قادیانی فرقے کے عقائد و نظریات

قادیانی فرقے کے بانی کا تعارف }

1)…مرزا غلام احمد قادیانی ’’قادیانی مذہب ‘‘کا بانی تھا ۔

2)…مرزا 1839/40میں قادیان ضلع گوردا سپور مشرقی پنجاب انڈیا میں پیدا ہوا۔

3)…1864؁ ء میں ضلع کچہری سیالکوٹ میں بحیثیت محرّر (منشی /کلرک )ملازمت اختیار کی ۔

4)…1868؁ء میں مختاری کے امتحان میں فیل ہوا اور اسکے ساتھ ہی ملازمت چھوڑدی۔

5)…بعد میں مرزا نے مذاہب کا تقابلی مطالعہ شروع کیا نیز عیسائیوں اور آریوں سے مبا حثے اور منا ظرے شروع کئے اس طرح مولوی ،مبلغ و مناظر کہلایا اور یوں شہرت حاصل کی ۔

6)…اس دوران میں ولی ،مطہم صاحب ِوحی ،محدّث ،کلیم (اللہ سے ہم کلام ہونے والا)صاحبِ کرامت ،امام الزماں ،مصلح اُمّت ،مہدی دوراں ،مسیح زمان اور مشبیل مسیح بن مریم ہونے کے دعوے کئے ۔

7)…1885؁ء کے آغاز میں مرزا نے ایک اشتہار کے ذریعے کھلم کھلا اعلان کردیا کہ وہ اللہ کی طرف سے مجدّد مقرّر کر دیا گیا ہے تمام اہلِ اسلام پر اس کی اطا عت ضروری ہے

8)…1888؁ء میں باقاعدہ بیعت لینے کا سلسلہ شروع کرکے مرید سازی کی گئی ۔

9)…1890؁ء میں پوری اُمّت کے متفّقہ عقیدہ ’’حیات مسیح ‘‘کا کھلا انکار کیا اور ’’وفات مسیح ‘‘کے موضوع پر ایک مستقل کتاب ’’فتح اسلام ‘‘تصنیف کر ڈالی ۔

10)…1891؁ء کے آغا ز میں ’’مہدی موعود اور مسیح موعود ‘‘ہونے کا اشتہار کیا ۔

11) …ابھی تک مرزا قادیان ’’ختم نبوۃ‘‘کا قائل اور معتقد تھا ۔چنانچہ اس دور تک کی تصانیف میں صراحۃیہ تحریر اور تسلیم کر کا دہا کہ حضرت محمد ﷺآخری نبی ہیں ۔آپ ﷺ کے بعد دعوائے نبوت کرنے والا کا فر ہے ۔(بعف قادیانیوں سے جب کوئی جواب نہ بن پڑتا تو منافقت سے کام لیتے ہوئے مرزا کی اس دور کی لکھی ہوئی کتابیں رکھ کر کہتے ہیں کہ ہم تو ختم نبوت کو مانتے ہیں )۔

12)…1901؁ء میں مرزا نے اپنی زبانی کھلم کھلا نبی اور رسول ہونے کا اعلان کردیا ۔

13)…1901 ؁ء ہی میں گروہ مبا یعین کا ملّت اسلامیہ سے جُدا ہو کر ایک علیٰحدہ نام ’’فرقہ احمد یہ ‘‘

رکھا ۔

14)1906؁ء میں آخر کار مرزا 26مئی کو صبح سوادس بجے ممتاز عالمِ دین پیر جماعت علی شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی پیشن گوئی کی مطابق ہیضے کی بیماری میں مبتلا ہوکر برانڈ رتھ روڈ کی احمد یہ بلڈنگ میں بیت الخلاء کے اندر ہی مرا ۔قادیان میں دفن کردیا۔

مرزا قادیانی کے اور قادیانیوں کے کفریہ عقائد}

عقیدہ :مرزا لکھتا ہے کہ میں نے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں ۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا،پھر میں نے آسمانِ دنیا کو پیدا کیا ۔

(بحوالہ :کتاب البر یہ ص 78,79،آئینہ کمالات اسلام ص 565,564)

عقیدہ :مرزا لکھتا ہے کہ خدا نے مجھ سے کہا ۔(اے مرزا )ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں گو یا آسمان سے خدا اُترے گا۔(بحوالہ :حقیقۃ الوحی ص 95)

عقیدہ :مرزا لکھتا ہے کہ دانیال نبی اپنی کتاب میں میرا نا م میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں میکائیل کا لفظی معنیٰ ’’خدا کی مانند‘‘کے ہیں ۔(بحوالہ :اربعین 3،صفحہ نمبر 31)

عقیدہ :قرآن مجید خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں ۔(بحوالہ :حقیقۃ الوحی ص 84)

عقیدہ :مرزا لکھتا ہے کہ مجھے خدا نے کہا کہ (اے مرزا اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ۔(بحوالہ :کتاب :حقیقۃ الوحی ص 99)

عقیدہ :مرزا لکھتا ہے کہ مجھے اللہ نے وحی کی کہ ہم نے تجھ کو (اے مرزا )تمام دنیا پر رحمت کرنے کے لئے بھیجا ہے ۔(حقیقۃ الوحیص 82)

عقیدہ :مرزا لکھتا ہے کہ حضرت محمد ﷺکی پیشن گوئیاں بھی غلط نکلیں اور مسیح ابنِ مریم پر دابۃ

الا رض اور یا جوج ما جوج کی حقیقت بھی ظاہر نہ ہوئی ۔(معاذاللہ )

عقیدہ : مرزا لکھتا ہے کہ خدانے مجھ سے کہا آسمان سے کئی تخت (نبوت کے )اُترے پَرتیرا تخت سب سے اُوپر بچھا یا گیا ۔(بحوالہ :حقیقۃ الوحی ص89)

عقیدہ : مرزا لکھتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے پرندوں کے زندہ ہوجانے کا معجزہ بھی درست نہیں ، بلکہ وہ بھی مسمر یزم کا عمل تھا ۔(ازالہ اوہام ص302/6)

عقیدہ : مرزا لکھتا ہے کہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح عیسیٰ کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مرگئے مگر جو میرے ہاتھ سے جام پئے گا وہ ہر گز نہیں مریگا ۔(ازا لہ اوہام ص2/1)

عقیدہ : مرزا لکھتا ہے کہ ابنِ مریم کا ذکر چھوڑو اس سے بہتر ذکر ’’غلام احمد قادیانی ‘‘ہے ۔

(دافع الباء ص20)

عقیدہ : مرزا لکھتا ہے کہ جو شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں کافر ہے ۔

(بحوالہ :حقیقۃ الوحی ص 163)

عقیدہ : مرزا لکھتا ہے کہ جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا ،سو سمجھا جائے گا اس کو ولد الحرام (زنا کی اولاد )بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں ۔(معاذاللہ ) (بحوالہ نور الا سلام ص 30)

قارئین !یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی خود اپنی کتابوں سے حوالے جات پیش کئے گئے ہیں اس میں کچھ الفاظ یقینا آپکی طبعیت پر ناگوار گزرے ہوں گے لیکن قادیانیوں کے گندے خیالات اور عقائد آپ تک پہنچا نے کیلئے ان کا لکھنا ضروری تھا ساری کی ساری عبارات کفر سے بھرپور ہیں ایسی کئی عبارات لکھنا باقی ہیں لیکن ہاتھ کانپ رہے ہیں کس طرح لکھوں جو لکھا عوام النّاس کی اصلاح کے لئے تھا کیا ایسے لوگ مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں ۔

بالآخر علماء اہلسنّت خصو صاً علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی صاحب علیہ الرحمہ ،علامہ عبدالمصطفیٰ الازھری علیہ الرحمہ ،علامہ عبدالستار خاں نیازی صاحب علیہ الرحمہ ،علامہ سیّدشاہ تراب الحق قادری صاحب مدظلہ ٗ العالی کی دن رات محنتوں سے حکومتِ پاکستان نے 7ستمبر 1974؁ء کے مبارک دن قادیانیوں کو غیر مُسلم اقلیت قرار دیا ۔

علماء اہلسنّت کی کوششوں سے پاکستان میں قادیانیت نے اتنا فروغ نہیں پایا مگر باہر ممالک میں یہو د ونصاریٰ کی سر پرستی سے امریکہ ،کینیڈا ،بیلجئیم ،سری لنکا،افریقہ ،لندن ،سوئزر لینڈ جیسے ممالک میں ان کے بڑے بڑے مراکز قائم ہیں۔جو مسلمان کی طرح حلیہ بنا کر ،زبان پرکلمہ بھی ہماری طرح پڑھتے ہیں ،مسجد یں بھی مسلمانوں کی طرح بنا تے ہیں ،مال و دولت اور لڑکیوں کی لالچ دے کر مسلمانوں کا ایمان خرید لیتے ہیں ۔

قادیانی ’’احمدی گروپ ‘‘ ’’لاھوری گروپ ‘‘ ’’طاہری گروپ‘‘ ’’فرقہ احمدیہ ‘‘ ’’احمدی‘‘ یہ سب کے سب قادیانی ہیں ختم نبّوت کے منکر ہیں دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔