر کرسکے گی ؟ فرمایا : ہاں تمہاری اولاد کو یہ شرف حاصل ہوگا ۔

حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہسے یہ حدیث سنی تو فرمایا : میں تمہارے پاس ایک مسئلہ لیکر آیاتھا اور تم نے ایک ایسا مسئلہ کھڑاکردیا جو اس پہلے مسئلہ سے بھی شدید تر ہے ،تمہیں اپنے قول کے گواہ پیش کرنا ہوں گے ۔ وہ انہیں لے کر مسجد نبوی میں آئے اور انہیں صحابہ کرام کے ایک حلقہ کے پاس لاکھڑاکیا ،ان صحابہ کرام میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ۔

حضرت عمر نے اس مجمع صحابہ سے مخاطب ہوکر فرمایا : میں تمہیں خداکی قسم دے کر کہہ رہا ہوں کہ جس شخص نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے وہ حدیث سنی ہو جس میں حضرت دائود علیہ السلام کو بیت المقدس کی تعمیر کا حکم ملنے کاذکر ہے وہ اسے بیان کرے ۔ حضرت ابوذرغفاری نے فرمایا : میں نے یہ حدیث حضور سے سنی ہے ،دوسرے اور پھر تیسرے صاحب نے بھی کھڑے ہوکر تصدیق کی ۔یہ سن کر حضرت عمر نے ان کو چھوڑ دیا ۔اس پر حضرت ابی بن کعب نے کہا : اے عمر ! کیا تم مجھ پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیث کے سلسلہ میں تہمت لگاتے ہو ؟ حضرت عمر نے فرمایا : میں تمہیں متہم نہیں کرتا ،میں نے تو حدیث کے سلسلہ میں احتیاط کیلئے یہ طریقہ اختیار کیا ہے۔ (ضیاء النبی ۷/۱۰۰)

حضرت مالک بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :۔

سمعت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یقول لعبد الرحمن بن عوف وطلحۃ والزبیر وسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہم : نشدتکم باللہ الذی تقوم السماء والارض بہ ،اعلمتم ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: انالانورث ماترکناہ صدقۃ قالوا : اللہم نعم۔ (المسند لا حمد بن حنبل، ۱/۴۴)

میں نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ،حضرت طلحہ ،حضرت زبیر بن العوام اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دیکر پوچھتا ہوں جسکی قدرت سے زمین و آسمان قائم ہیں ،کیا تم جانتے ہو کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :۔

ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی ،ہم جومال چھوڑیں وہ صدقہ ہے ۔ اس پر ان سب نے فرمایا : ہاں خداکی قسم ہمیں اس حدیث پاک کاعلم ہے ۔

حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جومنہاج وطریقہ حدیث رسول کی حفاظت وصیانت کیلئے مقرر فرمایا تھا اس پر آپکے بعد امیرالمومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی سختی سے قائم رہے ،آپ نے ایک موقع پر ارشادفرمایا تھا ۔

لایحل لاحد یروی حدثنا عن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لم اسمع بہ فی عہد ابی بکر ولاعمر ،رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔

کسی شخص کو ایسی حدیث روایت کرنے کی اجازت نہیں جو میں نے ابوبکروعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانوں میں نہیں سنی۔(ضیاء النبی ۷/۱۰۴)

امیرالمومنین مولی المسلمین حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی احتیاط ملاحظہ فرمائیں ،فرماتے ہیں :

میں جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تواللہ تعالیٰ اس حدیث سے جو چاہتا مجھے نفع عطافرماتا۔ جب کوئی دوسرا میرے سامنے کوئی حدیث بیان کرتاتو میں اس سے قسم لیتا، جب وہ قسم کھاتا تو میں اسکی حدیث کو تسلیم کرلیتا ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ اعلان کرادیا تھا ۔

اتقواالروایات عن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الاماکان یذکر منہا فی زمن عمر ، فان عمر کان یخوف الناس فی اللہ تعالی۔ٰ (ضیاء النبی، ۷/۱۰۴)

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ،صرف وہ احادیث بیان کرو جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد ہمایوں میں روایت ہوتی تھیں ، کیونکہ حضرت عمر اس سلسلہ میں لوگوں کواللہ کا خوف دلاتے تھے ۔

اس سختی سے صحابہ کرام کا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگ جن چیزوں کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حوالے سے سنیں اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہ ہو ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ بعض صحابہ کرام جو اگر چہ سفر وحضر میں حضور کے ساتھ رہے لیکن ان سے احادیث بہت کم مروی ہیں ۔ عشرہ مبشرہ اگرچہ علم وفضل اور زہدوتقوی میں غیر معمولی حیثیت

کے حامل تھے لیکن ان سے احادیث کی اتنی تعداد منقول نہیں جتنا انکے فضل وکمال کا تقاضا تھا۔ کہ ان حضرات کے شرائط سخت تھے ۔

بعض صحابہ کرام تو جب احادیث روایت کرنے کا ارادہ فرماتے ان پر رعشہ طاری ہوجاتا اور لرزہ براندام ہوجاتے تھے ، حضرت عمر بن میمون رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔

میں ہرجمعرات کی شا م بلاناغہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتا لیکن میں نے کبھی آپکی زبان سے یہ الفاظ نہیں سنے کہ حضور نے یہ فرمایا ۔

ایک شام انکی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔ کہتے ہیں : یہ الفاظ کہتے ہی وہ جھک گئے ،میں نے انکی طرف دیکھا تووہ کھڑے تھے ،ان کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے ،آنکھوں سے سیل رشک رواں تھا اورگردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں ۔

حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں : مجھے غلطی کا خوف نہ ہو تو میں تمہیں بہت سی ایسی باتیں سنائوں جو میں نے حضور سے سنی ہیں۔ (ضیاء النبی، ۷/۱۰۲)

حیرت ہے کہ جس عہد کے لوگ روایت حدیث کے بارے میں اتنے محتاط ہوں وضع حدیث کو اس دورکا کارنامہ خیال کیاجاتاہے ۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بعد تابعین اورتبع تابعین نے بھی حدیث رسول کے چشمۂ صافی کو غایت درجہ ستھرا رکھنے کی مساعی جاری رکھیں اور اپنے ادوار میں کامل احتیاط سے کام لیا ،انہیں کے زمانہ خیر میں تدوین حدیث یعنی باقاعدہ حدیثوں کو کتابی شکل میں مدون کیاگیا جواس زمانہ کی ضرورت کے بالکل عین مطابق تھا جیسا کہ تفصیل آئندہ آرہی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔