*درس 014: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَأَمَّا شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ (فَمِنْهَا) أَنْ يَكُونَ الْوُضُوءُ بِالْمَاءِ

ارکانِ وضو کی شرائط: ان میں سے پہلی شرط یہ ہے کہ وضو *پانی* سے ہو۔

حَتَّى لَا يَجُوزَ التَّوَضُّؤُ بِمَا سِوَى الْمَاءِ مِنْ الْمَائِعَاتِ كَالْخَلِّ، وَالْعَصِيرِ، وَاللَّبَنِ، وَنَحْوِ ذَلِكَ

لہذا پانی کے علاوہ کسی بھی مائع (Liquid) سے وضو جائز نہیں ہے، جیسے سرکہ، کسی چیز کا نچوڑا ہوا رس(Juice) اور دودھ وغیرہ۔

لِقَوْلِهِ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ} [المائدة: 6] ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ الْغَسْلُ بِالْمَاءِ

اسکی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے: اے ایمان والو! جب تم نماز کی طرف کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک پاؤ ں دھولو۔ اس آیت میں جو غَسل (دھونے) کا لفظ ہے اس سے مراد ہے *پانی* سے دھونا۔

لِأَنَّهُ تَعَالَى قَالَ فِي آخِرِ الْآيَةِ {وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [المائدة: 6] نَقَلَ الْحُكْمَ إلَى التُّرَابِ عِنْدَ عَدَمِ الْمَاءِ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّ الْمَنْقُولَ مِنْهُ هُوَ الْغَسْلُ بِالْمَاءِ

*پانی* سے دھونا جو کہا وہ اسلئے کہ اللہ تعالی نے اسی آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا: اور اگر تم بے غسل ہو تو خوب پاک ہوجاؤ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آیا ہویا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہواور ان صورتوں میں *پانی نہ پاؤ* توپاک مٹی سے تیمم کرلو۔۔۔

اللہ تعالی نے مٹی سے طہارت حاصل کرنے کا حکم دیا اس وقت جب *پانی* موجود نہ ہو۔یہ حکم اس بات پر دلالت کرتا ہے پچھلی آیت میں غَسل سے مراد *پانی* سےدھونا ہے۔

وَكَذَا الْغَسْلُ الْمُطْلَقُ يَنْصَرِفُ إلَى الْغَسْلِ الْمُعْتَادِ، وَهُوَ الْغَسْلُ بِالْمَاءِ.

اسی طرح جب بھی مطلق غَسل (دھونے) کی بات ہوگی تو اس سے معمول کے مطابق دھونا مراد ہوگا، اور وہ *پانی* ہی سے دھونا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

علامہ کاسانی نے یہاں سے بڑی نفیس بحث کا آغازکیا ہے۔

آپ نے اس پوری فصل میں ارکانِ وضو کی چار شرائط ذکر کی ہیں:

(١) أَنْ يَكُونَ الْوُضُوءُ بِالْمَاءِ: جس سے وضو کیا جائے وہ پانی ہو۔

(٢) أَنْ يَكُونَ بِالْمَاءِ الْمُطْلَقِ: ماءِ مطلق ہو یعنی اسے پانی ہی کہا اور سمجھا جاتا ہو۔

(٣) أَنْ يَكُونَ الْمَاءُ طَاهِرًا: پانی پاک ہو۔

(٤) أَنْ يَكُونَ طَهُورًا: پانی پاک کرنے والا ہو۔

*پانی کیا ہے ؟*

*پانی* ایک ایسا مائع (Liquid) ہے جو تیزی سے دوسری شے کااثر قبول کرتا ہے۔

اس کا نہ ہی کوئی رنگ ہے نہ ہی ذائقہ اور نہ ہی بو ہے۔ اور یہی عام طور پر مشہور ہے۔

مگر بعض فقہاء کرام پانی کے رنگ دار ہونے کے قائل ہیں، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا موقف یہ ہے کہ پانی کا رنگ ہے، نہ ہی مکمل سیا ہ ہے اور نہ ہی بالکل سفید بلکہ خفیف سیاہی مائل رنگ ہے، جسے ہم سرمئی کہتے ہیں۔ اور یہ رنگ اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب کوئی واضح سفید چیز کا اس سے ملاپ ہوجائے۔ جیسے سفید کپڑے پر پانی ڈالا جائے یا دودھ میں پانی ملایا جائے تو رنگت میں سرمئی پن ظاہر ہوجاتا ہے۔

(تفصیل فتاوی رضویہ، جلد 03)

الغرض پانی ایک مائع ہے اور وضو و غسل میں اسی سے طہارت حاصل کی جاتی ہے۔

اگر کوئی سوال کرے کہ قرآن میں کہا لکھا ہے کہ پانی سے طہارت حاصل کی جائے تو دلیل میں مذکورہ آیت پیش کی جاسکتی ہے۔

نیز *پانی* کی قید سے معلوم ہوا کہ جس کو *پانی* نہ کہا جاسکے لیکن ہو وہ مائع (Liquid) تب بھی اس سے وضو و غسل جائز نہیں ہے۔

ناریل کا پانی حقیقت میں پانی نہیں ہے بلکہ ناریل سے نکلنے والا رس ہے لہذا اس سے وضو جائز نہیں۔

*ابو محمد عارفین القادری*